20/06/2020
کرونا وائرس کے لا تعداد نسخہ جات بیان ہو رہے ہیں۔کچھ ثنا مکی کا قہوہ بتا رہے ہیں ۔کچھ کی تجویز میں لونگ دارچینی کا قہوہ شامل ہے ۔
طِب کے طریقہ علاج میں یہ لازم ہے کہ اخلاط کے مطابق علاج کیا جائے ۔
اس کے لیے کرونا مریض کی تشخیص کا طریقہ نبض دیکھے بغیر ممکن نہں ۔
تمام ٹیسٹ کرنے کے باوجود ایک طبیب کے لیے یا تو نبض دیکھنا لازم ہے ۔یا مریض کی ظاہری علامات ،چہرے کی رنگت اور باقی ابتدائی علامات ۔یورن کلر وغیرہ ۔ان تمام سے تشخیص ممکن ہے ۔ مگر کرونا وائرس کے مریض کو دیکھنا یا اس کی تشخیص شاید اس لیے مشکل ہے کہ مریض کو چھونا بھی مرض لگنے کا خطرہ ہے ۔
اب سوال یہ ہے کہ جو حضرات اس مرض کو ایک سرد اعصابی مرض سمجھ کر قہوہ وغیرہ بتا رہے ہیں ۔جو زکام و بخار کو صرف دیکھ کر علاج کر رہے ہیں ۔کیا بخار یا زکام ،کھانسی صرف اعصابی تحریک کا مرض ہو سکتا ؟
اگر نہیں تو پھر باقی اخلاط کو زہن میں رکھ کر علاج ہونا چاہئے ۔
کرونا مریض کو سب سے زیادہ کھانسی اور سانس کا پرابلم شروع ہو جاتا ہے ۔
کھانسی اور سانس کا مسئلہ تو ٹی بی مرض میں بھی ہوتا تو کیا ہم ٹی بی میں گرم ادویات دے سکتے ؟
اسی طرح کھانسی اور سانس کا مسئلہ دمہ مرض میں بھی ہوتا ہے تو کیا ہم دمہ میں ٹھنڈی چیزیں دے سکتے ؟
نہیں ۔
اس لیے کرونا کا مریض روزانہ میری ذاتی تشخیص میں رہتا ہے ۔مریضوں کو دیکھنے کا روزانہ موقع ملتا ہے ۔
ایسے مریض کے پھیپھڑوں میں سوزش بڑھ جاتی ہے ۔ طبیب حضرات جانتے ہیں ۔کہ سوزش کبھی اعصابی تحریک سے نہیں ہوتی ۔اس لیے مریض کی اس حالت میں کہ جب اس کے پھیپھڑوں میں سوزش بڑھ جائے اور کھانسی بھی ہو ۔تب غدی اعصابی تحریک میں علاج کرنا چاہئے جو کہ غدی اعصابی سے اعصابی غدی تک علاج بالغذا کریں ۔تری پیدا ہونے کے ساتھ اس کا اخراج ہونا چاہئے ۔تمام گرم چیزیں ،اعضلاتی چیزیں پرہیز کروائیں ۔
اکثر مریضوں کی نبض بالکل اسی حالت پہ دیکھی ہے ۔جس پہ ٹائیفائیڈ کی نبض ہوتی ہے ۔اس لیے اسی چیز کو مدنظر رکھ کر علاج کریں ۔کامیابی ہو گی ۔
حرف عام میں اس لیے بیان نہیں کر رہا کہ عوام نے پھر قہوہ کی طرح بغیر دیکھے کچھ شروع کر دینا ہے ۔ اس لیے علاج صرف طبیب حضرات کو ہی کرنا چاہیئے ۔