15/02/2026
Public Awareness message
ذیابیطس کے مریضوں میں پھلوں کا استعمال🧑🍳🌄🌠🫀🌈
ذیابیطس کے مریض مناسب مقدار میں تقریباً ہر قسم کے تازہ پھل استعمال کر سکتے ہیں، بشرطیکہ اعتدال کا خیال رکھا جائے۔ پھلوں میں موجود فائبر فرکٹوز کے جذب ہونے کی رفتار کو کم کرتا ہے، جس سے ان کا گلائسیمک لوڈ کم رہتا ہے اور خون میں شوگر اچانک نہیں بڑھتی۔
اگر پھل اپنی اصل حالت میں، چھلکے سمیت کھائے جائیں تو یہ زیادہ فائدہ مند ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر سیب اور ناشپاتی بغیر چھیلے، اور مالٹے کی پوری پھانک کھانے سے فائبر زیادہ ملتا ہے اور شوگر بتدریج بڑھتی ہے۔ اس کے برعکس انہی پھلوں کا جوس بنانے سے فائبر تقریباً ختم ہو جاتا ہے اور گلائسیمک انڈیکس بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے ذیابیطس کے مریضوں کو خصوصاً ڈبہ بند جوس سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے۔
تازہ پھلوں میں موجود وٹامنز، منرلز اور اینٹی آکسیڈنٹس جگر میں فرکٹوز کے میٹابولزم سے پیدا ہونے والے تکسیدی دباؤ کو بھی کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
عملی مشورہ:
ایک وقت میں ایک ٹینس بال کے برابر سیب، ناشپاتی یا آم، یا ایک کیلا، یا ایک چائے کی پیالی کے برابر انگور استعمال کریں۔
پھل اکیلے کھانے کے بجائے کھانے کے ساتھ یا کھانے سے پہلے لینا بہتر ہے۔
فروٹ جوس سے حتیٰ الامکان پرہیز کریں۔
ڈاکٹر محمد نثار
میڈیکل اسپیشلسٹ اینڈ اینڈوکرائنولوجسٹ