Sajeel Stress Solution Services

Sajeel Stress Solution Services نفسیاتی، جذباتی، جنسی، ازداوجی مسائل ، میریٹل، فمیلی ا

اللہ ربالعزت کسی ایک نیکی کے صدقے ہی...  مغفرت, راحت, آسانیاں اور رحمتیں عطا کردے..
04/11/2022

اللہ ربالعزت کسی ایک نیکی کے صدقے ہی... مغفرت, راحت, آسانیاں اور رحمتیں عطا کردے..

Its your first friday in hereafter .  May ALLAH bless you with all HIS ease, blessings and Maghfirah...  😭
28/10/2022

Its your first friday in hereafter . May ALLAH bless you with all HIS ease, blessings and Maghfirah... 😭

Tanvir Sajeel
25/10/2022

Tanvir Sajeel

اس بات میں شک نہیں کہ ہم پر کبھی بھی کوئی مصیبت ٹوٹ سکتی ہے جو زندگی کو درد اور تکلیف سے بھر سکتی ہے مگر اس بات کی کوئی ...
16/10/2022

اس بات میں شک نہیں کہ ہم پر کبھی بھی کوئی مصیبت ٹوٹ سکتی ہے جو زندگی کو درد اور تکلیف سے بھر سکتی ہے مگر اس بات کی کوئی عقلی وجہ نہیں کہ اس تکلیف سے نکلنے کی کوشش نہ کی جائے اور اس تکلیف کو ہی زندگی سمجھ لیا جائے
مگر آج کل خود پسند اذیت کی ایسی وبا پھیلی ہے جس کو دیکھو وہ ہی خود ساختہ غلط سوچ کے ایسے پھندوں میں الجھا ہوا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ اس کے دکھ کو کوئی نہیں سمجھ سکتا اس کی تکلیف کو کوئی دور نہیں کر سکتا اور ان کے مسائل کا کوئی حل نہیں ہے
وہم کی یہ فریب کاری بھی دراصل ان کی پرسنل چوائس ہی ہوتی ہے جو ان کو کسی سے مدد لینے سے روکتی ہے جبکہ ان کو علم بھی ہوتا ہے کہ ان کے مسائل کو حل کرنے والے ایسے پروفیشنلز بھی ہیں جو ان کے پرابلمز کا سولیوشن کر سکتے ہیں جو انہیں لائف مینیج کرنا سکھا سکتے ہیں جو ان کے ریلیشن شپ کے ایشوز کو حل کر سکتے ہیں جو ان کے بریک اپ کے بعد کی ایموشنل مینجمنٹ کر سکتے ہیں جو ان کو فیملی ابیوز کے ٹراما سے نکال سکتے ہیں
مگر شائد ان کو علم ہی نہیں ہوتا کہ ان کا تھنکنگ پیٹرن ان کی مدد لینے کے عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہوتا کیونکہ مسلسل دکھ، پریشانی، اضطراب میں رہنے سے ان کے ذہن کی ساخت تک بدل جاتی ہے اور سوچ کے وہ راستے وہم سے دھندلا جاتے ہیں جو راستے ان کو سولیوشن کی روشنی کی طرف لا سکتے ہیں جو ان کا خود پر اور دوسروں پر اعتماد بنانے میں مدد کرتے ہیں
یہی وجہ ہے کہ اکثریت محرومی کی چادر اوڑھے یہی سمجھتی ہے کہ ان کی قسمت میں ہی یہی تھا اور اب یہ قسمت نہیں بدلنے والی جبکہ یہ محض لاعلمی ہی ہے کیونکہ ان کو انسانی ذہن کے ورکنگ سٹائل کا پتا نہیں ہوتا اور نہ ہی اس بات کا کوئی علم ہوتا ہے کہ ان کا مائنڈ ہی ان کے تھنکنگ پیٹرن کی ایسی پروگرامنگ کر دیتا ہے جو ان کی سوچ کو محدود اور فہم و ادراک کے دائرے کو تنگ کر کے ان کو وکٹم بنے رہنے کے نشے کی لت میں ڈبو دیتا ہے
مگر ان کے ایسا سوچنے سے اس حقیقت کو نہیں بدلا جا سکتا کہ پروفیشنلز، کاؤنسلرز اور سائیکالوجسٹ ان کی مدد زندگی کے ہر پہلو میں کر سکتے ہیں اور ان کو زندگی کی ایسی مہارتیں سکھا سکتے ہیں جو ان کے لیے اعتماد، خوشی اور اطمینان کی راہ بن سکتی ہیں کیونکہ یہی پروفیشنلز ان کے تھنکنگ پیٹرن کو ری اسٹرکچر کر کے ان کے مائنڈ کی پروگرامنگ کو اپ گریڈ کرتے ہیں جس سے نہ صرف ان کو اپنے مسائل جیسے ٹراما، بریک اپ اور ایموشنل ڈس ریگولیشن سے نکلنے میں مدد ملتی ہے بلکہ ان کی پرسنل سپورٹ سسٹم کی ایسے ایکٹیویشن ہوتی ہے کہ وہ آنے والی زندگی کو بہتر طور پر گزارنے کے اہل ہو جاتے ہیں

(تنویر سجیل ۔ ماہر نفسیات & لائف کوچ)



06/10/2022
فرار ایسا دھوکہ ہے جو ہم خود کو بہت خوشی سے دیتے ہیں جب بھی ہم کو لگتا ہے کہ ہمارے اندر کچھ ٹوٹ گیا ہے، کسی دکھ نے آ گھی...
06/10/2022

فرار ایسا دھوکہ ہے جو ہم خود کو بہت خوشی سے دیتے ہیں جب بھی ہم کو لگتا ہے کہ ہمارے اندر کچھ ٹوٹ گیا ہے، کسی دکھ نے آ گھیرا ہے یا پھر ہم اپنی بے بسی کو رونا روتے ہیں تو سب سے پہلا کام ہم اپنی فیلنگز اور تھنکنگ سے اسکیپ کا کرتے ہیں
اپنی فیلنگز اور تھنکنگ سے اسکیپ کی یہ کوشش ٹیک ورلڈ نے اور بھی آسان بنا دی ہے کہ جیسے ہی ہم کو لگتا ہے کہ ہم خود کو ویسا محسوس نہیں کر رہے جیسے حقیقت میں ہم ہیں تو ہم بھاگ کر فیس بک کی دیوار پر چڑھ کر رولا ڈالنا شروع کرتے ہیں جس کا مقصد بھی صرف تماشا لگانا ہی ہوتا ہے یا ایسے ویسوں سے ہمدردی کی وصولی ہوتی ہے جس سے ہم اپنی انانیت کی تسکین کا کھوکھلا بندوبست کرتے ہیں
جبکہ یہ پیٹرن ہم کو نہ تو ویل نیس دیتا ہے اور نہ ہی ہم اپنی رہنمائی یا مسلے کے حل کا بندوبست کرنا چاہتے ہوتے ہیں بس اس خلا کو ہوا سے بھرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں جو خلا ہماری اپنی ہی سیلف ڈویلپمنٹ کی کمی، پریکٹیکل تھنکنگ اپروچ کی غیر موجودگی اور صحت مندانہ جذباتی رد عمل سے عاری ہوتا ہے
ایسے میں ہم اپنی اذیت کے نشے میں دھت ہونے کی کوشش کر کے خود کو رحم کے حوالے کردیتے ہیں اور ان حقائق سے منہ موڑ لینا چاہتے ہیں جو ہماری موجودہ حالت کا اسٹیج سجا چکی ہوتی ہیں تب ہم کو مسلے کا حل نہیں چاہیے ہوتا بلکہ ایسی تسلی چاہیے ہوتی ہے جس سے ہماری خالی ذات کو وقتی طور پر بھرا جا سکے
رجحان کی یہ حماقت دراصل ہم کو کبھی یہ سوچنے ہی نہیں دیتی کہ ہم ایسی صورت حال کا سامنا کرنے سے خود کو روک سکیں اور پرسنل ڈویلپمنٹ یا لرننگ کو ٹاپ فوکس کر سکیں جو ہماری اپنی سیلف کو ان کمیوں سے کم کر سکے جو ہماری پرابلم کو بڑھانے میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں اور ہم کو ایسی پرسنل پاور دے سکیں جو ہم کو کسی بھی صورت حال میں بہتری کی صورت نکالنے میں مدد دیتی ہوں
اگر فیس بک اور سوشل میڈیا نئی دنیا کے ایسے ٹولز ہیں جو اسکیپ دیتے ہیں تو پرسنل ڈویلپمنٹ کی سکلز بھی ٹولز ہیں جو سیلف کی خالی سپیس کو بھرتے ہیں
بس چوائس کرنا اہم ہے کہ وکٹم بن کے اسکیپ کی میراتھن دوڑنی ہے یا گیم چینجر بن کر لائف جینی ہے

(تنویر سجیل ۔ ماہر نفسیات & لائف کوچ)



انفارمیشن کے اس سیلابی دور میں یہ بات بہت عام ہو چکی ہے کہ کسی بھی شخص کی ذہنی جذباتی حالت صرف اس وجہ سے ہی خراب ہو سکتی...
05/10/2022

انفارمیشن کے اس سیلابی دور میں یہ بات بہت عام ہو چکی ہے کہ کسی بھی شخص کی ذہنی جذباتی حالت صرف اس وجہ سے ہی خراب ہو سکتی ہے کہ وہ سٹریس میں رہتا ہے یا سٹریس لیتا ہے یا پھر سٹریس کھاتا ہے
اور یہ بات بھی عوام کے لیے عام ہو چکی کہ سٹریس ایک پریشر کا نام ہے جو ایک نہ دکھائی دی جانے والی بلا کی شکل میں ہر وقت رگوں اور اعصاب کے تار ہلا ہلا کر دماغ کی دہی بنا رہا ہوتا ہے
مگر شائد یہ بے خبری بھی عام ہی ہے کہ سٹریس صرف بیرونی حالات سے ہی ہوتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ بیرونی حالات سٹریس کو جنم دینے میں صرف ٹریگر کا کام کرتے ہیں اصل گولی تو ہماری اپنے حالات کی انفارمیشن پراسیسنگ کا سٹائل ہی چلاتا ہے کہ ہم کس انداز سے ان حالات کو سوچ اور سمجھ کر رسپانس کر رہے ہیں
مگر رسپانس کا انداز بھی ہماری پرسنیلٹی کی ڈویلپمنٹ کا محتاج ہوتا ہے کہ ہم کس انداز سے انفارمیشن کی پراسیسنگ کریں گے جبکہ اکثر ہم پرسنل ڈویلپمنٹ کے حوالے سے اتنے غافل ہوتے ہیں کہ ہماری یہ غفلت ہی ہمارے سٹریس کو دعوت نامہ بھیج رہی ہوتی ہے اور بلا رہی ہوتی کہ ذرا جلدی آئیے گا۔۔۔
مجھے تھوڑا سا گھبرانا ہے۔۔۔
پریشان ہونا ہے۔۔
حد سے زیادہ منفی سوچنا ہے۔۔
خود کو ہلکان کرنا ہے۔۔
چلیں اب گھبرائیں نہ اور نہ ہی پریشان ہوں کہ تحقیق کاروں نے کڑی محنت اور مسلسل تجربات کر کے اس بات کے سائنسی شواہد پیش کر دیے ہیں کہ سٹریس کو ختم کرنے میں ہماری مسکراہٹ کا بہت بڑا عمل دخل ہے ان شواہد کے مطابق جو شخص جتنا زیادہ مسکراتا ہے اس کا انفارمیشن پراسیسنگ سسٹم اتنا ہی ان کیمیکلز اور میکانزم سے محفوظ رہتا ہے جو بھاگ کر سٹریس کو بلا لاتے ہیں
تو صاحب بات یہ ہے کہ مسکرانا ایک ایسی دوائی، تھراپی یا سٹرٹیجی ہے جو آپ کو اپنا جی جلانے اور دماغ ہلانے سے محفوظ رکھ سکتی ہے
جس کا کثرت سے استعمال نہ صرف لائف کوالٹی کو امپرو کرتا ہے بلکہ ریلیشن شپ کی بائنڈنگ فورس میں میجک کا کام بھی کرتا ہے
اگر یقین نہیں آتا اور آپ کو عادت ہے کہ منہ بنا کے ہی رکھنا ہے تو تھوڑی سی ہمت کر کے مسکراتا ہوا ہی منہ بنا کر رکھیں چاہے زبردستی ہی سہی
کیونکہ یہ زبردستی کی مسکراہٹ بھی دماغ کو یہی سگنل بھیجتی ہے کہ بندہ خوش ہے اس لیے سٹریس کے کاروبار کو کچھ دن ملتوی کیا جائے اور بندے کی خوشی کا اہتمام خوشی سے کیا جائے
زرا اک بار مسکرا کر ہلکا سا تجربہ کر لیں نہ فائدہ ہو تو اپنی شکایت قریبی تھانے میں درج کروا کر خود کو سٹریس زدہ کرنے میں ہی آفیت سمجھیں

(تنویر سجیل ۔ ماہر نفسیات & لائف کوچ)


آج ذہنی صحت کا دوسرا پروگرام عبید اللہ کالج میں ہوا جس میں سٹوڈنٹس کی مثالی دلچسپی بہت شاندار تھی سر خادم حسین صاحب پرنس...
02/10/2022

آج ذہنی صحت کا دوسرا پروگرام عبید اللہ کالج میں ہوا جس میں سٹوڈنٹس کی مثالی دلچسپی بہت شاندار تھی
سر خادم حسین صاحب پرنسپل عبید اللہ کالج اور اطہر فاروق سائنس ٹیچر گورنمنٹ سٹی سکول کو پروگرام منعقد کروانے کا بہت شکر گزار ہوں
مینٹل ہیلتھ کا کانسپٹ سیکھنے کی سب سے پہلی ضرورت سٹوڈنٹس کی ہے کیونکہ یہی وہ عمر ہوتی ہے جب ذہن سے زیادہ جذبات کا استعمال ہوتا ہے اور جب جذبات کو دبایا جاتا ہے یا ان کے اظہار کے لیے غیرمعمولی انداز اپنایا جاتا ہے
تو کچی عمر کے یہ ذہن جلد ہی ایسے مسائل کا شکار ہو جاتا ہے جن کا تعلق مینٹل ہیلتھ سے ہوتا ہےمینٹل ہیلتھ کی آگاہی بچوں کے ساتھ ساتھ والدین اور ٹیچرز کے لیے بھی بہت اہم ہے تاکہ وہ اپنے بچوں اور سٹوڈنٹس کی شخصیت کو سمجھ سکیں اور ان کو زندگی کی کامیابیوں سے ہمکنار کرنے میں ان کی مدد کر سکیں
تعلیمی اداروں کے سربراہان اور اساتذہ کی طلبہ کی ذہنی صحت کے حوالے سے ایسے پروگرام ان کی روشن خیالی کا ثبوت ہے جو کہ طلبہ کی بہترین تعلیمی کارکردگی میں مدد گار رہے گا

(تنویر سجیل ۔ ماہر نفسیات & لائف کوچ)

مینٹل ہیلتھ کا کانسپٹ سیکھنے کی سب سے پہلی ضرورت سٹوڈنٹس کی ہے کیونکہ یہی وہ عمر ہوتی ہے جب ذہن سے زیادہ جذبات کا استعما...
01/10/2022

مینٹل ہیلتھ کا کانسپٹ سیکھنے کی سب سے پہلی ضرورت سٹوڈنٹس کی ہے کیونکہ یہی وہ عمر ہوتی ہے جب ذہن سے زیادہ جذبات کا استعمال ہوتا ہے اور جب جذبات کو دبایا جاتا ہے یا ان کے اظہار کے لیے غیرمعمولی انداز اپنایا جاتا ہے
تو کچی عمر کے یہ ذہن جلد ہی ایسے مسائل کا شکار ہو جاتا ہے جن کا تعلق مینٹل ہیلتھ سے ہوتا ہےمینٹل ہیلتھ کی آگاہی بچوں کے ساتھ ساتھ والدین اور ٹیچرز کے لیے بھی بہت اہم ہے تاکہ وہ اپنے بچوں اور سٹوڈنٹس کی شخصیت کو سمجھ سکیں اور ان کو زندگی کی کامیابیوں سے ہمکنار کرنے میں ان کی مدد کر سکیں
مینٹل ہیلتھ کی آگاہی کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے آج گورنمنٹ ایسوسی ایٹ بوائز کالج حویلی لکھا کے پرنسپل پروفیسر منیب احمد خان صاحب نے طلبا کے لیے ذہنی صحت کی آگاہی کا پروگرام منعقد کروانے پر بہت ممنون ہوں
جس میں میرے اساتذہ پروفیسر راؤ اختر علی خان اور نصیر احمد صاحب نے شرکت کی اور دیگر اساتذہ کے تعاون کا شکر گزار ہوں
تعلیمی اداروں کے سربراہان اور اساتذہ کی طلبہ کی ذہنی صحت کے حوالے سے ایسے پروگرام ان کی روشن خیالی کا ثبوت ہے جو کہ طلبہ کی بہترین تعلیمی کارکردگی میں مدد گار رہے گا

(تنویر سجیل ۔ ماہر نفسیات & لائف کوچ)

اگلے وقتوں میں علاج کا مطلب بہت سیدھا سا تھا کہ بیمار کے جسم کے بیمار عضو کو کاٹ دیا جاتا تھا، اس کے جسم سے خون کا اخراج...
30/09/2022

اگلے وقتوں میں علاج کا مطلب بہت سیدھا سا تھا کہ بیمار کے جسم کے بیمار عضو کو کاٹ دیا جاتا تھا، اس کے جسم سے خون کا اخراج کیا جاتا تھا، تکلیف دہ طریقوں سے اس کی جسم کی جراحت کی جاتی تھی
پھر آہستہ آہستہ آہستہ جڑی بوٹیوں نے بلا کر انسان کو سمجھایا کہ ارے پگلے علاج کے نام پر جسم کو اتنی تکلیف کاہے دیے جا رہے ہو ہم بھی مرض کے علاج کے لیے ہی پیدا ہوئی ہیں ہم سے فائدہ لیجیے ناں
تب جا کر انسان نے عقل سے کام لیتے ہوئے جڑی بوٹیوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مختلف علاج کے لیے الگ الگ کیا اور جانا کہ یہ تو اچھا ہوا کہ بس قہوے بناؤ ان کے اور جسم میں داخل کر کے ان کی جادوگری کے ہنر دیکھو
پھر وہ وقت بھی آن پہنچا کہ کچھ انسانوں نے جا کر بتایا کہ بھائی یہ کیا تم جڑی بوٹیوں کو گھلا گھلا پئے جا رہے ہو جبکہ ہم ان سے ان کے خواص نکال کے ایسی شکل دے سکتے ہیں کہ پتیلوں اور آگ سے جان چھوٹ جائے اور ننھی سی گولی کی شکل میں وہ تمام اجزا ایک ساتھ پیش کر سکتے ہیں جو بیسیوں جڑی بوٹیوں کو رگڑا دینے کے بعد حلق میں اتارنے پڑتے ہیں
تو صاحبو یقین کرو ان لوگوں نے علاج کی شکل ہی ایسی بدل دی کہ بڑے بڑے دوا کاری گر اس شعبدہ بازی کو دیکھ کر حیرت زدگی سے مر گئے اور علاج کی شکل جدت کے گھوڑے دوڑاتے سرپٹ دوڑنے لگی
مگر علاج کی ترقی کے گھوڑے اس میدان میں بھی تھک ہارے اور انسان نے علاج کے ادویاتی چنگل کو غیر ضروری سمجھنا شروع کر دیا اور اس کو مزید ترقی ایسی عقلمندی سے دینے کی کوشش کی کہ دانش کے نئے جہاں پیدا کر دیئے
ہاں ہاں پھر انسان نے یہ جان لیا کہ بیماری کا علاج جڑی بوٹیوں، جراحت اور ادویات کے علاوہ بھی ممکن ہے جو ان سب اگلے وقتوں کے علاج سے بالاتر ہے اور پھر اس سوچ نے ایک ایسا علاج کے طریقے کو جنم دیا جس نے نا صرف بیمار کو تندرست کیا بلکہ بیمار ہونے کے اندیشوں کا تدراک بھی سکھا دیا
میرے دوست تب لوگوں کو یہ سمجھ آیا کہ علاج بات چیت سے بھی ہو سکتا ہے، لائف سٹائل اور روٹین کو بدلنے سے بھی ہو سکتا ہے، سوچ کی غلطی کو دور کرنے سے بھی تندرستی ملتی ہے اور جذبات کو بدلنے سے بھی شفا ہو جاتی ہے اور آج کے ٹیکنالوجی کے سیلاب نے یہ بتا دیا ہے کہ بیماری صرف جراثیم سے نہیں ہوتی بلکہ پریشر سے بھی ہوتی ہے بیماری صرف جسم کی نہیں ذہن کی بھی ہوتی ہے صحت مندی صرف بیماری کے غائب ہونے کا نام ہی نہیں بلکہ تعلقات کی پائیداری بھی صحت کا حصہ ہے
اس لیے ہی تو بیماری کے ساتھ ساتھ علاج کے تصور میں انقلاب آیا اور ساتھ میں طریقہ علاج کی بھی پرانی روش کو ترک کے نئے طریقے استعمال ہونے کا حوصلہ کیا جی ہاں آج علاج کا نام کونسلنگ اور تھراپی بھی ہے
بس یقین کرنا مشکل ہو گا مگر کوئی بات نہیں کسی کے یقین کرنے نہ کرنے سے کسی شے کی اہمیت کم یا ختم نہیں ہوتی جبکہ وہ ریسرچ اور علمی و سائنسی اعتبار سے اپنا وقار روز بلند کیے جا رہی ہو

(تنویر سجیل ۔ ماہر نفسیات & لائف کوچ)



تھراپی یا کاؤنسلنگ کا کام ابنارمل کردار کو نارمل کرنے کا نہیں ہے اور نہ ہی یہ صرف ذہنی بیمار لوگوں کے لیے ٹریٹمنٹ پلان ہ...
27/09/2022

تھراپی یا کاؤنسلنگ کا کام ابنارمل کردار کو نارمل کرنے کا نہیں ہے اور نہ ہی یہ صرف ذہنی بیمار لوگوں کے لیے ٹریٹمنٹ پلان ہے
بلکہ یہ ایک ایسا ٹریٹمنٹ پیکیج ہے جس سے ہر وہ نارمل شخص بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے جو کسی قسم کے نفسیاتی، جذباتی عارضے کا شکار نہ ہو اور وہ اپنی لائف پرفارمنس کو بڑھانا چاہتا ہو، ریلیشن شپ کو سٹرونگ کرنا چاہتا ہو، لائف ٹارگٹس کو حاصل کرنا چاہتا ہو، سٹریس اور تھنکنگ کو مینیج کرنا چاہتا ہویا اپنے ایموشنل ایکسپریشن کو بہترین بنانا چاہتا ہو تو کاؤنسلنگ اور تھراپی ایسے افراد کے لیے ایک گائیڈنس اور سپورٹ کے طور پر کام کرتی ہے
اکثر ہم زندگی میں ایسے معاملات میں الجھ جاتے ہیں جہاں پر ہم کو کوئی راہ دکھائی نہیں اور نہ ہی کوئی ہماری بات کو سمجھنے والا ہوتا ہے جو ہم کو سپورٹ دے تو ایسے میں ماہر نفسیات سے بات چیت اور مشاورت نہ صرف رہنمائی کرتی ہے بلکہ راہ دکھانے کے ساتھ ساتھ ایموشنل سپورٹ بھی مہیا کرتی ہے
البتہ یہ سمجھنا کہ ماہر نفسیات سے کاؤنسلنگ یا تھراپی لینا صرف ابنارمل افراد کی ضرورت ہے اور یہ ان کو ہی ہیلپ کر نے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے تو یہ اک غلط فہمی اورکم علمی کے سوا کچھ نہیں
کیونکہ کاؤنسلنگ یا تھراپی کا بنیادی مقصد زندگی کو بھرپور بنانا ہے جس سے ہر شخص اپنی شخصیت کے اوصاف، رجحانات ، اہلیت اور ٹیلنٹ کے کمال تک پہنچ سکے اور تنہائی کے احساس سے چھٹکارہ حاصل کر کے پرسکون اور خوش رہ سکے

(تنویر سجیل ۔ ماہر نفسیات & لائف کوچ)

تحقیقات کے مطابق موبائل کی نیلی روشنی دراصل لال رنگ کی وہ بتی ہے جو خطرہ نہیں بلکہ خطرناک نتائج لاتی ہےاب اگر بچے اپنے م...
19/09/2022

تحقیقات کے مطابق موبائل کی نیلی روشنی دراصل لال رنگ کی وہ بتی ہے جو خطرہ نہیں بلکہ خطرناک نتائج لاتی ہے
اب اگر بچے اپنے موڈ پر کنٹرول نہیں رکھتے اور ایسے رویوں کا اظہار کرتے ہیں جو نارمل نہیں لگتے اور ان کو ڈیل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ بچے ہی ایسے ہیں دراصل بچوں کے ساتھ یہ ظلم ہم نے خود کیا ہے اپنی سہولت کی خاطر کیونکہ آج کل والدین اس بات کو سمجھنا نہیں چاہتے کہ ان کے بچوں کو ان کی اپنی سہولتیں ہی خراب کر رہی ہیں
شوارما، برگر اور پیزا کو اگر نیچرل خوراک کا متبادل اور سہولت سمجھ لیا گیا ہے تو جوانی کے ایثار جلد ہی برآمد ہوں گے کیونکہ ہم کو کھانے سے مطلب ہے اس بات سے غرض نہیں کہ کیا کھا رہے ہیں اور اس کے جسم و جذبات پر اثرات کیا ہوں گے
یہ بات بہتر تب ہی سمجھ آ سکتی ہے جب کسی ڈاکٹر خاص کر گائناکالوجسٹ کے کلینک پر کچھ دیر تشریف رکھیں اور آنے والے ان کم عمر جوان مریضوں سے بات کر کے دیکھیں جو ایسی تولیدی بیماریوں سے دوچار ہیں جن کا بیس سال پہلے کوئی خاص ذکر ہی نہیں تھا مگر آج کل نزلہ زکام کی طرح عام ہوئی پڑی ہیں
وجوہات واضح ہیں کہ خوراک سے لیکر لائف سٹائل کے سٹائل اس حد تک پریشر والے ہیں کہ وہ ذہن، جذبات کے ساتھ ساتھ ہارمون کے نظام پر براہ راست خطرناک طریقے سے اثر انداز ہو رہے ہیں
جو نہ صرف جسمانی بیماری و تبدیلی کی وجہ بن رہے ہیں بلکہ جذبات کی وائرنگ کو غلط کنکشن فراہم کر کے بیمار بھی کر رہے ہیں
ممکنہ و متوقعہ چیلنجز سے نپٹنے کے لیے ایک ایسے مائنڈ سیٹ کی ضرورت ہے جو زندگی میں اپنائے جانے والے ہر سٹائل پر ایک واضح، علمی اور مشاورتی مائنڈ رکھتا ہو تاکہ اپنے پیاروں کو پیار کے ساتھ ساتھ اچھی صحت و تندرستی کا تحفہ بھی دیا جا سکے

(تنویر سجیل ۔ ماہر نفسیات & لائف کوچ)


Address

Okara
56020

Telephone

03334497302

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sajeel Stress Solution Services posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Sajeel Stress Solution Services:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category