09/11/2025
بلال خان ۹ ہجری میں غزنی میں غلزئی قبیلے میں پیدا ہوئے۔
# # **غلزئی پختون (Ghilzai Pashtuns) کی تاریخ**
# # # **تعارف**
غلزئی یا غلزائی (Ghilzai / Ghilji) پشتونوں کا ایک بڑا اور تاریخی قبیلہ ہے۔ یہ افغانستان اور پاکستان کے مختلف حصوں میں آباد ہیں۔ ان کا شمار پشتونوں کے دو بڑے گروہوں — **دُرّانی** اور **غلزئی** — میں ہوتا ہے۔
غلزئی قبائل تاریخی طور پر **جنگجو، آزاد منش، اور غیرت مند** سمجھے جاتے ہیں، جنہوں نے افغانستان کی سیاست اور تاریخ میں اہم کردار ادا کیا۔
بلال کے دو فرزند تھے، ایک کا نام موسیٰ اور دوسرے کا نام زیرک تھا۔ یہ دونوں اپنے والد کی نسل اور قبیلے کی شان و روایت کے امین سمجھے جاتے ہیں۔
موسیٰ خان، سلطان سبکتگین کے دربار کے نامور اور معزز کمانڈروں میں شمار ہوتے تھے۔ اُن کی بہادری، وفاداری اور حکمتِ عملی نے انہیں سلطانی دربار میں ایک منفرد مقام عطا کیا تھا۔ موسیٰ خان کے انتقال کے وقت اُن کے چھوٹے بھائی زیرک کی عمر محض آٹھ برس تھی۔
بھائی کی وفات کے بعد زیرک کی پرورش و تربیت خود سلطان سبکتگین کے زیرِ سایہ ہوئی، جو اُس وقت غزنی کے عظیم ترک فرمانروا تھے۔ زیرک نے نہایت کم عمری میں ہی فنِ حرب و سپہ گری کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی، اور محض دس برس کی عمر میں اُن کی غیر معمولی صلاحیتیں نمایاں ہو چکی تھیں۔
رفتہ رفتہ زیرک نے خود کو ایک بہادر اور ماہر جنگجو کے طور پر منوایا۔ چودہ برس کی عمر میں، ۹۹۴ء میں، زیرک نے سلطان محمود غزنوی کے لشکر میں شمولیت اختیار کی اور خراسان کی آزادی کے لیے لڑی جانے والی اپنی پہلی جنگ میں حصہ لیا۔
سلطان محمود غزنوی، زیرک کی جوانی میں جھلکتی ہوئی غیر معمولی جُرات اور فنِ حرب کی مہارت سے بے حد متاثر ہوئے۔ خراسان کی مہم سے واپسی پر، سلطان نے زیرک کی شجاعت، تدبیر اور وفاداری کو سراہتے ہوئے ایک عظیم اعزاز عطا فرمایا —
انہوں نے زیرک کو اُس کے مرحوم بھائی موسیٰ خان کے جنگی دستے کا کمانڈر مقرر کر دیا۔
یوں کم عمری ہی میں زیرک کو وہ مقام حاصل ہوا جو بڑے بڑے سپہ سالاروں کے نصیب میں کم آتا ہے۔ اُس کی قیادت میں لشکر نے نئی جان پائی، اور زیرک کا نام بہادری و وفاداری کی علامت بن کر غزنی کے دربار میں گونجنے لگا۔
۹۹۸ء کی عظیم معرکہ آرائی میں، زیرک نے اپنی دلیری اور غیر معمولی جنگی بصیرت سے تاریخ رقم کر دی۔ جب سلطان محمود غزنوی نے اپنے بھائی اسماعیل کے خلاف غزنی کے تخت کے لیے لشکر کشی کی، تو زیرک اُن کے ہمراہ صفِ اوّل میں موجود تھا۔
جنگ کے دوران زیرک نے بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا — اُس کی تلوار بجلی کی مانند چمکی، اور اُس کے حملوں نے دشمن کی صفوں میں ہلچل مچا دی۔ بالآخر زیرک کی قیادت اور سلطان محمود کی حکمتِ عملی کے باعث اسماعیل کو شکستِ فاش ہوئی، اور غزنی کا کنٹرول سلطان محمود کے ہاتھ میں آ گیا۔
یہی وہ دن تھا جب زیرک کا نام غزنی کی فتوحات کے ساتھ امر ہو گیا، اور وہ سلطان کے قابلِ اعتماد کمانڈروں میں صفِ اوّل پر شمار ہونے لگا۔
سلطان محمود غزنوی نے ہند کے راجہ جے پال کے خلاف فیصلہ کن جنگ کا علم بلند کیا، تو ذِرّک اپنے لشکر سمیت اس مہم میں شریک ہوا۔
میدانِ جنگ میں ذِرّک نے ایسی بے مثال دلیری، تدبیر اور فنِ حرب کا مظاہرہ کیا کہ دشمن کی صفیں لرز اٹھیں۔ روایت میں آتا ہے کہ اُس نے اپنی تیز دھار تلوار سے پچپن (55) دشمنوں کو واصلِ خاک کیا۔ اس کارنامے نے نہ صرف سلطان کے دل میں اُس کے لیے عظیم عزت پیدا کی بلکہ پورے لشکر میں اُس کی بہادری کے چرچے ہونے لگے۔
اس شجاعت، وفاداری اور ثابت قدمی کے صلے میں سلطان محمود غزنوی نے کمانڈر ذِرّک کو "زرکون "سنہری لشکر"، "درخشاں فوج" یا "بہادر و ممتاز سپاہ"۔
"کے معزز لقب سے نوازا
لفظ "زرکون" دو حصوں پر مشتمل سمجھا جاتا ہے:
"زر" یعنی سونا یا سنہری
"کون" یا "کُوں" یعنی لشکر، جماعت یا قبیلہ
اس لحاظ سے "زرکون" کا مطلب ہے:
👉 سنہری لشکر، درخشاں فوج، یا بہادر سپاہ۔
2. تاریخی معنی:
قدیم زمانوں میں بادشاہ یا سلطان ایسے خطاب اُن سپاہیوں یا سرداروں کو دیتے تھے جو بہادری، وفاداری اور شجاعت دکھاتے تھے۔
چنانچہ سلطان محمود غزنوی نے جب ذِرّک اور اُس کی فوج کو "زرکون" کا لقب دیا، تو اس سے مراد تھی:
👉 وہ لشکر جو سونے کی مانند قیمتی اور جنگ کے میدان میں چمکنے والا ہو۔
سلطان محمود غزنوی** نے اپنی فتوحات کے عروج کے زمانے میں جب **موجودہ بلوچستان** کی طرف توجہ فرمائی، تو اس مہم کی قیادت کے لیے اپنے نہایت دلیر، وفادار اور معتمد کمانڈر **غازی زیرک** کو منتخب کیا۔
سلطان نے زیرک کو یہ عظیم ذمہ داری سونپی کہ وہ اس خطّے میں **اسلام کا پیغام عام کرے** اور **بلوچستان کو سلطنتِ غزنی** کے زیرِ نگین لائے۔ غازی زیرک نے اپنے لشکر کے ہمراہ نہایت حکمت و جرات کے ساتھ پیش قدمی کی
غازی ذِرّک زرکون اور رہو سِکو کا معرکہ
تاریخ کے بیانات کے مطابق غازی کمانڈر ذِرّک زرکون کی پہلی بڑی لڑائی رہو سِکو کے ساتھ دورک کے مقام پر لڑی گئی۔ یہ معرکہ نہ صرف عسکری لحاظ سے اہم تھا بلکہ دینی و سیاسی اعتبار سے بھی ایک نیا باب ثابت ہوا۔
میدانِ جنگ میں جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو غازی ذِرّک زرکون نے غیر معمولی دلیری اور حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا۔ اُس کی قیادت میں سپاہ نے دشمن کی صفوں کو چیر ڈالا، اور رہو سِکو کی فوج پسپا ہو گئی۔
رہو سِکو نے جب غازی ذِرّک زرکون کی شجاعت، عدل، اور اخلاقِ فاضلہ کو دیکھا تو وہ نہ صرف مغلوبِ دل ہوا بلکہ اپنی پوری برادری سمیت اسلام قبول کر لیا۔
اس تاریخی فتح کے بعد غازی ذِرّک زرکون نے موجودہ مساخیل کے
علاقے ،کو اپنے زیرِ تسلط لیا اور
اس خطے کا نام اپنے بھائی “موسیٰ” کے نام پر “مسّاخیل” رکھا،
غازی ذِرّک زرکون نے اپنی حکمتِ عملی کے تحت لشکرِ زرکون کے چند سپاہیوں کو مساخیل میں مستقل تعینات کیا تاکہ علاقے کا تحفظ اور انتظام برقرار رہے۔ بعد ازاں وہ مزید فتوحات اور دینِ اسلام کی تبلیغ کے عزم کے ساتھ اپنے باقی لشکر کے ہمراہ روانہ ہوا اور مہم بڑھاتے ہوئے 👉 موجودہ برکھان اور رکنی کی طرف لشکر کشی کی۔
جب غازی ذِرّک زرکون نے موجودہ برکھان کو اپنے کنٹرول میں لے لیا تو اس نے اس خطے کو اپنی عزیزِ قومی ساتھی بارو خان زرکون کے نام سے موسوم کیا ( یہ وہی بارو خان زَرقون تھا جس کی نسل آج خود کو باروزئی کہلاتی ہے۔)
اور اسے اپنی حکمرانی کے دائرۂ اثر میں شامل کر لیا۔ اس کے بعد اس نے زرکون لشکر کی چند نفریاں برکھان میں مستقل طور پر تعینات کیں تاکہ علاقے کا تحفظ اور نظم و نسق قائم رہے۔ بقیہ لشکر کو اپنے ساتھ لیے ہوئے، غازی ذِرّک مزید مہمات کے لیے آگے بڑھنے لگیں
غازی ذِرّک زرکون نے اپنی فتوحات کو وسعت دیتے ہوئے موجودہ کوہلو کے علاقے پر حملہ کیا۔ ایک نہایت سخت اور فیصلہ کن جنگ کے بعد اس نے کوہلو کو فتح کر لیا اور وہاں اپنی دارالحکومت (مرکزی حکومت) قائم کی۔
فتح کے بعد، اس نے اس علاقے کا نام “خُلوس” kholus رکھا — جو کہ عربی الاصل لفظ “خلوص” سے ماخوذ ہے، جس کے معنی مُخلِص، پاکیزہ اور خالص ریاست کے ہیں۔
غازی ذِرّک زرکون کے نزدیک “خُلوس” ایک ایسی مثالی مملکت کی علامت تھی جہاں ایمانداری، عدل اور اسلامی اصولوں کے مطابق نظامِ حکومت قائم ہو۔
غازی زیرک زَرکون نے اپنی فتوحات کے دوران موجودہ لونی اور دُکی کے علاقے فتح کیے۔ ان میں اسلامی تعلیمات اور عدل و انصاف کا نظام رائج کیا۔ بعد ازاں غازی زیرک زرکون نے لونی کے علاقے کو اپنے عزیز و ہم قومی ساتھی شیخ لون خان زَرکون کے نام سے منسوب کیا، جس کے نتیجے میں یہ خطہ بعد میں “لونی” کے نام سے مشہور ہوا۔
لونی کو فتح کرنے کے بعد غازی زیرک زَرکون نے فوراً اپنی توجہ سیوستان (Sivistan) (sibi) کی طرف مرکوز کر دی۔ تاریخی منظر نامے میں یہ حرکت محض زمین پر قبضے کا عمل نہیں تھی بلکہ ایک حکمتِ عملی تھی جس کا مقصد تجارتی راستوں کی حفاظت، علاقائی استحکام، اور اسلامی اداروں کا قیام تھا۔
زیرک نے لونی میں انتظامی و مذہبی ڈھانچہ مستحکم کرنے کے بعد سیوستان کی طرف پیش قدمی کی، جہاں ، مقامی حکمرانوں کو تابع کیا، اور اسلامی تعلیمات و عدالتی نظام کو فروغ دیا۔ اس پیش رفت نے علاقے کو غزنوی اثر و رسوخ کے دائرے میں لاتے ہوئے طویل المدتی سیاسی و ثقافتی اتحاد کی بنیاد رکھی
غازی زیرک زَرکون نے سبّی کو شمالی حصے کے ساتھ ملا کر ایک انتظامی و فوجی مرکز بنایا
سبّی میں اسلامی عدالتیں، مساجد، اور تجارتی منڈیاں قائم کی۔
سیوستان کو فتح کرنے کے بعد غازی زیرک زَرکون نے اپنی فتوحات کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے خُسدار، مکران اور گوادر تک کے علاقے فتح کیے۔ یہ مہم اُس دور کے سیاسی و فوجی حالات کے تناظر میں نہایت اہم تھی، کیونکہ ان علاقوں کی جغرافیائی حیثیت غزنوی سلطنت کے جنوبی اور بحری محاذ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی تھی۔
غازی زیرک نے ان خطوں کو فتح کرنے کے بعد انہیں غزنوی سلطنت کے باقاعدہ تسلط میں شامل کیا اور وہاں مختلف گورنر اور منتظمین تعینات کیے تاکہ انتظامی نظام، امن و امان، اور اسلامی عدالتی ڈھانچے کو مستحکم کیا جا سکے۔ ان گورنروں کے ذریعے مقامی قبائل کو منظم کیا گیا، تجارت کو فروغ دیا گیا، اور اسلامی تعلیمات کو عام کیا گیا۔
تاریخی طور پر یہ مرحلہ غزنوی سلطنت کے بلوچستان میں سیاسی استحکام، اسلامی اثر و رسوخ، اور بحری راستوں کی حفاظت کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا، جس سے مکران تا گوادر تک کا خطہ غزنوی نظم و نسق اور تہذیبی ترقی کا حصہ بن گیا۔