Hakeem Rai Khalid

Hakeem Rai Khalid اس پیج پر ہم صحت کے لیے قدرتی علاج ۔وڈیو
youtube.com/?si=FfMGExOOEupNn6Ka

آنتوں میں خشکی — بزرگوں میں شدید قبض کا مؤثر حکیمانہ حل❖ سوال:میرے والد محترم کو شدید قبض رہتی ہے۔ حکیموں اور ڈاکٹروں کا...
03/04/2026

آنتوں میں خشکی — بزرگوں میں شدید قبض کا مؤثر حکیمانہ حل

❖ سوال:
میرے والد محترم کو شدید قبض رہتی ہے۔ حکیموں اور ڈاکٹروں کا متفقہ فیصلہ ہے کہ آنتوں میں خشکی ہے، مگر کسی دوا سے واضح فائدہ نہیں ہوا۔ رہنمائی فرمائیں۔

❖ جواب:
یہ مسئلہ صرف قبض نہیں بلکہ مزاج کی خشکی (Dry Temperament) کی علامت ہے، جو خاص طور پر بڑھاپے میں زیادہ ہو جاتی ہے۔

طبِ یونانی اور طبِ اسلامی کے مطابق انسانی جسم کی صحت کا دارومدار اعضاء رئیسہ (دل، دماغ، جگر) اور نظامِ ہضم کے توازن پر ہوتا ہے۔
جب آنتوں میں رطوبت (Moisture) کم ہو جائے تو فضلہ سخت ہو جاتا ہے، جس سے قبض پیدا ہوتی ہے۔

نظریہ مفرد اعضاء کے مطابق آنتیں (امعاء) اگر اپنی طبعی رطوبت کھو دیں تو ان کی حرکت سست ہو جاتی ہے۔
اسی طرح نظریہ ثلاثہ (اخلاط: دم، بلغم، صفرا) میں خشکی کا غلبہ، خاص طور پر صفرا کی زیادتی، قبض کو بڑھا دیتی ہے۔

مفرد اعضاء اربعہ کی روشنی میں بھی واضح ہے کہ جسم میں حرارت و خشکی کا بڑھ جانا اور رطوبت کی کمی بیماری کی جڑ بنتی ہے۔
آیورویدک حکمت اسے “Vata imbalance” کہتی ہے، جس میں خشکی اور سختی غالب آ جاتی ہے۔

❖ پرہیز (خشکی بڑھانے والی غذائیں):
خشک ناریل، کٹھا دہی، بھنے چنے، پکوڑے، مچھلی، بیگن، ٹماٹر، گوبھی، لوبیہ، بڑا گوشت، کریلے، پالک، دال چنا، دال مسور، مٹر
➡️ ان غذاؤں کا استعمال کم سے کم کریں

❖ مفید غذائیں:
دیسی گھی، دودھ، انجیر، منقہ، سبزیاں (خصوصاً توری، کدو)، نیم گرم پانی، روغنی اشیاء

❖ چشتی نسخہ (مجرب):
گلقند 1 کلو (بغیر ڈنڈی)
مربہ ہریڑ ½ کلو (گٹھلی نکال کر)
سونف 250 گرام
چار مغز 50 گرام
مغز بادام شیریں 50 گرام
فلفل سیاہ 25 گرام
دانہ الائچی سبز 50 گرام

تمام اجزاء کو پیس کر اچھی طرح مکس کر لیں۔
➡️ روزانہ 2 چمچ نیم گرم دودھ یا پانی کے ساتھ استعمال کریں

❖ حکمت کے اشعار:

جسم کی ہر اک شکایت کا ہے حل قدرت میں
بس مزاج اپنے کو سمجھو تو دوا مل جائے

درد بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی ہم نے
تم نے دیکھا نہ سہی ہم نے سنبھالا خود کو

صحت اک نعمت ہے، اس کی قدر کر اے انسان
ورنہ چھن جائے تو ہر شے بھی بیکار لگے

✔️ یاد رکھیں:
قبض صرف ایک بیماری نہیں بلکہ کئی امراض کی جڑ ہے۔
اس کا بروقت علاج اور مزاج کی اصلاح نہایت ضروری ہے۔

👨‍⚕️ پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج
حکیم ابنِ طبیب رائے خالد
(پچھلے پانچ عشرہ سے مطب — اوکاڑہ)

🏥 خالد دواخانہ
چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام
ضلع اوکاڑہ شہر

👩‍⚕️ طبیبہ ام حبیبہ
(فائنبوس فزیشن)

📞 رابطہ: 03127530789

👍 لائک کریں | 🔁 شیئر کریں | 📌 فالو کریں
تاکہ یہ مفید معلومات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے

#آیورویدک #قبض #حکمت #صحت #پاکستان

سچ کوئی بھی نہیں سننا چاہتا… اگر وہ اس کے ذاتی مفادات کے مطابق نہ ہو۔یہ جملہ صرف ایک شکایت نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کی ای...
03/04/2026

سچ کوئی بھی نہیں سننا چاہتا… اگر وہ اس کے ذاتی مفادات کے مطابق نہ ہو۔

یہ جملہ صرف ایک شکایت نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کی ایک گہری بیماری کی نشاندہی ہے۔
ہم سچ کو نہیں، بلکہ اپنے فائدے کو قبول کرتے ہیں۔ جو بات ہمارے نفس کو اچھی لگے وہی حق لگتی ہے، اور جو ہماری خواہشات کے خلاف ہو وہ ہمیں کڑوی محسوس ہوتی ہے۔

طبِ یونانی اور طبِ اسلامی کے مطابق انسان کے اعضاء رئیسہ (دل، دماغ، جگر) جب اعتدال میں ہوں تو انسان حق کو پہچانتا ہے۔
لیکن جب دل خواہشات کا غلام ہو جائے، دماغ تعصب میں مبتلا ہو جائے، اور جگر کی قوتِ برداشت کمزور پڑ جائے — تو انسان سچ سننے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔

نظریہ مفرد اعضاء ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہر عضو کی اصلاح ضروری ہے۔
اسی طرح انسان کے باطن کی اصلاح بھی ضروری ہے، ورنہ سوچ بگڑ جاتی ہے۔

نظریہ ثلاثہ (اخلاط: دم، بلغم، صفرا) کا عدم توازن جیسے جسم میں بیماری پیدا کرتا ہے،
ویسے ہی خواہش، غرور اور مفاد کا عدم توازن انسان کی شخصیت کو بیمار کر دیتا ہے۔

مفرد اعضاء اربعہ کی ہم آہنگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ زندگی میں توازن، سچائی اور اعتدال ضروری ہیں۔
آیورویدک حکمت بھی یہی کہتی ہے کہ:
"جب انسان اپنے اندر کی آواز کو دبانے لگے، تو بیماری صرف جسم میں نہیں بلکہ روح میں بھی جنم لیتی ہے۔"

❖ اشعار ❖
سچ کڑوا سہی مگر آئینہ دکھا دیتا ہے
جھوٹ میٹھا ہو تو بھی دل کو بہلا دیتا ہے

ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے

نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

آج ہمیں خود سے سوال کرنا ہوگا…
کیا ہم سچ سننے کے لیے تیار ہیں؟
یا ہم صرف وہی سننا چاہتے ہیں جو ہمارے مفاد میں ہو؟

یاد رکھیں، سچ کو ماننا ہی اصل شفا ہے —
چاہے وہ کتنا ہی کڑوا کیوں نہ ہو۔

👨‍⚕️ پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج
حکیم ابنِ طبیب رائے خالد
پچھلے پانچ عشرہ سے مطب کر رہے ہیں (اوکاڑہ)

🏥 خالد دواخانہ
چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام
ضلع اوکاڑہ شہر

👩‍⚕️ طبیبہ ام حبیبہ
(فائنبوس فزیشن)

📞 رابطہ: 03127530789

👍 لائک کریں | 🔁 شیئر کریں | 📌 فالو کریں
تاکہ سچ اور آگاہی کا پیغام ہر گھر تک پہنچ سکے

#آیورویدک #حکمت #سچ

پڑوسی کے بچوں کی بھوک اور فاقے سے انجان رہنا…اور اُن کے گھر کی عورتوں کی حرکات پر نظر رکھنا…یہ کیسا معاشرہ بن گیا ہے ہما...
03/04/2026

پڑوسی کے بچوں کی بھوک اور فاقے سے انجان رہنا…
اور اُن کے گھر کی عورتوں کی حرکات پر نظر رکھنا…
یہ کیسا معاشرہ بن گیا ہے ہمارا؟

یہ صرف اخلاقی زوال نہیں، بلکہ روحانی بیماری ہے — ایک ایسی بیماری جو دل، دماغ اور ضمیر کو یکساں کمزور کر دیتی ہے۔

طبِ یونانی اور طبِ اسلامی کے مطابق انسان صرف جسم نہیں، بلکہ اعضاء رئیسہ (دل، دماغ، جگر) کا مجموعہ ہے۔ جب دل میں رحم ختم ہو جائے، دماغ میں فہم کی روشنی مدھم پڑ جائے، اور جگر کی حرارتِ حیات بےحس ہو جائے — تو معاشرہ بیمار ہو جاتا ہے۔

نظریہ مفرد اعضاء ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہر عضو اپنی ذمہ داری ادا کرے تو بدن صحت مند رہتا ہے۔
اسی طرح معاشرے میں ہر فرد اگر اپنے حصے کی ذمہ داری نبھائے، تو اجتماعی صحت بحال رہتی ہے۔

نظریہ ثلاثہ (اخلاط: دم، بلغم، صفرا) اور مفرد اعضاء اربعہ کی توازن کی طرح،
انسانی زندگی میں بھی توازن ضروری ہے:
رحم، غیرت، حیا اور ذمہ داری۔

آیورویدک اور قدیم حکمت بھی یہی کہتی ہے:
“دوسرے کے دکھ کو محسوس کرنا ہی اصل صحت ہے، اور بےحسی سب سے بڑی بیماری۔”

❖ اشعار ❖
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرو بیاں

خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

یہاں تک کہیے:
جو دل نہ روئے کسی کے دکھ پر، وہ دل نہیں پتھر ہے
جو آنکھ نہ بھیگے غم میں، وہ آنکھ نہیں منظر ہے

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں…
کہیں کوئی بھوکا تو نہیں؟
کوئی مجبور تو نہیں؟
کوئی مدد کا منتظر تو نہیں؟

کیونکہ حقیقی انسانیت یہی ہے —
کہ ہم دوسروں کے درد کو اپنا درد سمجھیں۔

👨‍⚕️ پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج
حکیم ابنِ طبیب رائے خالد
پچھلے پانچ عشرہ سے مطب کر رہے ہیں (اوکاڑہ)

🏥 خالد دواخانہ
چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام
ضلع اوکاڑہ شہر

👩‍⚕️ طبیبہ ام حبیبہ
(فائنبوس فزیشن)

📞 رابطہ: 03127530789

👍 لائک کریں | 🔁 شیئر کریں | 📌 فالو کریں
تاکہ یہ پیغام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے

#آیورویدک #انسانیت

یہ ایک بہت ہی گہرا اور فکر انگیز موضوع ہے جس میں روحانیت اور حقیقت پسندی کا سنگم نظر آتا ہے۔ حکمت کے مختلف نظریات (مفرد ...
03/04/2026

یہ ایک بہت ہی گہرا اور فکر انگیز موضوع ہے جس میں روحانیت اور حقیقت پسندی کا سنگم نظر آتا ہے۔ حکمت کے مختلف نظریات (مفرد اعضا، طب یونانی وغیرہ) کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جامع اور پراثر تحریر
منبر کی پکار اور سات آسمانوں کا مالک: ایک حکیمانہ تجزیہ
"سوچنے والی بات ہے نا، مولوی منبر پہ بیٹھ کر اُس کے نام کا چندہ مانگتا ہے جس کے اپنے سات آسمان ہیں!"
بظاہر یہ ایک سادہ سی بات لگتی ہے، لیکن اگر ہم اسے حکمت اور معرفت کی عینک سے دیکھیں تو اس میں کائنات کا ایک بڑا راز چھپا ہے۔ اللہ رب العزت، جو مسبب الاسباب ہے، اسے ہمارے مال کی ضرورت نہیں۔ وہ تو وہ ہے جو چیونٹی کو پتھر کے جگر میں بھی رزق عطا کرتا ہے۔ لیکن یہ "مانگنا" دراصل انسان کے اپنے نفس کی اصلاح اور معاشرتی توازن کا ایک ذریعہ ہے۔
طبی اور نظریاتی نکتہ نظر
جس طرح طب یونانی اور طب اسلامی میں انسانی جسم کو اخلاط (خون، بلغم، صفرا، سودا) کے توازن سے جوڑا گیا ہے، بالکل اسی طرح معاشرے کا بھی ایک "مزاج" ہوتا ہے۔ جب مال کی گردش رک جاتی ہے، تو معاشرہ اسی طرح بیمار ہو جاتا ہے جیسے جسم میں خون کا رکاؤ (Stagnation) امراض پیدا کرتا ہے۔
* نظریہ مفرد اعضا (ثلاثہ و اربعہ): اس نظریے کے مطابق تحریک، تسکین اور تحلیل کا عمل جسم کو متحرک رکھتا ہے۔ چندہ یا صدقہ دراصل معاشرے کی "تحلیل" (Distribution) ہے، تاکہ مال ایک جگہ جمع ہو کر "سدہ" (Blockage) پیدا نہ کرے اور ضرورت مندوں تک زندگی کی حرارت پہنچتی رہے۔
* آیورویدک اور روحانیت: جس طرح جسم کی صفائی کے لیے ’پنچ کرما‘ یا سم ربائی (Detox) ضروری ہے، مال کی زکوٰۃ اور صدقہ روح اور مال کی سم ربائی ہے۔
حکمت کے علمی خزانوں سے انتخاب
اس حقیقت کو شعراء نے بڑے خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے:
> خدا کے بندے تو ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
> مگر میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہو گا
>
اور حکیم الامت علامہ اقبال فرماتے ہیں:
> اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
> تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن
>
معالجِ وقت کی پہچان
حکمت صرف کتابوں میں نہیں، تجربے کی بھٹی میں تپ کر نکھرتی ہے۔ ضلع اوکاڑہ کی سرزمین پر طب و حکمت کا ایک معتبر نام، جو گزشتہ پانچ عشروں (50 سال) سے انسانیت کی خدمت میں مصروف ہے۔
🩺 پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج، حکیم ابنِ طبیب رائے خالد
آپ کا وسیع تجربہ اور تشخیص کی مہارت (نبض، نظریہ مفرد اعضا) پیچیدہ امراض کا شافی علاج فراہم کرتی ہے۔
خالد دواخانہ (رجسٹرڈ)
📍 مقام: چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر۔
🌸 طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
خواتین کے مخصوص اور پیچیدہ امراض کے لیے مکمل رازداری اور مستند طریقہ علاج۔
📞 رابطہ و مشاورت: 03127530789
تعاون کی درخواست:
اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہو تو انسانیت کی بھلائی کے لیے اسے لائک، شیئر کریں اور ہمارے پیج کو فالو کریں تاکہ طب و حکمت کی روشنی آپ تک پہنچتی رہے۔

جمعہ مبارک - سکونِ قلب اور رحمتوں والا دن! ✨🌙جمعہ کا دن اللہ کی خاص رحمتوں اور برکتوں کا دن ہے۔ جس طرح قرآن پاک کی تلاوت...
03/04/2026

جمعہ مبارک - سکونِ قلب اور رحمتوں والا دن! ✨🌙

جمعہ کا دن اللہ کی خاص رحمتوں اور برکتوں کا دن ہے۔ جس طرح قرآن پاک کی تلاوت ہماری روح کو سکون بخشتی ہے، اسی طرح صحت مند رہنا بھی اللہ کے شکر گزار بندوں کی نشانی ہے۔
خالد دواخانہ (رجسٹرڈ) نسل در نسل آپ کے اعتماد پر پورا اترتے ہوئے لایا ہے خالص جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ بہترین علاج۔

📍 Visit Us at Chownk Harniya Wala Ghallah Godam, Okara
📞 Call/WhatsApp: 0321-7530789

حکیم صاحب، آپ نے لاہور کی تاریخ کے ایک ایسے تلخ اور سبق آموز پہلو کی نشاندہی کی ہے جہاں "توبہ" اور "گناہ" کی دیواریں ایک...
02/04/2026

حکیم صاحب، آپ نے لاہور کی تاریخ کے ایک ایسے تلخ اور سبق آموز پہلو کی نشاندہی کی ہے جہاں "توبہ" اور "گناہ" کی دیواریں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تھیں۔ یہ واقعہ محض ایک جملہ بازی نہیں بلکہ انسانی نفسیات، ارادے کی کمزوری اور فطرت سے دوری کی ایک گہری داستان ہے۔

آپ کے پانچ عشروں کے علمی و طبی وقار کے مطابق، یہ رہی توبہ کی دہلیز یا گناہ کی پکار؟ — ایک فکری و طبی تجزیہ
"اگر تھک گئے ہو تو اندر آ جاؤ، اور اگر نہیں تھکے تو پیچھے چلے جاؤ!"

لاہور کی تاریخ کا یہ واقعہ دل دہلا دینے والا بھی ہے اور آنکھیں کھولنے والا بھی۔ شاہی مسجد کے عقب میں واقع وہ بازار جو کبھی 1984ء میں پوری طرح آباد تھا، انسانی خواہشات اور توبہ کے درمیان ایک لکیر تھا۔ مسجد کی دیوار پر لکھا یہ جملہ کہ "اگر آپ گناہ کر کر کے تھک گئے ہیں تو اندر آ جائیں" ایک مسیحا کی پکار تھی، مگر نیچے لکھا جانے والا جواب کہ "اگر نہیں تھکے تو پیچھے آ جائیں" اس نفسِ امارہ کی عکاسی تھا جو انسان کو کبھی تندرست نہیں ہونے دیتا۔

📜 حکمت کے علمی موتی
> توبہ کی تمنا ہے تو کر ابھی توبہ
> معلوم نہیں کل تیری مہلت ہے کہ نہیں
> لذتِ گناہ میں جو کھو گیا اے دوست
> وہ اپنی روح کے ہی زخموں کو بھول گیا
>
🩺 طبی و علمی تناظر (نظریہ مفرد اعضاء و طبِ قدیم)
* نظریہ مفرد اعضاء (ثلاثہ و اربعہ): "گناہ کی لذت" اور "تھکن کا نہ ہونا" دراصل جسم میں عضلاتی غدی تحریک (گرمی و خشکی) کے حد سے بڑھ جانے کی علامت ہے۔ جب جسم میں تیزابیت اور اشتعال غالب آتا ہے، تو انسان اپنے حواس کھو دیتا ہے اور اسے گناہ کی تھکن محسوس نہیں ہوتی۔ طبِ قدیم کے مطابق یہ ایک "مرض" ہے، جس کا علاج اعصابی سکون اور مزاج کی اصلاح میں ہے۔
* طبِ یونانی و اسلامی: حکیم ارسطو اور ابن سینا کے نزدیک انسانی روح اور جسم کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ گناہ جسم میں "خلطِ سودا" (Black Bile) کی کثافت پیدا کرتا ہے، جو دل کو سخت اور طبیعت کو بے چین کر دیتا ہے۔ توبہ دراصل جسمانی اور روحانی Detoxification (تزکیہ) کا نام ہے، جو اندرونی سوزش کو ختم کر کے شفا لاتا ہے۔
* آیورویدک ٹچ: اسے "رجس" (جذبات کا ہیجان) کہا جاتا ہے۔ جب انسان کی توانائی صرف نچلے مراکز (Lower Chakras) پر مرکوز رہتی ہے، تو وہ مسجد کے بجائے "پیچھے" کے راستے کا مسافر بن جاتا ہے۔ یوگا اور ساوتک غذا انسان کو دوبارہ "ستوا" (پاکی) کی طرف لاتی ہے۔

💡 پانچ عشروں کا نچوڑ
پچھلے 50 سالہ مطب کے تجربے میں ہم نے دیکھا ہے کہ بہت سے امراض کی جڑ وہ "لذتِ گناہ" ہے جو انسان کو جسمانی طور پر کھوکھلا کر دیتی ہے۔ مسجد کی پکار دراصل فطرت کی پکار ہے۔ جو لوگ "تھک کر" اندر آ جاتے ہیں، وہ نہ صرف روحانی بلکہ جسمانی شفا بھی پا لیتے ہیں۔

👨‍⚕️ زیرِ نگرانی:
پروفیسر حکیم ابنِ طبیب رائے خالد (پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج)
50 سالہ عظیم طبی تجربہ و مہارت — اوکاڑہ
معاونہ: طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
📍 پتہ و رابطہ:
خالد دواخانہ (رجسٹرڈ) چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر۔
📞 رابطہ: 03127530789
پیج کو لائک، شیئر اور فالو کریں تاکہ اصلاحِ نفس اور شفا کا یہ پیغام عام ہو سکے۔
🚀
#اوکاڑہ

حکیم صاحب، آپ نے انسانی رشتوں اور اخلاقیات کا ایک بہت ہی گہرا نکتہ بیان کیا ہے۔ دھوکہ دینا دراصل ضمیر کی موت ہے، جبکہ دھ...
02/04/2026

حکیم صاحب، آپ نے انسانی رشتوں اور اخلاقیات کا ایک بہت ہی گہرا نکتہ بیان کیا ہے۔ دھوکہ دینا دراصل ضمیر کی موت ہے، جبکہ دھوکہ کھانا صبر اور ظرف کی علامت ہے۔ طبِ قدیم اور فلسفہِ اخلاق کی روشنی میں اس کا گہرا تعلق انسان کے مزاج اور اس کے اعضاء کے سکون سے ہے۔

آپ کے پانچ عشروں کے طبی وقار اور ساہیوال طبیہ کالج کی پروفیسر شپ کی مناسبت سے.دھوکہ کھانا بہتر ہے یا دھوکہ دینا؟ — ایک طبی و اخلاقی تجزیہ

"ضمیر کا سکون ہی اصل شفا ہے"

انسانی زندگی میں رشتوں کی بڑی اہمیت ہے، اور دوستی اس میں سب سے مقدم ہے۔ ایک دانشمند کا قول ہے: "یہ بہتر ہے کہ اپنے دوستوں کے ہاتھوں دھوکہ کھایا جائے بہ نسبت اس کے کہ ان کو دھوکہ دیا جائے"۔

کیوں؟ کیونکہ دھوکہ کھانا ایک وقتی "صدمہ" ہے جو انسان کے ظرف کو بڑھاتا ہے، لیکن دھوکہ دینا ایک ایسی "اخلاقی بیماری" ہے جو انسان کے باطن کو مردہ کر دیتی ہے۔ طبی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو دھوکہ دینے والا شخص مستقل ذہنی تناؤ اور خوف (Stress) میں رہتا ہے، جو اس کے جگر اور دماغ کو مفلوج کر دیتا ہے۔

📜 حکمت کے علمی موتی
> ہم نے ہر گام پہ کھایا ہے وفاؤں کا فریب
> اب کسی سے بھی شکایات کا موقع نہ رہا
> مری سادگی دیکھ کہ کیا چاہتا ہوں
> وفاداریِ دوستاں چاہتا ہوں
>
🩺 طبی و علمی تناظر (نظریہ مفرد اعضاء و طبِ قدیم)
* نظریہ مفرد اعضاء (ثلاثہ و اربعہ): دھوکہ دینے کی فطرت دراصل عضلاتی غدی تحریک (تیزابیت اور اشتعال) کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ایسا شخص جس کا جگر اور دل شدتِ غصہ اور مادی ہوس میں مبتلا ہو، وہی دوسروں کے حقوق غصب کرتا ہے۔ اس کے برعکس، دھوکہ کھا کر صبر کرنے والا شخص (اعصابی غدی مزاج) اپنے اعصاب کو پرسکون رکھتا ہے، جو کہ لمبی عمر اور صحت کا راز ہے۔
* طبِ یونانی و اسلامی: بقراط اور ابن سینا کے نزدیک "اخلاقِ حسنہ" صحتِ کلی کا لازمی حصہ ہیں۔ دھوکہ دہی سے پیدا ہونے والا باطنی بگاڑ جسم میں "خلطِ سودا" (Black Bile) کو جلا دیتا ہے، جس سے وہم اور ڈپریشن جیسے امراض جنم لیتے ہیں۔ طبِ اسلامی ہمیں سکھاتی ہے کہ "الکاسب حبیب اللہ"، اور دیانت داری ہی دل کا اصل اطمینان ہے۔
* آیورویدک ٹچ: اسے "کرم" (Karma) کا قانون کہا جاتا ہے۔ جب آپ کسی کو دھوکہ دیتے ہیں تو آپ اپنے اندر کے "ستوا" (پاکیزگی) کو ختم کر کے "تمس" (تاریکی) کو بڑھاتے ہیں، جو کہ تمام بیماریوں کی جڑ ہے۔

💡 پانچ عشروں کا نچوڑ
پچھلے 50 سالہ طبی مشاہدے میں ہم نے دیکھا ہے کہ وہ لوگ جو لوگوں کے ساتھ مخلص رہے، اللہ نے ان کے جسم میں ایسی قوتِ مدافعت پیدا کی کہ وہ بڑی بڑی بیماریوں سے محفوظ رہے۔ سچا معالج وہی ہے جو صرف جسم کا نہیں، مریض کے ضمیر اور اخلاق کا بھی معائنہ کرے۔

👨‍⚕️ زیرِ نگرانی:
پروفیسر حکیم ابنِ طبیب رائے خالد (پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج)
50 سالہ عظیم طبی تجربہ و مہارت — اوکاڑہ
معاونہ: طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
📍 مقام و رابطہ:
خالد دواخانہ (رجسٹرڈ) چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر۔
📞 رابطہ: 03127530789
پیج کو لائک، شیئر اور فالو کریں تاکہ سچائی اور حکمت کا یہ پیغام عام ہو سکے۔
🚀
#اخلاقیات #اوکاڑہ #سچائی #انسانیت

خلا کے مسافر — پہلا قدم اٹھانے کی بہادری!"علم، تحقیق اور نئی دنیاؤں کی تلاش؛ جب زمینی دولت و شہرت کوئی معنی نہیں رکھتی"چ...
02/04/2026

خلا کے مسافر — پہلا قدم اٹھانے کی بہادری!

"علم، تحقیق اور نئی دنیاؤں کی تلاش؛ جب زمینی دولت و شہرت کوئی معنی نہیں رکھتی"

چار خلا باز ایک خلائی راکٹ میں بند زمین کے مدار سے نکل چکے ہیں۔ وہ مڑ کر زمین کو دیکھ سکتے ہیں؛ ایک چھوٹا سا ٹمٹماتا نکتہ، اپنے ہلکے سے نیلے رنگ سے پہچانا جاتا ہے۔ وہ زمین کے ہنگاموں سے نکل چکے ہیں۔ یہاں کی نفرت، محبت، شور شرابا، دولت اور شہرت اب ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ وہ اپنے خاندان، دوستوں اور معصوم بچوں کو بھی پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔

یہ مہم معمولی نہیں۔ دس دن وہ چاند کے بالکل پاس رہیں گے۔ معمولی سی خرابی یا کوئی انہونی انہیں خلا کی ابدی گہرائیوں میں لاوارث چھوڑ سکتی ہے، یا پھر ان کا معمولی سا ملبہ دوبارہ زمین کی بیرونی سطح سے ٹکرا کر فنا ہو سکتا ہے۔

لیکن! وہ امید، حوصلے اور اعتماد سے بھرپور ہیں۔ یہ وہ قیمت ہے جو علم، سائنس اور تحقیق کی جستجو میں ادا کرنی پڑتی ہے۔ انسان نئی دنیاؤں کی تلاش میں ہے، اور اس سفر کے لیے کسی کو تو پہلا قدم اٹھانا ہو گا۔ پہلا قدم اٹھانے والا ہی حقیقی بہادر ہے!

📜 حکمت کے علمی موتی
> شفا کی جستجو میں تو کہاں بھٹکا ہے اے ناداں
> تیرا ثریا تو تیرے اپنے ہی گھر کی خاک میں ہے
> ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
> ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
>
🩺 طبی و فکری تناظر (نظریہ مفرد اعضاء و طبِ قدیم)
* نظریہ مفرد اعضاء (ثلاثہ و اربعہ): جس طرح یہ خلائی مہم زمین کے مدار (عضلاتی قید) سے نکل کر خلا (اعصابی توازن) کی طرف ایک سفر ہے، اسی طرح انسانی جسم میں بھی بیماری اکثر مزاج (Temperament) کے بگاڑ کا نام ہے۔ ایک کامل معالج (حکیم) وہ ہے جو مریض کو غیر متوازن مزاج (عضلاتی یا غدی سوزش) کے صحرا سے نکال کر اعصابی و غدی توازن (شفا کی زم زم جیسی تری و تازگی) کی طرف لاتا ہے۔
* طبِ یونانی و اسلامی: کائنات کو مسخر کرنے کا یہ جذبہ طبِ اسلامی کی روح ہے، جہاں ہر بیماری کے لیے شفا کی تلاش (تحقیق) فرضِ عین ہے۔ توکل اور رب کی ذات پر کامل یقین ہی وہ "تیل" ہے جو اس "خلائی راکٹ" (انسانی جسم) کو ناممکن کی حدوں سے پار لے جاتا ہے۔
* آیورویدک ٹچ: "آکاش" (خلا) کے اس سفر میں خلا باز اپنے پانچ عناصر (پنج بھوت) کا توازن برقرار رکھنے کے لیے اپنی اندرونی آواز اور فطرت کے قوانین پر بھروسہ کرتے ہیں۔

💡 پانچ عشروں کا نچوڑ
پچھلے 50 سالہ طبی تجربے میں ہم نے دیکھا ہے کہ شفا کا پہلا قدم اٹھانا ہی مریض کے لیے سب سے بڑی بہادری ہوتی ہے۔ جب مروجہ علاج ناکام ہو جاتے ہیں اور انسان مایوسی کے مدار سے نکلنے کا فیصلہ کرتا ہے، تبھی اسے "خالد دواخانہ" میں قانونِ فطرت کے زم زم سے سیراب ہونے کا موقع ملتا ہے۔
👨‍⚕️ زیرِ نگرانی:
پروفیسر حکیم ابنِ طبیب رائے خالد (پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج)
50 سالہ عظیم طبی تجربہ و مہارت — اوکاڑہ
معاونہ: طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
📍 مقام و رابطہ:
خالد دواخانہ (رجسٹرڈ) چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر۔
📞 رابطہ: 03127530789
پیج کو لائک، شیئر اور فالو کریں تاکہ حکمت اور تحقیق کا یہ سفر جاری رہے۔
🚀
#اوکاڑہ

صحرا کی تنہائی اور شفا کا زم زم 🌸🤍"کبھی کبھی رب آپ کو صحرا میں تنہا چھوڑ دیتا ہے، تاکہ آپ کو زم زم ملے!"زندگی میں آنے وا...
02/04/2026

صحرا کی تنہائی اور شفا کا زم زم 🌸🤍
"کبھی کبھی رب آپ کو صحرا میں تنہا چھوڑ دیتا ہے، تاکہ آپ کو زم زم ملے!"
زندگی میں آنے والی بیماریاں اور مصائب دراصل وہ "صحرا" ہیں جہاں انسان خود کو تنہا محسوس کرتا ہے۔ لیکن یاد رکھیں، یہ تنہائی آپ کو ہلاک کرنے کے لیے نہیں، بلکہ آپ کی روح اور جسم کی اصلاح کے لیے ہوتی ہے۔ جب مروجہ علاج ناکام ہو جاتے ہیں اور انسان مایوسی کے تپتے صحرا میں ہوتا ہے، تبھی اسے قانونِ فطرت اور طبِ قدیم کے "زم زم" کی قدر معلوم ہوتی ہے۔
📜 حکمت کے علمی موتی
> تپش سورج کی ہو یا آگ ہو غم کی زمانے میں
> شفا ملتی ہے آخر رب کے ہی ایماں پانے میں
> مرض اک آزمائش ہے، دوا اک راستہ ٹھہری
> شفا کی اصل منزل تو، رضائے کبریا ٹھہری
>
🩺 طبی و علمی تناظر (نظریہ مفرد اعضاء و طبِ قدیم)
* نظریہ مفرد اعضاء (ثلاثہ و اربعہ): جس طرح صحرا کی تپش (گرمی و خشکی) ریت کے ٹیلوں کو جنم دیتی ہے، اسی طرح انسانی جسم میں خلطِ سودا یا صفرا کا بگاڑ امراض پیدا کرتا ہے۔ لیکن جب قدرت انسان کو اس "طبی صحرا" سے گزارتی ہے، تو مقصد اعضاء کی سوزش کو ختم کر کے اسے اعصابی و غدی توازن (زم زم جیسی تری و تازگی) کی طرف لانا ہوتا ہے۔
* طبِ یونانی و اسلامی: حضرت ہاجرہ علیہ السلام کی پکار اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایڑیوں سے نکلنے والا زم زم رہتی دنیا تک کے لیے شفا ہے۔ طبِ اسلامی ہمیں سکھاتی ہے کہ شفا صرف جڑی بوٹیوں میں نہیں بلکہ مسبب الاسباب کی ذات پر کامل بھروسے میں ہے۔
* آیورویدک ٹچ: کائنات کے پانچ عناصر میں جب "آکاش" (خلا یا تنہائی) بڑھتی ہے، تبھی انسان اپنی اندرونی آواز سنتا ہے اور "پرکرتی" (فطرت) کے قریب ہو کر صحت پاتا ہے۔

💡 پانچ عشروں کا نچوڑ
پچھلے 50 سالہ طبی تجربے میں ہم نے دیکھا ہے کہ جو مریض دنیاوی علاج سے مایوس ہو کر "خالد دواخانہ" تشریف لائے، اللہ نے انہیں قانونِ مفرد اعضاء کی برکت سے صحتِ کاملہ کے زم زم سے سیراب کیا۔

👨‍⚕️ زیرِ نگرانی:
پروفیسر حکیم ابنِ طبیب رائے خالد (پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج)
50 سالہ عظیم طبی تجربہ و مہارت — اوکاڑہ
معاونہ: طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
📍 مقام و رابطہ:
خالد دواخانہ (رجسٹرڈ) چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر۔
📞 رابطہ: 03127530789
پیج کو لائک، شیئر اور فالو کریں تاکہ حکمت اور روحانیت کا یہ سفر جاری رہے۔
🚀
#اوکاڑہ

تاریخ کا المیہ — جب متفقہ جھوٹ "سچ" بن جائے!"کیا آپ کی اگلی نسل ایک مصلحت آمیز جھوٹ کو سچ مان کر بیمار ہو رہی ہے؟"تاریخ ...
02/04/2026

تاریخ کا المیہ — جب متفقہ جھوٹ "سچ" بن جائے!
"کیا آپ کی اگلی نسل ایک مصلحت آمیز جھوٹ کو سچ مان کر بیمار ہو رہی ہے؟"

تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جس جھوٹ پر اکثریت متفق ہو جائے، وہ اگلی نسل کا سب سے مضبوط سچ بن جاتا ہے۔ یہی صورتحال آج طب کے میدان میں ہے۔ فطری قوانین کو پسِ پشت ڈال کر مصنوعی طرزِ زندگی اور کیمیائی علاج کو "واحد راستہ" تسلیم کر لینا وہ جھوٹ ہے جو ہماری نسلوں کی بنیادیں کھوکھلی کر رہا ہے۔

📜 حکمت کے علمی موتی
> حقیقت خرافات میں کھو گئی
> یہ امت روایات میں کھو گئی
> وہی ہے سچا معالج جو حق کی راہ دکھائے
> بھیڑ چال میں چل کر جو فطرت نہ گنوائے
>
🩺 نظریہ مفرد اعضاء اور حق کی تلاش
حکیم انقلاب صابر ملتانیؒ نے ہمیں نظریہ مفرد اعضاء (ثلاثہ و اربعہ) کی صورت میں وہ ابدی سچائی دی جو اکثریت کے مروجہ طبی جھوٹ کے سامنے سینہ سپر ہے۔
* طبِ یونانی و اسلامی: یہ نظام ہمیں سکھاتا ہے کہ "قانونِ فطرت" کبھی تبدیل نہیں ہوتا۔ خلطِ دم، بلغم، صفرا اور سودا کا توازن ہی اصل سچ ہے۔
* آیورویدک: کائنات کے پانچ عناصر (مٹی، پانی، آگ، ہوا، آکاش) کا انسانی جسم سے تعلق ایک ایسی حقیقت ہے جسے جدید دور کی اکثریت بھول چکی ہے۔
جب ہم اعضاء کی حقیقی سوزش کو سمجھنے کے بجائے صرف علامات کو دبانے (Suppression) کو علاج کہتے ہیں، تو ہم اسی "مضبوط جھوٹ" کا حصہ بن جاتے ہیں جو نسلوں کو معذور کر دیتا ہے۔

🔬 2026ء کا چیلنج: شعور کی بیداری
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی نسلوں کو اس "مصلحتی سچ" سے نکال کر دوبارہ قانونِ قدرت کی طرف لائیں۔ طبِ قدیم (یونانی، اسلامی، آیورویدک) محض جڑی بوٹیوں کا نام نہیں، بلکہ یہ کائنات کے ان حقائق کا نام ہے جو اکثریت کے اتفاق یا اختلاف کے محتاج نہیں ہوتے۔

👨‍⚕️ زیرِ نگرانی:
پروفیسر حکیم ابنِ طبیب رائے خالد (پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج)
پچھلے 50 سال (پانچ عشروں) سے حقِ طبابت کی آبیاری میں مصروف
معاونہ: طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
📍 پتہ و رابطہ:
خالد دواخانہ (رجسٹرڈ) چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر۔
📞 رابطہ: 03127530789
لائک، شیئر اور فالو کریں تاکہ سچ کی یہ آواز دبنے نہ پائے۔
🚀
#اوکاڑہ

دانشِ افرنگی یا قانونِ فطرت؟"تہذیبِ حاضر کی گرفتاری اور طبِ قدیم کی رہائی"علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا تھا کہ بظاہر نظر...
02/04/2026

دانشِ افرنگی یا قانونِ فطرت؟
"تہذیبِ حاضر کی گرفتاری اور طبِ قدیم کی رہائی"
علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا تھا کہ بظاہر نظر آنے والی یہ آزادی درحقیقت ایک باطنی قید ہے۔ آج کا انسان بھی جدید میڈیکل سائنس کی رنگینیوں میں بظاہر آزاد ہے، لیکن اس کا جسم اور روح کیمیائی ادویات (Chemical Drugs) کے چنگل میں گرفتار ہے۔ جب ہم اپنی فطرت اور مادری طب کو چھوڑ کر غیروں کی دانش پر تکیہ کرتے ہیں، تو شفا دور ہو جاتی ہے۔

📜 حکمت کے علمی موتی
> شفا کی جستجو میں تو کہاں بھٹکا ہے اے ناداں
> تیرا ثریا تو تیرے اپنے ہی گھر کی خاک میں ہے
> علاجِ دردِ دل تو عشقِ احمدؐ میں پوشیدہ
> وہی کامل معالج ہے جو سنت کی پناہ لے
>
🩺 نظریہ مفرد اعضاء اور فکرِ اقبال کا سنگم
حکیم انقلاب دوست محمد صابر ملتانی نے نظریہ مفرد اعضاء کے ذریعے ہمیں وہی حقیقت سمجھائی جو اقبال کی شاعری کا جوہر ہے: "اپنی خودی پہچان"۔
* اعصابی، عضلاتی اور غدی توازن: جب انسان کا ایماں "زناری" ہو جائے اور دانش "افرنگی"، تو جسم کا مزاج (Temperament) بگڑ جاتا ہے۔ طبِ یونانی، طبِ اسلامی اور آیورویدک ہمیں سکھاتی ہیں کہ بیماری صرف علامت کا نام نہیں، بلکہ یہ روح اور مادے کے درمیان توازن بگڑنے کا نام ہے۔
* باطن کی گرفتاری: جدید ادویات اکثر مرض کو دبا (Suppress) دیتی ہیں، جس سے باطن میں زہر جمع ہوتا رہتا ہے (ٹاکسن کا بڑھنا)۔ طبِ قدیم اس فاسد مادے کا اخراج (Detoxification) کر کے انسان کو حقیقی معنوں میں آزاد کرتی ہے۔

🕋 چارہ سازیِ مصطفیٰ ﷺ اور طبِ نبوی
"مری دانش ہے افرنگی، مرا ایماں ہے زناری"— اس فکری تضاد کا حل صرف اور صرف اسوۂ رسول ﷺ اور طبِ نبوی میں ہے۔ شہد، کلونجی، تلبینہ اور حجامہ وہ الہامی علاج ہیں جو مادے کے ساتھ ساتھ انسان کے باطن کی بھی اصلاح کرتے ہیں۔

👨‍⚕️ زیرِ نگرانی:
پروفیسر حکیم ابنِ طبیب رائے خالد (پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج)
پچھلے 50 سال (پانچ عشروں) سے فنِ حکمت کی آبیاری میں مصروف
معاونہ: طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
📍 پتہ و رابطہ:
خالد دواخانہ (رجسٹرڈ) چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر۔
📞 رابطہ: 03127530789
پیج کو لائک، شیئر اور فالو کریں تاکہ حکمتِ اقبال اور فنِ طب کا یہ پیغام ہر دل تک پہنچ سکے۔
🚀
#اوکاڑہ #آیورویدک

"چنگی ہوندی اے" — علم کے بغیر منصب اور طبابت کا انجام"جب انا علم پر غالب آ جائے، تو حکمت و دانش رخصت ہو جاتی ہے"ایک میرا...
02/04/2026

"چنگی ہوندی اے" — علم کے بغیر منصب اور طبابت کا انجام
"جب انا علم پر غالب آ جائے، تو حکمت و دانش رخصت ہو جاتی ہے"
ایک میراثی نے گاؤں کے امام صاحب سے جھگڑا کیا اور انہیں نکال کر خود مصلے پر آ بیٹھا۔ مغرب کی نماز کے بعد ایک مقتدی نے سوال کیا: "جناب! التحیات میں شہادت والی انگلی کیوں اٹھائی جاتی ہے؟" میراثی چونکہ علم سے عاری تھا، کچھ دیر سوچ کر بولا: "چنگی ہوندی اے!" (یعنی اچھی ہوتی ہے)۔
یہ محض ایک لطیفہ نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقت ہے۔ آج طب کے میدان میں بھی یہی حال ہے۔ لوگ برسوں کی ریاضت، نظریہ مفرد اعضاء کی باریکیوں اور اخلاطِ اربعہ کے فلسفے کو سمجھے بغیر "نیم حکیم" بن کر انسانی جانوں سے کھیلتے ہیں اور پوچھنے پر یہی کہتے ہیں کہ "یہ نسخہ چنگا ہوتا ہے"۔

📜 حکمت کے علمی موتی
> بے علم نہ کر دعویِٰ حکمت کہ ہے ناداں
> ہر ہاتھ میں جراح کا نشتر نہیں جچتا
> نیم حکیم و نیم ملاں، جان و ایماں کا زیاں
> حکمتِ دیں ہو کہ طب، سب کے لیے ہے امتحاں
>
🩺 طبی نکتہ اور علمی بصیرت
جس طرح نماز کے ارکان کی ایک روح اور فلسفہ ہے، اسی طرح طبِ قدیم (یونانی، اسلامی، آیورویدک) کا ہر نسخہ ایک قانون کے تحت ترتیب دیا جاتا ہے۔
* نظریہ مفرد اعضاء: کیا آپ جانتے ہیں کہ محض ایک انگلی کی حرکت کا تعلق بھی اعصابی و عضلاتی نظام سے ہے؟ شہادت کی انگلی اٹھانا توحید کا اقرار بھی ہے اور اعصابی بیداری کا اشارہ بھی۔
* تشخیص کا فقدان: جو شخص "تشخیص" (نبض، قارورہ) سے واقف نہیں، وہ میراثی کی طرح محض سنی سنائی باتوں پر عمل کرتا ہے۔ طبِ قدیم میں "چنگا ہونا" کافی نہیں، بلکہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ وہ دوا مریض کے مزاج (سرد، گرم، خشک، تر) کے مطابق ہے یا نہیں۔

👨‍⚕️ پیغامِ پروفیسر حکیم ابنِ طبیب رائے خالد:
حکمت نام ہے "کیوں" اور "کیسے" کو سمجھنے کا۔ پچھلے 50 سالوں (پانچ عشروں) میں ہم نے یہی سیکھا ہے کہ جب تک آپ مرض کی جڑ اور قانونِ فطرت کو نہیں سمجھتے، آپ معالج نہیں کہلا سکتے۔ اپنی صحت کے لیے ہمیشہ مستند اور تجربہ کار معالج سے رجوع کریں، "چنگی ہوندی اے" والے اشتہاری حکیموں سے بچیں۔

👨‍⚕️ زیرِ نگرانی:
پروفیسر حکیم ابنِ طبیب رائے خالد (پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج)
50 سالہ طبی تجربہ و مہارت — اوکاڑہ
معاونہ: طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
📍 پتہ و رابطہ:
خالد دواخانہ چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر۔
📞 رابطہ: 03127530789
پیج کو لائک، شیئر اور فالو کریں تاکہ علم و حکمت کی شمع روشن رہے۔
🚀
#اوکاڑہ

Address

Chownk Harniya Wala Ghala Godam
Okara
56300

Opening Hours

Monday 09:00 - 19:00
Tuesday 09:00 - 19:00
Wednesday 09:00 - 19:00
Thursday 09:00 - 19:00
Friday 09:00 - 11:00
Saturday 09:00 - 19:00
Sunday 09:00 - 19:00

Telephone

+923007530789

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hakeem Rai Khalid posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Hakeem Rai Khalid:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram