Ehab Medical Centre EMC

Ehab Medical Centre EMC Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Ehab Medical Centre EMC, Medical Center, Peshawar.

19/03/2022
04/03/2022

ہمیں میڈیکل سنٹر کیلئےLHV درکار ہےجوالٹراساؤنڈ میں مہارت رکھتی ہو
نیچے دی ہوئی نمبر پر CV بھیجیں
03015886226
تہکال پایان پلوسی روڈ پشاور

Alhamdulillah EHAB Medical Centre free Medical camp successfully done..Special Thanks To Dr Adil Khan and Dr Muhammad Ri...
08/12/2021

Alhamdulillah EHAB Medical Centre free Medical camp successfully done..Special Thanks To Dr Adil Khan and Dr Muhammad Rizwan Khan Free medical checkup was provided by the doctors from Peshawar Institute of Medical Sciences Hayatabad phase 5 Peshawar & Free medications by Ehab medical centre Ring road Peshawar.

Alhamdulillah EHAB Medical Centre free Medical camp successfully done ❤️
08/12/2021

Alhamdulillah EHAB Medical Centre free Medical camp successfully done ❤️

1۔ روزانہ ایک دیسی لہسن ضرور کھائیں. 2۔ ناشتے میں ابلے ہوئے انڈے کا استعمال لازمی کریں۔3۔ ناشتے کے وقت ایک سیب کا استعما...
29/10/2021

1۔ روزانہ ایک دیسی لہسن ضرور کھائیں.
2۔ ناشتے میں ابلے ہوئے انڈے کا استعمال لازمی کریں۔
3۔ ناشتے کے وقت ایک سیب کا استعمال کریں۔
4۔ گھی کی روٹی کی بجائے خشک روٹی استعمال کریں۔
5۔ دن میں 12 گلاس پانی ہر صورت پیئں۔
6۔ ایک دن چھوڑ کر تخم ملنگہ یا اسپغول چھلکا کا استعمال کریں۔

7۔ادرک۔ سونف۔ دار چینی۔ پودینہ۔ چھوٹی الائچی۔
تمام چیزیں تھوڑی مقدار میں لیں۔زیادہ نہ لیں۔انکا قہوہ بنا کے ایک ایک کپ پیئں۔ آدھا لیموں ملا لیں۔ایک دن چھوڑ کر ایک دن پیئں۔

8- روزانہ پانچ یا سات کجھوریں کھائیں.
9- صبح کے وقت بھگو کے رکھے ھوئے بادام چھیل کر کھائیں 12 عدد
10- بوتل اور ڈبے والے juices ترک کر دیں۔ بہت نقصان دہ ہیں۔ان کی جگہ گھر میں Fresh juice بنا کر پیئں۔

11- روزانہ اپنے ہاتھ کی ہتھیلیوں اور پاؤں کے تلووں پر تیل لگا کر سوئیں۔ ناف میں تین قطرے تیل ڈالیں۔ کافی بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔

12- تلاوت قرآن پاک، پانچ وقت نماز پابندی سے پڑھیں اور جو تھوڑا سا وقت جب بھی ملے اللہ کا ذکر کریں۔

27/10/2021
22/10/2021

ڈینگی بخار، ڈینگی بخار کا علاج، ڈینگی بخار علامات اور ڈینگی بخار کی تشخیص کیسے کی جاتی ہے۔ جانئے اس ویڈیو میں

22/10/2021

Dengue fever common endemic problems Nowadays. Hope it will benefits you in term of protection of your Health.

  cancer awareness campaign.
21/10/2021

cancer awareness campaign.

ڈینگی بخار کے بڑھتے ہوئے کیسز کے حوالے سے ایک ضروری پیغام :ڈینگی بخار خود  بخود وقت کے ساتھ ٹھیک ھونے والی بیماری ہے اور...
26/09/2021

ڈینگی بخار کے بڑھتے ہوئے کیسز کے حوالے سے ایک ضروری پیغام :
ڈینگی بخار خود بخود وقت کے ساتھ ٹھیک ھونے والی بیماری ہے اور اس وقت ڈینگی وائرس انفیکشن کے علاج کے لیے کوئی اینٹی وائرل علاج دستیاب نہیں ہے۔
ڈینگی بخار میں مبتلا مریض کو کیا کرنا چاہیے:
1۔ پیراسیٹامول (پیناڈول) گولیاں ہر 6 گھنٹے بعد جسمانی درد اور تیز بخار کے لیے لیں ۔۔
2.پانی یا نمکول کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں
3۔ اگر ہر کھانے سے آدھے گھنٹے پہلے متلی محسوس ہو یا قے ہو تو موٹیلیم گولیاں یا گریونیٹ لیں۔
4. اچھی خوراک لیں۔
کم از کم 1 ہفتہ مکمل بستر آرام۔
6۔ اسپرین ، بروفین ، پونسٹن یا کسی دوسرے NSAIDS درد کش دوائیوں سے پرہیز کریں۔
7۔ اگر مریض کو ناک سے خون ، پاخانہ ، پیشاب یا جلد سے خون آ رہا ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔۔۔
#سب سے اہم ڈینگی وائرس مچھر کے کاٹنے سے مکمل طور پر انسانی جسم میں منتقل ہوتا ہے لہذا ہر ایک کو مکمل احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔

22/09/2021

ڈِینگی بخار
Copied

وجوہات ، علامات اور احتیاطی تدابیر

ڈِینگی بیماری، دراصل ایک وائرس کے جسم میں داخل ہونے اور اس کے جسم کے خلیوں میں افزائش کرکے انکو تباہ کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس وائرس کو ہم ’’Dengue virus ‘‘ کہتے ہیں۔ اس وائرس کو جسم میں داخل کرنے کاذمہ دار ایک مچھر (Vector)ہے جسے ہم Aedes Aegypti کہتے ہیں۔ دنیا میں ملیریا کے بعد مچھر کے ذریعے پھیلنے والی بیماریوں میں ڈِینگی دوسرے نمبرپر ہے۔
ڈینگی مچھر کا تعارف :- اس خطر ناک مچھر کی افزائش گندے پانی کے جوہڑوں میں نہیں بلکہ جمع شدہ صاف پانی میں ہوتی ہے، مثلاً گھریلو واٹر ٹینک،پانی کے بھرے ہوئے برتنوں اور گلدانوں اور گملوں میں جمع شدہ پانی میں۔ اسکے علاوہ باہر پڑے ہوئے پرانے ٹائروں میں جمع شدہ پانی بھی انکی افزائش کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اس مچھر کے افزائش کے روکنے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ مندرجہ بالا جگہوں کو، جہاں صاف پانی کے جمع ہونے کا امکان ہوتا ہے ، ڈھانپ کر رکھا جائے یا پانی کھڑا ہی نہ ہونے دیا جائے۔ ان مچھروں کی غذا انسانی خون ہے اور جب یہ مچھر یہی خون چوسنے کیلئے لوگوں کو کاٹتے ہیں تو اسی دوران وہ یہ وائرس لوگوں میں منتقل کر کے ڈینگی بخار کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ یہ مچھر عام طور پرطلوع ِ اور غروبِ آفتاب کے آس پاس اپنی رہائشی جگہ سے نکل کر اپنی غذائی ضروریات پوری کرتے ہیں۔
ڈینگی بخار کی علامات:- عام طور پر اس بیماری کی میعاد، دس سے بارہ دن کی ہوتی ہے ، جن میں پہلے تین دنوں میں مریض کو شدید بخار اور جسم میں درد رہتا ہے، درمیانے تین دنوں میں بخارتو ٹوٹ جاتا ہے لیکن بیماری کے بگڑنے کے امکانات انہی تین دنوں میں زیادہ ہوتا ہے ، جس دوران مریض پر کڑی نگاہ رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ آخری تین دنوں میں مریض دوبارہ بخار میں مبتلا ہوکر بالآخر صحت یاب ہوجاتا ہے۔ اکثر مریضوں میں ڈینگی بخار کی علامات معمولی نوعیت کی ہوتی ہیں ، تاہم بعض مریضوں میں یہ مرض شدید صورت اختیار کرکے جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ علامات اور شدت کی بنیاد پر اس کی درجہ بندی ہلکی ، درمیانی اور شدید نوعیت کے ڈینگی بخارپر کی جاسکتی ہے۔
ہلکی نوعیت کا ڈینگی بخار:- اس قسم کا ڈِینگی بخار پچاسی فیصد (85-90%) مریضوں میں ہوتا ہے جس میں مچھر کے کاٹنے اور اس وائرس کے بدن میں داخل ہونے کے سات سے دس دن بعد مریض کو ہلکے زکام کی سی کیفیت کے ساتھ ہلکا یا تیز بخار چڑھ جاتا ہے جو ہفتہ دس دنوں میں صرف پیراسٹامول کی گولیوں کے لینے پر خود ہی ٹھیک ہوجاتا ہے۔
درمیانے نوعیت کا ڈینگی بخار :- یہ قسم پانچ سے دس فیصد(5-10%) مریضوں میں پائی جاتی ہے، جس میں مریض کو سردی کے ساتھ تیز بخار چڑھ جاتا ہے اور جسم ، کمر اور آنکھوں کے ڈھیلوں میں شدید درد شروع ہوجاتا ہے۔ اسکے علاوہ مریض کو شدید متلی کے ساتھ الٹیاں لگ جاتی ہیں ، بھوک بالکل اڑجاتی ہے، گلے میں درد شروع ہوجاتا ہے اور شدید کمزوری محسوس ہوتی ہے اورکبھی کبھی پیٹ میں درد بھی اٹھ سکتا ہے۔ معائنہ کرنے پر ایسے مریضوں کی آنکھیں ، چہرے اور جسم کے بالائی حصے کی جلد سرخی مائل (Flushed)پائی جاتی ہیں۔ ایسے مریضوں کے علاج میں جسمانی درد رفع کرنے کیلئے پیرا سٹامول جبکہ الٹیوں اور متلی رفع کرنے کیلئے دیگر دوائیں دی جاتی ہیں۔ یہ یاد رکھیں کہ درد کو رفع کرنے کیلئے ڈسپرین اور اس قسم کی دوسری مثلاً Diclofenac ،Ibuprofen اور Naproxen نامی دوائوں (NSAIDs)سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔ اگر مریض کو شدید الٹیاں لگی ہوں تو اسے ہسپتال میں داخل کرکے انجکشنز کے ذریعے الٹیوں کو رفع کرنے والی دوائیں اور جسم میں پانی کی کمی کو پورا کرنے کیلئے ڈرپس لگائی جاتی ہیں۔ تاہم ایسے مریضوں کے مرض کے بگڑنے کی علامات پر کڑی نگاہ رکھی جاتی ہے۔ان علامات میں مریض کی ناک یا کسی اور جگہ سے خون آنا ، ٹانگوں اور بازئووں پر نیل نمودار ہونا اور پیٹ کے درد کا شدت اختیار کرلینا شامل ہیں۔ان علامات کے علاوہ بیماری کی شدت کو جانچنے کیلئے جن لیبارٹری معائنات کی روزانہ ضرورت ہوتی ہے ، ان میں خون کا معائنہ ، خا ص طور پر Platelet count ، Hematocrit اور ALT شامل ہیں۔ اگر کسی بھی مریض میں خطرے کی کوئی بھی مندرجہ بالاعلامت ظاہر ہو، تو اسکا مطلب مرض کا شدید نوعیت کے ڈِینگی بخار میں بگڑناہوتا ہے۔اگر درمیانے نوعیت کے ڈینگی کے مریض میں یہ علامات ظاہر نہ ہوں تو ایسے مریض آٹھ سے دس دن کے اندر اندر صحت یابی کی طرف گامزن ہوجاتے ہیں۔ تاہم مرض کے بگڑنے کی صورت میں مندرجہ ذیل علامات ظاہر ہوتی ہیں۔
شدید نوعیت کا ڈینگی بخار:- پانچ فیصد (5%) یا اس سے کم مریضوں میں درمیانے نوعیت کا ڈِینگی بخار شدت اختیار کرلیتا ہے۔ مرض کے بگڑنے کی علامات میں مریضوں میں خونریزی کا شروع ہونا انتہائی خطرناک علامت ہے ، جس میں ٹانگوں اور بازئووں پر تِل جتنے نیلے داغ (Petechial Hemorrhages) بننا ، نیل کے بڑے دھبوں کا (Ecchymoses) از خود نمودار ہونا ، ناک سے خون آنا(Epistaxis) اور کبھی کبھی خون کی الٹیاں کرنا یا دستوں میں خون کا آناشامل ہیں۔ ایسے مریضوں کااکثر Platelet Count دن بدن کم ہوکر خطرناک حد(20 ہزار سے کم) تک گر جاتا ہے۔ڈِینگی بخار کے اس قسم کو خونی ڈِینگی بخار ، ’’Dengue Hemorrhagic Fever‘‘ یا DHF کہتے ہیں۔اس قسم کے ڈِینگی بخار کے مریض کو فوراً ہسپتال میں داخل کرکے خون اور Platelet Concenterate چڑھائے جاتے ہیں اور انکے بلڈ پریشر پر خاص نظر رکھی جاتی ہے کیونکہ یہی خونی ڈِینگی بخار ایک اور خطرناک شکل اختیار کرسکتا ہے، جسے ہم Dengue Shock Syndrome یا DSS کہتے ہیں۔اس پیچیدگی میں مریض کی شعری رگوں (Capillaries) میں موجود چھید یا درز(Fenestrations) کھل جاتے ہیں جن سے خون کا مائع (Plasma) رِس کر پیٹ اور سینے کے اندر اور جلد کے نیچے جمع ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ مائع کے اس طرح رگوں سے باہر نکلنے کی وجہ سے مریض کا بلڈ پریشر خطرناک حد تک گر جاتا ہے ، جسے ہم ’’ Shock‘‘ کہتے ہیں۔ یہ ڈینگی بیماری کی انتہائی خطرناک شکل ہے ، جس میں مبتلا اکثرمریض اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھتے ہیں۔ ایسے مریضوں کا علاج کسی بڑے ہسپتال کے ICU میں ہونا چاہیے۔
ڈینگی بخار کی تشخیص:- ویسے تو مندرجہ بالا علامات کی موجودگی میں کسی بھی مریض میں ، جسکو اچانک تیز بخار کے ساتھ بدن میں شدید درد شروع ہوجائے، اس مرض کی تشخیص مشکل نہیں تاہم خون کے چند معائنات کی بنا پر اسکی حتمی تشخیص کی جاسکتی ہے۔ خون کے ان معائنات میں بیماری کے دوسرے دن سے NS1 Antigen کا ٹیسٹ مثبت آنا شروع ہوجاتا ہے ، جبکہ چوتھے دن پر IgM اور IgG ڈینگی وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز کا ٹیسٹ بھی مثبت آنے لگتا ہے۔دیگر ٹیسٹوں میں Platelet Count اور ALT قابلِ ذکر ہیں۔
ڈینگی بخار کا علاج:- یہ بیماری ایک وائرل انفیکشن ہے جس کیلئے کوئی خاص اینٹی وائرل دوائی دستیاب نہیں اور عام طور پر مریض کا علاج انکے علامات کو رفع کرنے کیلئے کیاجاتا ہے مثلاً بخار ، درد اور الٹیوں کو رفع کرنے کی دوائیں اور الٹیوں کے لگنے کی صورت میں بدن میں پانی کی کمی کو پورا کرنے کیلئے ڈرپس وغیرہ۔ اسکے علاوہ ان مریضوں کے علاج کے مد میں انکی بیماری کے بگڑنے کی علامات پر کڑی نگاہ رکھنا ڈاکٹر کا فرض ہے جن کے ظاہر ہونے کی صورت میں مریض کو فوراً ہسپتال میں داخل کرکے انکا علاج کرنا چاہیے۔ تاہم یہ بات نوٹ کرلیں کہ ڈینگی کے مریضوںکو مچھروں سے بچا کر رکھا جائے اور اس سلسلے میں مریضوں اور انکے تیمارداروں کو چاہیے کو وہ دافع مچھر لوشن اپنے جسم کے کھلے حصوں پر لگالیں۔ جہاں تک کھانے پینے کا تعلق ہے تو ڈینگی بخار کے مریضوں میں کھانے پینے کا کوئی پرہیز نہیں ہوتا اور وہ گھر میں پکی ہوئی عام روٹی ، ترکاری اور چاول وغیرہ کھاسکتے ہیں۔اسکے علاوہ حسبِ ذائقہ مرچ مصالحہ ، نمک اور گھی کے استعمال پر بھی کوئی پابندی نہیں ہوتی۔ متلی اور الٹیوں کی صورت میں ، اگر مریض برداشت کرسکے تو ، انہیں پھل کے تازہ جوس میں ORS ملا کر پلانے سے جسم میں پانی کی کمی کو پورا کیا جاسکتا ہے۔
ڈینگی سے بچائو کی تدابیر:- جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے کہ ڈینگی بخارایک خاص قسم کے مچھر کے کاٹنے سے ہوتا ہے۔اس ضمن میں ایک اہم بات یہ ہے کہ یہ بیماری ایک مریض سے کسی دوسرے صحت مند شخص کو براہِ راست منتقل نہیں ہوتی باالفاظِ دیگر یہ ایک متعدی (Contagious) مرض نہیںاور اس میں مبتلا مریضوں کو علیحدہ (Isolate) کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔اس قسم کی بیماریوں کو جو کسی مچھر یا کھٹمل وغیرہ کے کاٹنے سے ہوتی ہیں انہیں ہم Vector-Borne Diseases کہتے ہیں اور جو حشرات ان بیماریوں کو پھیلانے کا باعث بنتے ہیں انہیں Vector کہاجاتاہے۔ ان تمام بیماریوں کو جو Vector کے ذریعے پھیلتی ہیں انہیں کنٹرول کرنے کا واحد ذریعہ ان حشرات کا خاتمہ یا کنٹرول ہے۔ یعنی اگر مچھر موجود نہ ہوں یا انکے کاٹنے سے اپنے آپ کو بچایا جائے ، دونوں صورتوں میں ڈینگی وائرس انسان کو منتقل نہیں ہوسکتا۔ لہٰذامچھر کی موجودگی اور اسکا لوگوں کو کاٹنا اس بیماری کے ہونے کیلئے لازم و ملزوم ہیـ یعنی ’’ نہ مچھر ہوگا نہ بیماری ہوگی ‘‘۔ یہی مقولہ ملیریا سے بچائو کیلئے بھی اپنایا جاسکتا ہے۔ اس حقیقت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ڈینگی بیماری سے بچنے کی احتیاطی تدابیر مندرجہ ذیل ہیں:
1 ۔ صاف پانی کے تمام ذخیروں کو ڈھانپ کر رکھا جائے یا کھڑے ہی نہ ہونے دیا جائے ، تاکہ مچھر اس میں افزائش نسل کیلئے انڈے نہ دے سکیں ۔
2۔ ان تمام پانی کے برتنوں اور گھڑوں ، جن میں پانی ذخیرہ کیا جاتا ہے ، انہیں ہر ہفتہ خالی کرکے اچھی طرح دھویا جائے ، تا کہ اگر ان میں مچھر وں نے انڈے دیے بھی ہوں تو وہ ضائع ہوجائیں۔
3 ۔ طبیعیاتی روک تھام( Physical Control ) :- اگر صحتِ عامہ کی ناقص فراہمی کی وجہ سے مچھروں کی موجودگی ناگزیر ہو تو ایسی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیے کہ مچھر کے کاٹنے کا احتمال کم سے کم ہو ، جن میں مچھروں کو دور کرنے والے لوشنز (Anti-Mosquito Repellents) کا کھلے ہوئے ہاتھوں ، بازوئوں ، گردن اور پاوئوں پر لگانا ، جسم کا کم سے کم حصہ کھلا رکھنا ، گھروں کی کھڑکیوں اور دروازوں پر جالیاں لگانا ، باہر سونے کی صورت میں پلنگ کے ارد گرد جال (Mosquito Net) لگانا وغیرہ شامل ہیں ۔
4۔ کیمیائی روک تھام (Chemical Control):- گھر کے اندر اور ارد گرد محلہ میں مچھر مار سپرے کرنا چاہیے تاکہ مچھر کی افزائش نسل کو روکا جائے ۔
( نوٹ: چونکہ یہ مچھر طلوعِ اور غروبِ آفتاب کے آس پاس لوگوں کو کاٹنے کیلئے نکلتے ہیں ، لہٰذا ان اوقات میں مندرجہ بالا احتیاطی تدابیر کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے۔)
اختتامی معروضات:- چونکہ اس بیماری کا کوئی مئوثر علاج موجود نہیں ہے لہٰذا ہمیں اپنی تمام توجہ اس بیماری سے بچائو کی طرف مرکوز کرنی چاہیے۔ اس بیماری پر قابو پانا کسی فرد واحد کے بس کی بات نہیں، بلکہ ہم سب کو اپنی اپنی انفرادی اور اجتماعی زمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ان تمام عناصر کے خلاف جہاد کرنا پڑے گا جو اس مچھرکے افزائش اور پھیلنے کے ذرائع ہیں۔ اس سلسلے میں تمام تر انفرادی ، اجتماعی اورحکومتی قوتوںکو یکجا کرکے اس بیماری کی وبا کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے ۔عوام الناس کی آگاہی کیلئے اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا پر مندرجہ بالا عناصر کی تشہیر ہونی چاہیے جو اس بیماری کے پھیلنے کا باعث بنتے ہیں ، تاکہ انفرادی سطح پر لوگوں میں انکی اہمیت اجاگر کی جاسکے ۔
پروفیسر ڈاکٹر انتخاب عالم
سابقہ ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ آف میڈیسن ،
گورنمنٹ لیڈی ریڈنگ ہسپتال، پشاور

Address

Peshawar

Telephone

+923015886226

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ehab Medical Centre EMC posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Ehab Medical Centre EMC:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category