Asad Medicose

Asad Medicose Address:- Shop #9 Khyber Medical Centre Dabgari Gardens Peshawar
WhatsApp # 03469073762

07/10/2021

*میڈیکل اسٹور پر اترتی ابابیلیں۔۔۔*

سیلز مین سے دوائیں نکلوانے کے بعد پیسے دینے کیلئے جب کائونٹر پر پہنچا تو مجھ سے پہلے قطار میں دو لوگ کھڑے تھے۔ سب سے آگے ایک بوڑھی عورت، اس کے پیچھے ایک نوجوان لڑکا۔۔۔

میری دوائیاں کائونٹر پر سامنے ھی رکھی تھیں اور ان کے نیچے رسید دبی ھوئی تھی۔ ساتھ ہی دو اور ڈھیر بھی تھے جو مجھ سے پہلے کھڑے لوگوں کے تھے۔۔۔

مجھے جلدی تھی کیونکہ گھر والے گاڑی میں بیٹھے میرا انتظار کر رھے تھے۔۔۔ مگر دیر ھو رھی تھی کیونکہ بوڑھی عورت کائونٹر پر چپ چاپ کھڑی تھی۔۔۔

میں نے دیکھا وہ بار بار اپنے دبلے پتلے، کانپتے ھاتھوں سے سر پر چادر جماتی تھی اور جسم پر لپیٹتی تھی۔ اس کی چادر کسی زمانے میں سفید ھو گی مگر اب گِھس کر ھلکی سرمئی سی ھو چکی تھی۔ پاؤں میں عام سی ھوائی چپل اور ہاتھ میں سبزی کی تھیلی تھی۔ میڈیکل اسٹور والے نے خودکار انداز میں عورت کی دوائوں کا بل اٹھایا اور بولا۔
'980 روپے'۔ اس نے عورت کی طرف دیکھے بغیر پیسوں کیلئے ھاتھ آگے بڑھا دیا۔۔۔

عورت نے چادر میں سے ھاتھ باھر نکالا اور مُٹھی میں پکڑے مڑے تڑے 50 روپے کے دو نوٹ کائونٹر پر رکھ دئیے۔ پھر سر جھکا لیا۔
' بقایا۔۔۔؟'۔ دکاندار کی آواز اچانک دھیمی ھو گئی۔ بالکل سرگوشی کے برابر۔ اس نے عورت کی طرف دیکھا، بوڑھی عورت سر جھکائے اپنی چادر ٹھیک کرتی رھی۔۔۔

شاید دو سیکنڈز کی خاموشی رھی ھو گی۔ ان دو سیکنڈز میں ھم سب کو اندازہ ھو گیا کہ عورت کے پاس دوائوں کے پیسے یا تو نہیں ھیں یا کم ھیں اور وہ کشمکش میں ھے کہ کیا کرے۔ مگر دکاندار نے کوئی لمحہ ضائع کیے بغیر، تیزی سے اس کی دوائوں کا ڈھیر تھیلی میں ڈال کر آگے بڑھاتے ھوئے کہا۔
'اچھا اماں جی۔ شکریہ'۔

بوڑھی عورت کا سر بدستور نیچے تھا۔ اس نے کانپتے ھاتھوں سے تھیلی پکڑی اور کسی کی طرف دیکھے بغیر دکان سے باہر چلی گئی۔ ھم سب اسے جاتا دیکھتے رھے۔ میں حیران تھا کہ 980 روپے کی دوائیں اس دکاندار نے صرف 100روپے میں دے دی تھیں۔ اس کی فیاضی سے میں متاثر ھوا تھا۔۔۔

جونہی وہ باھر گئی، دکاندار پہلے ھمیں دیکھ کر مسکرایا۔ پھر کائونٹر پر رکھی پلاسٹک کی ایک شفاف بوتل اٹھالی جس پر لکھا 'ڈونیشنز فار میڈیسنز' یعنی دوائوں کیلئے عطیات۔۔۔

اس بوتل میں بہت سارے نوٹ نظر آ رھے تھے۔ زیادہ تر دس اور پچاس کے نوٹ تھے۔ دکاندار نے تیزی سے بوتل کھولی اور اس میں سے مٹھی بھر کر پیسے نکال لیے۔ پھر جتنے پیسے ھاتھ میں آئے انہیں کائونٹر پر رکھ کر گننے لگا۔ مجھے حیرت ہوئی کہ یہ کیا کام شروع ھو گیا ھے مگر دیکھتا رھا۔۔۔

دکاندار نے جلدی جلدی سارے نوٹ گنے تو ساڑھے تین سو روپے تھے۔ اس نے پھر بوتل میں ھاتھ ڈالا اور باقی پیسے بھی نکال لیے۔
اب بوتل بالکل خالی ھو چکی تھی۔ اس نے بوتل کا ڈھکن بند کیا اور دوبارہ پیسے گننے لگا۔ اس بار کُل ملا کر ساڑھے پانچ سو روپے بن گئے تھے۔۔۔

اس نے بوڑھی عورت کے دیے ھوئے، پچاس کے دونوں نوٹ، بوتل سے نکلنے والے پیسوں میں ملائے اور پھر سارے پیسے اٹھا کر اپنی دراز میں ڈال دئیے ۔ پھر مجھ سے آگے کھڑے گاھک کی طرف متوجہ ھو گیا۔'جی بھائی'۔

نوجوان نے جو خاموشی سے یہ سب دیکھ رھا تھا، ایک ھزار کا نوٹ آگے بڑھا دیا۔ دکاندار نے اس کا بل دیکھ کر نوٹ دراز میں ڈال دیا اور گِن کر تین سو تیس روپے واپس کر دیے۔۔۔
ایک لمحہ رکے بغیر نوجوان نے بقایا ملنے والے نوٹ پکڑ کر انہیں تہہ کیا۔ پھر بوتل کا ڈکھن کھولا اور سارے نوٹ اس میں ڈال کر ڈھکن بند کردیا۔اب خالی ھونے والی بوتل میں پھر سے، سو کے تین اور دس کے تین نوٹ نظر آنے لگے تھے۔ نوجوان نے اپنی تھیلی اٹھائی، زور سے سلام کیا اور دکان سے چلا گیا۔۔۔

بمشکل ایک منٹ کی اس کارروائی نے میرے رونگھٹے کھڑے کر دئیے تھے۔ میرے سامنے، چپ چاپ، ایک عجیب کہانی مکمل ھو گئی تھی اور اس کہانی کے کردار، اپنا اپنا حصہ ملا کر، زندگی کے اسکرین سے غائب ھو گئے تھے۔ صرف میں وہاں رہ گیا تھا جو اس کہانی کا تماشائی تھا۔۔۔

'بھائی یہ کیا کیا ھے آپ نے۔۔۔؟'۔
مجھ سے رھا نہ گیا اور میں پوچھ بیٹھا۔
'یہ کیا کام چل رھا ھے۔۔۔؟'۔

'اوہ کچھ نہیں ھے سر'۔
دکاندار نے بے پروائی سے کہا۔
'ادھر یہ سب چلتا رھتا ھے'۔

'مگر یہ کیا ھے۔۔۔؟۔
آپ نے تو عورت سے پیسے کم لیے ھیں۔۔۔؟۔ پورے آٹھ سو روپے کم اور بوتل میں سے بھی کم پیسے نکلے ھیں۔ تو کیا یہ اکثر ھوتا ھے۔۔۔؟'۔

میں بے چین ھو رھا تھا یہ جاننے کیلئے کہ آخر واقعہ کیا ھے۔۔۔؟

'کبھی ھو جاتا ھے سر۔ کبھی نہیں۔ آپ کو تو پتا ھے کیا حالات چل رھے ھیں'۔ دکاندار نے آگے جھک کر سرگوشی میں کہا۔
'دوائیں اتنی مہنگی ھو گئی ھیں۔ سفید پوش لوگ روز آتے ھیں۔ کسی کے پاس پیسے کم ھوتے ھیں۔ کسی کے پاس بالکل نہیں ھوتے۔ تو ھم کسی کو منع نہیں کرتے۔ اللہ نے جتنی توفیق دی ھے، اتنی مدد کر دیتے ہیں۔ باقی اللہ ھماری مدد کردیتا ھے'۔۔۔

اس نے بوتل کی طرف اشارا کیا۔
'یہ بوتل کتنے دن میں بھر جاتی ھے۔۔۔؟'۔
میں نے پوچھا۔
'دن کدھر سر'۔ وہ ھنسا۔'یہ تو ابھی چند گھنٹے میں بھر جائے گی'۔
'واقعی'۔ میں حیران رہ گیا۔'پھر یہ کتنی دیر میں خالی ھوتی ھے۔۔۔؟'۔
'یہ خالی نہیں ھوتی سر۔

اگر خالی ھو جائے تو دو سے تین گھنٹے میں پھر بھر جاتی ھے۔ دن میں تین چار بار خالی ھو کر بھرتی ھے۔
شکر الحمدللہ'۔
دکاندار اوپر دیکھ کر سینے پر ھاتھ رکھا اور بولا۔
'اتنے لوگ آ جاتے ھیں پیسے دینے والے بھی اور لینے والے بھی'۔ میں نیکی کی رفتار سے بے یقینی میں تھا۔
'ابھی آپ نے تو خود دیکھا ھے سر'۔
وہ ھنسا۔' بوتل خالی ھو گئی تھی۔ مگر کتنی دیر خالی رھی۔ شاید دس سیکنڈ، ابھی دیکھیں'۔ اس نے بوتل میں پیسوں کی طرف اشارہ کیا۔
'پیسے دینے والے کون ھیں۔۔۔؟۔
'ادھر کے ھی لوگ ھیں سر، جو دوائیں لینے آتے ھیں، وہی اس میں پیسے ڈالتے ھیں'۔
'اور جو دوائیں لیتے ھیں ان پیسوں سے، وہ کون لوگ ھیں۔۔۔؟'۔
میں نے پوچھا۔

'وہ بھی ادھر کے ھی لوگ ھیں۔ زیادہ تر بوڑھے، بیوائیں اور کم تنخواہ والے لڑکے ہیں جن کو اپنے والدین کے لیے دوائیں چاھیئے ھوتی ھیں'۔ اس نے بتایا۔

'لڑکے۔۔۔؟'۔
میرا دل لرز گیا۔
'لڑکے کیوں لیتے ہیں چندے کی دوائیں۔۔۔؟'۔

'سر اتنی بے روزگاری ھے۔ بہت سے لڑکوں کو تو میں جانتا ھوں ان کی نوکری کورونا کی وجہ سے ختم ھو گئی ھے'۔ اس نے دکھی لہجے میں کہا۔' اب گھر میں ماں باپ ھیں، بچے ھیں۔ دوائیں تو سب کو چاہئیں۔ تو لڑکے بھی اب مجبور ھو گئے ھیں اس بوتل میں سے دوا لینے کیلئے، کیا کریں۔ کئی بار تو ھم نے روتے ھوئے دیکھا ھے اس میں سےلڑکوں کو پیسے نکالتے ھوئے۔ یقین کریں ھم خود روتے ھیں'۔ مجھے اس کی آنکھوں میں نمی تیرتی نظر آنے لگی۔
'اچھا میرا کتنا بل ھے۔۔۔؟'۔
میں نے جلدی سے پوچھ لیا کہ کہیں وہ میری انکھوں کی نمی نہ دیکھ لے۔
'سات سو چالیس روپے'۔ اس نے بل اٹھا کر بتایا اور ایک ھاتھ سے اپنی آنکھیں پونچھیں۔۔۔

میں نے بھی اس کو ہزار کا نوٹ تھمایا اور جو پیسے باقی بچے، بوتل کا ڈھکن کھول کر اس میں ڈال دیے۔
'جزاک اللہ سر'۔ وہ مسکرایا اور کائونٹر سے ایک ٹافی اٹھا کر مجھے پکڑا دی۔۔۔

میں سوچتا ھوا گاڑی میں آ بیٹھا۔
غربت کی آگ ضرور بھڑک رھی ھے، مفلسی کے شعلے آسمان سے باتیں کر رھے ھیں۔
مگر آسمانوں سے ابابیلوں کے جھنڈ بھی، اپنی چونچوں میں پانی کی بوندیں لیے، قطار باندھے اتر رھے ھیں۔۔۔
خدا کے بندے اپنا کام کر رھے ھیں۔ چپ چاپ۔ گم نام۔ صلے و ستائش کی تمنا سے دور۔۔۔
اس یقین کے ساتھ کہ خدا دیکھ رھا ھے اور مسکرا رھا ھے کہ اس کے بندے اب بھی اس کے کام میں مصروف ھیں۔۔۔🤔 برائے مہر بانی آگے سینڈ کریں

Power Of 5000/=
06/08/2021

Power Of 5000/=

01/07/2021

‏نکاح سے کچھ دیر پہلے اسٹیج پر کھڑے قاضی صاحب نے باآواز بلند کہا:
‏اگر کسی کو اس شادی پر کوئی اعتراض ہے تو اب وقت ہے، ابھی بتا دے،
‏جس کو جو بھی کہنا ہے آ کر کہہ دے،

تبھی بھیڑ میں پیچھے کھڑی ایک خوبصورت لڑکی اپنی گود میں بچے کو لے کر آگے آ گئی۔

یہ دیکھتے ہی ‏اسٹیج پر کھڑی دلہن نے دلہا کو تھپڑ مارا !!!
‏دلہن کے والد بندوق لینے کو بھاگے !!
‏دلہن کی ماں بےہوش ہو گئی !!
‏ایک افراتفری مچ گئی۔۔۔

‏تب قاضی نے لڑکی سے پوچھا:
‏آپ کا مسئلہ کیا ہے؟

‏لڑکی نے جواب دیا
جی۔۔۔ وہ پیچھے ٹھیک سے سنائی نہیں دے رہا تھا، اس لئے میں آگے آئی ہوں۔

26/03/2021

شادی کہ بعد والا لطیفہ۔۔۔

باتھ روم میں گئے۔۔۔
اور نہانے کے بعد اواز لگائی.....

"ارے سنو.... ذرا تولیہ دے دینا "

بیوی : (چلاتے ہوئے )
"ہمیشہ بنا تولئے کے نہانے چلے جاتے ہو....

اب میں چائے بنائوں یا تولیہ دوں......

"بنیان بھی دھو کے نل پہ ٹانگ دیتے ہو.... وہ بھی میں اٹھائوں....

نہانے کے بعد وائیپر بھی نہیں چلاتے.....

کل لائیٹ بھی کھلی چھوڑ دی تھی تم نے.....

گیلے گیلے باہر نکلو گے تو
پورے گھر میں گیلے پیروں کے نشان بنا دو گے....

پھر اس پہ مٹی پڑے گی تو سب جگہ گندگی ہو جائے گی.....

ایک بار نوکرانی اس پہ پھسل گئی تھی.... پھر تین دنوں تک نہیں ائی تھی......
میرا کیا حال ہوا تھا کام کر کر کے"........

شوہر : (دل ہی دل میں)

" سالا...... نہا کے غلطی کردی ...
یا شادی کر کے".!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!
ہا ہا ہا ہاہا ہاہا ہا
🤣🤣🤣

20/02/2021

👈 *اپنے سکول سے نکالنے کے بعد استانی 25 سال بعد بشیرے سے ملی تو کیا ہوا؟* 👉

بشیر. بہت نالائق اور نکھٹو طبیعت کا تھا…
اس کے اسکول میں استاد اور استانیاں اس سے نالاں رہتے تھے اور ساتھی مذاق اڑاتے تھے.
ایک دن، بشیر کی اماں اسکول آئیں اور استانی جی سے اپنے پیارے بیٹے کی پڑھائی پر بات کرنا چاہی.
استانی جی تو بھری بیٹھی تھیں. بشیر کی بے وقوفی اور پڑھائی میں غیر دلچسپی کی داستانیں بغیر لگی لپٹی رکھے، اس کی اماں کو سنا ڈالیں. کہ یہ اتنا نالائق ہے کہ اگر اسکا باپ زندہ ہوتا اور بینک کا مالک بھی ہوتا تب بھی اس کو نوکری پہ نا رکھوا پاتا
بیوہ ماں پر سکتہ طاری ہو گیا. بغیر کچھ کہے، اپنے پیارے بیٹے کا ہاتھ پکڑا اور اسکول سے چلی گئی. نہ صرف اسکول، بلکہ وہ گاؤں بھی چھوڑ کر شہر چلی آئی.
وقت گزرتا گیا، گاؤں بڑھ کر قصبہ بن گیااور 25 سال گزر گئے. اسکول کی استانی جی کو دل میں شدید درد محسوس ہوا.
ہسپتال میں داخل کرایا لیکن درد بڑھتا رہا اور سب لوگوں نے، قریب بڑے شہر کے اچھے ہسپتال میں اوپن ہارٹ سرجری کا مشورہ دیا.
سب کے مشورے سے وہ شہر چلی آئیں اور سرجری کروالی. آپریشن کامیاب رہا اور انھیں کمرے میں لے جا یا گیا.
بیہوشی کی ادویات کے زیر اثر، انھوں نے آنکھ کھولی تو سامنے ایک خوبصورت نوجوان مسکراتا نظر آیا.
اسے پہچاننے کی کوشش کرتے ہوتے یکدم انکا رنگ نیلا پڑنے لگا انھوں نے انگلی سے ڈاکٹر کی طرف اشارہ کرکے کچھ کہنا چاہا لیکن شاید مصنوعی آکسیجن بند ہو چکی تھی…….
ڈاکٹر خوفزدہ اور پریشان ہو گیا اور اس نے آگے بڑھ کر انھیں سنبھالنے کی کوشش کی. لیکن استانی جی نے لمحوں میں ہی دم توڑ دیا.
ڈاکٹر کی آنکھوں میں آنسو تھے. وہ پلٹا تو دیکھا کہ ہسپتال کے سویپر ، بشیر نے، وینٹی لیٹر کا پلگ نکال کر اپنے موبائل کا چارجر لگا دیا تھا…….
اب آپ اگر یہ سمجھ رہے تھے کہ خوبصورت ڈاکٹر وہی سادہ اور بے وقوف سا لڑکا، بشیر، تھا جس کی ماں نے اس کا ہا تھ پکڑ کر روتے ہوئے گاؤں چھوڑا تھا اور شہر آکر اس کو ڈاکٹر بنوا دیا تھا، تو پلیز جاگ جائیں…..
ناولز کے اثر سے باہر آجائیں.
حقیقی
زندگی میں بشیر،
بشیر ہی رہتا ہے.
۔🤣🤣🤣🤣

20/02/2021

“ایک ڈاکٹر”
بچہ چند ماہ کا تھا کہ اسے قے کا عارضہ لاحق ہوگیا. میں اسےشہر کے سب سے بڑے چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر سمیر کے پاس لے گیا. ڈاکٹر صاحب نے معائنے کے بعد فرمایا

"اسے الٹا سلایا کیجئے، ٹھیک ہوجائے گا"

یہ کہہ کر وہ مجھے یوں دیکھنے لگے جیسے ان کی ذمہ داری پوری ہوگئی. میں نے سوالیہ نظروں سے ان کی جانب دیکھتے ہوئے کہا

"دوائی ؟"

انہوں نے خالی پرچہ میری جانب بڑھاتے ہوئے فرمایا

"کوئی دوائی نہیں، بچوں کو دوا صرف اشد ضرورت کے تحت دی جاتی ہے"

میں اور اہلیہ خالی پرچہ لئے گھر آگئے اور بچے کی قے کی شکایت الٹا سونے سے ٹھیک ہوگئی. کچھ عرصے بعد اس کے دانت نکلنے کے دن آئے تو میں ایک بار پھر اسے لے کر ڈاکٹر سمیر کی خدمت میں حاضر ہوا اور دانشوری بھگارتے ہوئے کہا

"ڈاکٹر صاحب ! یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ بچوں کے جب دانت نکلتے ہیں تو اس کے سبب ان کا پیٹ خراب ہوجاتا ہے، جس سے یہ کمزور ہوجاتے ہیں. میں چاہتا ہوں کہ آپ بچے کے لئے کوئی ایسی دوا لکھ دیجئے کہ اس کا پیٹ خراب نہ ہو اور یہ ہٹا کٹا رہے"

ڈاکٹر سمیر عینک کے اوپر سے گھورتے ہوئے میری دانشوری پر حملہ آور ہوئے

"نہیں ! میں بالکل نہیں جانتا کہ دانت نکلنے سے بچوں کا پیٹ خراب ہوتا ہے، یہ راز کب دریافت ہوا ؟"

تپ تو مجھے بہت چڑھی مگر ضبط سے کام لیتے ہوئے ان کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے گزارش کی

"میرے دونوں بڑے بچوں کے ساتھ ایسا ہوچکا ہے، اور یہ تو عام معروف بات ہے، حیرت ہے آپ نہیں جانتے !"

ڈاکٹر صاحب بولے

"یہ انپڑھ گھرانوں کا تصور ہے کہ دانت نکلنے سے پیٹ خراب ہوتا ہے. حقیقت یہ ہے کہ جب بچے کے دانت نکلتے ہیں تو اس کے مسوڑوں میں کھجلی ہوتی ہے جس کے سبب وہ بار بار ہاتھ منہ میں ڈالنے لگتا ہے. چونکہ ہاتھوں پر جراثیم ہوتے ہیں سو یہ بچے کے پیٹ میں جاکر خرابی پیدا کر دیتے ہیں. حل اس کا یہ ہے کہ بچے کے دانت نکلنے کے ایام میں مناسب وقفے کے ساتھ دن میں چار بار اس کے ہاتھ صابن سے دھوئے جائیں"

یہ کہہ کر وہ پچھلی بار کی ہی طرح یوں ہاتھ ٹیبل پر رکھ کر بیٹھ گئے جیسے انہیں مزید کچھ نہیں کرنا. عرض کیا

"دوائی کوئی نہیں ؟"

فرمایا

"کوئی نہیں"

کچھ مدت بعد بچے کا گلا اور سینہ خراب ہوگیا، میں اس بار بھی اسے ڈاکٹر سمیر کے پاس لے گیا مگر اس بار "انپڑھ گھرانوں" والی ڈوز سے بچنے کی خاطر دانشوری جھاڑنے سے مکمل گریز کرتے ہوئے بس اتنا کہا

"اس کا گلا اور سینہ خراب ہے"

"کیوں خراب ہے ؟"

"مجھے کیا پتا، میں تو انپڑھ گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں"

یہ میں نے جی ہی جی میں کہا، چونچ بند ہی رکھی. وہ معائنہ فرما کر بولے

"سری لیک بند کردیجئے، ٹھیک ہوجائے گا، سری لیک ہر بچے کو راس نہیں آتی"

"سری لیک کی جگہ کیا دیں ؟"

"دہی جو کھٹی ہرگز نہ ہو، ابلا ہوا آلو، یخنی، سبز چائے، شہد اور کھچڑی دیجئے"

"دوائی ؟"

"بچوں کو دوا صرف اشد ضرورت کے وقت دیتے ہیں اور وہ بھی ایک آدھ. وقاص کو کوئی اشد ضرورت نہیں"

میں بچے کو دس بارہ برس کی عمر تک بوقت ضرورت ڈاکٹر سمیر کو ہی دکھاتا رہا اور اس پورے عرصے میں ایک دو بار ہی انہوں نے ایک آدھ دوا لکھ کر دی. وہ سختی سے اس بات کے قائل تھے کہ بچے کو دوا نہیں دینی چاہئے. آج بھی ان کے لئے دل سے دعاء نکلتی ہے کیونکہ وہ ایسے دور میں بچوں کو ادویات سے بچانے کے قائل تھے جس دور میں ڈاکٹرز پانچ سے دس دوائیں لکھ کر مریض کو کرتے تو مزید بیمار ہیں لیکن نسخے والے پیڈ کی لوح پر "ھوالشافی" پرنٹ کرا کر ثواب دارین کی امید بھی رکھتے ہیں.

کیا آپ بھی ڈاکٹر سمیر جیسے کسی ڈاکٹر کو جانتے ہیں؟؟؟؟

No PoliticsJust 4 Fun
19/02/2021

No Politics
Just 4 Fun

04/12/2020

ایک اندھا آدمی ایک فائیو سٹار ھوٹل میں گیا۔
ھوٹل منیجر نےاس سے پوچھا:
"یہ ھمارا مینو ھے،
آپ کیا لیں گے سر؟"
اندھا آدمی:
"میں اندھا ھوں،
آپ مجھے اپنے کچن سے چمچہ کو کھانے کےاشیاء میں ڈبو كر لا دیں، میں اسےسُونگھ کر آرڈر کر دوں گا۔"

منیجر کو یہ سن کر بڑی حیرانی ھوئی۔
اُس نے دل ھی
دل میں سوچا کہ کوئی آدمی سُونگھ كر کیسے بتا سکتا ھے کہ ھم نےآج کیا بنایا ھے، کیا پکایا ھے۔
منیجر نے جتنی بار بھی اپنے الگ الگ کھانے کی اشیاء میں چمچہ ڈبو كر، اندھےآدمی کو سُنگھایا، اندھے نے صحیح بتایا کہ وہ کیا ھے اور اندھے نے سُونگھ کر ھی کھانے کا آرڈرکیا !!

ھفتہ بھر یہی چلتا رھا۔
اندھا سُونگھ كر آرڈر دیتا اورکھانا کھا کرچلا جاتا..!

ایک دن منیجر نے اندھے آدمی کا امتحان لینےکا سوچا کہ ایک اندھا آدمی سُونگھ كر کس طرح بتا سکتا ھے؟

منیجر کچن میں گیا اور اپنی بیوی شگفتہ سے بولا کہ تُم چمچے کواپنے هونٹوں سے گیلا کر دو۔
شگفتہ نے چائے کےچمچ کو اپنے ہونٹوں پر رگڑ کر، منیجر
کو دے دیا.
منیجر نے وہ چائے کا چمچہ اندھے آدمی کو لے جا کر دیا اور بولا:
"بتاؤ، آج ھم نےکیا بنایا ھے؟"
اندھے آدمی نے چمچ کو سُونگھا اور بولا:

*"اوہ مائی گاڈ..!*
*میری كلاس فیلو شگفتہ، یہاں کام کرتی ھے؟؟؟"
😂😂😂😂

30/11/2020

"نہیں مس، میں پڑھ سکتی ہوں مگر جھوٹ نہیں بول سکتی"-
وہ کلاس فور کی چھوٹی سی بچی بڑی پر عزم تھی- ٹیچر کے بار بار اصرار کے باوجود بورڈ پر لکھی عبارت پڑھنے سے انکاری تھی-
اسلامیات کی ٹیچر اسی کلاس کے دروازے سے گذر رہی تھیں- بچی نے فوراً آواز دے کر انہیں بلایا اور کہا،
"دیکھیں میڈم، مس مجھے جھوٹ بولنے پر مجبور کر رہی ہیں- آپ ہی نے کہا ہے کہ جھوٹ بولنا بری بات ہے-"
اسلامیات کی ٹیچر نے غور سے بورڈ پر لکھی عبارت کو پڑھا اور پھر میک اپ کی کئی تہوں میں چھپے مس کے موٹے موٹے چہرے کی طرف دیکھ کر ٹھنڈی سانس لی اور کلاس سے باہر نکل گئیں-
بورڈ پر لکھا تھا-
"ہماری کلاس ٹیچر خوبصورت ہیں-"

Address

Red Crescent Building Near Zohra Hospital Dabgari Gardens Peshawar
Peshawar
9

Opening Hours

Monday 09:00 - 23:00
Tuesday 09:00 - 23:00
Wednesday 09:00 - 23:00
Thursday 09:00 - 23:00
Friday 09:00 - 23:00
Saturday 09:00 - 23:00

Telephone

+923469073762

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Asad Medicose posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Asad Medicose:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram