DR Chanda SAHER-gynaecologist

DR Chanda SAHER-gynaecologist providing 24 hour gynae n obs services with trained doctor's, staff, well equipped theater, pharmacy n lab services....

30/11/2025

اشرف میڈی کیئر ہسپتال میں موسم سرما کے اوقات کار:

روزانہ دوپہر 12 تا 3
روزانہ شام 7 تا 8

16/11/2025
10/11/2025

"میری ہنستی بستی دنیا کو نظر لگ گئی۔ یہ کہنا آسان ہے، مگر اس درد کو الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہے جو میں نے برسوں سہا ہے۔ رشتے کی ڈور کو مضبوط سمجھا، مگر اس میں چھپی کمزوری کا احساس تب ہوا جب میرے دو پھول سے بچے بیماری کی آگ میں جلنے لگے۔ شادی سے پہلے کی سادگی، معصومیت اور لاعلمی نے مجھے ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کیا جہاں ہنسی تو دور کی بات، آنسو بھی خشک ہو گئے تھے۔ میرے شوہر میرے خالہ زاد بھائی تھے۔ ہم دونوں ہنستے کھیلتے بڑے ہوئے، ایک دوسرے کو جانتے تھے، سمجھتے تھے۔ شادی ہوئی تو خوشیوں کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ خواب تھے، امیدیں تھیں۔
​پہلے بیٹا پیدا ہوا، سب خوش تھے۔ لیکن کچھ عرصے بعد اس کا رنگ پیلا پڑنے لگا، وہ سست رہنے لگا۔ ڈاکٹرز کے چکر لگنے شروع ہوئے اور پھر وہ لفظ میری سماعتوں سے ٹکرایا: 'تھیلیسیمیا میجر'۔ یہ میرے لیے ایک صدمہ تھا۔ پھر دوسرا بیٹا پیدا ہوا اور قسمت کی ستم ظریفی کہ وہ بھی اسی بیماری کا شکار نکلا۔ اب ہر ہفتے، ہر مہینے خون کا بندوبست کرنا ہماری زندگی کا واحد مقصد بن گیا۔ میرے بیٹے، جنہیں سکول کے میدان میں بھاگنا تھا، ہسپتالوں کی راہداریوں میں خون کی بوتلوں سے بندھے رہتے تھے۔ ان کی چھوٹی رگوں میں سوئیوں کے گڑھے میری روح کو چھلنی کرتے تھے۔ لوگوں نے بھی ساتھ چھوڑ دیا، ہر کوئی کب تک خون دے سکتا ہے؟
​کوئی دیسی ٹوٹکے بتاتا، کوئی مہنگے علاج کا مشورہ دیتا، بون میرو ٹرانسپلانٹ کی بات ہوئی، لیکن اس کے اخراجات اور کامیابی کی شرح نے مزید مایوس کیا۔ ڈاکٹروں نے مجھے مزید بچے پیدا کرنے سے منع کر دیا۔ میں ایک ماں ہوں، میرے بچے میری آنکھوں کے سامنے تکلیف میں تھے اور میں کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ میرا ذہن، میرا دل، سب شل ہو چکے تھے۔ اس اذیت کو صرف وہی سمجھ سکتا ہے جو اس سے گزرا ہو۔ میری ہنسی، میری خوشیاں، میرے تمام خواب میرے بچوں کی بیماری نے نگل لیے تھے۔ کاش، کاش کوئی مجھے پہلے بتا دیتا۔ کاش کوئی ہمیں یہ علم دے دیتا کہ شادی سے پہلے چند سادہ ٹیسٹ ہمیں اس قیامت سے بچا سکتے تھے۔"
​حقیقت: لاعلمی سے چھٹکارا - شادی سے پہلے کی اسکریننگ
​یہ صرف ایک کہانی نہیں، یہ ہزاروں گھروں کی حقیقت ہے۔ بہت سی موروثی بیماریاں، خاص طور پر قریبی رشتوں میں شادیوں کی وجہ سے نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہیں۔ ان بیماریوں سے بچنا ممکن ہے، صرف چند احتیاطی تدابیر اختیار کر کے۔
​شادی سے پہلے کون سے ٹیسٹ لازمی ہیں؟
​یہ سادہ مگر انتہائی اہم ٹیسٹ ہیں جو آپ کو اور آپ کے شریکِ حیات کو مستقبل میں بڑی مشکلات سے بچا سکتے ہیں:
​بلڈ گروپ اور Rh فیکٹر: یہ جاننا ضروری ہے تاکہ مستقبل میں حمل کے دوران Rh عدم مطابقت (Rh Incompatibility) جیسی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے جو بچے کی صحت کے لیے خطرناک ہو سکتی ہیں۔
​تھیلیسیمیا اسکریننگ (Thalassemia Screening): یہ ایک خون کا مرض ہے جس میں جسم خون کے سرخ خلیات (Red Blood Cells) صحیح طریقے سے نہیں بنا پاتا۔ اگر میاں بیوی دونوں 'تھیلیسیمیا کیرئیر' (یعنی بیماری کے جین رکھتے ہوں مگر خود بیمار نہ ہوں) تو ان کے بچوں میں تھیلیسیمیا میجر ہونے کا 25% خطرہ ہوتا ہے، جو ایک جان لیوا بیماری ہے۔ اس کی بروقت تشخیص سے بچا جا سکتا ہے۔
​ریٹینائٹس پگمینٹوسا (Retinitis Pigmentosa - RP) اسکریننگ: یہ آنکھوں کا ایک موروثی مرض ہے جو آہستہ آہستہ بینائی ختم کر دیتا ہے۔ اگر یہ بیماری خاندان میں موجود ہو تو جیناتی ٹیسٹ کروا کر اس کے منتقل ہونے کے امکانات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اور کوشش کی جا سکتی ہے کہ خاندان میں شادی سے گریز کیا جائے
​سِکل سیل انیمیا (Sickle Cell Anemia): خون کا ایک اور موروثی مرض جو شدید درد اور دیگر پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے۔
​انکے علاوہ بھی بہت سی بیماریاں ہیں جن پر ہمارے ماہر امراض اطفال بہتر طریقے سے روشنی ڈال سکتے ہیں لیکن آپکو اس پوسٹ کے ذریعے یہ آگاہی دینی تھی کہ چند ہزار کے ٹیسٹ آپکو عمر بھر کے غم سے نجات دلا سکتے ہیں شادی سے پہلے اگر تھوڑی سی اسکریننگ ہو جائے تو آپکے آنے والی نسلوں کو بہتر بنایا جا سکتا ہے ۔ یہ بیماریاں مہذب دنیا میں اب بہت کم ہیں لیکن ہماری لاعلمی جاہلیت معاشرتی اقدار کی وجہ سے بہت عام ہیں اور ہماری موجودہ محدود صحت کے وسائل پر ایک بہت بڑا بوجھ ہے جسکو کم کیا جا سکتا ہے ۔ leye

A token of love from a lovely pt from renala after svd…  keeps moving…
05/11/2025

A token of love from a lovely pt from renala after svd…
keeps moving…

23/10/2025

احتیاط! "سٹیم سیل بے بی" اور "بیٹے کی گارنٹی" جیسے دعوے حقیقت ہیں یا فریب؟
✍️ روبینہ یاسمین

سوشل میڈیا پر چند روز سے ایک معاملہ ڈسکس ہو رہا ہے کہ ایک ڈاکٹر صاحبہ سٹیم سیلز تھراپی کی مدد سے زیرو سپرم اور زیرو ایگز والے مریضوں کو صاحب اولاد کر رہی ہیں۔ یہ ڈاکٹر صاحبہ جینڈر سیلیکشن کی مدد سے بیٹے بھی تقسیم کر رہی ہیں۔
اگر آ پ فیس بُک کی سرچ بار پر سٹیم سیلز لکھیں تو آ پکو ڈاکٹر صاحبہ کا نام بھی نظر آ جائے گا۔
مجھے یقین ہے کہ یہ واحد ڈاکٹر صاحبہ نہیں ہوں گی جنہوں نے ایسے دعوے کئے ہوں گے ۔

آج کل سوشل میڈیا پر کچھ اور کلینکس اور ڈاکٹرز بھی یہ دعویٰ کرتے نظر آ رہے ہیں کہ

“سٹیم سیلز کے ذریعے زیرو سپرم یا زیرو ایگز والے مرد و عورت اب والدین بن سکتے ہیں۔”
“ہم بیٹے کی گارنٹی دیتے ہیں۔”

یہ دعوے سننے میں دل کو امید دیتے ہیں ۔ مگر سائنس اور میڈیکل فیکٹس کچھ اور کہتے ہیں

اصل حقیقت کچھ اور یے۔

سٹیم سیلز تھراپی اب تک صرف تحقیقاتی مرحلے میں ہے۔
انسانوں پر ابھی یہ علاج محفوظ اور مؤثر ثابت نہیں ہوا۔

دنیا کے کسی ملک میں بشمول کینیڈا، امریکہ یا یورپ ابھی تک ایسا علاج عام استعمال یا حکومتی منظوری حاصل نہیں کر سکا۔

Health Canada اور FDA
جیسے ادارے غیر منظور شدہ سٹیم سیل علاج کو خطرناک اور غیر قانونی قرار دیتے ہیں۔

جینڈر سیلیکشن (بیٹا/بیٹی چننا)

IVF کے ساتھ جنس معلوم کرنے کی ٹیکنالوجی (PGD/PGS) ضرور موجود ہے،
مگر زیادہ تر ممالک میں یہ صرف طبی وجوہ (مثلاً موروثی بیماری روکنے) کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

پاکستان میں کچھ کلینکس اسے “بیٹے کی گارنٹی” کے نعرے کے ساتھ پیش کرتے ہیں
لیکن یہ سائنسی، اخلاقی اور مذہبی طور پر انتہائی متنازع عمل ہے۔

یاد رکھیں

کسی بھی ڈاکٹر یا کلینک کے لیے یہ کہنا کہ وہ

“سٹیم سیلز سے زیرو سپرم یا زیرو ایگز والے مریضوں کو اولاد دے سکتے ہیں”
یا
“ہم بیٹے کی گارنٹی دیتے ہیں”
سائنسی اور اخلاقی طور پر درست دعویٰ نہیں۔

ایسے دعوے صرف تحقیقی یا مارکیٹنگ کی باتیں ہو سکتی ہیں، جب تک ان کے ثبوت peer-reviewed سائنسی جرائد میں شائع نہ ہوں، یا کلینیکل ٹرائلز کی تصدیق نہ ہو۔
آپ کے لیے رہنمائی

1. ہمیشہ ثبوت (research papers, trial IDs) مانگیں۔

2. Health Canada یا FDA
کی ویب سائٹ سے تصدیق کریں کہ علاج منظور شدہ ہے یا نہیں۔

3. کسی بھی تجرباتی علاج سے پہلے سیکنڈ اوپینین لازماً لیں۔

4. اپنی امید کو علم، عقل اور تحقیق کے ساتھ متوازن رکھیں۔

سچ یہ ہے کہ سائنس نے بہت ترقی کی ہے، مگر کچھ خواب ابھی حقیقت بننے میں وقت لیں گے۔
امید رکھیں مگر احتیاط کے ساتھ۔

اگر آ پ نے یا آ پکے کسی عزیز نے سٹیم سیلز کے طریقے سے اولاد حاصل کی ہے یا جینڈر سیلیکشن کی مدد سے بچے کی صنف منتخب کی ہے تو کمنٹس میں بتائیں ۔


نوٹ: آ پ سے درخواست ہے کہ مذکورہ ڈاکٹر صاحبہ کا نام کمنٹس میں نہ لکھیں۔ ہمارا مقصد حقائق سے آ گاہ کرنا ہے۔ ایک خاص شخصیت کو ڈسکس کرنا نہیں ہے ۔

It always seems impossible until it’s done.”
10/08/2023

It always seems impossible until it’s done.”

HEALTHY MOTHERHEALTHY CHILDHEALTHY LIFE
10/08/2023

HEALTHY MOTHER
HEALTHY CHILD
HEALTHY LIFE

"Nothing is impossible, the word itself says I’m possible."
08/08/2023

"Nothing is impossible, the word itself says I’m possible."

Your health is our priority and we are here to serve you with expertise, compassion, and unwavering dedication. Gynae/Ob...
03/08/2023

Your health is our priority and we are here to serve you with expertise, compassion, and unwavering dedication.


Gynae/Obs
Consultant OPD

Address: 28 , Amir colony okara

contact: 03346676938/03100668388

Address

28 Amir Colony, Opposite Junior Model Girls High School, DHQ HOSPITAL Road
Okara
56300

Telephone

+923346676938

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when DR Chanda SAHER-gynaecologist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to DR Chanda SAHER-gynaecologist:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category