28/12/2025
پاکستان میں بطور ڈاکٹر ہمیں اکثر نظام سے زیادہ لوگوں کے رویّوں سے لڑنا پڑتا ہے۔ یہ بات کہنا تلخ ضرور ہے، مگر ضروری ہے۔ ہم دن رات مریض دیکھتے ہیں، مگر بیماری کے ساتھ ساتھ بے صبری، بداعتمادی اور غیر ذمہ دار رویّے بھی علاج کا حصہ بن چکے ہیں۔
ہر مریض فوری علاج چاہتا ہے، مگر ہدایات پر عمل کم ہی کرتا ہے۔ دوائی وقت پر نہ لی جائے، فالو اپ نہ کیا جائے، پرہیز کو مذاق سمجھا جائے، اور پھر جب حالت بگڑے تو سارا غصہ ڈاکٹر یا ہسپتال پر نکال دیا جاتا ہے۔ ہم بیماری کا علاج کر سکتے ہیں، رویّوں کا نہیں۔
غیر ضروری انجیکشن، اینٹی بایوٹک اور ڈرِپ کا مطالبہ عام ہو چکا ہے۔ اگر ڈاکٹر انکار کرے تو کہا جاتا ہے کہ “یہ کچھ نہیں کر رہا”۔ بخار وائرل ہو یا بیکٹیریل، مریض کو فرق نہیں، بس دو دن میں ٹھیک ہونا چاہیے۔ یہی رویّہ اینٹی بایوٹک ریزسٹنس جیسے سنگین مسئلے کو جنم دے رہا ہے، جس کا نقصان آخرکار مریض کو ہی ہوتا ہے۔
ویکسین کے معاملے میں بھی یہی صورتحال ہے۔ ویکسین پر شک کیا جاتا ہے، افواہوں پر یقین کیا جاتا ہے، مگر جب بیماری پھیلتی ہے تو الزام نظام پر آتا ہے۔ ہیلتھ ورکر کو گاؤں میں داخل نہیں ہونے دیا جاتا، پھر بچوں کی بیماری پر ہنگامہ ہوتا ہے۔
سرکاری ہسپتالوں میں رویّہ اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر کم، مریض زیادہ، سہولیات محدود، مگر توقعات لا محدود۔ قطار توڑنا، شور شرابا، بدتمیزی، حتیٰ کہ تشدد تک کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ ایک ڈاکٹر ایک وقت میں کتنے مریض دیکھ سکتا ہے۔
ہم بطور معاشرہ احترام مانگتے بہت ہیں، دیتے کم ہیں۔ ڈاکٹر سے مکمل توجہ، ایمانداری اور قربانی کی توقع رکھی جاتی ہے، مگر اس کی عزت، تحفظ اور ذہنی صحت پر کوئی بات نہیں کرتا۔ اچھا نتیجہ آئے تو قسمت، برا ہو جائے تو ڈاکٹر قصوروار۔
یہ بات بطور ڈاکٹر نہیں، بطور شہری کہنی پڑتی ہے: صحت کا نظام صرف ڈاکٹر سے نہیں چلتا۔ مریض، خاندان اور معاشرہ بھی اس کا حصہ ہیں۔ جب تک ہم اپنی ذمہ داری قبول نہیں کریں گے، کوئی بھی نظام ہمیں مطمئن نہیں کر سکتا۔
ہمیں سوال پوچھنے کے ساتھ ساتھ خود کو بھی دیکھنا ہوگا۔
ہم ڈاکٹر سے کیا چاہتے ہیں، اور ہم خود کیا کر رہے ہیں؟
صحت کی بہتری صرف ہسپتالوں سے نہیں آئے گی۔
یہ رویّوں کی اصلاح سے شروع ہوگی۔