07/10/2021
*میڈیکل اسٹور پر اترتی ابابیلیں۔۔۔*
سیلز مین سے دوائیں نکلوانے کے بعد پیسے دینے کیلئے جب کائونٹر پر پہنچا تو مجھ سے پہلے قطار میں دو لوگ کھڑے تھے۔ سب سے آگے ایک بوڑھی عورت، اس کے پیچھے ایک نوجوان لڑکا۔۔۔
میری دوائیاں کائونٹر پر سامنے ھی رکھی تھیں اور ان کے نیچے رسید دبی ھوئی تھی۔ ساتھ ہی دو اور ڈھیر بھی تھے جو مجھ سے پہلے کھڑے لوگوں کے تھے۔۔۔
مجھے جلدی تھی کیونکہ گھر والے گاڑی میں بیٹھے میرا انتظار کر رھے تھے۔۔۔ مگر دیر ھو رھی تھی کیونکہ بوڑھی عورت کائونٹر پر چپ چاپ کھڑی تھی۔۔۔
میں نے دیکھا وہ بار بار اپنے دبلے پتلے، کانپتے ھاتھوں سے سر پر چادر جماتی تھی اور جسم پر لپیٹتی تھی۔ اس کی چادر کسی زمانے میں سفید ھو گی مگر اب گِھس کر ھلکی سرمئی سی ھو چکی تھی۔ پاؤں میں عام سی ھوائی چپل اور ہاتھ میں سبزی کی تھیلی تھی۔ میڈیکل اسٹور والے نے خودکار انداز میں عورت کی دوائوں کا بل اٹھایا اور بولا۔
'980 روپے'۔ اس نے عورت کی طرف دیکھے بغیر پیسوں کیلئے ھاتھ آگے بڑھا دیا۔۔۔
عورت نے چادر میں سے ھاتھ باھر نکالا اور مُٹھی میں پکڑے مڑے تڑے 50 روپے کے دو نوٹ کائونٹر پر رکھ دئیے۔ پھر سر جھکا لیا۔
' بقایا۔۔۔؟'۔ دکاندار کی آواز اچانک دھیمی ھو گئی۔ بالکل سرگوشی کے برابر۔ اس نے عورت کی طرف دیکھا، بوڑھی عورت سر جھکائے اپنی چادر ٹھیک کرتی رھی۔۔۔
شاید دو سیکنڈز کی خاموشی رھی ھو گی۔ ان دو سیکنڈز میں ھم سب کو اندازہ ھو گیا کہ عورت کے پاس دوائوں کے پیسے یا تو نہیں ھیں یا کم ھیں اور وہ کشمکش میں ھے کہ کیا کرے۔ مگر دکاندار نے کوئی لمحہ ضائع کیے بغیر، تیزی سے اس کی دوائوں کا ڈھیر تھیلی میں ڈال کر آگے بڑھاتے ھوئے کہا۔
'اچھا اماں جی۔ شکریہ'۔
بوڑھی عورت کا سر بدستور نیچے تھا۔ اس نے کانپتے ھاتھوں سے تھیلی پکڑی اور کسی کی طرف دیکھے بغیر دکان سے باہر چلی گئی۔ ھم سب اسے جاتا دیکھتے رھے۔ میں حیران تھا کہ 980 روپے کی دوائیں اس دکاندار نے صرف 100روپے میں دے دی تھیں۔ اس کی فیاضی سے میں متاثر ھوا تھا۔۔۔
جونہی وہ باھر گئی، دکاندار پہلے ھمیں دیکھ کر مسکرایا۔ پھر کائونٹر پر رکھی پلاسٹک کی ایک شفاف بوتل اٹھالی جس پر لکھا 'ڈونیشنز فار میڈیسنز' یعنی دوائوں کیلئے عطیات۔۔۔
اس بوتل میں بہت سارے نوٹ نظر آ رھے تھے۔ زیادہ تر دس اور پچاس کے نوٹ تھے۔ دکاندار نے تیزی سے بوتل کھولی اور اس میں سے مٹھی بھر کر پیسے نکال لیے۔ پھر جتنے پیسے ھاتھ میں آئے انہیں کائونٹر پر رکھ کر گننے لگا۔ مجھے حیرت ہوئی کہ یہ کیا کام شروع ھو گیا ھے مگر دیکھتا رھا۔۔۔
دکاندار نے جلدی جلدی سارے نوٹ گنے تو ساڑھے تین سو روپے تھے۔ اس نے پھر بوتل میں ھاتھ ڈالا اور باقی پیسے بھی نکال لیے۔
اب بوتل بالکل خالی ھو چکی تھی۔ اس نے بوتل کا ڈھکن بند کیا اور دوبارہ پیسے گننے لگا۔ اس بار کُل ملا کر ساڑھے پانچ سو روپے بن گئے تھے۔۔۔
اس نے بوڑھی عورت کے دیے ھوئے، پچاس کے دونوں نوٹ، بوتل سے نکلنے والے پیسوں میں ملائے اور پھر سارے پیسے اٹھا کر اپنی دراز میں ڈال دئیے ۔ پھر مجھ سے آگے کھڑے گاھک کی طرف متوجہ ھو گیا۔'جی بھائی'۔
نوجوان نے جو خاموشی سے یہ سب دیکھ رھا تھا، ایک ھزار کا نوٹ آگے بڑھا دیا۔ دکاندار نے اس کا بل دیکھ کر نوٹ دراز میں ڈال دیا اور گِن کر تین سو تیس روپے واپس کر دیے۔۔۔
ایک لمحہ رکے بغیر نوجوان نے بقایا ملنے والے نوٹ پکڑ کر انہیں تہہ کیا۔ پھر بوتل کا ڈکھن کھولا اور سارے نوٹ اس میں ڈال کر ڈھکن بند کردیا۔اب خالی ھونے والی بوتل میں پھر سے، سو کے تین اور دس کے تین نوٹ نظر آنے لگے تھے۔ نوجوان نے اپنی تھیلی اٹھائی، زور سے سلام کیا اور دکان سے چلا گیا۔۔۔
بمشکل ایک منٹ کی اس کارروائی نے میرے رونگھٹے کھڑے کر دئیے تھے۔ میرے سامنے، چپ چاپ، ایک عجیب کہانی مکمل ھو گئی تھی اور اس کہانی کے کردار، اپنا اپنا حصہ ملا کر، زندگی کے اسکرین سے غائب ھو گئے تھے۔ صرف میں وہاں رہ گیا تھا جو اس کہانی کا تماشائی تھا۔۔۔
'بھائی یہ کیا کیا ھے آپ نے۔۔۔؟'۔
مجھ سے رھا نہ گیا اور میں پوچھ بیٹھا۔
'یہ کیا کام چل رھا ھے۔۔۔؟'۔
'اوہ کچھ نہیں ھے سر'۔
دکاندار نے بے پروائی سے کہا۔
'ادھر یہ سب چلتا رھتا ھے'۔
'مگر یہ کیا ھے۔۔۔؟۔
آپ نے تو عورت سے پیسے کم لیے ھیں۔۔۔؟۔ پورے آٹھ سو روپے کم اور بوتل میں سے بھی کم پیسے نکلے ھیں۔ تو کیا یہ اکثر ھوتا ھے۔۔۔؟'۔
میں بے چین ھو رھا تھا یہ جاننے کیلئے کہ آخر واقعہ کیا ھے۔۔۔؟
'کبھی ھو جاتا ھے سر۔ کبھی نہیں۔ آپ کو تو پتا ھے کیا حالات چل رھے ھیں'۔ دکاندار نے آگے جھک کر سرگوشی میں کہا۔
'دوائیں اتنی مہنگی ھو گئی ھیں۔ سفید پوش لوگ روز آتے ھیں۔ کسی کے پاس پیسے کم ھوتے ھیں۔ کسی کے پاس بالکل نہیں ھوتے۔ تو ھم کسی کو منع نہیں کرتے۔ اللہ نے جتنی توفیق دی ھے، اتنی مدد کر دیتے ہیں۔ باقی اللہ ھماری مدد کردیتا ھے'۔۔۔
اس نے بوتل کی طرف اشارا کیا۔
'یہ بوتل کتنے دن میں بھر جاتی ھے۔۔۔؟'۔
میں نے پوچھا۔
'دن کدھر سر'۔ وہ ھنسا۔'یہ تو ابھی چند گھنٹے میں بھر جائے گی'۔
'واقعی'۔ میں حیران رہ گیا۔'پھر یہ کتنی دیر میں خالی ھوتی ھے۔۔۔؟'۔
'یہ خالی نہیں ھوتی سر۔
اگر خالی ھو جائے تو دو سے تین گھنٹے میں پھر بھر جاتی ھے۔ دن میں تین چار بار خالی ھو کر بھرتی ھے۔
شکر الحمدللہ'۔
دکاندار اوپر دیکھ کر سینے پر ھاتھ رکھا اور بولا۔
'اتنے لوگ آ جاتے ھیں پیسے دینے والے بھی اور لینے والے بھی'۔ میں نیکی کی رفتار سے بے یقینی میں تھا۔
'ابھی آپ نے تو خود دیکھا ھے سر'۔
وہ ھنسا۔' بوتل خالی ھو گئی تھی۔ مگر کتنی دیر خالی رھی۔ شاید دس سیکنڈ، ابھی دیکھیں'۔ اس نے بوتل میں پیسوں کی طرف اشارہ کیا۔
'پیسے دینے والے کون ھیں۔۔۔؟۔
'ادھر کے ھی لوگ ھیں سر، جو دوائیں لینے آتے ھیں، وہی اس میں پیسے ڈالتے ھیں'۔
'اور جو دوائیں لیتے ھیں ان پیسوں سے، وہ کون لوگ ھیں۔۔۔؟'۔
میں نے پوچھا۔
'وہ بھی ادھر کے ھی لوگ ھیں۔ زیادہ تر بوڑھے، بیوائیں اور کم تنخواہ والے لڑکے ہیں جن کو اپنے والدین کے لیے دوائیں چاھیئے ھوتی ھیں'۔ اس نے بتایا۔
'لڑکے۔۔۔؟'۔
میرا دل لرز گیا۔
'لڑکے کیوں لیتے ہیں چندے کی دوائیں۔۔۔؟'۔
'سر اتنی بے روزگاری ھے۔ بہت سے لڑکوں کو تو میں جانتا ھوں ان کی نوکری کورونا کی وجہ سے ختم ھو گئی ھے'۔ اس نے دکھی لہجے میں کہا۔' اب گھر میں ماں باپ ھیں، بچے ھیں۔ دوائیں تو سب کو چاہئیں۔ تو لڑکے بھی اب مجبور ھو گئے ھیں اس بوتل میں سے دوا لینے کیلئے، کیا کریں۔ کئی بار تو ھم نے روتے ھوئے دیکھا ھے اس میں سےلڑکوں کو پیسے نکالتے ھوئے۔ یقین کریں ھم خود روتے ھیں'۔ مجھے اس کی آنکھوں میں نمی تیرتی نظر آنے لگی۔
'اچھا میرا کتنا بل ھے۔۔۔؟'۔
میں نے جلدی سے پوچھ لیا کہ کہیں وہ میری انکھوں کی نمی نہ دیکھ لے۔
'سات سو چالیس روپے'۔ اس نے بل اٹھا کر بتایا اور ایک ھاتھ سے اپنی آنکھیں پونچھیں۔۔۔
میں نے بھی اس کو ہزار کا نوٹ تھمایا اور جو پیسے باقی بچے، بوتل کا ڈھکن کھول کر اس میں ڈال دیے۔
'جزاک اللہ سر'۔ وہ مسکرایا اور کائونٹر سے ایک ٹافی اٹھا کر مجھے پکڑا دی۔۔۔
میں سوچتا ھوا گاڑی میں آ بیٹھا۔
غربت کی آگ ضرور بھڑک رھی ھے، مفلسی کے شعلے آسمان سے باتیں کر رھے ھیں۔
مگر آسمانوں سے ابابیلوں کے جھنڈ بھی، اپنی چونچوں میں پانی کی بوندیں لیے، قطار باندھے اتر رھے ھیں۔۔۔
خدا کے بندے اپنا کام کر رھے ھیں۔ چپ چاپ۔ گم نام۔ صلے و ستائش کی تمنا سے دور۔۔۔
اس یقین کے ساتھ کہ خدا دیکھ رھا ھے اور مسکرا رھا ھے کہ اس کے بندے اب بھی اس کے کام میں مصروف ھیں۔۔۔🤔 برائے مہر بانی آگے سینڈ کریں