Hakeem Rai Khalid

Hakeem Rai Khalid اس پیج پر ہم صحت کے لیے قدرتی علاج ۔وڈیو
youtube.com/?si=FfMGExOOEupNn6Ka

عنوان: معدے کی اصلاح اور نظامِ ہاضمہ کی بحالی کا شاہکار نسخہحکمت کے علمی خزانوں سے انتخاب، جس کے بارے میں شاعر کہتا ہے:ت...
26/04/2026

عنوان: معدے کی اصلاح اور نظامِ ہاضمہ کی بحالی کا شاہکار نسخہ
حکمت کے علمی خزانوں سے انتخاب، جس کے بارے میں شاعر کہتا ہے:
تندرستی ہے تو دنیا میں ہے جینے کا مزہ
ورنہ ہر شے ہے یہاں صورتِ دیوار و در
اور حضرت لقمان علیہ السلام کا فرمان ہے: "بیماری کا اصل گھر معدہ ہے اور پرہیز ہر دوا کی بنیاد ہے۔"
#علمی و طبی پس منظر
یہ نسخہ صرف اجزاء کا مجموعہ نہیں، بلکہ طبِ یونانی کی لطافت، آیو ویدک (سنسکرت) کے فلسفہ "دیپن پاچن" (بھوک بڑھانے اور ہضم کرنے) اور نظریہ مفرد اعضاء کی باریکیوں کا نچوڑ ہے۔
نظریہ مفرد اعضاء: یہ مرکب غدی عضلاتی تحریک پیدا کر کے جگر و معدہ کی سستی کو دور کرتا ہے اور ریح (گیس) کا خاتمہ کرتا ہے۔
طبِ اسلامی و یونانی: پودینہ، انار دانہ اور زیرہ جیسے اجزاء مصلحِ طعام ہیں جو روحِ حیوانی کو تقویت دیتے ہیں۔
آیو ویدک فلسفہ: اس میں موجود "مگھاں" اور "سونٹھ" (ترکٹہ کا حصہ) نظامِ انہضام کی آگ (Agni) کو جلا بخشتے ہیں۔
#نسخہ: اکسیرِ معدہ (چورن)
پروفیسر حکیم ابنِ طبیب رائے خالد (سابق پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج) کے پانچ دہائیوں پر محیط طبی تجربات کا نچوڑ۔
اجزاء:
1. سونٹھ (3 ماشہ) | 2. کالی مرچ (ڈیڑھ تولہ) | 3. خشک پودینہ (ڈیڑھ تولہ) | 4. انار دانہ (ڈیڑھ تولہ) | 5. زیرہ سیاہ (6 ماشہ) | 6. زیرہ سفید (6 ماشہ) | 7. مگھاں (6 ماشہ) | 8. تخم الائچی خورد (6 ماشہ) | 9. چترک (6 ماشہ) | 10. سماق (1 تولہ) | 11. مغز کنول ڈوڈہ (1 تولہ) | 12. ست لیموں (9 ماشہ) | 13. نمک سیندھا (4 تولہ) | 14. پیپرمنٹ (2 ماشہ) | 15. مصری (15 تولہ)۔
تیاری: تمام ادویات کو باریک پیس کر سفوف بنائیں اور محفوظ کر لیں۔
مقدارِ خوراک: 3 ماشہ سے 6 ماشہ تک، کھانے کے بعد سادہ پانی کے ساتھ۔
#فوائد و خصوصیات
بھوک کی کمی: ان کے لیے جنہیں کھانے کی طلب نہیں ہوتی۔
بدہضمی و گیس: کھٹے ڈکار، پیٹ کا پھولنا اور بھاری پن فوراً ختم کرتا ہے۔
قبض کشا: آنتوں کی خشکی دور کر کے فضلے کے اخراج کو سہل بناتا ہے۔
معدے کی طاقت: معدے کی رطوبتوں کو متوازن کر کے غذا کو جزوِ بدن بناتا ہے۔
#زیرِ نگرانی و زیرِ سایہ
پروفیسر حکیم ابنِ طبیب رائے خالد
(گزشتہ 50 سالوں سے انسانیت کی خدمت میں مصروف)
سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
اپنی علمی و تحقیقی مہارت کے ساتھ آپ کی راہنمائی کے لیے موجود ہیں۔
📍 خالد دواخانہ
چوک ہارنیاں والا، نزد غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر۔
📞 رابطہ نمبر: 03127530789
نوٹ: اس مفید معلومات کو صدقہ جاریہ سمجھ کر **لائک** اور شیئر کریں تاکہ دوسرے بھی مستفید ہو سکیں۔ پیج کو فالو کرنا نہ بھولیں!

#اوکاڑہ #حکمت

سائبیرین کستوری ہرن کی خصوصیات کو طب کے قدیم و جدید فلسفوں کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے:🦌 کستوری ہرن: قدرت کا انمول شاہکار ا...
26/04/2026

سائبیرین کستوری ہرن کی خصوصیات کو طب کے قدیم و جدید فلسفوں کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے:
🦌 کستوری ہرن: قدرت کا انمول شاہکار اور حکمت کا قدیم راز 🌿
سائبیرین کستوری ہرن (Siberian Musk Deer) قدرت کی ایک ایسی نشانی ہے جو اپنی ظاہری معصومیت اور باطنی سخاوت کی وجہ سے صدیوں سے طب و حکمت کا مرکز رہا ہے۔ یہ چھوٹا اور شرمیلا جانور، جس کے سر پر سینگ نہیں بلکہ نر میں لمبے دانت (Fangs) ہوتے ہیں، درحقیقت "خیرِ کثیر" کا حامل ہے۔
📜 فلسفہِ طب کی روشنی میں
طبِ یونانی و اسلامی: یونانی اطباء کے نزدیک "مشک" (Musk) ارواح کو قوت دینے والی عظیم ترین دوا ہے۔ یہ قلب و دماغ کی حرارتِ غریزی کو جلا بخشتی ہے۔ امام ابنِ قیمؒ نے اسے "روح کی غذا" قرار دیا ہے۔
نظریہ مفرد اعضاء: تحریک و تسکین کے حوالے سے کستوری اعصابی کمزوری کے لیے ایک بہترین تریاق ہے جو اعضائی نظام میں توازن پیدا کرتی ہے۔
آیورویدک و سنسکرت فلسفہ: سنسکرت میں اسے "کستوری" کہا جاتا ہے، جو "وجیکرنا" (Vajikarana) یعنی حیات نو اور قوتِ باہ کے نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ انسانی جسم کے ساتوں "دھاتوں" کو تقویت دیتی ہے۔
💎 حکمت کے علمی خزانے
کستوری اور اس کی خوشبو کو صوفیاء اور شعراء نے ہمیشہ معرفت اور محنت کی علامت سمجھا ہے:
عطار ہو یا مشک ہو، خود بولے اپنی باس پوچھو نہ اس کی ذات کو، دیکھو اس کی پاس خوشبوئے مشک و کستوری نہ مانی زِ کس خود بخود می گوید کہ من مشکم و بس
(ترجمہ: کستوری کو بتانے کی ضرورت نہیں پڑتی کہ وہ کیا ہے، اس کی مہک ہی اس کی پہچان ہوتی ہے۔)
🏥 پانچ عشروں کا تجربہ اور خدمتِ خلق
خالقِ کائنات نے کستوری ہرن کی ناف میں وہ خوشبو چھپائی ہے جو پورے جنگل کو مہکا دیتی ہے۔ اسی طرح پروفیسر حکیم ابنِ طبیب رائے خالد صاحب (پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج) گزشتہ 50 سالوں (پانچ عشروں) سے علمِ طب کے موتی بکھیر رہے ہیں۔ آپ کے تجربے کی خوشبو سے ہزاروں مریض شفایاب ہو رہے ہیں۔
📍 خالد دواخانہ
چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑا شہر۔
🔬 زیرِ نگرانی:
پروفیسر حکیم ابنِ طبیب رائے خالد
سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
📞 رابطہ نمبر: 03127530789
(دیسی ادویات، خالص کستوری، عنبر اور نباتاتی علاج کے لیے رجوع فرمائیں۔)
📢 لائک | شیئر | فالو

ہمارے پیج کو فالو کریں تاکہ آپ تک حکمت اور صحت کے یہ علمی جواہر پہنچتے رہیں۔ اس پوسٹ کو صدقہ جاریہ سمجھ کر شیئر کریں!

 #یہ ایک بہت ہی جاندار اور فکر انگیز موضوع ہے، خاص طور پر موجودہ سماجی تناظر میں جہاں مردانگی کے تعارفی پیمانے بدلنے کی ...
26/04/2026

#یہ ایک بہت ہی جاندار اور فکر انگیز موضوع ہے، خاص طور پر موجودہ سماجی تناظر میں جہاں مردانگی کے تعارفی پیمانے بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ نظریہ مفرد اعضا اور طبِ یونانی کے فلسفے کی روشنی میں "مردانگی" دراصل اعتدال، قوتِ ارادی اور حفاظت (قوتِ مدافعت) کا نام ہے۔

🧐 مردانگی کے نام نہاد معیار اور آج کا معاشرہ! 🧐
آج کے دور میں جہاں ہر چیز کی تعریفیں بدلی جا رہی ہیں، وہاں "مردانگی" کو بھی چند مخصوص سماجی و معاشی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ مردوں کو "نامردی" کا طعنہ دے کر ذہنی طور پر مغلوب کرنا اب صرف عطائیوں کا وتیرہ نہیں رہا، بلکہ جدید معاشرے میں عورتوں کے حقوق کی آڑ لے کر مرد کو اس کے فطری مقام سے ہٹانے کی ایک منظم کوشش بن چکا ہے۔
#آج کل کے خود ساختہ معیارات ملاحظہ فرمائیں:
#جو عورت کی بے جا ضد نہ مانے، وہ "نامرد"؟
#جو جائز و ناجائز فضول خرچی کا بوجھ نہ اٹھائے، وہ "نامرد"؟
#جو غیرت اور حمیت کے نام پر روک ٹوک کرے، وہ "نامرد"؟
#جو بے حیائی اور حدود سے تجاوز پر خاموش نہ رہے، وہ "نامرد"؟
#حکمت اور فلسفے کی روشنی میں حقیقت
#طبِ یونانی اور سنسکرت فلسفہ (آیو وید) ہمیں سکھاتے ہیں کہ مرد کی فطرت میں "حار" (گرم) مزاج اور "قوتِ فاعلہ" رکھی گئی ہے۔ یہ حرارت صرف جسمانی نہیں بلکہ غیرت، اصول پسندی اور حدود کی حفاظت کی علامت ہے۔
#نظریہ مفرد اعضا کی روشنی میں دیکھا جائے تو مردانگی کا تعلق صرف عضوِ مخصوصہ سے نہیں بلکہ "اعصاب، غدد اور عضلات" کے اس توازن سے ہے جو انسان کو ایک مضبوط کردار (Character) عطاء کرتا ہے۔ اگر مرد اپنی غیرت اور اصولوں کو چھوڑ دے، تو وہ درحقیقت اپنی فطری "عضلاتی قوت" (قوتِ فیصلہ) سے محروم ہو جاتا ہے۔
#منطقِ طب یہ کہتی ہے کہ جس طرح جسم میں روحِ حیوانی کی کمی سے جسم کمزور ہوتا ہے، اسی طرح غیرت کی کمی سے معاشرتی ڈھانچہ دم توڑ دیتا ہے۔
#ہمارا دو ٹوک جواب:
اگر عورت کی بدمعاشی، بے حیائی اور حدود کی پامالی کو روکنے کا نام "نامردی" ہے، تو ہمیں یہ "نامردی" ہزار بار قبول ہے! مردانگی صرف جیب خالی کرنے یا مصلحت پسندی میں سر جھکانے کا نام نہیں، بلکہ چٹان کی طرح اپنے اصولوں پر کھڑے ہونے کا نام ہے۔ بلاوجہ کے "فیمینزم" کی اندھی تقلید کرنا مردانگی نہیں۔
عزت وصف اور کردار کی ہوتی ہے، محض صنف کی نہیں۔ اگر کوئی مرد آپ کے ان خود ساختہ معیاروں پر پورا نہیں اترتا، تو وہ اپنی فطرت پر قائم ہے اور بالکل ٹھیک ہے!
#حکمت کے علمی خزانے
> بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
> عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی
> (عشق یہاں اصول اور غیرت کی علامت ہے)
>
> فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
> یا بندہِ صحرائی یا مردِ کہستانی
> (مرد وہی ہے جو فطرت کے اصولوں کا محافظ ہو)
>
> غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں
> پہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِ دارا
>
#پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج، حکیم ابنِ طبیب رائے خالد
(پچھلے پانچ عشروں سے آپ کی خدمت میں مصروفِ عمل)
📍 خالد دواخانہ
چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر۔
#سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائبوس فزیشن)
📞 #رابطہ: 03127530789
📢 #اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ معاشرے میں مرد کے حقیقی مقام اور وقار کا شعور بیدار ہو سکے۔

 #عنوان: عظمت کا راستہ اور خدمتِ خلق کا سفر"جو کام کرنا ضروری ہے اسے کرنا شاید تمہیں خوشی نہ دے، لیکن یہ تمہیں عظیم ضرور...
26/04/2026

#عنوان: عظمت کا راستہ اور خدمتِ خلق کا سفر
"جو کام کرنا ضروری ہے اسے کرنا شاید تمہیں خوشی نہ دے، لیکن یہ تمہیں عظیم ضرور بنا دے گا۔"
یہ قول صرف الفاظ نہیں، بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ عظیم مقاصد کی تکمیل کے لیے اکثر اپنی خواہشات کی قربانی دینا پڑتی ہے۔ جس طرح ایک طبیب کی راتوں کی نیند اور تحقیق کی تھکن مریض کی مسکراہٹ میں بدلتی ہے، وہی اسے 'عظیم' بناتی ہے۔

#علمِ طب کے درخشاں پہلو
طب محض علاج کا نام نہیں، بلکہ یہ کائنات کے اسرار کو سمجھنے کا فن ہے۔ ہم اپنے معالجاتی سفر میں ان تمام علمی سرچشموں سے فیض یاب ہوتے ہیں جنہوں نے صدیوں سے انسانیت کی رہنمائی کی ہے:
نظریہ مفرد اعضاء: اعضاء کی کیمیائی اور مشینی تحریکات کے ذریعے نبض سے مرض کی اصل جڑ تک پہنچنا۔
طبِ یونانی و اسلامی: اخلاط کا توازن اور فطری جڑی بوٹیوں سے جسمانی و روحانی شفا کا حصول۔
آیو ویدک و سنسکرت فلسفہ: قدرت کے عناصر (پنج بھوت) اور فلسفہ منطق کے ذریعے انسانی مزاج کی گہرائیوں کا ادراک۔

#حکمت کے علمی خزانے
نہیں منت کشِ تابِ شنیدن میرا افسانہ
خاموشی بھی ہے گویا اک زبانِ محرمِ دانا
(علامہ اقبال)
خرد نے کہہ بھی دیا 'لا الہ' تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

#خدمت کے پچاس سال: ایک عہد، ایک اعتماد
الحمدللہ! پروفیسر حکیم ابنِ طبیب رائے خالد (پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج) پچھلے پانچ عشروں (50 سال) سے علمِ طب کی ترویج اور دکھی انسانیت کی خدمت میں مصروفِ عمل ہیں۔ ان کے ہمراہ سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن) جدید و قدیم طب کے امتزاج سے پیچیدہ امراض کا شافی علاج کر رہی ہیں۔

📍 پتہ: خالد دواخانہ، چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر۔

📞 رابطہ و مشاورت: 03127530789

تعلیماتِ طب کو عام کرنے کے لیے اس پوسٹ کو لائک، شیئر اور پیج کو فالو کریں۔

 # # 🌿 **قوتِ مردانگی اور جوانی کی بحالی: ایک نادر علمی و طبی تحفہ** 🌿حکمتِ قدیم کا یہ اصول ہے کہ انسانی جسم کی مثال ایک...
26/04/2026

# # 🌿 **قوتِ مردانگی اور جوانی کی بحالی: ایک نادر علمی و طبی تحفہ** 🌿
حکمتِ قدیم کا یہ اصول ہے کہ انسانی جسم کی مثال ایک ایسے درخت کی ہے جس کی جڑیں اعضائے رئیسہ (دل، دماغ، جگر) ہیں۔ جب ان جڑوں کو صحیح غذا اور حرارتِ غریزی میسر آتی ہے، تو بڑھاپا بھی جوانی میں بدل جاتا ہے۔
# # # 🏛️ **مختلف طبی مکاتبِ فکر کا نقطہ نظر**
اس نسخے کی افادیت کو سمجھنے کے لیے ہمیں طب کے مختلف فلسفوں کو دیکھنا ہوگا:
* **نظریہ مفرد اعضاء:** یہ نسخہ خاص طور پر غدی عضلاتی اور اعصابی توازن کو درست کر کے مادہ منویہ کی پیدائش اور غدہ قدامیہ (Prostate) کو تقویت دیتا ہے، جس سے انتشار میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے۔
* **طبِ یونانی و اسلامی:** حکمائے یونان و اسلام کے نزدیک 'جوہرِ خصیہ' اور 'مغز پنبہ دانہ' مقویِ باہ اور مغلظِ منی کے طور پر اکسیر کا درجہ رکھتے ہیں۔ یہ اجزاء روحِ حیوانی کو جلا بخشتے ہیں۔
* **آیو ویدک و سنسکرت فلسفہ:** آیو ویدک میں اسے 'واجیکرنا' (Aphrodisiac therapy) کہا جاتا ہے۔ پیاز کا رس اور شہد کا قوام جسم میں 'اوجس' (حیاتیاتی توانائی) کو بڑھاتا ہے، جو لمبی عمر اور مردانہ طاقت کا ضامن ہے۔
* **منطق و فلسفہِ طب:** منطق کا اصول ہے کہ "ضد اپنی ضد کو ختم کرتی ہے"۔ عمر کے ساتھ آنے والی سردی اور خشکی کو اس نسخے کی حرارت اور تری (شہد و پیاز) سے ختم کیا جاتا ہے۔
# # # 📜 **حکمت کے علمی موتی **
> **قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے**
> **دہر میں اسمِ محمدؐ سے اجالا کر دے**
> *(اقبال - قوت اور جذبے کی علامت)*
>
> **طبیبوں سے میں کیا پوچھوں علاجِ دردِ دل اپنا**
> **مرض جب حد سے بڑھ جائے تو بن جاتا ہے خود درماں**
>
# # # 🧪 **نسخہ "اکسیرِ حیات" (تیاری اور ترکیب)**
یہ نسخہ ان لوگوں کے لیے ہے جو مکمل طور پر ناامیدی کا شکار ہو چکے ہوں۔
**اجزاء:**
* تخمِ قرطم: 300 گرام
* مغزِ پنبہ دانہ: 300 گرام
* جوہرِ خصیہ: 200 گرام
* لونگ: 200 گرام
* سفید پیاز کا پانی: 1 کلو
* چھوٹی مکھی کا شہد (خالص): آدھا کلو
**ترکیبِ تیاری:**
پیاز کے پانی اور شہد کو مکس کر کے ہلکی آنچ پر رکھیں۔ جب قوام (گاڑھا پن) بننے کے قریب ہو، تو تمام ادویات کو انتہائی باریک پیس کر شامل کر دیں اور دھیمی آگ پر پکائیں یہاں تک کہ معجون تیار ہو جائے۔
**طریقہ استعمال:**
آدھا چمچ رات کو سوتے وقت ہمراہ نیم گرم دودھ۔
*(نوجوانوں کے لیے 15 دن اور 50-60 سال کی عمر کے بزرگوں کے لیے ایک ماہ کا کورس کافی ہے)*۔
# # # 🩺 **ماہرینِ فن کی زیرِ نگرانی**
پچھلے **50 سالوں** سے انسانیت کی خدمت میں مصروف:
👨‍⚕️ **پروفیسر حکیم ابنِ طبیب رائے خالد** (ساہیوال طبیہ کالج)
پچاس سالہ تجربہ، جو نبض دیکھ کر مرض کی جڑ تک پہنچنے کی مہارت رکھتے ہیں۔
👩‍⚕️ **سکالر طبیبہ ام حبیبہ** (فائنبوس فزیشن)
جدید طبی تحقیق اور روایتی حکمت کا بہترین سنگم۔
📍 **پتہ:** خالد دواخانہ، چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑا شہر۔
📞 **رابطہ برائے مشورہ:** 03127530789
📢 **اس مفید معلومات کو صدقہ جاریہ سمجھ کر لائک اور شیئر کریں۔ مزید طبی معلومات کے لیے ہمارا پیج فالو کریں۔**

🏗️ زندگی، نظریہ اور شفائے کاملہ: ایک فکری مطالعہزندگی محض سانس لینے کا نام نہیں، بلکہ یہ تضادات کا ایک مجموعہ ہے۔ یہ سچ ...
26/04/2026

🏗️ زندگی، نظریہ اور شفائے کاملہ: ایک فکری مطالعہ
زندگی محض سانس لینے کا نام نہیں، بلکہ یہ تضادات کا ایک مجموعہ ہے۔ یہ سچ ہے کہ زندگی آسان نہیں ہوتی، اور اسے مایوسی یا تلخی کے بغیر گزارنا تبھی ممکن ہے جب انسان کے پاس کوئی ایسا عظیم نظریہ ہو جو اسے مادی دکھوں، انسانی کمزوریوں اور زمانے کی کم ظرفی سے بلند کر دے۔

🏛️ مختلف طبی فلسفوں کا نچوڑ
جب ہم انسانی وجود کو دیکھتے ہیں، تو مختلف علوم ہمیں اس کی گہرائی سمجھاتے ہیں:
نظریہ مفرد اعضاء: یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب جسم کے بنیادی اعضاء (دل، دماغ، جگر) کے افعال میں توازن بگڑ جائے تو مایوسی جنم لیتی ہے۔ اصل شفا نظام کی درستی میں ہے۔

طبِ یونانی و اسلامی: اخلاط کا توازن (Balancing Humors) ہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف جسم بلکہ روح کو بھی سکون فراہم کرتا ہے۔ "الکاسب حبیب اللہ" کے تحت محنت اور خدمتِ خلق ہی وہ عظیم نظریہ ہے جو انسان کو دکھوں سے اوپر اٹھاتا ہے۔

آیو ویدک و سنسکرت فلسفہ: یہاں 'پرکرتی' (فطرت) اور 'دھرما' (نصب العین) پر زور دیا گیا ہے۔ جب انسان اپنے 'دھرما' کو پہچان لیتا ہے، تو دنیاوی غداریاں اسے متاثر نہیں کرتیں۔

منطق و فلسفہ: منطق ہمیں سکھاتی ہے کہ کائنات کا ہر حادثہ ایک علت (Cause) رکھتا ہے۔ جب ہم علتِ اولیٰ (ذاتِ باری تعالیٰ) سے جڑ جاتے ہیں، تو ہر غم ہیچ ہو جاتا ہے۔

📜 حکمت کے علمی خزانے
اسی نظریاتی بلندی کو شعراء نے یوں بیان کیا ہے:
> ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
> بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
> (غالب - انسانی کمزوریوں کی عکاسی)
>
> خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
> خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
> (اقبال - عظیم نظریے اور بلندی کا پیغام)
>
> جس کو ہو دردِ محبت کا نشہ اے واعظ
> وہ نہیں سنتا تیرے پند و نصائح کی صدا
> (حکمت و روحانیت کا نچوڑ)
>
🩺 ماہرینِ طب کی زیرِ نگرانی رہنمائی
اگر آپ ذہنی تناؤ، جسمانی کمزوری یا کسی بھی پیچیدہ مرض کی وجہ سے زندگی میں مایوسی محسوس کر رہے ہیں، تو خالد دواخانہ آپ کی مکمل رہنمائی کے لیے موجود ہے۔

👨‍⚕️ پروفیسر حکیم ابنِ طبیب رائے خالد (ساہیوال طبیہ کالج)

پچھلے پانچ عشروں (50 سال) سے مطب کی زینت، جن کا تجربہ اور تشخیص ہی مرض کی آدھی شفا ہے۔

👩‍⚕️ سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
جدید اور قدیم طب کے امتزاج سے خواتین اور دیگر پیچیدہ امراض کی ماہر۔

📍 مقام: خالد دواخانہ، چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑا شہر۔

📞 رابطہ: 03127530789

📢 اس پیغام کو لائک کریں، شیئر کریں اور ہمارے پیج کو فالو کریں تاکہ حکمت کی باتیں دوسروں تک پہنچ سکیں۔

🌿 فطرت، وفاداری اور حسنِ بندگی: ایک طبی و فلسفیانہ جائزہ 🌿"جس فرد کو فطرت اور اس کی سادگی میں حسن نظر نہیں آتا، وہ فرد م...
25/04/2026

🌿 فطرت، وفاداری اور حسنِ بندگی: ایک طبی و فلسفیانہ جائزہ 🌿
"جس فرد کو فطرت اور اس کی سادگی میں حسن نظر نہیں آتا، وہ فرد محبت میں کبھی بھی کسی ایک فرد کا وفادار نہیں رہ پاتا۔"
یہ محض ایک جملہ نہیں، بلکہ انسانی نفسیات اور کائنات کے گہرے تعلق کا عکاس ہے۔ جو آنکھ پتے کی سبزہ زار، پھول کی نذاکت اور مٹی کی خوشبو میں چھپے رب کے جمال کو نہیں پہچان سکتی، وہ انسانی رشتوں میں چھپے "خلوصِ سادہ" کی قدر کیسے کر سکتی ہے؟
✨ حکمت کے موتی
محبت اور فطرت کے اسی تعلق کو شعراء نے یوں بیان کیا ہے:
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندہِ صحرائی یا مردِ کہستانی
(علامہ اقبالؒ)
جو نظر جمالِ فطرت سے نا آشنا رہی
وہ کسی کے پیار کی تاب کیا لائے گی
🔍 مختلف علوم کی روشنی میں تجزیہ
1. نظریہ مفرد اعضاء اور نفسیات:
حکیم صابر ملتانیؒ کے نظریات کی روشنی میں، جب انسانی مزاج میں "عضلاتی تحریک" (خشکی) حد سے بڑھ جائے تو انسان میں بے چینی اور تنوع پسندی بڑھ جاتی ہے۔ سادگی سے دوری دراصل طبیعت میں پیدا ہونے والا ایک ایسا بگاڑ ہے جو انسان کو ایک مرکز (وفاداری) پر ٹکنے نہیں دیتا۔
2. طبِ یونانی و اسلامی:
طبِ یونانی کے مطابق "اعتدال" ہی زندگی ہے۔ طبِ اسلامی ہمیں سکھاتی ہے کہ **"القناعت کنز لا یفنی"** (قناعت ایسا خزانہ ہے جو ختم نہیں ہوتا)۔ جو فطرت کی سادگی پر قناعت نہیں کرتا، اس کا نفس ہمیشہ "کثرت" کی تلاش میں بھٹکتا رہتا ہے، جس سے وفاداری کا جوہر ختم ہو جاتا ہے۔
3. آیو ویدک اور سنسکرت فلسفہ:
آیو ویدک فلسفے میں اسے "ستو گن" (Sattva) کی کمی کہا جاتا ہے۔ جب انسان قدرت (Nature) سے دور ہوتا ہے، تو اس کے اندر "رجو گن" (بے چینی) غالب آ جاتی ہے، جو اسے کسی ایک رشتے یا مقام پر سکون نہیں لینے دیتی۔
👨‍⚕️ زیرِ سرپرستی: ماہرینِ طب و حکمت
اگر آپ اپنے مزاج میں اعتدال، ذہنی سکون اور جسمانی صحت کے طالب ہیں، تو تشریف لائیں:
🔹 پروفیسر حکیم ابنِ طبیب رائے خالد
(سابق پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج)
پچھلے پانچ عشروں (50 سال) سے انسانیت کی خدمت میں مصروف، تشخیص و تجویز کے بے تاج بادشاہ۔
🔹 سکالر طبیبہ ام حبیبہ
(فائنبوس فزیشن و محقق)
📍 پتہ: خالد دواخانہ، چوک ہارنیاں والا، نزد غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر۔

📞 رابطہ نمبر: 03127530789

📢 پوسٹ اچھی لگی ہو تو اسے لائک کریں، شیئر کریں اور ہمارے پیج کو فالو کریں تاکہ حکمت کی باتیں آپ تک پہنچتی رہیں۔











 #کائنات کا سب سے خوبصورت انعام: محبت اور توازنِ حیات"کائنات کا سب سے خوبصورت انعام یہ ہے کہ آپ اپنے محبوب کے محبوب ہوں"...
25/04/2026

#کائنات کا سب سے خوبصورت انعام: محبت اور توازنِ حیات
"کائنات کا سب سے خوبصورت انعام یہ ہے کہ آپ اپنے محبوب کے محبوب ہوں"۔
یہ محض ایک جملہ نہیں، بلکہ فلسفہِ منطق اور طبِ اسلامی کی روح ہے۔ جس طرح روح اور بدن کا رشتہ ایک دوسرے کی پہچان ہے، اسی طرح محبت کا دو طرفہ ہونا انسانی اعصاب اور قلب کو وہ جلا بخشتا ہے جس کا متبادل کوئی دوا نہیں۔
#حکمت کے علمی خزانے
محبت اور معالج کے رشتے پر غالب اور دیگر اساتذہ کے افکار کی روشنی:
> جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی
> حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
>
> تنگ دستی اگر نہ ہو سالک
> تندرستی ہزار نعمت ہے
>
#طبی و فلسفیانہ تناظر

1. نظریہ مفرد اعضاء: جب دل (عضوِ رئیس) محبت کی تپش سے سرشار ہوتا ہے، تو حرارتِ غریزی میں اعتدال پیدا ہوتا ہے، جو پورے جسم کے مشینی اور کیمیاوی نظام کو ہم آہنگ کر دیتا ہے۔

2. طبِ یونانی و آیو ویدک: قدیم یونانی فلسفہ ہو یا سنسکرت کا ویدک فلسفہ ، دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ 'شکتی' اور 'شفاء' کا منبع وہی ہے جو اندرونی سکون سے جڑا ہو۔ جب انسان ذہنی طور پر پُرسکون ہوتا ہے، تو خلطِ دم (Blood) کی صالح پیدائش بڑھ جاتی ہے۔

3. طبِ اسلامی: یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ شفا دینے والی ذات اللہ کی ہے، اور مومن کے لیے اس کے بندوں کی محبت ہی اصل سرمایہ ہے۔

#پانچ عشروں کا اعتماد اور علمی میراث

پچھلے 50 سالوں (پانچ عشرے) سے طب کے میدان میں انسانیت کی خدمت اور علمی تحقیق کا سفر جاری ہے۔ پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج، حکیم ابنِ طبیب رائے خالد، اپنے وسیع تجربے اور نباضی کی مہارت سے پیچیدہ امراض کا علاج نظریہ مفرد اعضاء اور طبِ قدیم کے عین مطابق کر رہے ہیں۔

خالد دواخانہ (اوکاڑہ) میں قدیم و جدید طبی تحقیق کے سنگم پر آپ کی صحت کے لیے مخلصانہ رہنمائی دستیاب ہے۔
معالجین

پروفیسر حکیم ابنِ طبیب رائے خالد (سابق پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج)
سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
📍 پتہ: خالد دواخانہ، چوک ہارنیاں والا، نزد غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر۔
📞 رابطہ و واٹس ایپ: 03127530789

ہمیں فالو کریں، لائک کریں اور انسانیت کی بھلائی کے لیے اس پوسٹ کو شیئر کریں!

"جن سے انساں کو پہنچتی ہے ہمیشہ تکلیفان کا دعویٰ ہے کہ وہ اصل خدا والے ہیں"آج کے دور میں انسانیت کی خدمت کا دعویٰ تو ہر ...
25/04/2026

"جن سے انساں کو پہنچتی ہے ہمیشہ تکلیف
ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اصل خدا والے ہیں"
آج کے دور میں انسانیت کی خدمت کا دعویٰ تو ہر کوئی کرتا ہے، لیکن حقیقت میں 'خدا والا' وہی ہے جس کے ہاتھ اور عمل سے مخلوقِ خدا کو راحت پہنچے۔ طبِ مشرق (حکمت) محض ادویات کا نام نہیں، بلکہ یہ انسانیت کی خدمت اور خالق کی تخلیق (انسانی جسم) کو سمجھنے کا ایک مقدس سفر ہے۔
📜 حکمت اور فلسفہِ طب کے آئینہ میں
حقیقی طبیب وہی ہے جو مریض کے صرف جسم کا نہیں، بلکہ اس کے مزاج کا بھی معالج ہو۔ مختلف طبی فلسفوں کے نچوڑ سے ہی مکمل شفاء ممکن ہے:
نظریہ مفرد اعضاء: اعصابی، غدی اور عضلاتی تحریکات کا توازن ہی زندگی کی علامت ہے۔
طبِ یونانی و اسلامی: اخلاط (دم، بلغم، صفرا، سودا) کی اعتدال پسندی پر مبنی وہ قدیم علم جو نبویؐ تعلیمات کی روشنی میں منور ہے۔
آیو ویدک و سنسکرت فلسفہ: قدرت (Prakriti) اور عناصرِ خمسہ کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنا تاکہ جسم و روح یکجا شفا پائیں۔
📚 حکمت کے علمی خزانے
> وہ نبض دیکھ کے بولے کہ اب نہیں امید
> میں مسکرا کے یہ بولا کہ رب کی مرضی ہے
>
> شفائے دردِ دل ہوتی ہے اے حکیم! اسی سے
> کہ جس کو لوگ تیرے نسخے میں نہیں لکھتے
>
> شفا مقدر ہے، دعا مقدر ہے، دوا بہانہ ہے
> جہاں میں ہم نے تو بس خدمت کو اپنا مقصد مانا ہے
>
🏥 پانچ دہائیوں کا تجربہ اور خدمتِ خلق
ضلع اوکاڑہ کی سرزمین پر پچھلے پنج عشروں (50 سال) سے انسانیت کی بے لوث خدمت میں مصروف:

👨‍⚕️ پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج، حکیم ابنِ طبیب رائے خالد
ایک ایسی شخصیت جن کی تشخیص اور تجربہ طب کی دنیا میں ایک معتبر حوالہ ہے۔

👩‍⚕️ سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
جدید اور قدیم طب کے امتزاج سے خواتین اور دیگر پیچیدہ امراض کے حل کے لیے کوشاں۔
📍 پتہ: خالد دواخانہ، چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر۔

📞 رابطہ برائے مشورہ و اپائنٹمنٹ: 03127530789

✅ ہماری اس پوسٹ کو لائک کریں، شیئر کریں اور پیج کو فالو کریں تاکہ حکمت کی روشنی گھر گھر پہنچ سکے۔**

فرینک ہربرٹ کے شاہکار ناول "ڈیون" کا یہ اقتباس انسانی نفسیات، اجتماعی جنون اور طاقت کے اس نشے کی عکاسی کرتا ہے جو اکثر ت...
24/04/2026

فرینک ہربرٹ کے شاہکار ناول "ڈیون" کا یہ اقتباس انسانی نفسیات، اجتماعی جنون اور طاقت کے اس نشے کی عکاسی کرتا ہے جو اکثر تباہی پر ختم ہوتا ہے۔ اس فلسفے کو طب، حکمت اور سماجی شعور کے تناظر میں ۔

مذہب، سیاست اور جنون: جب بصیرت اندھی ہو جائے
فرینک ہربرٹ لکھتا ہے:

"جب مذہب اور سیاست ایک ہی گاڑی میں سفر کرتے ہیں، تو سواروں کو یقین ہو جاتا ہے کہ کوئی چیز ان کے راستے میں حائل نہیں ہو سکتی۔ ان کی رفتار اندھا دھند تیز سے تیز تر ہوتی چلی جاتی ہے... وہ بھول جاتے ہیں کہ کھائی اس شخص کو نظر نہیں آتی جو اندھی دوڑ میں لگا ہو، جب تک کہ بہت دیر نہ ہو جائے۔"

یہ اقتباس محض سیاسی جملہ نہیں، بلکہ ایک آفاقی حقیقت ہے کہ جب عقیدت اور طاقت کا امتزاج توازن کھو دے، تو شعور کی آنکھیں بند ہو جاتی ہیں۔ یہی حال انسانی جسم اور صحت کا بھی ہے۔
فلسفہِ طب کی روشنی میں
حکمت اور طب محض جڑی بوٹیوں کا نام نہیں، بلکہ یہ "توازن" کا علم ہے۔
1. نظریہ مفرد اعضاء: صابر ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک بیماری اعضاء کے افعال میں غیر فطری تیزی یا سستی کا نام ہے۔ جب کسی ایک عضو میں (خواہ وہ دماغ ہو، دل ہو یا جگر) حد سے زیادہ تحریک پیدا ہو جائے، تو وہ پورے نظام کو درہم برہم کر دیتی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے اندھی عقیدت انسانی معاشرے کے توازن کو بگاڑ دیتی ہے۔

2. طبِ یونانی و اسلامی: یونانی فلسفہ "اخلاط" کے اعتدال پر زور دیتا ہے۔ جب جسم میں کوئی خلط (جیسے صفراء یا سوداء) اپنی حد سے بڑھ جائے، تو انسان سوداوی جنون یا صفراوی طیش کا شکار ہو جاتا ہے۔ دینِ اسلام نے بھی "خیر الامور اوسطھا" (بہترین کام درمیانی راستہ ہے) کا درس دے کر ہمیں انتہا پسندی سے بچنے کی ہدایت کی ہے۔

3. آیو ویدک اور سنسکرت فلسفہ: قدیم ویدک دانش کے مطابق "ستوا" (توازن)، "رجس" (جذباتیت) اور "تمس" (جہالت) کے درمیان جنگ ہی زندگی ہے۔ جب انسان "رجس" یعنی اندھی رفتار اور "تمس" یعنی لاعلمی کے گڑھے میں گرتا ہے، تو وہ اپنی تباہی کا سامان خود کرتا ہے۔

حکمت کے موتی
عقلِ انسانی کی پستی اور شعور کی بلندی کے حوالے سے شعراء نے کیا خوب کہا ہے:
خرد نے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
(علامہ اقبال)
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو
(اقبال - نظام کی بے حسی پر)
خالد دواخانہ (اوکاڑہ): پانچ دہائیوں کا اعتماد
گزشتہ 50 سالوں (پانچ عشروں) سے انسانیت کی خدمت میں مصروف، جہاں تجربہ اور جدید تحقیق کا سنگم ملتا ہے۔
زیرِ نگرانی:
پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج، حکیم ابنِ طبیب رائے خالد
(ماہرِ نباض و معالج، جن کا پانچ دہائیوں کا مطب اوکاڑہ کی پہچان ہے)
معاونت:
سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
پتہ:
خالد دواخانہ، چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر۔
رابطہ و مشورہ: 03127530789

انسانیت کی خدمت کے اس سفر میں ہمارا ساتھ دیں!

پوسٹ کو لائک، شیئر کریں اور پیج کو فالو کریں تاکہ حکمت اور صحت سے متعلق مستند معلومات آپ تک پہنچتی رہیں۔

یہ ایک نہایت گہرا اور حساس انسانی موضوع ہے۔  #عنوان: بھوک— وہ جذبہ جو انسانیت کو جوڑ دیتا ہےکہتے ہیں کہ "بھوک وہ واحد مذ...
24/04/2026

یہ ایک نہایت گہرا اور حساس انسانی موضوع ہے۔

#عنوان: بھوک— وہ جذبہ جو انسانیت کو جوڑ دیتا ہے
کہتے ہیں کہ "بھوک وہ واحد مذہب ہے جو کسی تفریق کو نہیں مانتا"۔ جب پیٹ خالی ہو تو انسان کو نہ رنگ نظر آتا ہے نہ نسل، اور نہ ہی مسلک۔ وہ شیعہ کی نیاز ہو، سنی کا عرس، وہابی کی خیرات، ہندو کا پرساد یا صوفی کا لنگر— بھوک ہر جگہ دستک دیتی ہے اور انسانیت کو ایک ہی دسترخوان پر بٹھا دیتی ہے۔ 💔😊

#حکمت اور طب کی نظر میں "بھوک" کی حقیقت
طبی نکتہ نظر سے بھوک صرف پیٹ کا خالی ہونا نہیں، بلکہ جسم کی پکار ہے۔

طبِ اسلامی و یونانی: حکیم الامت ابن سینا فرماتے ہیں کہ "تمام بیماریوں کی جڑ معدہ ہے"۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ بھوک کے وقت کھانا سنتِ نبوی ﷺ بھی ہے اور بدن کی رطوبتِ غریزیہ کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ لنگر اور خیرات کا تصور دراصل انسانی بدن کی اس بنیادی ضرورت کو پورا کرنا ہے تاکہ روح اور جسم کا رشتہ قائم رہے۔

نظریہ مفرد اعضاء: اس نظریے کے مطابق بھوک کا احساس براہِ راست ہمارے اعصاب اور معدے کے عضلات سے وابستہ ہے۔ جب جسم کو حرارت اور قوت کی ضرورت ہوتی ہے تو جگر اور معدہ اپنا تقاضا پیش کرتے ہیں۔ لنگر کا سادہ کھانا اکثر زود ہضم اور متوازن ہوتا ہے جو انسانی مزاج کے عین مطابق ہے۔

آیورویدک اور سنسکرت فلسفہ: قدیم ویدک فلسفے میں "اگنی" (ہاضمے کی آگ) کو زندگی کی علامت مانا گیا ہے۔ لنگر اور پرساد میں شامل اجزاء اکثر "ستوِک" (پاکیزہ) ہوتے ہیں جو نہ صرف جسم کو طاقت دیتے ہیں بلکہ ذہن کو سکون بھی فراہم کرتے ہیں۔

#حکمت کے موتی
> بھوک لگی تو یاد آئی، قدرت کی یہ عطا
> روٹی بھی اک عبادت ہے، لنگر ہو یا غذا
>
> مٹ جاتی ہیں سب دیواریں، جب پیٹ کا سوال ہو
> انسان وہی ہے جس کو، سب کے دکھ کا ملال ہو
>
#خالد دواخانہ: پانچ عشروں سے انسانیت کی خدمت میں
اگر آپ یا آپ کا کوئی پیارا معدے کے امراض، کمزوری، یا کسی بھی پیچیدہ بیماری کا شکار ہے، تو ہم قدیم حکمت اور جدید تحقیق کے ساتھ آپ کے علاج کے لیے حاضر ہیں۔

👨‍⚕️ پروفیسر حکیم ابنِ طبیب رائے خالد
(سابق ساہیوال طبیہ کالج، تجربہ: 50 سالہ کامیاب مطب)
👩‍⚕️ سکالر طبیبہ ام حبیبہ
(فائنبوس فزیشن)
📍 مقام: خالد دواخانہ، چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑا شہر۔
📞 رابطہ: 03127530789

انسانیت کی خدمت ہی اصل بندگی ہے۔ اس پیغام کو لائک اور شیئر کریں تاکہ دوسروں تک بھی یہ حکمت پہنچے۔

 #عنوان: سونا اگلتا پانی یا زندگی بخش آبِ حیات؟آج کل سوشل میڈیا پر بھارت کے معروف تاجر مکیش امبانی کی اہلیہ، نیتا امبانی...
24/04/2026

#عنوان: سونا اگلتا پانی یا زندگی بخش آبِ حیات؟

آج کل سوشل میڈیا پر بھارت کے معروف تاجر مکیش امبانی کی اہلیہ، نیتا امبانی کے زیرِ استعمال پانی "Acqua di Cristallo Tributo a Modigliani" کے خوب چرچے ہیں۔ اس پانی کی محض 750 ملی لیٹر کی بوتل کی قیمت 60,000 ڈالر (تقریباً 50 سے 57 لاکھ انڈین روپے) بتائی جاتی ہے۔ 24 کیرٹ سونے کی بوتل میں مقید یہ پانی بلاشبہ دنیا کا مہنگا ترین مشروب ہے، لیکن کیا مہنگا ہونا ہی صحت کی ضمانت ہے؟

#حکمت اور طب کی روشنی میں پانی کی اہمیت
ہم جو پانی پیتے ہیں، وہ بظاہر سادہ معلوم ہوتا ہے مگر قدرت نے اس میں شفا کے وہ خزانے رکھے ہیں جو کسی سونے کی بوتل کے محتاج نہیں۔

طبِ یونانی و اسلامی: طبِ یونانی کے مطابق پانی "ارکانِ اربعہ" میں سے ایک اہم رکن ہے۔ حکیم ارسطو اور ابنِ سینا کے نزدیک پانی صرف پیاس بجھانے کا نام نہیں بلکہ یہ بدن کی رطوبتِ غریزیہ کی حفاظت کرتا ہے۔ فرمانِ نبوی ﷺ ہے: "بہترین مشروب پانی ہے"۔

نظریہ مفرد اعضاء: اس نظریے کے تحت پانی کی زیادتی یا کمی براہِ راست ہمارے اعصاب، غدد اور عضلات پر اثر انداز ہوتی ہے۔ صحیح وقت اور صحیح درجہ حرارت پر پیا گیا سادہ پانی بدن کے زہریلے مادوں (Toxins) کو خارج کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

آیورویدک اور سنسکرت فلسفہ: قدیم سنسکرت فلسفے میں پانی کو "جیون" کہا گیا ہے۔ آیوروید کے مطابق تانبے کے برتن میں رکھا گیا پانی (Tamra Jal) جسم کے تینوں دوش (Doshas) یعنی وات، پِت اور کف کو متوازن کرتا ہے۔

#حکمت کے موتی
پانی کی حقیقت اور قناعت پر مبنی دو خوبصورت
> رزقِ خُدا پہ شاکر رہنا ہی بندگی ہے
> سونے کے پیالے میں ہو یا مٹی کے، پانی تو زندگی ہے
>
> طبیعت کو نہ کر میلا کہ یہ قدرت کی نعمت ہے
> شفا تو سادہ پانی میں ہے، مہنگا ہونا شہرت ہے
>
#طبی مشورے اور علاج کے لیے

اگر آپ دائمی امراض، پیچیدہ جسمانی مسائل یا نظریہ مفرد اعضاء و طبِ یونانی کے تحت مستند علاج چاہتے ہیں، تو خالد دواخانہ گذشتہ 50 سالوں (پانچ عشروں) سے انسانیت کی خدمت میں مصروف ہے۔

👨‍⚕️ پروفیسر حکیم ابنِ طبیب رائے خالد
(سابق ساہیوال طبیہ کالج، تجربہ 50 سال)
👩‍⚕️ سکالر طبیبہ ام حبیبہ
(فائنبوس فزیشن)

📍 پتہ: خالد دواخانہ، چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر۔
📞 رابطہ: 03127530789

نوٹ: اس پوسٹ کو صدقہ جاریہ سمجھ کر لائک اور شیئر کریں تاکہ درست طبی معلومات عام ہوں۔

Address

Chownk Harniya Wala Ghala Godam
Okara
56300

Opening Hours

Monday 09:00 - 19:00
Tuesday 09:00 - 19:00
Wednesday 09:00 - 19:00
Thursday 09:00 - 19:00
Friday 09:00 - 11:00
Saturday 09:00 - 19:00
Sunday 09:00 - 19:00

Telephone

+923007530789

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hakeem Rai Khalid posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Hakeem Rai Khalid:

Share