27/01/2026
پاکستان میں فارما سیلز اینڈ مارکیٹنگ: ایک خاموش بحران
پاکستان کی فارما انڈسٹری ہمیشہ سے ملکی ہیلتھ کیئر سسٹم کی ریڑھ کی ہڈی رہی ہے۔
نئی ادویات کی معلومات، جدید علاج کے رجحانات اور ڈاکٹروں کی مسلسل اپڈیٹ — یہ سب کچھ فارما سیلز اینڈ مارکیٹنگ فورس کے ذریعے ممکن ہوتا ہے۔
مگر آج یہی فورس تاریخ کے سب سے مشکل دور سے گزر رہی ہے۔
سرکاری ہسپتالوں کے دروازے بند
ملک بھر میں سرکاری ہسپتالوں میں فارما ریپریزنٹیٹوز کا داخلہ محدود یا مکمل بند کر دیا گیا ہے۔
ڈاکٹروں تک سائنسی معلومات پہنچانے کا بنیادی ذریعہ تقریباً ختم ہوتا جا رہا ہے۔
نتیجہ؟
نئی ادویات کی آگاہی رک گئی۔
مریض جدید علاج سے محروم ہونے لگے۔
کمپنیوں کے لیے ٹارگٹس ناممکن
جب فیلڈ فورس کو کام کرنے کی اجازت نہیں ملتی
تو سیلز ٹارگٹس حاصل کرنا صرف ایک خواب بن جاتا ہے۔
کمپنیوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے،
منافع کم ہو رہا ہے،
اور بالآخر نوکریاں خطرے میں پڑ رہی ہیں۔
ہزاروں نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر
پاکستان میں ہزاروں تعلیم یافتہ نوجوان فارما فیلڈ میں روزگار سے وابستہ ہیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جو دن رات محنت کرتے ہیں،
دور دراز علاقوں تک پہنچتے ہیں،
اور ہیلتھ کیئر سسٹم کو متحرک رکھتے ہیں۔
اگر یہ نظام بیٹھ گیا
تو بیروزگاری کی ایک نئی لہر جنم لے گی۔
اصل نقصان مریض کا
یہ صرف سیلز یا کمپنیوں کا مسئلہ نہیں۔
اصل نقصان اس مریض کا ہے
جو نئی اور بہتر دوا سے فائدہ اٹھا سکتا تھا۔
جب ڈاکٹر تک نئی تحقیق نہیں پہنچے گی
تو علاج کا معیار کیسے بہتر ہوگا؟
اقتدار کے ایوانوں سے سوال
کیا فارما انڈسٹری کی بقا غیر اہم ہے؟
کیا ہزاروں گھروں کا چولہا بجھنے دیا جائے گا؟
کیا پاکستان کا ہیلتھ کیئر سسٹم مزید دباؤ برداشت کر سکتا ہے؟
اب آواز اٹھانے کا وقت ہے
فارما فیلڈ فورس ملک کی خدمت کر رہی ہے —
اسے کام کرنے دیا جائے۔
قواعد بنیں، نظم ہو —
مگر مکمل پابندی کسی مسئلے کا حل نہیں۔
اگر آج یہ خاموش بحران نظر انداز ہوا
تو کل یہ ایک بڑا طوفان بن جائے گا۔