Clinical psychologist Iram Shahzadii

Clinical psychologist Iram Shahzadii To help people.

08/11/2025
06/11/2025

Psychologist can better diagnose your mental health

These simple anchors can help ground you when you are feeling overwhelmed.
01/11/2025

These simple anchors can help ground you when you are feeling overwhelmed.

20/07/2025

"میرا کچھ کرنے کو دل نہیں کرتا"

اکثر لوگوں کی زبان پر یہ جملہ آتا ہے:
"میرا دل کچھ کرنے کو نہیں چاہ رہا، نہ پڑھنے کو، نہ کام کرنے کو، نہ زندگی جینے کو"

یہ محض سستی یا کاہلی کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ اس جملے کے پیچھے اکثر ایک گہرا نفسیاتی پس منظر چھپا ہوتا ہے، جسے سمجھنا اور محسوس کرنا بہت ضروری ہے۔

-> اس کی نفسیاتی وجوہات کیا ہیں؟

1- ذہنی تھکن اور جذباتی دباؤ:

جسمانی تھکن تو انسان پہچان لیتا ہے، لیکن جب ذہن تھک جائے، تو انسان کو اپنے جذبات، فیصلے، اور زندگی سب بوجھ لگنے لگتے ہیں۔ دماغی تھکن کا تعلق اکثر ذہنی دباؤ، جذباتی بوجھ، دن رات دماغ میں چلنے والی اور کبھی نہ ختم ہونے والی سوچوں اور زندگی کے دباؤ والے حالات سے ہوتا ہے۔

2- ڈپریشن یا اینہڈونیا (Anhedonia):

تحقیقات کے مطابق، جب انسان کسی ایسی کیفیت میں مبتلا ہو جس میں اسے کسی چیز میں خوشی یا دلچسپی محسوس نہ ہو، تو اسے "اینہڈونیا" کہا جاتا ہے۔ یہ ڈپریشن کی ایک ایسی قسم ہے جس میں انسان کو وہ کام بھی بوجھ لگنے لگتے ہیں جو پہلے خوشی دیتے تھے۔

3- شدید خود تنقیدی مزاج:

کچھ لوگ ہر وقت اپنے آپ کو کمتر سمجھتے ہیں، ان کے ذہن میں مسلسل "میں ناکام ہوں"، "میں کچھ نہیں کر سکتا" جیسے جملے گونجتے ہیں۔ ایسے خیالات انسان کے عمل کی قوت کو دیمک کی طرح چاٹ لیتے ہیں۔

4- بے مقصد زندگی :

جب انسان کی زندگی میں کوئی واضح مقصد نہ ہو یا وہ اپنے مقصد کو جانتے ہوئے بھی اس پر کام نہ کرے، تو اس کا ذہن بھٹکنے لگتا ہے۔ وہ کچھ شروع کرنے کا حوصلہ نہیں کر پاتا کیونکہ اسے سمجھ ہی نہیں آتا کہ کرنا کیا، کب اور کیسے کرنا ہے۔

5- نیند، خوراک اور ہارمون :

سائنس بتاتی ہے کہ نیند کی کمی، ناقص غذا، یا ہارمونی تبدیلیاں (خصوصاً خواتین میں) مزاج، توانائی اور خواہشات پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ یہ سب کچھ دل نہ لگنے کی بڑی وجوہات ہو سکتی ہیں۔

-> اس کا حل کیا ہے؟

1- مثبت خود کلامی :

اپنے آپ سے نرمی سے بات کریں۔ یہ سوچیں کہ اگر کوئی دوست آپ سے یہی کہتا کہ "میرا دل کچھ کرنے کو نہیں کر رہا"، تو آپ اس سے جس طرح سمجھاتے جس طرح اپ دوسروں کو پیار سے سمجھاتے ہیں بچوں سے پیار سے بات کرتے ہیں ایسے ہی خود سے پیار سے بات کرنا شروع کریں۔ اپنی کمزوریوں کو قبول کریں اور ان پر کام کرنے کی کوشش کریں نہ کہ خود کو ناپسند کرنا شروع کر دیں۔

2- چھوٹے کاموں سے شروعات کریں:

بڑے کاموں کی فکر چھوڑیں، صرف ایک چھوٹا سا کام کریں۔ جیسے بستر درست کرنا، یا صرف پانچ منٹ کا واک کرنا۔ اس طرح دماغ "کچھ نہ کرنے" کے دائرے سے "کچھ کرنے" کی طرف حرکت کرنے لگے گا۔

3-اپنے جذبات لکھیں:

جو محسوس ہو رہا ہے، اسے لکھیں۔ یہ ایک قسم کا جذباتی ڈیٹاکس ہے۔ یہ عمل انسان کے ذہن کو بوجھ سے آزاد کرتا ہے اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بحال کرتا ہے۔

4- روزمرہ کی روٹین ترتیب دیں:

اگر دن کا کوئی شیڈول نہیں ہے، تو دن بےمعنی لگنے لگتا ہے۔ خود کو ایک ہلکی پھلکی روٹین میں ڈھالیں، چاہے وہ چند گھنٹوں کے لیے ہی کیوں نہ ہو۔

5- ماہرِ نفسیات سے مشورہ:

اگر یہ کیفیت مسلسل رہے، تو یہ محض وقتی نہیں بلکہ کسی ذہنی بیماری کا اشارہ ہو سکتی ہے۔ ماہرِ نفسیات سے رابطہ کریں، کیونکہ نفسیاتی وہ شخص ہے جو ایسے حالات میں اپ برتنقید نہیں کرتا بلکہ اپ کو سمجھتا ہے اور اپ کو اپ کے مسائل کی وجوہات سے اگاہ کر کے ان کے حل کی طرف لے کے جاتا ہے۔

آپ اکیلے نہیں ہیں۔ لاکھوں لوگوں کو اس کیفیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر اسے پہچانا جائے اور وقت پر اس کا حل نکالا جائےتو مسلسل ذہنی مسائل مسائل سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔ خود کو وقت دیں، اپنے اندر کے شور کو سنیں، اور تھوڑا تھوڑا کر کے خود کو زندگی کی طرف لوٹنے کا موق

07/07/2025

🧠 ذہنی صحت پر پیسہ خرچ کرنا،
فضول خرچی نہیں — شعور کی علامت ہے!

ہم لباس، کھانے، گھروں، اور تقریبات پر ہزاروں روپے خرچ کر دیتے ہیں۔ لیکن جب بات آتی ہے ذہنی سکون، نفسیاتی مسائل، یا جذباتی زخموں کی، تو اکثر ہم رک جاتے ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں؟

💡 کسی ماہرِ نفسیات کے ساتھ ایک سیشن آپ کی برسوں کی الجھنوں کو سلجھا سکتا ہے۔
💡 آپ کے بچوں کی شخصیت بہتر ہو سکتی ہے، آپ ان کے جذبات کو سمجھنے میں مدد لے سکتے ہیں۔
💡 ایک صحت مند دماغ ہی ایک پُرسکون زندگی کی بنیاد ہے۔

تو سوال یہ نہیں کہ "کیا پیسہ خرچ کرنا چاہیے؟"
اصل سوال یہ ہے: "کیا ہم اپنی ذہنی صحت کو وہ اہمیت دے رہے ہیں جس کی وہ حق دار ہے؟"

🌱 اپنے آپ پر سرمایہ کاری (Invesment) کریں۔
🌸 کسی ماہرِ نفسیات سے رجوع کرنا کمزوری نہیں ہے بلکہ یہ بہادری ھے۔

پاکستان میں ذہنی صحت پر بات کرنا اور ماہر نفسیات سے رجوع کرنا ایک "غیر ضروری عمل" سمجھا جاتا ہے، حالانکہ یہ ایک بنیادی انسانی ضرورت ہے۔

پاکستان میں لوگ ذہنی صحت پر پیسہ کیوں نہیں خرچ کرتے؟"

ہم اپنے جسم کے درد کے لیے دوائیں لے لیتے ہیں،
ہماری آنکھوں میں جلن ہو تو فوراً ڈاکٹر کو دکھاتے ہیں،
مگر دل کا درد، دماغ کی الجھن، اور نیند کی بربادی !!!!

اِن سب کو یا تو ہم چھپا لیتے ہیں، یا برداشت کرتے جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ! ہم ٹوٹنے لگتے ہیں۔

کیوں؟

کیوں پاکستان میں آج بھی لوگ سمجھتے ہیں کہ
"یہ سب تو وہم ہے..."
"نماز پڑھو، سب ٹھیک ہو جائے گا..."
"پاگل تھوڑی ہیں جو سائیکولوجسٹ کے پاس جائیں؟"

🔸 کوئی پوچھے! کیا نماز شوگر کم کرتی ہے؟
🔸 کیا وضو سے ہڈی جڑ جاتی ہے؟
نہیں نا؟

تو پھر ذہنی بیماری کا علاج بھی ماہرِ نفسیات کے پاس ہی ممکن ہے۔

ہم لوگ ذہنی صحت پر پیسہ کیوں نہیں خرچ کرتے؟

کیونکہ ہمیں سکھایا ہی نہیں گیا کہ دماغ بھی بیمار ہو سکتا ہے۔
ہم نے بچپن سے یہی دیکھا کہ جو روتا ہے، وہ کمزور ہے۔
جو خاموش ہو جائے، وہ گستاخ ہے۔
جو پریشان ہو، وہ ناشکرا ہے۔

جب کوئی نوجوان کہتا ہے کہ:
"مجھے کسی سے بات کرنی ہے۔"
تو جواب ملتا ہے:
"یہ سب ڈرامے ہیں، مصروف ہو جاؤ!"

ماہرِ نفسیات کے بارے میں چند غلط فہمیاں

🔹 ماہرِ نفسیات صرف پاگلوں کا علاج نہیں کرتا۔
🔹 وہ ایک رہنما ہوتا ہے، جو آپ کے ذہن کے الجھے دھاگے کھولتا ہے۔
🔹 وہ، وہ باتیں سنتا ہے جو آپ نے کبھی خود سے بھی نہیں کی ہوتیں۔
🔹 وہ آپ کو دوا نہیں دیتا، وہ آپ کو سمجھنے کی طاقت دیتا ہے۔

ایک ماہرِ نفسیات ہونے کے ناطے
میں روز اپنے کلائنٹس کے زخم سنتی ہوں۔ کچھ بچپن کے دکھ، کچھ ناکامیوں کے بوجھ، کچھ ماں باپ کی بے حسی، کچھ رشتوں کی توہین۔

ہر سیشن کے بعد ایک شخص خود کو تھوڑا بہتر محسوس کرتا ہے،
تھوڑا سا وزن دل سے اترتا ہے۔

یقین کریں، یہ کام آسان نہیں۔
ہم صرف باتیں نہیں سنتے — ہم درد جذب کرتے ہیں۔
ہم صرف راہ نہیں دکھاتے — ہم امید بناتے ہیں۔
اور یہ سب اُس وقت تک ممکن نہیں ہوتا،
جب تک آپ خود فیصلہ نہ کریں کہ
"اب اور نہیں... مجھے مدد لینی ہے۔"

آپ کا دماغ آپ کی زندگی کا کمانڈر ہے۔

اس پر سرمایہ لگائیں
کیونکہ سکون — شاپنگ سے نہیں، سمجھنے سے آتا ہے۔

29/06/2025

" مجھےاپنے ذہنی مسائل کے بارے میں بات کرنا اتنا مشکل کیوں لگتا ہے؟"

ہم روزانہ لوگوں سے سلام دعا کرتے ہیں، ہنستے ہیں، دوسروں کے ساتھ گھلتے ملتے ہیں، لیکن دل کے کسی کونے میں ایک گہرا دکھ، ایک ان کہی پریشانی، ایک خاموش چیخ چھپی ہوتی ہے — اور ہم اسے کسی سے نہیں کہتے۔ سوال یہ ہے کہ کیوں؟

خاموشی کا بوجھ

ذہنی صحت کا مسئلہ کوئی فیشن یا عارضی کیفیت نہیں — یہ ایک حقیقت ہے۔ لیکن اکثر لوگ اسے ماننے سے گھبراتے ہیں۔ کیونکہ جیسے ہی آپ کہیں "مجھے ڈپریشن ہے" یا "میں اندر سے ٹوٹا ہوا ہوں" تو معاشرہ فوراً جج کرنے لگتا ہے:
"اتنے مسئلے کیوں ہیں؟ صبر کرو۔ دعا کرو۔ مصروف رہو۔"

یہ جملے نیت سے تو شاید اچھے ہوتے ہیں، مگر اثر میں زہر بن جاتے ہیں۔ کیونکہ وہ سننے والے کی تکلیف کو سنجیدہ نہیں لیتے۔

خوف کی دیوار

"لوگ کیا کہیں گے؟"

"کہیں پاگل نہ سمجھا جاؤں۔"

"اگر میں نے اپنی کمزوری دکھا دی تو کیا وہ میرا فائدہ اٹھائیں گے؟"

یہ خوف ذہن میں دیواریں کھڑی کر دیتا ہے۔ ہم سوچتے ہیں، بولنے سے بہتر ہے چپ رہنا۔ لیکن یہی خاموشی اندر ہی اندر ہمیں کھا جاتی ہے۔

جذبات کو لفظوں میں ڈھالنا آسان نہیں

کبھی کبھی انسان بس اتنا ٹوٹ جاتا ہے کہ اُسے خود بھی نہیں پتا ہوتا وہ کیسا محسوس کر رہا ہے۔ دل بھرا ہوتا ہے، آنکھیں نم، نیند غائب، دل کی دھڑکن بے ترتیب، لیکن زبان پر صرف ایک جملہ آتا ہے:
"میں ٹھیک ہوں۔"

یہ جملہ اکثر سب سے بڑی جھوٹ بن جاتا ہے۔

بات کرنا — ذہنی صحت کی پہلی سیڑھی

یاد رکھیں، اپنے ذہنی مسائل کا اظہار کمزوری نہیں بلکہ ہمت ہے۔ یہ وہ پہلا قدم ہے جو آپ کو اندھیرے سے روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔

اگر آپ بات نہیں کر سکتے، لکھیں۔

اگر آپ کسی انسان سے نہیں کہہ سکتے، خود سے کہیے۔

اور اگر آپ کو سننے والا کوئی نہیں، تو جان لیں: آپ اکیلے نہیں ہیں۔ دنیا میں ہزاروں لوگ آپ جیسے درد سے گزر رہے ہیں — اور وہ ٹھیک بھی ہو پا رہے ہیں۔ آپ بھی ہو سکتے ہیں۔

کچھ سچ جو یاد رکھنا ضروری ہے:

✅ جذباتی درد بھی جسمانی درد جتنا حقیقی ہوتا ہے۔

✅ کسی سے بات کرنا کمزور بننے کی نشانی نہیں، یہ بہادری ہے۔

✅ آپ کی کہانی اہم ہے، آپ کے آنسو معنی رکھتے ہیں، اور آپ کا درد سنا جانا چاہیے۔

آخر میں میں یہ کہنا چاہوں گی کہ…

اگر آپ خود یا آپ کا کوئی جاننے والا کسی ذہنی یا جذباتی الجھن سے گزر رہا ہے، تو ہاتھ تھامیں، نظر ملائیں، اور صرف اتنا کہیں:

"میں تمہارے ساتھ ہوں۔ تم اکیلے نہیں ہو۔"

کیونکہ کئی بار صرف اتنا جان لینا ہی کافی ہوتا ہے کہ کوئی ہے جو سُننے کو تیار ہے۔

اگر یہ تحریر آپ کے دل کو چھو گئی ہو، تو اسے ضرور شیئر کریں۔ ہو سکتا ہے یہ کسی کو بولنے کا حوصلہ دے دے۔

24/05/2025

زندگی کا علاج صرف دوا نہیں... عادت بھی ہے!

بہت سی بیماریاں ہماری روزمرہ کی بری عادات کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ اگر ہم صرف اپنی طرزِ زندگی بہتر کرلیں تو دوا کی نوبت ہی نہ آئے۔

22/05/2025

اوور تھینکینگ سے بچنے کے طریقے

گہری سانس لیں

مستقبل اور ماضی کو چھوڑ کر حال میں رہنا سیکھیں

اپنے آ پ کو پروٹیکٹیو کاموں میں مشغول کرنا سیکھیں

جان لیں کے آ پ ہر چیز کو کنٹرول نہیں کر سکتے

ایک ہی بات کو بار بارمت سوچیں

ذہن میں آ نے والی سوچوں کولکھیں

خود سے سوال کریں کہ جس بارے میں آ پ پریشان ہو رہے ہیں کیا اس کو بدل سکتے ہیں

13/04/2025

آج کا مشورہ:

اگر دماغ ہر وقت منفی سوچوں سے بھرا رہے تو جسم بھی

تھکنے لگتا ہے. اپنے خیالات کا جائزہ لینا سیکھیں. جو خیال

آپ کو کمزور کرے، اُسے بدلنا سیکھیں. کیونکہ ذہنی صفائی،

جسمانی توانائی جتنی ہی ضروری ہے.

If you face that problem then contact me
13/04/2025

If you face that problem then contact me

Address

Azmat Rasheed Hospital
Rawalpindi

Telephone

+923335086321

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Clinical psychologist Iram Shahzadii posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category