10/01/2026
کوئٹہ | 10 جنوری 2026
سیکرٹری صحت بلوچستان کا بولان میڈیکل کمپلیکس کا اہم دورہ، نئے وارڈز اور جدید لیبر روم سمیت ترقیاتی منصوبوں پر جلد کام شروع ہوگا
کوئٹہ:
سیکرٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمن پانیزئی نے بولان میڈیکل کمپلیکس (بی ایم سی) اسپتال کا تفصیلی اور اہم دورہ کیا۔ دورے کا مقصد اسپتال میں جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں، نئے وارڈز کی تعمیر، موجودہ خستہ حال عمارتوں کی بحالی اور جدید طبی نظام کے آغاز کا جائزہ لینا تھا تاکہ عوام کو بہتر، معیاری اور محفوظ طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
دورے کے دوران میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) ڈاکٹر آصف انور شاہوانی نے سیکرٹری صحت کو اسپتال میں دستیاب سہولیات، مریضوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ، وارڈز کی کمی، چھوٹے اور خستہ حال وارڈز، جدید سسٹمز کی ضرورت اور آئندہ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔
سیکرٹری صحت نے گائنی ڈیپارٹمنٹ اور لیبر روم کا خصوصی دورہ کیا جہاں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ خواتین مریضوں کو مزید بہتر، محفوظ اور جدید سہولیات فراہم کرنے کے لیے جدید طرز کا نیا لیبر روم تعمیر کیا جائے، جس پر جلد عملی کام شروع کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ سیکرٹری صحت نے اسپتال کی جدید 24/7 فارمیسیز کا بھی دورہ کیا اور ادویات کی دستیابی اور سہولت کے معیار پر اطمینان کا اظہار کیا۔
دورے کے دوران ایمرجنسی، او پی ڈی، مختلف میڈیکل وارڈز، لیبارٹری اور دیگر شعبہ جات کا بھی معائنہ کیا گیا۔ سیکرٹری صحت نے زیر علاج مریضوں سے ملاقات کر کے علاج معالجے اور فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں براہِ راست معلومات حاصل کیں۔
سی ٹی اسکین سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جھوٹی خبر کی تردید
اس موقع پر سیکرٹری صحت نے سی ٹی اسکین سیکشن کا بھی خود دورہ کیا اور وہاں موجود عملے سے تفصیلی معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس جھوٹی اور من گھڑت خبر کی سختی سے تردید کی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سی ٹی اسکین مشین میں کوئی شخص پھنس گیا تھا۔
انہوں نے واضح کیا کہ تکنیکی طور پر سی ٹی اسکین مشین میں کسی شخص کا پھنس جانا ممکن ہی نہیں۔ درحقیقت بجلی کے نظام میں اچانک تکنیکی خرابی کے باعث احتیاطی تدبیر کے طور پر سی ٹی اسکین مشین کی سروسز تقریباً ایک گھنٹے کے لیے معطل کی گئی تھیں۔ انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تمام تکنیکی خرابیوں کو دور کیا اور سی ٹی اسکین کا مکمل سسٹم دوبارہ بحال کر دیا گیا۔
سیکرٹری صحت نے ہدایت کی کہ آئندہ اس قسم کی افواہوں اور غلط معلومات کا بروقت اور مؤثر انداز میں تدارک کیا جائے تاکہ عوام میں بے جا تشویش نہ پھیلے۔
اس موقع پر بولان میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر راز محمد کاکڑ، ڈپٹی ایم ایس ڈاکٹر سراج احمد، ڈاکٹر پارس مینگل، ڈاکٹر عمران لاشاری، ڈاکٹر نادر بلوچ، ڈاکٹر وسیم سمیت دیگر ڈاکٹرز اور انتظامی افسران بھی موجود تھے۔
سیکرٹری صحت مجیب الرحمن پانیزئی نے کہا کہ بولان میڈیکل کمپلیکس صوبے کا ایک انتہائی اہم اور مرکزی اسپتال ہے جہاں مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے جدید طبی سہولیات، کشادہ وارڈز اور مضبوط انفراسٹرکچر وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام ترقیاتی منصوبوں پر جلد عملی پیش رفت کی جائے گی۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے اور سرکاری اسپتالوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا تاکہ عوام کو معیاری علاج معالجے کی سہولیات میسر آ سکیں۔