Dr. Muhammad Nisar

Dr. Muhammad Nisar Medical Specialist with Fellowship in Endocrinology and Metabolic disorders.

ذیابیطس (شوگر) کے مریضوں میں پاؤں کی حس کم ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے گرم یا ٹھنڈی چیز کا صحیح احساس نہیں ہوتا اور پاؤں جل...
14/01/2026

ذیابیطس (شوگر) کے مریضوں میں پاؤں کی حس کم ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے گرم یا ٹھنڈی چیز کا صحیح احساس نہیں ہوتا اور پاؤں جلنے یا زخمی ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اس لیے پاؤں کو ہیٹر، آگ، گرم پانی اور گرم بوتل سے دور رکھیں، ننگے پاؤں نہ چلیں، روزانہ پاؤں کا بغور معائنہ کریں، ناخن سیدھے کاٹیں اور آرام دہ جوتے استعمال کریں، کیونکہ ذیابیطس میں معمولی زخم بھی دیر سے ٹھیک ہوتا ہے اور انفیکشن، گینگرین یا پاؤں کے کٹنے تک نوبت آ سکتی ہے، لہٰذا اگر پاؤں میں زخم، سوجن، پیپ، سیاہ پڑنا یا درد ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

پری ذیابیطس کے مریضوں کے لیے اہم پیغام(Prediabetes)اگر آپ کو بتایا گیا ہے کہ آپ پری ذیابیطس میں ہیں اور آپ اینڈوکرائنولو...
10/01/2026

پری ذیابیطس کے مریضوں کے لیے اہم پیغام(Prediabetes)

اگر آپ کو بتایا گیا ہے کہ آپ پری ذیابیطس میں ہیں اور آپ اینڈوکرائنولوجسٹ (شوگر کے ماہر ڈاکٹر) سے رجوع نہیں کر رہے، تو براہِ کرم اسے معمولی نہ سمجھیں۔ پری ذیابیطس ایک خطرے کی گھنٹی ہے، کوئی بے ضرر حالت نہیں۔ بروقت توجہ نہ دینے سے یہ خاموشی سے ٹائپ 2 ذیابیطس میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں دل، گردوں، آنکھوں اور اعصاب کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

بروقت ماہر ڈاکٹر سے مشورہ لینے سے آپ:
اپنی حقیقی بیماری کی حالت اور خطرے کو بہتر سمجھ سکتے ہیں
ذاتی نوعیت کا لائف اسٹائل پلان (غذا، ورزش، وزن کا ہدف) حاصل کر سکتے ہیں
یہ جان سکتے ہیں کہ دوائی کب ضروری ہے تاکہ ذیابیطس سے بچاؤ ہو
بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور موٹاپے پر ابتدا ہی میں قابو پا سکتے ہیں
غلط معلومات اور خود سے علاج کے نقصانات سے بچ سکتے ہیں
بہت سے افراد میں پری ذیابیطس کو روکا یا الٹا جا سکتا ہے—لیکن صرف اسی صورت میں جب وقت پر اقدام کیا جائے۔ شوگر بڑھنے کا انتظار کرنا ایک قیمتی موقع ضائع کرنا ہے۔
👉پری ذیابیطس قابلِ واپسی ہو سکتی ہے۔ تاخیر خطرناک ہے.

Public Awareness message.Prediabetes: A Silent Warning You Can Act On.Prediabetes means your blood sugar is higher than ...
09/01/2026

Public Awareness message.
Prediabetes: A Silent Warning You Can Act On.
Prediabetes means your blood sugar is higher than normal, but not yet diabetes. Most people with prediabetes feel perfectly fine—yet without action, many will develop type 2 diabetes within a few years.
The good news? Prediabetes is preventable and reversible.
Simple steps can make a big difference:
Aim for 5–7% weight loss if overweight
Do 30 minutes of brisk walking most days of the week
Choose balanced meals with fewer sugary drinks and refined foods
Get your blood sugar checked regularly, especially if you have a family history, high blood pressure, or are overweight

129 likes, 26 comments. “ ❤️❤️ ”

Public Awareness message
09/01/2026

Public Awareness message

Check out Dr M Nisar’s video.

09/01/2026

Public Awareness message!
ADA Standards of Care – سیکشن 3 (خلاصہ)
ٹائپ 2 ذیابیطس کی روک تھام یا تاخیر
یہ سیکشن اس بات پر زور دیتا ہے کہ اگر زیادہ خطرے والے افراد کی بروقت نشاندہی کر لی جائے تو ٹائپ 2 ذیابیطس کو اکثر روکا یا مؤخر کیا جا سکتا ہے۔ پری ڈایابیٹیز کے مریض اس مداخلت کا بنیادی ہدف ہوتے ہیں۔
سب سے مؤثر طریقہ طرزِ زندگی میں تبدیلی ہے۔ معمولی مگر مستقل وزن میں کمی (تقریباً 5–7٪) اور باقاعدہ جسمانی سرگرمی، جیسے ہفتے میں کم از کم 150 منٹ تیز چہل قدمی، ذیابیطس میں تبدیل ہونے کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کرتی ہے۔ غذائی مشورہ عملی، ثقافتی طور پر قابلِ قبول، اور پیچیدہ ڈائٹس کے بجائے اضافی کیلوریز کم کرنے پر مبنی ہونا چاہیے۔
منتخب زیادہ خطرے والے افراد میں میٹفارمن کو روک تھام کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر کم عمر مریضوں میں، BMI ≥35 کلوگرام/م² رکھنے والوں میں، حمل کے دوران ذیابیطس کی سابقہ تاریخ رکھنے والی خواتین میں، یا ان مریضوں میں جن میں طرزِ زندگی کی تبدیلی کے باوجود شوگر کی سطح بڑھتی رہے۔

اس کے علاوہ، قلبی و عروقی خطرے کے عوامل کو بھی ابتدائی مرحلے میں کنٹرول کرنا ضروری ہے۔ بلڈ پریشر، لپڈ کی خرابی، موٹاپا اور سگریٹ نوشی کا بروقت اور مؤثر علاج کیا جانا چاہیے، حتیٰ کہ ذیابیطس کے ظاہر ہونے سے پہلے ہی۔
پری ڈایابیٹیز کے مریضوں میں باقاعدہ فالو اَپ ضروری ہے، عموماً سال میں ایک مرتبہ، تاکہ خون میں شوگر کی سطح کی نگرانی کی جا سکے اور طرزِ زندگی میں بہتری کو برقرار رکھا جا سکے۔

🚨 عوامی آگاہی پیغام: ذیابیطس (شوگر) کی علامات کو پہچانیے ذیابیطس ایک سنجیدہ مگر قابلِ کنٹرول بیماری ہے۔ بہت سے لوگ اس مر...
04/01/2026

🚨 عوامی آگاہی پیغام: ذیابیطس (شوگر) کی علامات کو پہچانیے
ذیابیطس ایک سنجیدہ مگر قابلِ کنٹرول بیماری ہے۔ بہت سے لوگ اس مرض میں مبتلا ہوتے ہیں مگر علامات سے لاعلم رہتے ہیں، اسی لیے بروقت آگاہی اور تشخیص بے حد ضروری ہے۔
⚠️ ذیابیطس کی عام علامات:
بار بار پیشاب آنا
حد سے زیادہ پیاس لگنا اور بھوک بڑھ جانا
بغیر وجہ کے وزن کم ہونا
تھکن، کمزوری اور منہ کا خشک رہنا
نظر کا دھندلا ہونا، سر درد
ہاتھوں یا پیروں میں سن ہونا یا جھنجھناہٹ
زخموں کا دیر سے بھرنا، بار بار انفیکشن ہونا
👩‍⚕️ ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟
اگر ایک سے زیادہ علامات موجود ہوں
اگر خاندان میں ذیابیطس کی تاریخ ہو
اگر عمر 35 سال سے زیادہ ہو یا وزن زیادہ ہو
✅ خوشخبری یہ ہے کہ: بروقت تشخیص سے سنگین پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، وقتاً فوقتاً طبی معائنہ اور ضرورت پڑنے پر ادویات، ذیابیطس کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔
💙 آج ہی قدم اٹھائیں: اپنی صحت پر توجہ دیں، ٹیسٹ کروائیں اور دوسروں کو بھی آگاہ کریں۔
آگاہی بچاؤ ہے، اور بروقت علاج بہتر زندگی کی ضمانت ہے۔
#شوگر

خشک کھانسی ایک عام مسئلہ ہے جو موسم کی تبدیلی، الرجی، دھول یا نزلہ زکام کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔ درج ذیل گھریلو طریقے وقتی ...
25/12/2025

خشک کھانسی ایک عام مسئلہ ہے جو موسم کی تبدیلی، الرجی، دھول یا نزلہ زکام کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔ درج ذیل گھریلو طریقے وقتی آرام میں مدد دے سکتے ہیں:

🍯 لہسن اور شہد
نیم گرم پانی یا دودھ میں شہد شامل کر کے استعمال کریں۔ یہ گلے کو سکون دیتا ہے۔

🌱 ادرک
ادرک کی چائے یا ادرک کا چھوٹا ٹکڑا چبانے سے کھانسی میں آرام آ سکتا ہے۔

☕ ہلدی
نیم گرم دودھ میں ہلدی ملا کر پینا فائدہ مند ہے، خاص طور پر رات کے وقت۔

🍋 نمکین پانی
نیم گرم نمکین پانی سے غرارے کریں، گلے کی خشکی کم ہوتی ہے۔

🍵 لیموں
لیموں اور شہد ملا کر نیم گرم پانی پینے سے گلا نرم ہوتا ہے۔

⚠️ اہم ہدایت:
اگر کھانسی 5 سے 7 دن سے زیادہ رہے، بخار، سانس میں دقت یا سینے میں درد ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
یہ تدابیر علاج کا متبادل نہیں بلکہ ابتدائی احتیاط ہیں۔

📢 صحت مند رہیں، معلومات شیئر کریں

16/12/2025

،،!صحت عامہ کی آگاہی
انفلوئنزا ویکسین کن مہینوں میں لگائی جاتی ہے؟🦠💉💉💉🧪
پاکستان میں:
بہترین وقت: ستمبر تا اکتوبر
موزوں مدت: ستمبر سے نومبر
ابھی بھی لگ سکتی ہے: فلو سیزن کے دوران مارچ–اپریل تک، اگر پہلے نہ لگی ہو
ستمبر–اکتوبر کیوں بہتر ہیں؟
ویکسین لگنے کے تقریباً 2 ہفتے بعد جسم میں حفاظتی اینٹی باڈیز بنتی ہیں
فلو عام طور پر اکتوبر سے شروع ہو کر دسمبر تا فروری میں عروج پر ہوتا ہے
اہم نکات:
انفلوئنزا ویکسین سال کے کسی بھی مہینے لگائی جا سکتی ہے اگر دستیاب ہو، خاص طور پر:
بزرگ افراد
حاملہ خواتین
دائمی بیماریوں کے مریض (شوگر، دل، پھیپھڑے، گردے)
ہیلتھ کیئر ورکرز
فلو ویکسین ہر سال لگوانا ضروری ہے کیونکہ وائرس کی اقسام بدلتی رہتی ہیں

15/12/2025

Reality of obesity .

''Super Flu ''OR H3N2    تیزی سے پاکستان  میں پھیل رہی ہے، جسے "سپر فلو" کا نام دیا  گیا ہے۔ یہ عام طور پر موسمی نزلہ زک...
14/12/2025

''Super Flu ''OR H3N2
تیزی سے پاکستان میں پھیل رہی ہے، جسے "سپر فلو" کا نام دیا گیا ہے۔ یہ عام طور پر موسمی نزلہ زکام سے زیادہ شدید ہے اور اس کی علامات کورونا وائرس سے ملتی جلتی ہیں۔
⚠️ اہم علامات (Symptoms):
🔹 اچانک تیز بخار (High Grade Fever)
🔹 شدید جسم اور سر میں درد
🔹 گلے میں خرابی اور خشک کھانسی
🔹 شدید تھکاوٹ اور کمزوری
🩸 شوگر (Diabetes) کے مریضوں کے لیے خاص انتباہ:
بطور میڈیکل اسپیشلسٹ، میں اپنے شوگر کے مریضوں کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ یہ فلو شوگر مریضوں کیلئے خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے علاؤہ دل کے مریض اور گردوں کے مریض بھی زیادہ اختیاط کریں
* اپنی شوگر بار بار چیک کریں۔
* پانی کا استعمال زیادہ کریں )۔
* اگر بخار کنٹرول نہ ہو تو فوری ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔
🛡️ بچاؤ کی تدابیر:
✅ ہجوم والی جگہوں پر ماسک کا استعمال یقینی بنائیں۔
✅ بار بار ہاتھ دھوئیں اور سینیٹائزر استعمال کریں۔
✅ فلو ویکسین (Flu Vaccine) لگوائیں، خاص طور پر بزرگ اور کمزور قوت مدافعت والے افراد۔
گھبرائیں نہیں، بلکہ احتیاط کریں! یہ وائرس قابلِ علاج ہے لیکن لاپرواہی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔
ڈاکٹر محمد نثار
میڈیکل اسپیشلسٹ و ماہر امراضِ ذیابیطس

انفلوئنزا A (H3N2)🦠🫁🪻🩻–صحتِ عامہ کی آگاہی1. یہ وائرس کیسے اثر انداز ہوتا ہے؟انفلوئنزا A (H3N2) ایک سانس کی نالی کو متاثر...
12/12/2025

انفلوئنزا A (H3N2)🦠🫁🪻🩻–صحتِ عامہ کی آگاہی
1. یہ وائرس کیسے اثر انداز ہوتا ہے؟
انفلوئنزا A (H3N2) ایک سانس کی نالی کو متاثر کرنے والا وائرس ہے جو تیزی سے پھیلتا ہے۔ یہ وائرس ناک، گلے اور پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے، جس سے جسم کے مدافعتی نظام پر دباؤ بڑھ جاتا ہے اور مختلف علامات ظاہر ہوتی ہیں۔
2. علامات (Symptoms)
اگر کوئی شخص اس وائرس سے متاثر ہو جائے تو یہ علامات ظاہر ہو سکتی ہیں:
شدید سر درد: سر میں تیز یا مسلسل درد۔
تیز بخار: جسم کا درجہ حرارت اچانک بڑھ جانا۔
کھانسی: خشک یا بلغم والی کھانسی۔
سانس لینے میں دشواری: دمہ جیسی کیفیت، سانس پھولنا یا گھرگھراہٹ۔
جسم میں درد: پورے جسم کے پٹھوں اور جوڑوں میں درد۔
بھوک ختم ہونا: کھانے کا دل نہ کرنا، کمزوری محسوس ہونا۔
گلے کی سوزش: گلے میں درد جو اکثر سینے تک محسوس ہوتا ہے
3. بیماری کا دورانیہ (Duration of Illness)
کچھ مریض 4–5 دن میں بہتر ہو جاتے ہیں۔
زیادہ تر مریضوں میں کمزوری اور کھانسی 10–15 دن تک برقرار رہ سکتی ہے۔
4. بیماری کی شدت کن چیزوں پر منحصر ہوتی ہے؟
قوتِ مدافعت: کمزور مدافعت رکھنے والے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
پہلے سے موجود بیماریاں: خاص طور پر دمہ، COPD، دل یا گردے کی بیماری۔
عمر: بچوں اور بزرگوں میں علامات زیادہ شدید ہو سکتی ہیں۔
غذائیت: غیر متوازن خوراک اور کمزور جسم۔
ذہنی دباؤ: ٹینشن مدافعتی نظام کو کمزور کرتی ہے۔
پہلے وائرس کا سامنا: اگر پہلے متاثر ہو چکے ہوں تو علامات ہلکی ہو سکتی ہیں۔
5. کب فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں؟
اگر ان میں سے کوئی بھی علامت ہو تو فوراً طبی امداد حاصل کریں:
سانس لینے میں شدید دشواری
سینے میں درد
بخار 5 دن سے زیادہ رہے
شدید کمزوری یا پانی کی کمی (Dehydration)
آکسیجن لیول کم ہونا یا ذہنی الجھن محسوس ہونا

12/12/2025

Public Awareness message

Address

Peshawar

Telephone

+923143529466

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Muhammad Nisar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr. Muhammad Nisar:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category