Dr Niaz Akmal Blogs

Dr Niaz Akmal Blogs HOMOEOPATHIC DOCTOR

05/02/2026
اے فلسطین تو ۔۔یوسف۔۔ہےجس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کو ان کے بھائیوں نے دھوکہ دیا تھا اسی طرح ۔ ۔۔ اےفلسطین۔۔۔ عالم اسلا...
05/02/2026

اے فلسطین تو ۔۔یوسف۔۔ہے
جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کو ان کے بھائیوں نے دھوکہ دیا تھا اسی طرح ۔ ۔۔ اےفلسطین۔۔۔
عالم اسلام نے بھی تجھے دھوکہ دیا جس کی وجہ سے ایک لاکھ فلسطینی اور بیس ہزار سے زائد معصوم بچے غذا دوا دودھ کی بندش کی وجہ سے شہید ہو گئے اب امریکہ اور اسرائیل کی سرپرستی میں امن مشن کے نام پر یہ اپ پر مسلط ہو گئے ہیں امن مشن درحقیقت غیر اعلانیہ طور پر اسرائیل کو تسلیم کرنےکا دوسرا نام ہے امن مشن اور جنگیں رکوانے کے نام ٹرمپ پر انعامات اور ایوارڈز کی بارش ہوگی

اللہ کریم نے انسان کی تخلیق با احسن طریق سے کی ہے لیکن گردے ان کا متبادل ابھی تک سامنے نہیں ایا بے دریغ پین کلر سٹیرائڈز...
04/02/2026

اللہ کریم نے انسان کی تخلیق با احسن طریق سے کی ہے لیکن گردے ان کا متبادل ابھی تک سامنے نہیں ایا بے دریغ
پین کلر سٹیرائڈز اینٹی بائوٹک ادویات سے گردوں کے فنگشن متاثر ہوتے ہیں اور بسا اوقات ڈائلسز کی طرف جانے کا مشورہ صادر ہوتا ہے ڈائلسز میں گردے نہیں بلکہ خون واش ہوتا ہے گردے کاناکارہ ہونے کا عمل اپنی جگہ موجود رہتا ہے ایسی ادویات جو گردوں کو نقصان پہنچاتی ان سے دور رہنے کی ضرورت ہے ہومیوپیتھی بے ضرر محفوظ طریقہ علاج ہے اس کے اپنانے سے گردوں کی گندی رپروٹیس بھی درست ہو جاتی ہیں گردے واش کرانے کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔۔۔۔۔ تفصیلات۔۔۔۔۔ پروفیسر ہومیوپیتھک ڈاکٹر نیاز اکمل فرید ہومیوپیتھک کلینک اینڈ ریسرچ سینٹر وی ائی پی کلینک اینڈ ریسرچ سینٹر وی ائی پی صرافہ مارکیٹ چوک صادق اباد راولپنڈی

بلا عنوان بلا تبصرہ
04/02/2026

بلا عنوان بلا تبصرہ

میرے والد محترم ڈاکٹر غلام فریدگل میرے بڑے بھائی ڈاکٹر ایم اے انوار گل چھوٹے بھائی ڈاکٹر ذوالفقار فریدی  محروم و مغفور ک...
03/02/2026

میرے والد محترم ڈاکٹر غلام فریدگل میرے بڑے بھائی ڈاکٹر ایم اے انوار گل چھوٹے بھائی ڈاکٹر ذوالفقار فریدی محروم و مغفور کی بے پناہ سماجی خدمات ہیں علاقہ بھر میں میڈیکل کیمپ لگائے بلا تخصیص غرباء کو مفت ادویات فراہم کیں دعا ہے کہ اللہ کریم شب برات کے مبارک موقع پر ان کی مغفرت فرمائے درجات بلند فرمائے قبر تا حد نظر وسیع فرمائے اور ان کی خدمات کو ان کی بخشش درجات کی بلندی کا ذریعہ سبب بنائے

اپنے اندر کی ہوا نکال دیں خوش رہیں گے ۔۔۔۔۔۔ایک اسکول نے اپنے نوجوان طلباء کے لیے تفریحی سفر کا انعقاد کیا راستے میں ان ...
02/02/2026

اپنے اندر کی ہوا نکال دیں خوش رہیں گے ۔۔۔۔۔۔
ایک اسکول نے اپنے نوجوان طلباء کے لیے تفریحی سفر کا انعقاد کیا
راستے میں ان کا گزر ایک سرنگ سے ہوا جس کے نیچے سے بس ڈرائیور پہلے بھی گزرتا تھا
سرنگ کے دہانے پر پانچ میٹر اونچائی لکھی تھی
ڈرائیور نے نہیں روکا کیونکہ بس کی اونچائی بھی پانچ میٹر تھی
لیکن اس بار بس سرنگ کی چھت سے رگڑ کر درمیان میں پھنس گئی
جس سے بچے خوف و ہراس میں مبتلا ہوگئے
بس ڈرائیور کہنے لگا
ہر سال میں بغیر کسی پریشانی کے سرنگ عبور کرتا ہوں، مگر اب کیا ہوا؟
ایک آدمی نے جواب دیا:
سڑک پکی ہو گئی ہے اس لیے سڑک کی سطح تھوڑی بلند ہو گئی ہے
وہاں رش لگ گیا
ایک شخص نے بس کو باہر نکالنے کے لیے اپنی کار سے باندھنے کی کوشش کی لیکن ہر بار رگڑ کی وجہ سے رسی ٹوٹ جاتی
کچھ نے بس کو کھینچنے کے لیے ایک مضبوط کرین لانے کا مشورہ دیا
اور کچھ نے کھود کر توڑنے کا مشورہ دیا
ان مختلف تجاویز کے درمیان
ایک بچہ بس سے اترا اور کہا:
میرے پاس حل ہے!
اس نے کہا:
پروفیسر صاحب نے ہمیں پچھلے سال ایک سبق دیا تھا اور کہا تھا
ہمیں اپنے اندر سے غرور و تکبر نفرت، خود غرضی اور لالچ کو نکال دینا چاہیے جن کی وجہ سے ھم لوگوں کے سامنے پھولے ہوئے ہوتے ہیں
اگر ہم ان الفاظ کو بس پر لگا دیں اور اس کے ٹائروں سے تھوڑی سی ہوا نکال دیں تو وہ سرنگ کی چھت سے نیچے اترنا شروع کر دے گی اور ہم باحفاظت گزر جائیں گے
بچے کے شاندار مشورے سے ہر کوئی حیران رہ گیا اور واقعی بس کے ٹائروں سے ہوا کا دباؤ کم کیا گیا تو بس سرنگ (ٹنل) کی چھت کی سطح سے نیچے گزر گئی اور سب بحفاظت باہر نکل آئے
ہمارے مسائل ہم میں ہیں
ہمارے دشمنوں کی طاقت میں نہیں
اس لیے اگر ہم اپنے اندر سے غرور اور باطل کی ہوا نکال دیں گے تو دنیا کی اس سرنگ میں سے ہمارا گزر بآسانی ہوجائے گا
بس اپنے اندر کی غرور وتکبر و انا اور خود غرضی کی ہوا نکال دیں معاشرہ اچھا ہو جائے گا

02/02/2026
02/02/2026
گزشتہ دنوں ڈسٹرکٹ گنگچھے کے مشہ بروم ، تحصیل ہیڈکوارٹر تھگس تھولدی میں ایک واقعہ پیش آیا جس نے انسانی ہمت، جرات اور ایثا...
02/02/2026

گزشتہ دنوں ڈسٹرکٹ گنگچھے کے مشہ بروم ، تحصیل ہیڈکوارٹر تھگس تھولدی میں ایک واقعہ پیش آیا جس نے انسانی ہمت، جرات اور ایثار کی ایک لازوال مثال قائم کر دی۔ شدید برفانی موسم میں، جب درجہ حرارت منفی 18 ڈگری تک گر چکا تھا اور دریا کی یخ بستہ موجیں بے رحمی سے بہہ رہی تھیں، ایک معصوم بچی پل سے پھسل کر دریا میں جا گری۔

خوف اور بے بسی کے لمحے میں، گاؤں کی ایک بہادر بیٹی فرشتۂ رحمت بن کر سامنے آئی۔ نہ سردی نے اسے روکا، نہ خطرے نے۔ بے خوف ہو کر اس نے تیز اور یخ بستہ بہاؤ والے دریا میں چھلانگ لگائی اور پندرہ سے بیس منٹ تک موت سے آنکھیں ملا کر جدوجہد کی۔ آخرکار اللہ کے فضل سے اس معصوم بچی کو زندہ سلامت بچا لیا گیا۔

یہ صرف ایک جان بچانے کی داستان نہیں، بلکہ انسانیت، حوصلے اور کردار کی روشن مثال ہے۔ ہم اس بہادر بیٹی کو سلام پیش کرتے ہیں اور والدین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے ایسی نڈر اور باکردار اولاد کی تربیت کی۔

صل ہیرو وہی ہیں جو مشکل گھڑی میں خاموشی سے دوسروں کی جان بچانے کے لیے اپنی جان داؤ پر لگاتے ہیں۔

۔

۔



Hassan Johari Kotro Dasi A Dè B Amir Jaspa Imtiaz Saim Danial Ali Shigri TIBET B TV Siachan Times

ایک غیر سرکاری سروے کے مطابق پاکستان میں ملنگوں، مجاوروں اور فقیروں کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔یہ بات سمجھنا ضر...
27/01/2026

ایک غیر سرکاری سروے کے مطابق پاکستان میں ملنگوں، مجاوروں اور فقیروں کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔

یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ ان میں سے بڑی تعداد محض عام حالات میں زندگی گزارنے والے لوگ نہیں، بلکہ نفسیاتی، سماجی اور معاشی مسائل کا شکار افراد ہیں۔ بہت سے لوگ حالات، محرومی، صدمات اور عدم توجہی کے باعث اس طرزِ زندگی پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

میری شدید خواہش اور مطالبہ ہے کہ حکومتِ پاکستان اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور ان افراد کے لیے بحالی مراکز (Rehabilitation Centers) قائم کرے، جہاں:
ان کا نفسیاتی و طبی علاج کیا جائے
انہیں تعلیم، ہنر اور تربیت دی جائے
اور معاشرے کا ایک باعزت، کارآمد حصہ بننے کا موقع فراہم کیا جائے
فقیری یا ملنگی کوئی دینی شناخت یا حالت نہیں بلکہ ریاستی غفلت کی علامت بن چکی ہے۔

انسانوں کو درگاہوں اور سڑکوں پر چھوڑ دینا حل نہیں، انہیں سنبھالنا اصل فلاحی ریاست کی پہچان ہے۔

پاکستان میں گداگر 32 ارب روپیہ روزانہ اور 117 ٹریلین سالانہ لوگوں کی جیبوں سے نکلواتے ہیں جس کا کوئی مصرف نہیں ہے یہ کرائم کی وارداتوں میں بھی ملوث ہوتے ہیں بڑے شہروں میں ٹریفک سنگنلز کو سلو کرنے کی ذمہ داری بھی ان کی ہوتی ہے پاکستان میں 55 فیصد سے زائد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں حکومت اگر اس طرح کے کرائم پر کنٹرول کرے تو اشرافیہ کی مزید سہولیات کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی بہتر سہولیات مل سکتی ہے

Address

Vip Market Chowk Sadiqabad Rawalpindi
Rawalpindi
051

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Niaz Akmal Blogs posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr Niaz Akmal Blogs:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram