22/01/2026
ہوائی فائرنگ: خوشی نہیں، مستقل معذوری کا پیغام
آج پیراپلیجک سنٹر پشاور میں دُکی، بلوچستان سے تعلق رکھنے والی آصفہ سے دوبارہ ملاقات ہوئی۔ وہی آصفہ جو محض ایک سال کی عمر میں ہوائی فائرنگ کی ایک بے رحم گولی کا نشانہ بنی، اور کئی سال بعد شدید بیڈ سورسز کے ساتھ پیراپلیجک سنٹر لائی گئی۔ بحالی کے ایک طویل اور صبر آزما سفر کے بعد وہ نہ صرف طبی طور پر بہتر ہوئی بلکہ ذہنی طور پر ایک باشعور، خوبصورت اور غیر معمولی طور پر ذہین بچی بن کر اپنے گاؤں واپس گئی۔
آصفہ نے صرف بحالی تک خود کو محدود نہیں رکھا۔ بڑی ہو کر اس نے اپنے والد کے ساتھ مل کر ہوائی فائرنگ اور دیگر نقصان دہ روایات کے خلاف آواز بلند کی—ایک خاموش مگر طاقتور جہاد۔ آج پندرہ برس کی عمر میں، وہ دوبارہ پیراپلیجک سنٹر آئی، ہاتھ میں پھول لیے، مسکراتے چہرے کے ساتھ، مگر ہمارے دل میں ایک پرانا زخم پھر تازہ ہو گیا۔
دل خون کے آنسو روتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ ماں کی گود میں کھیلتے، یا اپنے بستروں پر سوتے معصوم بچے، خوشی کے نام پر چلائی گئی گولیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ ایک لمحے کی “رسمی خوشی” کسی بچے کو عمر بھر کے لیے اپنے جسم کا قیدی بنا دیتی ہے۔ یہ صرف ایک فرد کا نہیں، پورے معاشرے کا نقصان ہے۔
ہوائی فائرنگ کوئی روایت نہیں، یہ ایک جرم ہے۔ ایک ایسی رسم جو معذوری، درد اور پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں دیتی۔ آصفہ جیسے بچے ہمیں یہ یاد دہانی کراتے ہیں کہ اگر ہم نے آج اس کے خلاف اجتماعی شعور اور عملی قدم نہ اٹھایا، تو کل یہ گولیاں کسی اور معصوم کی زندگی چھین لیں گی۔
اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے:
خوشی منانی ہے, یا زندگیاں بچانی ہیں؟