16/11/2025
سلطان عبدالحمید ثانی اور لوئی پاسچر کی وہ داستان جو آج بھی دنیا کو حیران کرتی ہے.
انیسوی صدی کا اختتام، یہ وہ زمانہ تھا جب یورپ بیک وقت سائنسی ترقی میں آگے بڑھ رہا تھا اور ادھر مسلم دنیا سیاسی طوفانوں سے گزر رہی تھی۔
لیکن اسی ہنگامے میں ایک عثمانی سلطان ایسا تھا جس کی نگاہیں بارود کے دھوئیں میں بھی سائنس کی روشنی تلاش کر رہی تھیں۔
یہ تھے سلطان عبدالحمید ثانی (1876–1909ء)،
اور اُن کے سامنے تھی فرانس کے عظیم سائنس دان لوئی پاسچر کی تازہ ترین حیرت انگیز ایجاد "ریبیز ویکسین" (Rabies Vaccine) جس کا پہلا کامیاب تجربہ 6 جولائی 1885ء کو ہوا۔
یہ دریافت دنیا کے لیے امید کی کرن تھی… اور خلافتِ عثمانیہ نے اسے فوراً پہچان لیا۔
جب پاسچر نے حکمرانوں سے مدد مانگی؛
سنہ 1886ء کے آغاز میں پاسچر نے دنیا کے بڑے حکمرانوں کو خط لکھے، تاکہ وہ پہلے سائنسی انسٹیٹیوٹ (Institut Pasteur) کے قیام میں مالی مدد کریں۔
روسی زار نے جواب میں بس اپنی ایک بڑی تصویر بھیج دی۔ یورپ کے باقی حکمرانوں نے سرد رویہ دکھایا۔ لیکن جب یہ خط سلطان عبدالحمید خان تک پہنچا،
تو انہوں نے وہ فیصلہ کیا جو کسی مسلم حکمران نے کبھی نہیں کیا تھا۔
سلطان نے 13 جون 1886ء کو تین رکنی عثمانی وفد پیرس روانہ کیا، جس میں ڈاکٹر حسین رمزی، زوروس پاشا، ڈاکٹر حسین حسنی (ماہرِ حیوانات) شامل تھے۔ یہ وفد مہینوں تک پاسچر کے زیرِ نگرانی کام کرتا رہا اور جدید جراثیمی سائنس کی عملی تربیت حاصل کی۔
سلطان عبدالحمید کا تحفہ، جس نے یورپ کو حیران کر دیا؛
سلطان عبدالحمید نے صرف وفد نہیں بھیجا بلکہ: 10,000 فرانک کا بڑا مالی عطیہ، عثمانی مجیدی تمغہ (اول درجہ) خصوصی تعریفی میڈل دیا۔
اس پرپیرس اکیڈمی آف سائنس کے سربراہ نے کہا:
"تمام حکمرانوں میں انسانیت کے لیے سب سے بڑا تحفہ عثمانی سلطان نے دیا!"
یہ اس وقت کی عالمی سائنس میں ایک تاریخی لمحہ تھا۔
اسلامی دنیا میں پہلا ویکسین سینٹر،استنبول میں قائم ہوا؛۔
عثمانی وفد کی واپسی کے بعد سلطان عبدالحمید نے حکم دیاکہ، “استنبول میں Rabies کا اسپتال فوری بنایا جائے!”
اور صرف دو برس میں (1887–1889ء) ایک جدید مرکز قائم ہوا جسے عثمانی زبان میں"داء الکلـب تداؤی خانہ" (Rabies Treatment Center) کہا جانے لگا۔ یہ اسلامی دنیا کا پہلا ویکسین بنانے والا ادارہ تھا۔ صرف تین سال بعد 1889ء میں استنبول میں باقاعدہ ویکسین بننا شروع ہوگئی۔ پیرس کے بعد دنیا میں سب سے پہلے پاسچر نے اپنا قریبی ماہر ڈاکٹر نیکول استنبول بھیجا،
جو کئی سال وہاں تنخواہ پر کام کرتا رہا۔
سلطان عبدالحمید اور پاسچر، میں خط و کتابت؛۔
سلطان عبدالحمید فرانسیسی زبان میں پاسچر کو خط لکھتے تھے۔ ان کا محبت بھرا خطاب ہوتا
"Mon cher Monsieur Pasteur"
(میرے عزیز مسٹر پاسچر)
یہ صرف سیاسی تعلق نہیں تھا۔ یہ سائنس، انسانیت اور احترام کا رشتہ تھا۔
استنبول میں کالرا کا پھیلا، اور پاسچر کی مدد:۔
اگست 1892ء میں استنبول میں اچانک کالرا پھیل گیا۔ عثمانی ڈاکٹر اس بات پر متفق نہ تھے کہ یہ کون سا مرض ہے۔ سلطان نے فوراً حکم دیا کہ:
“پاسچر کو خط لکھو!”
پاسچر نے اپنے بہترین ماہر ڈاکٹر شانتیمیس کو استنبول بھیجا۔ تحقیق کے بعد تصدیق ہوئی کہ واقعی یہ کالرا ہے۔ عثمانی حکومت نے ہنگامی اقدامات کیے، اور چند ہفتوں میں وبا ختم ہوگئی۔
تحریر:محمد سہیل