Psychologist - Advanced Rehabilitation Services

Psychologist - Advanced Rehabilitation Services Provides Psychotherapy for anxiety, depression, anger, bipolar, relationship issues, addiction treatment, Eating disorder, sleep issues...

آٹزم: جدید تحقیق اور بدلتا ہوا تناظر (2025 Update)آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر (ASD) محض ایک بیماری نہیں بلکہ دماغی نشوونما کا ا...
22/12/2025

آٹزم: جدید تحقیق اور بدلتا ہوا تناظر (2025 Update)

آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر (ASD) محض ایک بیماری نہیں بلکہ دماغی نشوونما کا ایک مختلف انداز ہے جسے سائنس کی دنیا میں "نیورو ڈائیورسٹی" کہا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں، خاص طور پر 2024 اور 2025 کی تحقیقات نے آٹزم کے بارے میں ہمارے پرانے تصورات کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔

​1. جینیاتی پیش رفت (Genetic Breakthroughs)

​جدید ترین ریسرچ (جیسے یونیورسٹی آف ابرڈین کی 2025 کی رپورٹ) کے مطابق، سائنسدانوں نے دماغ کے اندر ایک خاص نظام "Extracellular Matrix" کی نشاندہی کی ہے۔ یہ نظام حمل کے دوران دماغی خلیات کو راستہ دکھاتا ہے۔ ان جینز میں تبدیلی آٹزم کی ایک بڑی وجہ بن سکتی ہے۔ اب تک 2500 سے زائد ایسے جینز دریافت ہو چکے ہیں جو آٹزم سے کسی نہ کسی طرح جڑے ہوئے ہیں۔

​2. تشخیصی طریقوں میں جدت (Early Screening)

​پہلے آٹزم کی تشخیص میں کئی سال لگ جاتے تھے، لیکن اب AI (مصنوعی ذہانت) اور ٹیبلٹ بیسڈ سکریننگ کے ذریعے محض 18 سے 24 ماہ کی عمر میں علامات کو پہچانا جا سکتا ہے۔ جدید تحقیقات بتاتی ہیں کہ بچوں کا مخصوص بصری پیٹرن (جیسے ہندسی اشکال کو زیادہ غور سے دیکھنا) آٹزم کی ابتدائی علامت ہو سکتی ہے۔

​3. گٹ اور برین کا تعلق (Gut-Brain Axis)

​2025 کی نئی طبی رپورٹس کے مطابق، آٹزم کا تعلق صرف دماغ سے نہیں بلکہ نظامِ ہضم (Gut Health) سے بھی ہے۔ معدے میں موجود مخصوص بیکٹیریا دماغی کیمسٹری پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی لیے اب آٹزم کے انتظام (Management) میں متوازن غذا اور نظامِ ہضم کی بہتری کو کلیدی اہمیت دی جا رہی ہے۔

​4. علاج نہیں، "سپورٹ" پر توجہ

​جدید ریسرچ اب آٹزم کو "ٹھیک" کرنے کے بجائے آٹسٹک افراد کو معاشرے کا فعال حصہ بنانے پر زور دیتی ہے۔

خلاصہ

​آٹزم کے شکار بچے غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک ہو سکتے ہیں۔ والدین اور معاشرے کے لیے اہم پیغام یہ ہے کہ "ابتدائی تشخیص اور درست رہنمائی" ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے ان بچوں کو ایک بھرپور اور آزاد زندگی کی طرف لے جایا جا سکتا ہے۔



Advance Speech Therapy Services Pakistan 🇵🇰

22/12/2025

Celebrating my 6th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

سکرین ٹائم کے برے اثراتمیں والدین کو اکثر ہی سمجھاتی ہوں کہ بچوں کو موبائل اور ٹی وی سے دور رکھیں۔سکرین کا استعمال کسی ب...
22/12/2025

سکرین ٹائم کے برے اثرات

میں والدین کو اکثر ہی سمجھاتی ہوں کہ بچوں کو موبائل اور ٹی وی سے دور رکھیں۔سکرین کا استعمال کسی بھی صورت میں بچے کے لئے فائدہ مند نہیں ہے۔

میں آج ایک ذاتی تجربہ شئیر کرتی ہوں۔

میں جب اپنے عزیزوں کے گھر جاتی ہوں تو وہاں بچے ٹی وی پر کارٹون دیکھ رہے ہوتے ہیں۔میں نہ چاہتے ہوئے بھی دیکھ لیتی ہوں یا کبھی کبھی کوئی نظم کان میں پڑ جاتی ہے۔

میں جب بھی وہ نظمیں سنتی ہوں، اس کے تین چار گھنٹے تک میرا دماغ اس قابل نہیں رہتا کہ میں کوئی آرٹیکل لکھوں یا کوئی تخلیقی کام کروں۔

نظمیں سننے کا میرے دماغ پر بھی برا اثر ہوتا ہے جبکہ میں بہت کم مجبوراً سن لیتی ہوں۔

رشتے داروں کے گھروں میں بھی میری کوشش ہوتی ہے کہ میں اپنے فون پر کچھ کام کر لوں، لیکن میں ایسا نہیں کر پاتی کیونکہ نان سٹاپ وہاں پر بھی ٹی وی چل رہا ہوتا ہے جو میری توجہ کام سے ہٹا دیتا ہے۔

اگر سکرین میرے دماغ پر اتنے برے اثرات ڈال رہی ہے تو ننھے بچوں کے دماغوں کا یہ کیا حال کرتی ہو گی۔۔۔؟؟؟

والدین اس بارے میں ضرور سوچیں۔۔۔۔!!!

  ،  کچھ بچے غیر ضروری جبر، مارپیٹ یا ڈرانے دھمکانے کے سبب خوف کا شکار ہوجاتے ہیں اور انھیں مختلف قسم کی چیزوں سے بلاوجہ...
24/05/2025

،

کچھ بچے غیر ضروری جبر، مارپیٹ یا ڈرانے دھمکانے کے سبب خوف کا شکار ہوجاتے ہیں اور انھیں مختلف قسم کی چیزوں سے بلاوجہ خوف آنے لگتا ہے۔ جیسے جانور، کیڑے مکوڑے، ناواقف لوگ، بادل کی گرج، اندھیرا یاہوائی جہاز کی آواز وغیرہ۔ کچھ بچوں میں یہ نفسیاتی عارضے اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ وہ بالکل بزدل ہوجاتے ہیں۔ حتیٰ کہ انھیں نیند میں بھی خوف آنے لگتا ہے اور ڈراؤنے خواب ان کی نیند میں مسلسل مداخلت کرتے رہتے ہیں۔اسکول سے ڈر اور خوف بھی اس کی ایک قسم ہے۔ بچہ اسکول جانے سے گھبراتا ہے۔ اسے اپنے اساتذہ اور اسکول کے دوسرے بچوں سے خوف محسوس ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں اسے حوصلہ افزائی، پیار و محبت، انعام و اکرام دے کر اسکول میں کچھ وقت گزارنے کے لیے رضا مند کیا جائے۔

ڈراؤنے خواب دیکھنے والے بچوں کو نیند کم آتی ہے۔ وہ بار بار جاگ جاتے ہیں یا سوتے میں بڑبڑاتے رہتے ہیں۔ نیند سے بیدار ہوکر رونے لگتے ہیں۔ بستر پر اِدھر اُدھر جگہ بدلتے ہیں۔ ان کی نیند پرسکون نہیں ہوتی، بلکہ وہ کروٹیں بدلتے رہتے ہیں اور بے آرام دکھائی دیتے ہیں۔ زیادہ تر اچانک صدمہ، ڈر و خوف پر مبنی واقعات پیش آنے یا نیند سے قبل ڈراؤنی کہانیاں سننے، بار بار حوصلہ شکنی، والدین سے جدائی یا مارپیٹ وغیرہ کے سبب بچہ رات کو سوتے میں ڈرتا ہے۔ ایسے بچے کو حوصلہ دینے اور یقین دہانی کروانے کے علاوہ اسے اپنی ذات پر اعتماد بحال کرنے میں مدد دینا چاہیے۔ اگر ماں بچے کو اپنے ساتھ سلائے تو بہتر ہے۔ اس کے ذہن سے ڈر اور خوف کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔

#حسد

دوسرے بہن بھائیوں اور خاندان میں موجود بچوں سے حسد کا پیدا ہونا ایک عام نفسیاتی مسئلہ ہے۔ خصوصاً بڑے بچے اس کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ ایسے حالات میں احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے بچوں کے ساتھ پیار و محبت اور توجہ میں اضافہ کریں۔ دوسرے لوگوں کے سامنے سزا دینے سے گریز کریں۔ انھیں ان کی اہمیت کا احساس دلائیں اور ان کے حسد کے جذبے کو مسابقت و مقابلے کی صحت مند فضا میں بدلنے کی کوشش کریں۔

ِ_عدم_تحفظ

ذہنی صدموں، والدین کی جانب سے عدم توجہ، بچوں کے ساتھ سلوک میں تفریق، بار بار غصہ یا تنقید کرنے کے سبب بچوں میں احساس کمتری اور احساسِ عدم تحفظ جنم لیتا ہے، ان کا اپنی ذات پر اعتماد ہی ختم ہوجاتا ہے۔ جس کا اظہار وہ مختلف صورتوں میں کرتے ہیں۔

بچے کی #زبان میں #لکنت آسکتی ہے، وہ دوسروں سے الگ تھلک رہنے کو ترجیح دیتا ہے اور اجنبی لوگوں کا سامنا کرنے سے گھبراتا ہے، کسی نئے کام میں ہاتھ ڈالنے سے اجتناب کرتا ہے۔ اس کی یادداشت کمزور ہوجاتی ہے۔ والدین سمجھ داری سے اپنے رویے پر نظرثانی کریں۔ بچوں کے ساتھ مساوی سلوک روا رکھیں اور انھیں انفرادی توجہ دیتے رہیں۔ ان کی جائز خواہشات کو پورا کریں، ان میں خود اعتمادی کو ابھاریں اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں۔

#غصہ

کچھ بچوں میں سماجی یا جذباتی محرومیوں کا ردّعمل غصے کی شکل میں اُجاگر ہوتا ہے اور وہ معمولی معمولی بات پر شدید غصے کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ دوسرے بچوں کو مارتے ہیں۔ برتن توڑتے ہیں یا کھانا کھانے سے انکار کردیتے ہیں۔ چیزوں کو الٹ پلٹ کرتے ہیں یا کتابوں کو پھاڑ دیتے ہیں۔ اس کے جواب میں والدین کو سختی نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان سے پیار و محبت سے پیش آئیں، اور ان کی محرمیوں کو کم کرکے راہِ راست پر لانے کی کوشش کریں۔

#ضد

ماں باپ کی جانب سے ضرورت سے زیادہ لاڈ پیار، ہر ضروری و غیر ضروری خواہش کا فوری احترام یا بچوں کو غیر معمولی اہمیت دینے سے بچے میں ضد کا عنصر غالب آجاتا ہے۔ ایسی صورت میں والدین کو اپنے رویے پر نظرثانی کرنا چاہیے۔ بچے کو شروع سے ہی ضد کرکے چیزیں حاصل کرنے کی عادت نہ ڈالیں۔ غلطی پر کبھی کبھی ہلکی پھلکی سزا بھی دے دیں۔



بچے کو جھوٹ سے دور رکھنے کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ جھوٹ سے پرہیز کریں۔ اس کے سامنے ایک باعمل اور سچے انسان کے روپ میں آئیں۔ اسے سچ بولنے پر تعریف و انعام سے نوازیں اور جھوٹ بولنے پر سزا دیں۔ اس پر سچ کی اہمیت مذہب اور معاشرے کے نقطۂ نظر سے واضح کریں اور اخلاقیات کا درس دیتے رہیں۔

#جرائم

چوری کے علاوہ دوسرے جرائم بھی مختلف معاشرتی یا گھریلو عوامل کی بدولت پیدا ہوتے ہیں، اور بعض اوقات تشویش ناک صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ جیسے دوسرے بچوں سے زبردستی چیزیں چھیننا، ساتھیوں کو مارنا پیٹنا، کھیل کے میدان میں شکست تسلیم کرنے سے انکار، جنسی جرائم وغیرہ وغیرہ۔ یہ صورت حال انتہائی سنگین ہوتی ہے۔ بچے کی محرومیوں کا خیال رکھیں۔ اسے پیار و محبت اور بھرپور توجہ دیں۔ مذہبی تعلیم کی طرف راغب کریں۔ اخلاقیات کا درس دیں۔ انسانی حقوق کا احترام کرنا سکھائیں۔



عدم توجہ، نگرانی میں کمی یا خوراک وقت پر نہ ملنے کے سبب بچے مٹی کھانے کے عادی ہوسکتے ہیں۔ خاص طور پر جب گھر میں صفائی کا بھی فقدان ہو اور بچے کو وافر مقدار میں مٹی دستیاب ہو، مٹی کے علاوہ بچہ ملتی جلتی چیزیں جیسے ربر وغیرہ بھی کھالیتا ہے۔ مٹی کھانے کے سبب پیٹ میں کیڑے ہوسکتے ہیں یا آنتوں کی تکلیف واقع ہوسکتی ہے۔ بچے کی نگرانی سخت کردیں۔ غذا فوری طور پر دیں۔ گھر میں سے مٹی کے تمام ذرائع ختم کردیں۔



یہ ایک عام عادت ہے اور ایسے بچے زیادہ تر عدم توجہ کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسے بچوں کو توجہ، پیار و محبت میں اضافہ، حوصلہ افزائی اور تعریف و تحسین کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔
منقول، شکریہ

Advance Speech Therapy Services Pakistan 🇵🇰
Peshawer Road, Rawalpindi
03345322674

"ماہرنفسیات کا پیغام"کلینک پر سائیکالوجی کے متعلق جتنے بھی لوگ رابطہ کر رہے ہیں، انکے لئے اہم پیغام ہے.سب سے پہلے اپنی ا...
04/05/2025

"ماہرنفسیات کا پیغام"

کلینک پر سائیکالوجی کے متعلق جتنے بھی لوگ رابطہ کر رہے ہیں، انکے لئے اہم پیغام ہے.

سب سے پہلے اپنی اپائنمنٹ بک کرائیں.

جو بھی وقت آپ کو دیا جائے گا، اس وقت پر کلینک تشریف لائیں.

پہلے سیشن میں صرف Assessment ہو گی تا کہ مسئلے کی نوعیت کے مطابق ڈائیگنوز کیا جا سکے.

ڈائیگنوز ہونے کے بعد ماہر نفسیات تھراپی پلان ترتیب دے گا اور اگلے سیشن میں بلائے گا.

وہ مرد حضرات جو فرماتے ہیں کہ ہمیں فلاں فلاں مسائل ہیں، آپ صرف تھراپی دیں. ان سے میری درخواست ہے کہ ہمارے کلینک کے کچھ اصول ہیں اور انہی اصولوں کے مطابق ان کے ساتھ کام کیا جائے گا.

نوٹ :
فرمائشی پروگرام کے مطابق تھراپی ہرگز نہیں دی جاتی.
شکریہ

What S*x Therapy Is & What It Isn’t S*x is an important part of a relationship, but talking about it? That can be challe...
02/05/2025

What S*x Therapy Is & What It Isn’t

S*x is an important part of a relationship, but talking about it? That can be challenging.

S*x therapy is a safe space for couples to explore their intimacy, desires, and challenges with expert guidance—without shame or judgment.

✔ Learn how to talk about your needs and desires.
✔ Navigate life changes that impact intimacy.
✔ Strengthen your emotional and physical connection.

🚫 What s*x therapy ISN’T:

❌ No physical or s*xual contact with the therapist.
❌ Not just for “problems”—it’s about improving intimacy at any stage!

Look through these slides to learn more about how s*x therapy can help you and your partner reconnect.

Have questions...???
Drop them in the comments below!

For Appointment : 0334 5322674
Psychologist - Advanced Rehabilitation Services
Rawalpindi

30/04/2025

عام وہم یا او سی ڈی

کیا آپ جانتے ہیں کہ OCD ایک نفسیاتی مسئلہ ہے۔۔۔؟؟؟

جس کا علاج ماہر نفسیات کرتے ہیں۔

کلینک کی اپائنمنٹ اور مزید تفصیلات کے لئے دئیے گئے نمبر پر رابطہ کریں۔

Advanced Rehabilitation Center
Pashawar Road,Lane 6, Rawalpindi
03345322674

Address

Rawalpindi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Psychologist - Advanced Rehabilitation Services posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram