25/10/2025
روڈ ایکسیڈینٹ اور کومہ کا معجزیاتی کیس۔
ڈاکٹر وقار بھٹہ راولپنڈی
25 دن پہلے میرے کزن کا میرے اباٸی گاوں میں موٹر ساٸیکل پر شدید ایکسیڈینٹ ہوا۔ شدید چوٹ پر لگنے کی وجہ سے وہ کومہ میں چلے گٸے۔ راولپنڈی کے بڑے ہسپتال میں داخل کرادیا گیا۔ اور ان کو أکسیجن پر بھی شفٹ کیا ہوا تھا۔چونکہ MRI میں بلڈ کلاٹ تھا۔ اس لٸے اگلے دن میں نے لواحقین کو مشورہ دیا کہ ان کو ہومیو دوا دی جاۓ۔ مگر کوٸی بھی زمہ داری لینے کو تیار نہ تھا۔ میں مسلسل کوشش کرتا رہا۔ کہ معجزہ ہو سکتا ھے۔ چار دن بعد جب ڈاکٹرز کی طرف سے سرخ اشارہ دیا گیا۔ اس وقت ان کا GCS گر کر چار سے پانچ پر آگیا تھا۔ ڈاکٹرز نے مایوسی کا اظہار کا تو لواحقین اس بات پر راضی ہوۓ کہ ہومیو دوا کو جسم پر مالش کی جاٸے۔ ٹشو پیپر سے Arnica اور Natrum Sulf 200 کو جسم پر اپلاٸی کیا گیا۔ 1 % بہتری آنے پر چند قطروں کو زبان پر ٹپکا دیا گیا۔
اگلے روز میں ڈاکٹر طارق محمود صاحب کے کلینک جو کہ ہسپتال کے ساتھ ہی ھے گیا کہ مزید کیا کیا جاۓ۔ انہوں یہ دواٸیاں سی ایم میں دینے کا مشورہ دیا۔ ساتھ ہی ڈاکٹر علی محمد صاحب سے بھی رابطہ کیا کہ کیا کہ آپ کیا کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کو Rhustox 200 Arnica 200 Hypercum 200 دیں۔ اس سے کٸی کیس ٹھیک ہوۓ ہیں۔اس رات کو ڈاکٹر طارق صاحب ہسپتال تشریف بھی لاۓ۔ اس رات ان دواٸیوں کہ 9 خوراکیں مریض کے منہ میں ڈالی گٸیں۔ اور اسی رات کو ڈاکٹر علی محمد صاحب نے رات چار بجے کلینک سے اٹھ کر ہسپتال کا وزٹ کیا۔ اور ہسپتال کی ایم ایس کو فون کیا کہ آپ کٸر تیز کریں۔ دوا کی ہر خوراک پر مریض حرکت کرتا تھا۔ جو کہ اس ریسکیو کا عمل تھا۔ تیسرے دن اور رات یہ سلسلہ جاری رہا۔ چوتھے روز GCS مزید دو پواٸنٹ بہتر ہوا۔ خوشی کہ لہر دوڑ گٸ کہ خطرہ ٹل گیا ھے۔ چوتھے روز ڈاکٹر علی صاحب کے کہنے پر Sulfer 30 سے کام اور تیز ہو گیا۔ چوتھے روز بھی میڈیسن جاری رہی۔ اگلے نٸی ایم آر آٸی میں کلاٹ نہیں تھا۔اور اللہ کا شکر تھا۔ رشتے داروں سے ایک صاحب کہنے لگے کہ آپ تجربے نہ کریں۔ مگر اللہ نے میرا ہاتھ پکڑا کہ یخنی ۔جوس اور دودھ میرے گھر سے جانے لگا تاکہ میڈیسن ایڈ کی جا سکے۔ روز بروز بہتری آتی رہی۔ اس دوران ڈاکٹر اعجاز علی اور ڈاکٹر یونس قریشی بھی ہسپتال ملنے آۓ ۔اور آج 25 دن بعد وہ ڈسچارج ہو کر اپنے بچوں اور ماں کے پاس چلے گٸے ہیں۔ یہ معجزہ ہومیو