24/02/2026
گزشتہ روز کوہاٹ کے ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال میں ڈیوٹی مکمل کر کے گھر جانے والی ڈاکٹر مہوش کا بہیمانہ قتل کھلی درندگی اور انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے۔ ہم اس افسوسناک واقعے کی شدید مذمت کرتے ہیں اور مرحومہ کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں
ہم خیبر پختونخوا پولیس سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ قاتل کو فوری گرفتار کیا جائے، ریاست کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا جائے اور اسے قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے۔ ہسپتالوں کے اندر اور باہر سیکیورٹی فراہم کرنا انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے، اور اس واقعے میں کسی بھی قسم کی غفلت کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
ماضی میں اگر ڈاکٹر عاصمہ رانی کے قاتلوں کو بروقت اور عبرتناک سزا ملتی تو شاید آج ایک اور بیٹی کو اس المناک انجام کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ ہماری وہ بیٹیاں جو روزے کی حالت میں بھی انسانیت کی خدمت میں مصروف رہتی ہیں، اگر خود کو غیر محفوظ محسوس کریں تو یہ ہم سب کے لیے ایک لمحۂ فکریہ اور قومی المیہ ہے۔
پاکستان، بالخصوص خیبر پختونخوا میں پہلے ہی خواتین ڈاکٹروں کی شدید کمی ہے، اور ڈاکٹرز میں عدم تحفظ کا احساس نہ صرف طبی شعبے بلکہ پورے معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔ ہم حکومت خیبر پختونخوا سے مطالبہ کرتے ہیں ں کہ اس کیس کو ترجیحی بنیادوں پر منطقی انجام تک پہنچایا جائے اور انصاف کی فوری فراہمی یقینی بنائی جائے۔