16/02/2026
مائیگرین یا درد شقیقہ سر درد کی ایک شدید قسم ہے جو بچوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔ یہ سر درد عموماً اسکول جانے کی عمر کے بچوں اور بڑے بچوں میں زیادہ دیکھا جاتا ہے، البتہ بعض اوقات کم عمر بچوں میں بھی ہو سکتا ہے۔ بچوں میں مائیگرین کی علامات بڑوں سے کچھ مختلف ہو سکتی ہیں، اسی لیے اکثر اس کی بروقت پہچان نہیں ہو پاتی۔
مائیگرین کا درد عام طور پر سر کے ایک طرف ہوتا ہے، مگر بچوں میں یہ دونوں طرف بھی ہو سکتا ہے۔ درد کی شدت درمیانی سے شدید ہوتی ہے، اور درد کے دوران بچہ اپنی روزمرہ سرگرمیاں جیسے کھیل کود، پڑھائی یا ٹی وی دیکھنا چھوڑ دیتا ہے۔ جسمانی سرگرمی جیسے چلنے، سیڑھیاں چڑھنے سے درد بڑھ جاتا ہے۔ اکثر بچوں کو روشنی سے تکلیف (فوٹوفوبیا)، آواز سے چڑچڑا پن (فونوفوبیا)، دل خراب ہونا اور الٹی کی شکایت بھی ہوتی ہے۔ نیند کے بعد درد میں واضح کمی آ جاتی ہے۔
مائیگرین کی تشخیص میں فیملی میڈیکل ہسٹری بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر والدین، بہن بھائی یا قریبی رشتہ داروں میں مائیگرین ہو تو بچے میں اس کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بعض بچوں میں سفر کے دوران متلی یا الٹی کی شکایت(Motion sickness) بھی مائیگرین سے جڑی ہوئی ہو سکتی ہے، جو اس بیماری کی طرف اشارہ کرتی ہے, اور جن بچوں کو یہ مسلہ ہوتا ان میں مائیگرین کا چانس عام بچوں سے زیادہ ہوتا ہے۔
تشخیص کے بعد سب سے اہم مرحلہ یہ جانچنا ہوتا ہے کہ مائیگرین کی شدت اور درد کے دورے کتنے باربار ہو رہے ہیں۔ اگر بچے کو مہینے میں ایک یا دو ہلکے اٹیک ہوں تو عام طور پر درد کے دوران ہی علاج کافی ہوتا ہے۔ اس میں بچے کو پرسکون ماحول دینا، کمرے کی روشنی بند کرنا، آرام کروانا اور سادہ درد کی ادویات جیسے پیراسیٹامول یا آئبوپروفین دینا شامل ہے۔ اکثر بچوں میں نیند کے بعد علامات خود بخود بہتر ہو جاتی ہیں۔
اگر مائیگرین کے حملے زیادہ شدید ہوں، اسکا دورانیہ زیادہ ہو، یا مہینے میں چار یا اس سے زیادہ مرتبہ ہوں اور بچے کی پڑھائی، کھیل یا روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہو تو پھر باقاعدہ مسلسل ادویات کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ دوائیں مائیگرین کے حملوں کی تعداد اور شدت کو کم کرنے کے لیے دی جاتی ہیں اور ہمیشہ ڈاکٹر کی نگرانی میں شروع کی جاتی ہیں۔
ادویات کے ساتھ ساتھ طرزِ زندگی میں تبدیلی مائیگرین کے علاج میں نہایت اہم ہے۔ بچے کو مناسب مقدار میں پانی پینے کی عادت ڈالنا، نیند کا باقاعدہ وقت مقرر کرنا، کھانے پینے میں بے قاعدگی سے بچنا، صحت مند غذا دینا، مناسب جسمانی سرگرمی اور اسکرین ٹائم (موبائل، ٹیبلٹ، ٹی وی) کو محدود کرنا بہت مددگار ثابت ہوتا ہے۔
مائیگرین کے بہتر کنٹرول کے لیے ہیڈیک ڈائری(Headache diary) رکھنا بھی بے حد مفید ہے۔ اس میں یہ نوٹ کیا جاتا ہے کہ سر درد کب شروع ہوا، کتنی دیر رہا، کس چیز سے بڑھا، کس دوا یا آرام سے بہتر ہوا، اور اس دن بچے نے کیا کھایا یا کیا سرگرمی کی۔ اس مکمل ریکارڈ کی مدد سے ڈاکٹر دوا کی مقدار کو بہتر انداز میں ترتیب دے سکتا ہے۔
یہ بات سمجھنا بھی بہت ضروری ہے کہ ہر سر درد مائیگرین نہیں ہوتا۔ بعض اوقات سر درد کسی خطرناک بیماری کی علامت بھی ہو سکتا ہے، جیسے گردن توڑ بخار، دماغی رسولی ، یا چوٹ وغیرہ۔ ایسے حالات میں سر درد کے ساتھ اور علامات بھی دیکھنے میں آتی ہیں۔ مکمل تشخیص کے لیے سی ٹی سکین یا ایم آر آئی کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔
اسی لیے اگر بچے کو بار بار، شدید یا غیر معمولی سر درد ہو تو خود تشخیص یا خود علاج کے بجائے لازمی طور پر چائلڈ نیورولوجسٹ سے رجوع کریں، تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ آیا یہ سادہ سر درد ہے، مائیگرین ہے یا کسی سنگین بیماری کی علامت تو نہیں۔
ڈاکٹر ارشد محمود
کنسلٹنٹ
چائلڈ اسپیشلسٹ اینڈ چائلڈ نیورولوجسٹ
ایگزیکٹو کلینک، فاطمہ میموریل ہسپتال، لاہور