31/03/2026
A success story of a little angel at Zubaida Irshad Multicare Hospital. May Allah bless him with good health and happiness.
بچہ کی پیچیدہ سرجری کی کامیابی اور صحتیابی کی کہانی
دسمبر کی ایک رات ایک کال موصول ہوئی جس میں ایک تین ماہ کے بچے کی حالت بہت خراب بتائی گئی تھی۔ سانس لینے میں دشواری، جسم میں نیلاپن اور آکسیجن کی کمی کی شکایت تھی۔ مقامی ڈاکٹرز نے بتایا کہ شدید نمونیا ہے اور بچے کو فوراً وینٹیلیٹر پر ڈالنے کی ضرورت ہے۔
جب ماں باپ کو ہماری طرف سے اجازت مل گئی، تو فوراً ایمبولنس تیار کر کے بچے کو زبیدہ شاہ ملٹی کیئر ہاسپٹل لے آیا گیا۔ بچہ کو فوراً آئی سی یو میں ڈاکٹر محمد اویس رومی کی زیر نگرانی داخل کیا گیا اور وینٹیلیٹر پر شفٹ کیا گیا۔ چند دنوں میں بچہ صحت یاب ہو گیا اور وینٹیلیٹر سے آکسیجن کم کرنے کے بعد نارمل سانس لینے لگا۔
لیکن اس دوران ٹیسٹوں سے پتا چلا کہ بچے کا سیدھی سائڈ کا پھپھڑا چھوٹا ہے اور مکمل طور پر پھیل نہیں رہا۔ اس کی وجہ پیدائشی نقص تھا جسے ہم "ڈایفرمیٹک ہارنیا" اور "ڈایفرمیٹک ایونٹریکشن" کہتے ہیں۔
ڈایفرمیٹک ہارنیا ایک ایسی حالت ہے جس میں پیدائش کے وقت چھاتی اور پیٹ کو الگ رکھنے والا پردہ مکمل طور پر نہیں بنتا۔ یہ پردہ "ڈایفرام" کہلاتا ہے، جو کہ چھاتی اور پیٹ کے اعضا کو علیحدہ رکھتا ہے۔ جب یہ پردہ ٹھیک سے بن نہیں پاتا، تو پیٹ کے اندر کے اعضاء، جیسے کہ آنتیں یا معدہ، چھاتی کی طرف چلے جاتے ہیں، جس سے پھیپھڑے کی نشوونما متاثر ہوتی ہے اور وہ پوری طرح سے نہیں پھیل پاتے۔ ڈایفرمیٹک ایونٹریکشن میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے، لیکن اس میں پھپھڑے کی ساخت میں کوئی اور پیچیدگیاں آ جاتی ہیں۔
اب اگلا مرحلہ اس پیدائشی نقص کا آپریشن تھا تاکہ بچے کا پھپھڑا صحیح طریقے سے پھیل سکے۔ یہ آپریشن تین مہینے کے بچے کے لیے انتہائی پیچیدہ اور خطرناک تھا۔ بے ہوشی کی حالت میں بچے کو بےہوش کرنا اور پھر ہوش میں لانا، اس آپریشن کے لئے ایک بڑا چیلنج تھا۔ لیکن الحمداللہ، پروفیسر ڈاکٹر ندیم صاحب نے بے ہوشی کا مرحلہ کامیابی سے مکمل کیا اور ڈاکٹر مطیع اللہ ماجد نے آپریشن کامیابی سے کیا۔
اس کے بعد بچے کو آئی سی یو میں وینٹیلیٹر پر رکھا گیا اور ڈاکٹر محمد اویس رومی کی نگرانی میں بچے کی صحت کی بحالی کی گئی۔ چند دنوں کے بعد بچہ مکمل صحتیابی کے ساتھ گھر واپس بھیجا گیا۔
اہم بات یہ ہے کہ اس بچے کے والدین دوسرے اسپتالوں سے اس آپریشن کا خرچ سن کر بہت پریشان تھے، جہاں اس آپریشن کا خرچ چار سے پانچ لاکھ روپے تک بتایا گیا تھا۔ یہ بچہ ان کا اکلوتا بچہ تھا جو شادی کے گیارہ سال بعد پیدا ہوا تھا، اور ان کے لئے یہ بچہ انتہائی قیمتی تھا۔ اللہ کے حکم سے ہم نے ان کی پریشانی کو دور کیا اور بچے کا آپریشن نہایت معقول خرچے پر کیا گیا، جو کہ والدین کے لئے قابل قبول تھا۔
زبیدہ شاہ ملٹی کیئر ہاسپٹل کی ٹیم پیچیدہ سرجریز اور آپریشن کے بعد کی دیکھ بھال کرنے کے مکمل طور پر اہل ہیں۔ ہم اس بچے کی مکمل صحتیابی اور آپریشن کی کامیابی پر والدین کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں جس نے اس سب کچھ کو ممکن بنایا۔