Al Haseeb Pharmacy

Al Haseeb Pharmacy We believe in medicines, we believe in awareness and we believe in sharing.

وٹامن E: طاقت یا زہر؟ – جانیں روزانہ کی محفوظ حد اور نقصاناتوٹامن E (Tocopherol) ایک Fat-soluble antioxidant ہے، جو خلیا...
14/04/2025

وٹامن E: طاقت یا زہر؟ – جانیں روزانہ کی محفوظ حد اور نقصانات

وٹامن E (Tocopherol) ایک Fat-soluble antioxidant ہے، جو خلیات کو oxidative damage سے بچاتا ہے۔



فائدے (Benefits):
1. جلد کی صحت بہتر کرتا ہے
2. مدافعتی نظام مضبوط بناتا ہے
3. آنکھوں کی صحت اور بینائی کی حفاظت
4. دل کی بیماریوں کے خطرے کو کم کرتا ہے (limited evidence)



روزانہ کی RDA (Recommended Dietary Allowance):
• بالغ مرد و خواتین:
15 mg/day (22.4 IU)
• حاملہ خواتین: 15 mg
• دودھ پلانے والی خواتین: 19 mg

Reference: National Institutes of Health (NIH), Office of Dietary Supplements



محفوظ حد (Tolerable Upper Intake Level - UL):
• بالغوں کے لیے: 1,000 mg/day (1,500 IU)



زیادتی کے نقصانات (Overdose Risks):
1. خون کا پتلا ہو جانا (Increased Bleeding Risk)
2. Vitamin K کی فعالیت میں مداخلت
3. Prostate cancer (in high-dose long-term use – controversial)
4. سر درد، تھکاوٹ، دھندلا دکھائی دینا

Source:
• NIH Vitamin E Fact Sheet
• Miller ER et al., “Meta-analysis: High-dosage vitamin E supplementation may increase all-cause mortality”, Ann Intern Med. 2005



کسے لینا چاہیے؟
• وہ افراد جنہیں فوٹوڈرماتائٹس، اعصابی کمزوری، یا مخصوص جلدی مسائل ہوں
• لیکن صرف فارماسسٹ یا فزیشن کی نگرانی میں



مشورہ:

وٹامن E سپلیمنٹس کو بلاوجہ استعمال نہ کریں۔ خوراک سے حاصل شدہ وٹامن زیادہ محفوظ اور مؤثر ہوتا ہے (جیسے بادام، سورج مکھی کے بیج، پالک)

اہم اطلاع: انجیکشن سیفٹریاکسون (Ceftriaxone) کے استعمال کے بارے میںبراہ کرم نوٹ کریں:انجیکشن سیفٹریاکسون کو کسی بھی کیلش...
14/04/2025

اہم اطلاع: انجیکشن سیفٹریاکسون (Ceftriaxone) کے استعمال کے بارے میں
براہ کرم نوٹ کریں:

انجیکشن سیفٹریاکسون کو کسی بھی کیلشیم والی ڈرپ (جیسے Ringer’s یا Hartmann’s) کے ساتھ استعمال نہ کریں۔ اگر سیفٹریاکسون کیلشیم والے محلول کے ساتھ مل جائے تو خطرناک قسم کی جھاگ یا سفید مادہ (precipitate) بن سکتا ہے، جو مریض کی جان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

خصوصاً neonates (نوزائیدہ بچوں) میں یہ خطرہ اور بھی زیادہ ہوتا ہے۔

کیا کریں؟
سیفٹریاکسون کو صرف ان محلولوں میں استعمال کریں:

Dextrose 2.5%

Dextrose 5%

Dextrose 10%

Normal Saline (Sodium Chloride 0.9%)

یاد رکھیں:
اگر سیفٹریاکسون اور کیلشیم والی ڈرپ کو الگ الگ استعمال کرنا ضروری ہو، تو دونوں ڈرپ لائنز کو اچھی طرح دھو کر نیا سیٹ اپ لگائیں۔

یہ پیغام تمام نرسنگ اور پیرامیڈکس عملے کے لیے نہایت اہم ہے تاکہ مریضوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

برائے مہربانی اس پیغام کو آگے پہنچائیں۔
۔

ایک اہم بات یہ ہے کہ ہسپتالوں میں ہر شعبہ کے لیے علیحدہ سپیشلسٹ ہے دل کے لیے الگ،جلد کے لیے الگ،پھیپھڑوں کے لیئے الگ،گرد...
11/04/2025

ایک اہم بات یہ ہے کہ ہسپتالوں میں ہر شعبہ کے لیے علیحدہ سپیشلسٹ ہے دل کے لیے الگ،جلد کے لیے الگ،پھیپھڑوں کے لیئے الگ،گردوں کے لیے الگ،دماغ کے لیے الگ اور نرسز کی بہت بڑی تعداد موجود ہوتی ہے لیکن فارماسسٹ نہیں ہوتا
کیوں؟
کیا ادویات کا علم فزیشنز یا نرسز کےپاس ہے؟
ہرگز نہیں۔ صرف وہی علم ان کے پاس ہوتا ہے جو انہیں بتایا جاتا ہے ان کے سینئرز یا اتھارٹی کی جانب سے۔ اپنی ڈگری کے دوران ادویات کے بارے میں صرف اُنکو سَرسَری طور پر پڑھایا جاتا ہے
تو وقت کی ضرورت ہے اور عوام کی صحت کے لیے ہمیں ہیلتھ ایمرجنسی کا نفاذ کرتے ہوۓ جتنے فزیشنز ہیں ایک ہسپتال میں اتنے فارماسسٹ بھرتی کرنے ہوں گے اور کمیونیٹی فارماسسٹ کو سپورٹ کرنا ہوگا۔ادویات کوئی مذاق نہیں ہیں۔ اگر ٹھیک تشخیص بھی ہو تب بھی اگر غلط ادویات یا غلط ڈوز استعمال کی جائے تو فائدہ کی بجائے نقصان ہوگا۔ اور ادویات کا علم صرف فارماسسٹ کے پاس ہے
اگر ایک یا دو فارماسسٹ ہُوں کہیں تو انہیں محض دفتر تک یا فارمیسی تک محدود رکھا جاتا ہے جو اصل کام ہے انکا وہ نہیں کرنے دیا جاتا
عوام کو آگاہی دیں۔ ہر فارماسسٹ اس کو سوشل میڈیا پر شیئر کرے۔
فارمیسی سروسز کی اہمیت کو اجاگر کرے
ہر وہ جگہ جہاں پر ادویات بن رہی ہیں ،ترسیل ہو رہی ہیں،عوام کو دی جا رہی ہیں یا لگائی جا رہی ہیں جیسا کہ ہسپتال یا پرائیویٹ کلینک وہاں پر فارماسسٹ کا موجود ہونا لازمی ہونا چاہیے۔
صرف فارماسسٹ ہی ادویات کا ماہر ہے۔
اج سمجھ جائیں تو نقصان سے بچ سکتے ہیں ورنہ سمجھ تو آپکو ایک نہ ایک دن آ جائے گی

درد کی گولیاں اور antidepressants مل کر جان لیوا ہو سکتی ہیںحقیقت:NSAIDs اور SSRIs (جیسے fluoxetine, sertraline) اگر اکٹ...
06/04/2025

درد کی گولیاں اور antidepressants مل کر جان لیوا ہو سکتی ہیں

حقیقت:
NSAIDs اور SSRIs (جیسے fluoxetine, sertraline) اگر اکٹھے دیے جائیں تو gastric bleeding اور serotonin syndrome کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ریفرنس:

de Abajo, F. J., et al. (1999). Risk of upper gastrointestinal bleeding associated with selective serotonin reuptake inhibitors and venlafaxine therapy. Archives of General Psychiatry, 56(9), 851–856.

غور سے پڑھیےبیکٹریا کا قتل عام نہ کریں ۔ بہت مہنگا پڑ رہا ہےایک انسانی خلیہ اور دس بیکٹریا - آپکی لمبی ترین انت بیکٹریا ...
30/03/2025

غور سے پڑھیے

بیکٹریا کا قتل عام نہ کریں ۔ بہت مہنگا پڑ رہا ہے

ایک انسانی خلیہ اور دس بیکٹریا - آپکی لمبی ترین انت بیکٹریا سے کھچا کھچ بھری ہوئ ہے ۔ ایک انسانی جسم میں تقریبا 30 کھرب خلیات اور 38 یا 39 كهرب (تريلين) بیکٹریا بھی رپورٹ کیے گئے ہیں ۔ بیکٹریا مجموعی وزن کے اعتبار سے 200 گرام سے آدھا کلو اور جسم کے کل وزن کا 0.3 سے 1 فیصد کے درمیان یقین کیے جاتے ہیں

یہ بیکٹریا آپکی خوراک کو ہضم کرنے اور ضروری غذائی اجزاء کو جذب کرنے میں مدد دیتے ہیں ۔ یہ غذائی فائبر کو توڑ کر چھوٹی چین فیٹی ایسڈز بناتے ہیں ، جن سے جسم کو دوسرے حیاتی کیمیائی کردار ادا کرنے کیلئے توانائی کی سپلائی ملتی ہے ۔ حیرت انگیز طور پر نقصان دہ جراثیم سے مقابلہ کرتے ہیں اور جسم کو بیماریوں سے بچاتے ہیں ۔ بعض بيكتيريا مدافعتی خلیوں کو متحرک کرکے انفیکشن کے خلاف جوابی رد عمل کو سہارا دیتے ہیں ۔ موڈ ، تناؤ کے ذمہ دار نیورو کیمکل کو سہارا دینے میں تعاون کرتے ہیں ۔ یہ وہ کیمکل بھی بناتے ہیں جو شوگر کی سطح کو قابو رکھنے میں مدد دیتا ہے ۔ ذہنی صحت پر اثر انداز ہونے والے کچھ کیمیکلز انھی بیکٹریا کی مربون منت ہیں

ہمارا علم بہت کم ہے ۔ معلومات بہت محدود ہیں ۔ بہت کچھ نہیں معلوم ۔ اینٹی بائیوٹک کی ایک خوراک ان بیکٹریا پر کہرام برپا کر دیتی ہے ۔ اگر معمولی بخار برداشت کر سکتے ہیں تو خواہ مخواہ اینٹی بائیونکس استعمال کرکے اپنے جسم کے اندر پلنے والے معصوم دوست بیکٹریا کا قتل عام نہ کریں ۔

دوائی کے ذریعے جلدی علاج کروا کہ اپنے اچھے اور دوست بیکٹیریا کو مار کر پھر آپ ساری عمر قبض، معدے اور آنتوں کے مسئلوں کی دوائیاں کھارہے ہوتے ہیں۔

وقت ملے تو سوچنا، وقت ملے تو عمل کرنا، گوگل سے دیکھ کر دوائی کھانے کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک بغیر ٹریننگ کیے کسی پولیس والے کو بندوق ہاتھ لگ جائے، جس سے وہ اندھا دھند فائرنگ شروع کردے، آخر میں پتہ چلے کہ مرنے والے سارے اپنے ہی تھے۔

دوستو ہمارا سارا جسم خلیوں/سیلز سے بنا ہوا ہے، اور ہمارے ہر خلیے میں ڈی این اے ہوتا ہے، اور ڈی این اے میں خاص قسم کا کیم...
28/03/2025

دوستو ہمارا سارا جسم خلیوں/سیلز سے بنا ہوا ہے، اور ہمارے ہر خلیے میں ڈی این اے ہوتا ہے، اور ڈی این اے میں خاص قسم کا کیمکل ہوتا ہے جسے "پیورین" (purines) کہتے ہیں۔ سکول میں بیالوجی پڑھی ہے تو اس سے آپ اس سے واقف ہوں گے۔

خیر آپکے جسم میں خلیے بنتے بھی رہتے ہیں اور ٹوٹتے بھی رہتے ہیں، ان کے ٹوٹنے کے دوران ڈی این اے میں موجود پیورین بھی خارج ہوتا ہے۔ یہ پیورین جگر میں جاکر ایک اور کیمکل میں بدل جاتا ہے جسے کہتے ہیں "یوریک ایسڈ"

اسی طرح جو بھی ہم کھاتے ہیں، جیسے گوشت، کوئی سبزی وغیرہ تو ان میں بھی ہیورین ہوتا ہے کیونکہ وہ چیزیں بھی کبھی زندہ خلیوں پر مشتمل تھیں۔ یہ پیورین بھی جگر میں جاکر یوریک ایسڈ میں بدل جاتا ہے۔

یہ یوریک ایسڈ بذات خود کوئی نقصاندہ چیز نہیں، بلکہ یہ جسم میں ایک اہم "اینٹی آکسیڈنٹ" کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ اینٹی آکسیڈنٹس کیا ہوتے ہیں ؟ اس کے بارے میں تحریر لکھ چکا ہوں، اس کا لنک نیچے ہے۔

تو مسلہ کب ہوتا ہے ؟ مسلہ تب ہوتا ہے جب خون میں یوریک ایسڈ کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ جب یوریک ایسڈ کی مقدار بڑھتی ہے تو یہ خون سے نکل کر آپکے جوڑوں میں آجاتا ہے، اور وہاں جاکر "کرسٹلز" (crystals) کی صورت میں جمع ہونے لگ جاتا ہے۔ اس کے جمع ہونے سے ہمارا مدافعتی نظام ایکٹو ہوتا ہے اور جوڑوں میں درد اور سوزش پیدا کرتا ہے (انفلامیشن)۔

تو یوریک ایسڈ کی مقدار کیوں بڑھتی ہے ؟ مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں ، البتہ سب سے عام وجہ گردوں کی خرابی ہوتی ہے، کیونکہ یوریک ایسڈ گردوں کے ذریعے ہی خارج ہوتا ہے، زیادہ یوریک ایسڈ گردوں میں بھی پتھری کرسکتا ہے۔

اس کے علاؤہ اگر کوئی ایسی خوراک زیادہ کھا رہا ہے جس میں پیورین کثرت سے پائے جاتے ہوں تب بھی یوریک ایسڈ کی مقدار بڑھ سکتی ہے۔

تو ہماری یہ دوائی (Febuxostat) کیا کرتی ہے ؟ یہ دوائی ایک انزائم (xanthine oxidase) کو کام کرنے سے روکتی ہے ؟ یہ انزائم کیا کام کرتا ہے ؟ یہ پیورین سے یوریک ایسڈ بننے میں اہم کردار ادا کرتا۔

اس طرح اس انزائم کو روک کر یہ دوائی یورک ایسڈ کے بننے کو کم کرتی ہے جس سے دائمی طور پر بڑھے ہوئے یورک ایسڈ (chronic hyperuricemia) میں مدد دیتی ہے۔

ویسے یورک ایسڈ پر اور اس پر اثر کرنے والی ایک اور دوائی پر بھی تحریر لکھ چکا ہوں، جو نیچے کمنٹ میں موجود ہیں۔ میں جسم اور ادویات کے کام کے حوالے سے تحریریں لکھتا ہوں جن کا مقصد صرف علمی معلومات دینا ہوتا ہے، کسی بھی دوائی کا استعمال صرف ذاتی طور پر ڈاکٹر کے مشورے سے کریں.

22/03/2025

ادویات ہمیشہ اس فارمیسی سے لیں جہاں پر فارماسسٹ موجود ہے اس سے آپکو معیاری ادویات ملیں گی۔ جو فزیشن آپکو برانڈ نام لکھے وہ والے برانڈ نام آپ نے ہرگز نہیں لینے کیوں کہ وہ پیسے لے کر ادویات لکھ رہا ہے۔ 4 لاکھ کی ادویات لکھنے پر فارماسیوٹیکل کمپنی فزیشن کو کم از کم 1 لاکھ روپے دیتی ہے اور وہ ایک لاکھ روپے آپ مریض لوگ ادا کر رہے ہوتے ہیں آپکی جیبوں سے عیاشیاں ہو رہی ہوتی ہیں۔ اِس لیے جو فزیشن آپکو کہے کہ صرف یہ والے برانڈ نام استعمال کریں اگر یہ استعمال نہ کیے تو آپکو فائدہ حاصل نہیں ہونا یا یہ کہے کہ ادویات لینے کے بعد مجھے چیک کراؤ تو سمجھ لیں وہ Wrong Number ہے
اپنی جیب کے حساب سے ادویات لیں سب برانڈ نام کا فائدہ ایک جیسا ہوتا ہے اگر ادویات فارماسسٹ سے لیں گے تو وہ آپکو یہ ساری اندر کی باتیں بتائے گا لیکن علمیہ یہ کہ یہاں Quacks کو فارماسسٹ سے زیادہ ویلیو دی جاتی ہے، جس کا نقصان پھر آپکو زیادہ پیسے بھرنے، اور غیر ضروری ادویات کھانے کی صورت میں ملتا ہے۔

سستی اور مہنگی ادویات ایک گروپ نے  آپ کے دماغ میں یہ بٹھا دیا ہے کہ مہنگی ادویات اچھی ہوتی ہیں اور وہ اثر کرتی ہیں اور س...
20/03/2025

سستی اور مہنگی ادویات
ایک گروپ نے آپ کے دماغ میں یہ بٹھا دیا ہے کہ مہنگی ادویات اچھی ہوتی ہیں اور وہ اثر کرتی ہیں اور سستی ادویات ہلکی ہوتی ہیں اور وہ اثر نہیں کرتی
اس تحریر سے آپ کو تمام سوالات کے جوابات مل جائیں گے
اس کو ہم نیچے تصویر میں جو 2 برانڈ نام دئیے گئے ہیں ان سے سمجھتے ہیں تاکہ آپکو تفصیلاً سمجھ آ سکے
میتھی کوبال ٹیبلٹ اسکی ایک ڈبی جو ہمیں پڑ رہی ہے وہ ہے 2565 روپے کی۔
میگا لوب ٹیبلٹ اسکی ایک ڈبی جو ہمیں پڑ رہی ہے وہ ہے صرف 181 روپے کی۔ 2384 روپے کا فرق ہے
میتھی کوبال ٹیبلٹ کی قیمت آخر کیوں اتنی زیادہ ہے؟
اسکی قیمت اس لیے زیادہ ہے کیوں کہ اسکو لکھوانے کے لیے کمپنی فزیشنز کو کم سے کم 25 فیصد دیتی ہے ( 2,4 کو چھوڑ کر سب فزیشنز پیسے لے کر آپکو مہنگی ادویات لکھتے ہیں) اور پھر میڈیکل ریپ کی ایک ٹیم ہوتی ہے جس کی لاکھوں کی تنخواہیں،غیر ملکی دورے وہ بھی آپ کے پیسوں سے ہوتے ہیں۔ اس طریقہ سے ایک ٹیبلٹ کی قیمت 30 روپے تک چلی جاتی ہے۔ فزیشنز کو اور میڈیکل ریپ کی ٹیم کو دینے کے بعد بھی کمپنی بہت ہی زیادہ منافع کماتی ہے
دوسری طرف میگا لوب ٹیبلٹ ہے جس کی قیمت صرف 181 روپے ہے۔ یہ کمپنی فزیشنز کو کوئی مراعات نہیں دیتی۔ کوئی میڈیکل ریپ کی ٹیم نہیں ہوتی۔ اس کے بعد بھی یہ بھی منافع کما رہی ہیں کوئی خیراتی ادارہ تو ہے نہیں کہ مفت میں ادویات دے رہی ہے۔ اس 181 روپے میں بھی کمپنی کو منافع حاصل ہو رہا ہے
کیا سستی ادویات غیر معیاری ہوتی ہیں؟
ہرگز نہیں۔ یہ بھی تمام ٹیسٹ پاس کر کے آتی ہے۔ اس میں بھی ایکٹو فارماسیوٹیکل انگریڈنٹ ( اصل ڈرگ جس نے اثر کرنا ہے) اس رینج میں اتی ہے جو کہ بین الاقوامی سطح پر رائج ہے۔
سستی ادویات اور مہنگی ادویات میں کوئی فرق نہیں ہے۔ دونوں وہی کام کرتی ہیں۔ مہنگی ادویات میں آپ دوسروں کی عیاشیوں کا بوجھ بھی اٹھاتے ہیں
اور سستی ادویات میں آپ صرف وہی رقم ادا کرتے ہیں جو کہ دوائی کی ہوتی ہے جو خود استعمال کرتے ہیں
اگر فارماسسٹ سے لیں گے تو ہر ادویات معیاری ہے اور اگر کسی اور جگہ سے لیں گے تو مہنگی ادویات بھی جعلی ہو سکتی ہیں کیوں کہ جو فراڈیے ہوتے ہیں وہ مہنگی ادویات کی کاپی بناتے ہیں اور پھر وہ انکو لالچ دے کر جعلی ادویات بیچ دیتے ہیں اور آپ ڈسکاؤنٹ کے چکر میں وہ جعلی ادویات استعمال کر رہے ہوتے ہیں
اس لیے ادویات ہمیشہ اس فارمیسی سے لیں جہاں پر فارماسسٹ ہے۔ اور اب تو اللہ کا کرم ہوا ہے آپ پر کہ فارمیسی سروسز شروع ہو چکی ہیں تو اپنے نُسخہ کی جانچ اور ادویات اپنی جیب کے مطابق حاصل کریں۔ اپنے پیسے اپنے گھر والوں پر خرچ کریں ناکہ فزیشنز پر اور کمپنیز پر۔
اُمید ہے اب آپکو سمجھ آ گئی ہوگی کہ سستی اور مہنگی ادویات کا کیا چکر ہے۔ ادویات کہاں سے لینی ہے
اور جب فزیشنز کوئی برانڈ نام لکھیں تو آپ نے انکا کیا کرنا ہے.

ابھی روزے چل رہے ہیں، جن کا دورانیہ 12  گھنٹے سے زیادہ ہے۔ تو جب آپ صبح سحری کر لیتے ہیں تو آپکے جسم کو گلوکوز مل جاتا ہ...
19/03/2025

ابھی روزے چل رہے ہیں، جن کا دورانیہ 12 گھنٹے سے زیادہ ہے۔ تو جب آپ صبح سحری کر لیتے ہیں تو آپکے جسم کو گلوکوز مل جاتا ہے۔ روزے کے دوران آپکا جسم یہ گلوکوز استعمال کر لیتا ہے، جب یہ گلوکوز ختم ہوجاتا ہے تو جگر میں پہلے سے سٹور شدہ گلوکوز (glycogen) کو خون میں خارج کر دیتا ہے تاکہ جسم اسے استعمال کرسکے۔ پھر یہ سٹور شدہ گلوکوز بھی ختم ہوجاتا ہے۔

مگر گلوکوز ہمارے لیے ضروری ہے۔ ہمارے دماغ کو تقریباً ہر وقت گلوکوز کی لگاتار سپلائی چاہیے ہوتی ہے، اس کے علاؤہ ہمارے سرخ خلیوں کو بھی گلوکوز کی ضرورت رہتی ہے۔ تو جب خوراک سے آنے والا گلوکوز بھی ختم ہوگیا، اور جگر کا سٹور شدہ گلوکوز بھی استعمال ہوگیا۔ پھر جگر ایک اور طریقہ اپناتا ہے۔

جگر خود سے گلوکوز بنانے لگتا ہے۔ یعنی جگر کچھ اور چیزوں (فیٹس، پروٹیز اور دوسرے کچھ کیمکلز) کو گلوکوز میں بدل دیتا ہے (اسے gluconeogenesis کہتے ہیں)۔ تاکہ خون میں گلوکوز کا ایک مناسب لیول برقرار رہے۔ امید ہے روزوں میں آپکے ساتھ بھی ایسا ہو رہا ہوگا۔

روزوں کے علاؤہ بھی، جب آپ کے کھانے کے اوقات میں پانچ، چھ گھنٹے کا فرق ہو تو یہ عمل کچھ حد تک ہو رہا ہوتا ہے۔

لیکن شوگر کے مرض میں تو پہلے ہی خون میں گلوکوز کا لیول ضرورت سے زیادہ ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ کہ جسم میں انسولین نہیں بن رہی ہوتی یا جسم اس انسولین کو ٹھیک طریقے سے رسپانس نہیں کر رہا ہوتا۔

اس کے علاؤہ جسم میں ایک اور ہارمون بھی ہوتا ہے جسے "گلوکاگون" (Glucagon) کہتے ہیں، یہ بھی لبلبے سے خارج ہوتا ہے اور اس کا کام انسولین کے الٹ ہوتا ہے۔ یعنی انسولین خون میں گلوکوز کی مقدار کم کرتی ہے، لیکن یہ گلوکاگون گلوکوز اس مقدار کو بڑھاتا ہے۔ گلوکوز کی مقدار بڑھانے کے لیے گلوکاگون جگر میں گلوکوز بنانے کا یہ عمل (gluconeogenesis) بھی بڑھا دیتا ہے۔

جب انسولین صحیح کام کر رہی ہوتی ہے تو انسولین اس گلوکاگون ہارمون کے لیول کو بھی کم رکھتی ہے، لیکن شوگر کے مرض میں انسولین کام نہیں کر رہی ہوتی یا موجود نہیں ہوتی، اس لیے یہ گلوکاگون بھی بے قابو ہوتا ہے اور جگر میں گلوکوز بنانے کا عمل تیز کروا دیتا ہے۔

نتیجتاً، خون میں گلوکوز کا لیول بڑھ جاتا ہے اور خون میں ضرورت سے زیادہ گلوکوز بہت ساری پیچیدگیوں کو جنم دیتا ہے۔

تو ہماری یہ دوائی کیا کرتی ہے ؟ ہماری یہ دوائی جگر میں جاتی ہے، اور جگر میں ایک خاص انزائم (AMP- kinase) کو ایکٹیو کر دیتی ہے۔ یہ انزائم کیا کرتا ہے ؟ یہ انزائم ایک طرح سے "بدمعاشی" کرتا ہے اور کچھ دیگر انزائمز کو کام کرنے سے روک دیتا ہے۔ یہ کن انزائمز کو روکتا ہے ؟ یہ ان کو روکتا ہے جو جگر میں گلوکوز بنانے والے اس عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ (اس عمل کی مزید تفصیل کمنٹ میں دیتا ہوں)

یعنی قصہ مختصر یہ دوائی جگر میں گلوکوز کے بننے (gluconeogenesis) کو کم کرتا ہے، جس سے جگر خون میں گلوکوز کا اضافہ نہ کرتا۔

یہ اس دوائی کا سب سے بڑا اثر ہے، البتہ اس کے ساتھ ساتھ یہ دوائی خون سے پٹھوں میں گلوکوز کا داخلہ بھی بڑھاتی ہے، اور نظام انہضام سے خون میں شامل ہونے والے گلوکوز کو بھی کم کرتی ہے۔ اس کے علاؤہ کچھ دیگر اثرات بھی دیکھاتی ہے۔

یہ دوائی ہے "میٹفارمن" (metformin) جو شوگر میں سب سے زیادہ استعمال ہوتی ہے، بلکہ دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ادویات کے ٹاپ پر موجود ہے۔

اور جس طرح آلو تقریباً ہر سبزی کے ساتھ پکایا جاتا ہے، اس طرح یہ metformin بھی شوگر کی تقریباً باقی سب ادویات کے ساتھ کمبینشن کی صورت میں استعمال کی جاتی ہے۔

مجھے بھی حیرت ہے کہ یہ کتنی زیادہ استعمال ہوتی ہے، پھر بھی اب تک اس پر تحریر نہیں لکھی۔ خیر یہ دوائی یا کوئی بھی دوائی ڈاکٹر کے مشورے کے ساتھ ہی استعمال کریں۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ شوگر کے مریض کو کوئی بھی دوائی دیں جب تک وہ اپنی خوراک، وزن اور ورزش درست نہیں کرے گا اسے دیر پا فائدہ نہیں ہوگا۔۔۔

یہ کچھ پیچیدہ ہونا والا ہے۔۔۔۔آپکی زندگی کے لیے، بلکہ آپکے ہر خلیے کے زندہ رہنے اور نارمل طریقے سے کام کرنے کے لیے، بلکہ...
13/03/2025

یہ کچھ پیچیدہ ہونا والا ہے۔۔۔۔

آپکی زندگی کے لیے، بلکہ آپکے ہر خلیے کے زندہ رہنے اور نارمل طریقے سے کام کرنے کے لیے، بلکہ انسانی خلیوں کے ساتھ ساتھ دوسرے جاندار خلیوں کے لیے بھی دو چیزیں بہت ضروری ہیں، اور ان دونوں کا آپس میں ایک اچھا تغلق ہونا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ تو کون سی ہیں یہ دو چیزیں ؟

ایک ہے پروٹین اور دوسرا خلیے ایک اندر اور باہر موجود "چارجز" یا "چارجز کا فرق"۔ دونوں باتوں کو سمجھتے ہیں۔

تو پروٹین کا معاملہ تو سادہ ہے، آپکے ہر خلیے میں بہت سے مختلف قسم کے پروٹینز موجود ہوتے ہیں، جو مختلف کام کرتے ہیں۔ جیسے "انزائم" جو خلیے میں ہونے والے لاکھوں کروڑوں کیمکل ریکشنز کو کرواتے ہیں جو کہ خلیے کے لیے بہت ضروری ہیں۔ ان کے علاؤہ خلیے میں مختلف قسم کے "چینلز" موجود ہوتے ہیں، یہ وہ ٹی وی والے چینلز نہیں ہیں، بلکہ ان چینلز سے مراد ایسے راستے ہیں جن کے ذریعے خلیے میں باہر سے کوئی چیز داخل ہو سکتی ہے، اور اندر سے کوئی چیز باہر بھی جا سکتی ہے۔ یہ چینلز بھی پروٹینز ہوتے ہیں۔ اس کے علاؤہ بھی خلیے میں ہونے والا ہر چھوٹے بڑے کام پروٹینز کا اہم کردار ہوتا ہے۔

تو چارجز کا کیا معاملہ ہے، یہ بات کرنے سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ یہاں چارجز سے مراد "آئنز" ہیں یعنی کوئی ایٹم یا مالیکول جس پر مثبت یا منفی (+/-) چارج موجود ہو۔

اصل میں پروٹینز اپنے ماحول میں موجود کچھ چیزوں کے لیے بہت حساس ہوتے ہیں، ان میں سے ایک چیز "چارجز" کا ہونا ہے۔ یعنی ایک پروٹین کسی خلیے میں موجود ہے، اور وہاں آرام سے اپنا کام کر رہا ہے، لیکن پھر آپ نے اس خلیے میں کچھ مثبت یا منفی چارجز داخل کردیں گے تو اس پروٹین کے کام میں تبدیلی آ جائے گی، وہ بلکل الٹ کام شروع کرسکتا ہے، یا اگر پہلے کوئی کام نہیں کر رہا تھا تو اب اپنا کام شروع کرسکتا ہے۔ اور جیسا پہلے بیان کیا کہ پورے خلیے کا نظام انہی پروٹینز پر منحصر ہوتا ہے تو یوں خلیے میں کسی قسم کے چارجز کے اضافے یا کمی کی صورت میں خلیے کا نظام تبدیل ہوسکتا ہے۔

بات کا زخ تبدیل کرتے ہیں، تو بتائیں کہ انسولین کا کیا کام ہے ؟ انسولین کا بنیادی کام ہے کہ جب آپکے خون میں گلوکوز کی مقدار بڑھ جائے تو انسولین اضافی گلوکوز کو آپکے جگر اور پٹھوں میں بھیج دے، ورنہ خون میں گلوکوز کی مقدار کا دیرپا بڑھے رہنے خطرناک پیچیدگیوں کو جنم دے سکتا ہے۔

تو آپکے کھانے سے گلوکوز اپکے خون میں جاتا ہے، اور خون سے آپکے لبلبے میں جاتا ہے، اور پھر آپکے لبلبے میں موجود ان خلیوں میں جاتا ہے جن کا کام انسولین بنانا ہے (beta cells)۔ ان خلیوں میں انسولین بن رہی ہوتی ہے اور بننے جے بعد خاص قسم کے "پیکٹس" (vesicles) میں سٹور ہوتی رہتی ہے۔

جب ان خلیوں میں گلوکوز آتا ہے اور گلوکوز کی مقدار بڑھتی ہے تو یہ خلیے جسم کے باقی خلیات کی طرح اس گلوکوز کو توانائی بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں، اور توانائی ایک خاص کیمکل (اے ٹی پی) کی شکل میں ہوتی ہے، تو زیادہ گلوکوز آئے گا تو زیادہ اے ٹی پی بنے گی۔

یہ اے ٹی پی خلیے میں موجود ایک راستے (چینل) کو بند کرتا ہے، اس راستے سے ایک مثبت چارج (پوٹاشیئم+) خلیے سے باہر جا رہا ہوتا ہے۔ جب یہ راستہ بند ہوجاتا ہے تو خلیے میں پوٹاشیئم کی مقدار بڑھنے لگتی ہے، یعنی مثبت چارج کی مقدار بڑھنے لگتی ہے۔

اس سے خلیے میں موجود ایک اور پروٹین چینل یعنی ایک اور راستے میں تبدیلی آنے لگتی ہے، اور یہ دوسرا راستہ کھل جاتا ہے، اس راستے سے ایک اور مثبت چارج خلیے کے اندر آنے لگتا ہے (کیلشیم+)۔ یعنی خلیے میں مثبت چارجز کی مقدار میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔

جب خلیے کے اندر مثبت چارج ایک خاص حد تک پہنچتا ہے، تو انسولین جن پیکٹس (vesicles) میں موجود ہوتی ہے، ان پیکٹس کے خاص پروٹینز بھی اپنا کام شروع کر دیتے ہیں اور وہ پیکٹس انسولین کو خلیے سے باہر خارج کر دیتے ہیں اور یہ انسولین خون کے ذریعے اپنے مطلوبہ مقامات تک پہنچ جاتی ہے۔

تو سارا چکر گلوکوز کے آنے سے شروع ہوا، پھر اے ٹی پی بنا، اس اے ٹی پی نے پوٹاشیئم کا راستہ روک کر خلیے میں پوٹاشیئم یعنی مثبت چارج جمع کیا، جس سے ایک اور مثبت چارج یعنی کیلشیم کے خلیے میں آنے کا راستہ کھلا، جس سے خلیہ مزید مثبت چارج والا ہوگیا جس وجہ سے انسولین خلیے سے خارج ہوئی۔

شوگر کے مرض میں مریض کے جسم کی انسولین کی ضرورت بڑھ جاتی ہے، ایسے میں اس دوائی سے کام لیا جاتا ہے۔ تو یہ دوائی کیسے کام کرتی ہے ؟

یاد ہیں وہ پوٹاشیم کے چینلز/راستے جو گلوکوز سے بننے والے اے ٹی پی نے بند کئے تھے ؟ ہماری یہ دوائی بھی انہی پوٹاشیم چینلز کو بند کرتی ہے، جس سے خلیے کے مثبت چارجز میں اضافہ ہوتا ہے اور مزید مثبت چارج کے آنے کا راستہ بھی کھلتا ہے، اور پھر انسولین بھی خارج ہوتی ہے۔

یوں اس دوائی اور اس دوائی کی قسم (sulfonylureas) اضافی انسولین خارج کرتی ہیں۔

لگتا ہے میں نے اس بار ایک عام قاری کو سمجھانے کے لیے کچھ پیچیدہ مضمون کو ہاتھ ڈال لیا، لیکن یہ سب صرت سمجھنے کے ہے، برائے مہربانی ایسی ادویات ڈاکٹر کی تجویز کے بغیر استعمال نہ کریں، ورنہ نقصان ہوسکتا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں خون ہمیشہ سرخ ہوتا ہے کیونکہ اس میں ہیموگلوبن موجود ہوتا ہے، جو آکسیجن کے ساتھ مل کر اسے سرخ رنگ دیتا ہ...
09/03/2025

کیا آپ جانتے ہیں خون ہمیشہ سرخ ہوتا ہے کیونکہ اس میں ہیموگلوبن موجود ہوتا ہے، جو آکسیجن کے ساتھ مل کر اسے سرخ رنگ دیتا ہے۔

رگیں نیلی یا سبز اس لیے نظر آتی ہیں کیونکہ روشنی جب جلد سے گزرتی ہے تو اس کا کچھ حصہ جذب اور کچھ منعکس ہو جاتا ہے۔ جلد سرخ روشنی کو زیادہ جذب کرتی ہے، جبکہ نیلی روشنی زیادہ بکھرتی ہے اور ہماری آنکھوں تک پہنچتی ہے، جس کی وجہ سے رگیں نیلی دکھائی دیتی ہیں۔

یہ دراصل ایک نظری دھوکہ (optical illusion) ہے، ورنہ خون کا رنگ ہمیشہ سرخ ہی ہوتا ہے، چاہے وہ جسم کے اندر ہو یا باہر۔

اپنا خیال رکھا کریں، اپنی زندگی کو اہمیت دیا کریں، پیسے کمانے کی دوڑ میں بھاگنا اور پھر اسی بھاگنے کی وجہ سے بیمار ہوکر ...
05/03/2025

اپنا خیال رکھا کریں، اپنی زندگی کو اہمیت دیا کریں، پیسے کمانے کی دوڑ میں بھاگنا اور پھر اسی بھاگنے کی وجہ سے بیمار ہوکر دوائیوں کے سہارے چلنا بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔

یہ ادویات ایک سائکیٹرسٹ نے پریسکرائب کی ہیں اور جس مریض کو پریسکرائب کی ہیں، اس مریض کو اتنا ڈپریشن تھا کہ اس حالت بگڑی ہوئی تھی، پاس بٹھا کہ History لی تو پتا چلا کہ اسے کسی اپنے نے ہی ڈسا تھا، اور اس کی یہ حالت ہوگئی، کہنے لگا ڈاکٹر صاحب مجھے آسمان سے ڈر لگتا ہے، خدا کے لیے کوئی ایسی دوائی دیں کہ میں ٹھیک ہو جائوں، میں نے اس کو صرف 3 دن کی دوائی دی اور یہ کہ کر اسکو گھر بھیج دیا کہ اگر فرق ہو تو آجانا ورنہ نہیں آنا، وہ مریض 3 دن بعد آیا تو بہت خوش تھا، اچھی خاصی improvement تھی لیکن پھر اس نے وہ دوائی کھانا چھوڑ دی، جس کی وجہ اسکی حالت پھر سے خراب ہوگئی, کچھ دن بعد پتا چلا کے وہ ایک پیر صاحب سے پڑھائی بھی کروا کہ آیا لیکن حالت نہ سدھری۔
اپنے ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے مشورہ کیے بغیر خود سے دوائیاں کھانا اور خود سے چھوڑڈیںے کا انجام ایسا ہی ہوتا ہے۔

مختصراً یہ کہ زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت ، اپنی صحت کو دیں، آپ صحت مند ہونگے تو آپکا گھر ایک پُرسکون ماحول میں ہوگا۔ اپنے آپکو ادویات سے بچائیں، اپنی ترجیحات کو بدلیں، Self Medication جیسے موذی مرض سے جان چھڑائیں۔

Al Haseeb Pharmacy
Quality Medicines Better Living

Address

Naushahro Feroze
Naushahro Firoz

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Haseeb Pharmacy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram