Dr Fiza Azhar

Dr Fiza Azhar Healthcare, Doctor, Medicine

اسلام آباد الرٹ۔📌 آج کل پھیلنے والی وبا کیا ہے؟ Influenza A — ایک اہم آگاہی پوسٹآج کل پورے پاکستان میں ایک ایسی وبا پھیل...
24/11/2025

اسلام آباد الرٹ۔
📌 آج کل پھیلنے والی وبا کیا ہے؟ Influenza A — ایک اہم آگاہی پوسٹ
آج کل پورے پاکستان میں ایک ایسی وبا پھیلی ہوئی ہے جو بالکل ڈینگی کی طرح محسوس ہوتی ہے، مگر ڈینگی ٹیسٹ ہمیشہ نیگیٹو آتا ہے۔
اصل مسئلہ ڈینگی نہیں… بلکہ Influenza A (خاص طور پر H3N2) ہے، اور اس وقت ہر دوسری OPD میں یہی کیسز نظر آ رہے ہیں۔

شروع میں مریض کو بالکل عام نزلہ زکام ہوتا ہے، چھینکیں، گلا خراب، ہلکا بخار اور بدن ٹوٹنا۔ پھر آہستہ آہستہ پیٹھ کی ہڈیوں اور جوڑوں کا درد بڑھنے لگتا ہے، سر بھاری ہوتا جاتا ہے، چکر آتے ہیں اور متلی محسوس ہوتی ہے۔

اس کے بعد بخار یک دم تیز ہونا شروع ہوتا ہے اور بہت سے مریضوں میں 103–104 تک پہنچ جاتا ہے۔ 3–6 دن تک بخار کا نہ ٹوٹنا اب عام بات ہو چکی ہے۔ مریض جسمانی طور پر ٹوٹ جاتا ہے، بھوک ختم، منہ کا ذائقہ خراب، اور ہر وقت کمزوری اور بےچینی۔

جب بخار کا فیز گزر جاتا ہے تو آغاز ہوتا ہے دوسری مشکل کا:
ناک کا نزلہ گاڑھا ہو کر **Sinusitis** میں بدل جاتا ہے۔ بلغم بدبودار، سر بھاری، ناک بند، اور کھانسی بھی شامل ہو جاتی ہے۔ اس ساری کیفیت میں مریض کی کمزوری اتنی بڑھ جاتی ہے کہ کئی کئی دن تک اٹھنے کو دل نہیں کرتا۔

ڈینگی ٹیسٹ نیگیٹو اس لئے آتا ہے کہ یہ ڈینگی ہے ہی نہیں۔ Influenza A بخار، بون پین اور شدید کمزوری تو دیتا ہے، مگر platelets خطرناک حد تک نہیں گراتا۔ اسی لئے لوگ کنفیوز ہوتے ہیں کہ “علامات تو ڈینگی والی ہیں مگر رپورٹس کیوں نارمل؟”

اس وقت سب سے اہم چیز یہ ہے کہ مریض آرام کرے، پانی زیادہ پئے، steam لے، اور علامات کے مطابق symptomatic care کرے۔
اگر بلغم بدبو دار ہو یا سر بہت بھاری ہو تو یہ واضح سائن ہے کہ سائنوسائٹس ہو چکا ہے اور اس کا علاج ساتھ چلانا لازم ہے۔

شدید کمزوری میں multivitamins فائدہ دیتے ہیں۔
اگر سانس میں دقت، بہت زیادہ بخار، یا پانی کی کمی محسوس ہو تو فوراً ڈاکٹر کو دکھانا چاہیے۔

مختصر یہ کہ پاکستان میں اس وقت Influenza A کا زور ہے، اور اسی کی وجہ سے ہر طرف یہی بخار، نزلہ، کمزوری اور سائنوسائٹس والے کیسز نظر آ رہے ہیں۔

STEROIDگو کہ یہ قطرے آنکھ میں موجود سوزش کیلئے مفید ہیں مگر بغیر ہدایت کے استعمال کے آنکھ میں انفیکشن، کالا موتیا اور سف...
14/10/2025

STEROID
گو کہ یہ قطرے آنکھ میں موجود سوزش کیلئے مفید ہیں مگر بغیر ہدایت کے استعمال کے آنکھ میں انفیکشن، کالا موتیا اور سفید موتیا کے ہونے کی ایک بڑی وجہ بھی ہیں. اپنے معالج کی ہدایات کے بغیر ان کا استعمال نقصان کا باعث بن سکتا ہے

You get what you work for,Not what you wish for.
01/10/2025

You get what you work for,
Not what you wish for.





16/08/2025
ڈاکٹر بھی انسان ہوتے ہیں...یہ ایک سادہ سی تصویر ہے!ایک تھکا ہارا ڈاکٹر، ہاتھ میں چائے اور بسکٹ لیے بریک روم کی جانب بڑھ ...
08/08/2025

ڈاکٹر بھی انسان ہوتے ہیں...

یہ ایک سادہ سی تصویر ہے!
ایک تھکا ہارا ڈاکٹر، ہاتھ میں چائے اور بسکٹ لیے بریک روم کی جانب بڑھ رہا ہے۔

مگر اُس کے پیچھے بیٹھے چند لوگ
ناراضی، بے صبری اور غصّے سے اُسے گھور رہے ہیں...
شاید اس لیے کہ اُنہیں کچھ دیر مزید انتظار کرنا پڑا۔

لیکن کیا ہم نے کبھی ایک لمحے کو یہ سوچا کہ:

• شاید وہ ڈاکٹر پچھلے کئی گھنٹوں سے لگاتار مریضوں کی دیکھ بھال کر رہا ہو؟
• شاید وہ ساری رات جاگتا رہا ہو، بغیر کچھ کھائے پیے،
• شاید وہ ابھی ابھی ایک نہایت نازک سرجری مکمل کر کے نکلا ہو؟
• یا شاید وہ کسی ماں، کسی باپ، یا کسی شوہر کو یہ دل دہلا دینے والی خبر دے کر آیا ہو… کہ اُن کا پیارا اب اس دنیا میں نہیں رہا؟

اور یہ سب کرنے کے بعد بھی، اُس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ تازہ دم، مسکراتا ہوا، اور مکمل توجہ کے ساتھ اگلے مریض کو دیکھے۔

کیا ایسا شخص چند لمحوں کے آرام کا حق دار نہیں؟

خاص طور پر پاکستان جیسے ملک میں، جہاں ڈاکٹرز بسا اوقات لگاتار 36 گھنٹے کی ڈیوٹیاں دیتے ہیں — ایک ایسی صورتحال جو انسانی جسم و دماغ کے لیے ممکن ہی نہیں — ہم سے یہ توقع کرنا کہ وہ ہر وقت مکمل توانائی کے ساتھ کام کریں، حقیقت سے بہت دور ہے۔

ہم جب انتظار کر رہے ہوتے ہیں،
تو ہمیں اپنا وقت سب سے قیمتی محسوس ہوتا ہے...
مگر جب ہمیں ضرورت پیش آتی ہے،
تو ہم چاہتے ہیں ایک ایسا ڈاکٹر جو فوری دستیاب ہو،
تازہ دم، نرم خو، مکمل توجہ دینے والا۔

تو کیوں نہ ہم اُسے وہ چند قیمتی لمحے دے دیں؟
تاکہ وہ خود کو بحال کر کے
ہماری، آپ کی، سب کی بہتر خدمت کر سکے؟

"ڈاکٹر روبوٹ نہیں ہوتے — وہ بھی ہماری طرح انسان ہیں۔
اور ہر انسان، آرام، سکون اور مہربانی کا مستحق ہے۔"

16/10/2023

اٹھائیس سالہ ایم فِل سوشیالوجی کی طالبہ نازیہ* نے نہاتے ہوئے محسوس کیا کہ چھاتی میں ایک اُبھار سا بنا ہوا ہے۔ ہاتھ لگانے پر کچھ گُھٹلی جیسا احساس ہوتا تھا۔ لیکن کوئی خاص درد تکلیف وغیرہ نہ تھی۔ اس نے سوچا والدہ سے ڈسکس کر لے گی۔ چند ہفتے یونہی بےدھیانی میں یاد نہ رہا۔ ایک دن دوبارہ نہاتے ہوئے اس طرف دھیان گیا تو ماں سے اس بارے مشورہ کر ہی لیا۔ ماں نے کہا کوئی درد یا تکلیف ہے تو دکھا لیتے ہیں ڈاکٹر کو، ساتھ مشورہ دیا کہ زیادہ مسئلہ نہیں لگ رہا تو پیاز باندھ لو اور ساتھ وظیفہ پڑھ لو یہ آپ ہی “گُھل” جائے گی۔ چند ہفتے وظیفہ پڑھا، اور پیاز بھی باندھا اور ساتھ ساتھ زیتون کے تیل سے ہلکے ہاتھ مالش بھی کی۔ گویا نازیہ نے نفسیاتی طور پر اپنے آپ کو یقین دلا دیا کہ ٹوٹکوں سے ابھار کا سائز کچھ کم ہو گیا ہے۔ وہ مطمئن ہو گئی۔ ابھار اپنی جگہ موجود رہا۔ خاموش۔ کسی تکلیف یا درد کے بغیر۔ جیسے طوفان سے پہلے سمندر ہوتا ہے۔
چھے مہینے ایسے ہی گزر گئے۔ نازیہ کو بھول گیا کہ ایک چھاتی میں ابھار ہے۔ اب کے نازیہ کو عجیب سا درد دائیں بازو میں اٹھا، جیسے اس کی ہڈی میں کوئی سوراخ سا کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔ درد کی دوا لی چند دن، اور درد کو آرام آ گیا۔ لیکن دوا چھوڑتے ہی درد نے پھر زور پکڑا۔ آخرکار قریبی ڈاکٹر سے مشورہ ہوا۔ اس نے کہا جوان لڑکی ہے اسے کیا ہونا ہے۔ کیلشیئم اور وٹامن ڈی تجویز کیا، ساتھ ایک تگڑا سا پین کِلر انجیکشن ٹھوکا اور گولیاں دے کر چلتا کیا۔ پھر سے عارضی آرام آ گیا۔ لیکن دوا کا کورس ختم ہوتے ہی پھر وہی تنگی شروع!
اب نازیہ کو پریشانی ہوئی کہ یہ موئی درد جان کیوں نہیں چھوڑ رہی۔ اس نے اپنی ڈاکٹر دوست کو کہہ کر سرکاری ہسپتال سے ایکسرے کروایا۔ ایکسرے کروا کے ہڈی والے ڈاکٹر کے پاس لے گئی۔ اس نے ایکسرے دیکھ کر کہا کہ اس میں کچھ گڑبڑ لگ رہی ہے، آپ اس کو ذرا کینسر آوٹ ڈور میں دکھا کر آئیں۔ اور یوں میری نازیہ سے پہلی ملاقات کا بندوبست ہوا۔۔۔۔
نازیہ نے مجھے سلام کر کے ایکسرے پکڑاتے ہوئے کہا کہ اسے بازو کی ہڈی میں درد کی شکایت ہے۔ میں نے ایکسرے دیکھتے ہی ہڈی کا پوچھنے کی بجائے اس سے پوچھا “آپ کو جسم میں کہیں کوئی گِلٹی محسوس ہوتی ہے”، جس کے جواب میں اس نے کہا کہ ہاں بس چھاتی میں ابھار سا تھا لیکن وہ وظیفے اور مالش سے بہتر ہو گیا، لیکن “تھوڑا سا” ابھی بھی ہے۔ وہ “تھوڑا سا” ابھار چیک کرتے ہی الارم بجنے لگے۔ میں نے نازیہ کو بائیاپسی، ہڈیوں کا اسکین اور سی ٹی اسکین لکھ کر دیے۔ رپورٹ میں چوتھی اسٹیج کا انتہائی اگریسیو بریسٹ کینسر تھا، جس کی جڑیں ہڈیوں میں ہی نہیں بلکہ جگر، پھیپھڑوں اور ایڈرینل گلینڈ میں بھی پہنچ چکی تھیں۔۔۔۔
نازیہ کے علاج کا دورانیہ لگ بھگ اٹھارہ ماہ کا تھا۔ زندگی کے آخری چار ماہ اس نے بہت تکلیف میں گزارے۔ بستر پر معذوری کے عالم میں وہ کبھی کبھار اپنے دل کی باتیں کیاکرتی تھی۔ وہ شادی کرنا چاہتی تھی۔ ڈگری مکمل کرنا چاہتی تھی۔ ماں بننا چاہتی تھی۔ کچھ اور جینا چاہتی تھی۔ لیکن مقدر کا فیصلہ کچھ اور ہی تھا۔۔۔
شاید ہمارے ارد گرد بہت سی نازیہ موجود ہوں۔ کیونکہ ہر نو میں سے ایک خاتون اپنی زندگی میں اس کا شکار ہوتی ہے۔ خواتین کو بتانے اور سمجھانے کی ضرورت ہے کہ چھاتی میں تبدیلیاں ہوں تو ڈاکٹر سے مشورے میں تاخیر نہ کریں۔ پہلی اسٹیجز میں اگر ہم اس بیماری کو پکڑ لیں تو اللہ کی مہربانی سے اسے جڑ سے اکھاڑنے کے اچھے چانسز ہوتے ہیں۔ اگر آپ مرد ہیں تو اپنی خواتین کو آگہی دیں کہ جھجک، اور خواہ مخواہ کی شرم کو زندگی اور صحت سے قیمتی نہ جانیں۔

یہی وجہ ہے کہ جب آپ ایک ہسپتال کی ایمرجنسی میں کسی عام مسئلے کے ساتھ جائیں تو آپ کو ایمرجنسی کے کمرے میں انتظار کرنا پڑت...
26/08/2023

یہی وجہ ہے کہ جب آپ ایک ہسپتال کی ایمرجنسی میں کسی عام مسئلے کے ساتھ جائیں تو آپ کو ایمرجنسی کے کمرے میں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو اپنے ڈسچارج پیپرز، دوائیں، کمبل، یا کسی دوسرے کام کے لئے صبر سے کام لینے کو کہا جاتا ہے۔

یہ وہ کمرہ ہے جس میں آپ کو نہیں ہونا چاہئے، اور دعا کرنی چاہئے،کہ کبھی موقعہ بھی نا آۓ کہ آپ کو یہاں ہونا پڑے۔ یہی وہ چیز ہے جو بعض اوقات ایک جان بچانے کے لئے کرنی ہوتی ہے، جس کے لئے آپ ہمارے پاس آتے ہیں۔

آپ بیمار ہیں۔ آپ تھکے ہوئے ہیں۔ آپ کو تکلیف ہے۔ ہمیں معلوم ہے!!
براہ کرم اپنے ڈاکٹر کو کام کے "وقت پر نہیں ہونے" کے لئے الزام نہ دیں، کیونکہ ہمیں تربیت دی گئی ہے کہ ہم ان تمام چیزوں کو پلک جھپکنے میں چھوڑ دیں اور اس شخص کی زندگی کو بچائیں جسکے پاس وقت نہیں، اور یقین کیجئیے ہمیں اندازہ ہوجاتا ہے کہ کس کی زندگی کے لمحے ختم ہورہے ہیں۔

آپ انتظار کرتے ہیں کیونکہ آپ کر سکتے ہیں۔ ہم ان کی طرف جلدی کرتے ہیں، کیونکہ ان کی جان بچنے کا موقعہ ہر لمحہ گزرتے ساتھ کم ہوتا جاتا ہے جب تک ہم ان کے پاس نہیں پہنچ جاتے۔


" CALCIUM " a mineral you need to live actively..
21/08/2023

" CALCIUM " a mineral you need to live actively..

اب عوام کے لیے تھوڑی سی تفصیل کہ یہ انجیکشن آخر کار غلط کیوں ہو جاتا ہے ؟؟انسانی جسم کے اندر جب بھی باہر کی کوٸ چیز داخل...
09/07/2023

اب عوام کے لیے تھوڑی سی تفصیل کہ یہ انجیکشن آخر کار غلط کیوں ہو جاتا ہے ؟؟
انسانی جسم کے اندر جب بھی باہر کی کوٸ چیز داخل ہوتی ہے تو جسم اسکو رد کر سکتا ہے۔اس ردعمل کوالرجی کہتے ہیں۔ یہ چیز کچھ بھی ہو سکتی ہے جیسے خوراک (انڈا,مچھلی)، دھواں گرد، ادویات جیسے شربت گولی یا انجیکشن۔
الرجی کسی بھی دواٸ کے انجیکشن سے ہو سکتی ہے اور زیادہ تر وقت اس کا پہلے سے اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔ کچھ دوائیوں سے الرجی کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے جیسے پینسلن اینٹی بائیوٹک یا سانپ کی ویکسین وغیرہ اس لیے انکو لگانے سے پہلے تھوڑی مقدار میں ٹیسٹ خوراک لگاٸ جاتی ہے اور پھر اسے شروع کرتے ہیں، لیکن زیادہ تر دوائیوں میں چونکہ الرجی کا خطرہ بہت کم ہوتا ہے تو بغیر ٹیسٹ کے لگاٸ جاتی ہیں۔ بہرحال الرجی کا خطرہ پھر بھی رہتا ہے ۔
انجیکشن سے ہونے اولی الرجی کی نوعیت ہلکی خارش,بخار سے لے کر شدید رد عمل تک سکتی ہے جس میں سے دل کا رکنا، سانس کا بند ہونا اور موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔
عوام کے سمجھنے کے لیے اہم بات یہ ہے کہ عام طور پر ایمرجنسی یا وارڈ میں آنے والے زیادہ تر مریضوں کو وہی روٹین دوا دی جاتی ہے۔اب سب کو تو اس سے مسلہ نہیں ہورہا ہوتا ۔جسکو الرجی ہو گی اسکو مسلہ ہوگا ۔وہاں کام کرنے والے عملے کی کسی آنے والے مریض سے کوئی ذاتی دشمنی تونہیں ہوتی کہ وہ اسے غلط ٹیکہ لگا دے گا ۔ اگر وہی دوا دوسروں کے لیے ٹھیک کام کر رہی ہو اور الرجی ہو جائے تو یہ جسم کا ردعمل ہے جس کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے اور اس میں ڈاکٹر یا نرس کی کوئی غلطی نہیں ہے۔
اب اگر خدانخواستہ یہ صورتحال آپ کے بچے کے ساتھ پیش آتی ہے تو کبھی بھی ہسپتال میں ہنگامہ آرائی شروع نہ کریں۔ اگر آپ براہ راست طبی عملے کو مورد الزام ٹھہرانا اور ہنگامہ شروع کر دیتے ہیں تو اس کا آپکے بچے کی جان پر اسکا اثر پڑے گا ۔ پہلے چند منٹ جو آپ کے بچے کی زندگی بچانے والے ہیں ضائع ہو جائیں گے۔ آپ اس ہنگامے سے کچھ نہیں حاصل کر پائیں گے بلکہ آپ کے بچے کا نقصان ہوگا۔
ہمیشہ اس صورت حال میں فوری طور پر اپنے ڈاکٹر کو بلاٸیں، انہیں اپنے بچے کی ابتدائی طبی امداد کرنے دیں۔
اگر آپ کو پھر بھی لگتا ہے کہ طبی عملے کی طرف سے کوئی کوتاہی ہوئی ہے تو آپ مناسب چینل کے ذریعے درخواست دائر کر سکتے ہیں اور اس کا پیروی کر سکتے ہیں، لیکن اس زندگی بچانے والے ٹاٸم کے دوران وارڈ میں ہنگامہ آرائی کرنے سے مریض کی زندگی بچانے والے منٹ ہی ضائع ہوں گے جسکے دوران اس کی جان بچائی جا سکتی ہے۔

””بچوں میں موٹاپا اور گردن کے قریب کالے نِشانات““فاسٹ فوڈز ، کولڈ ڈرنکس ، بیکری پروڈکٹس ، تلی ہوئی اشیاء کے بے دریغ اِست...
25/06/2023

””بچوں میں موٹاپا اور گردن کے قریب کالے نِشانات““

فاسٹ فوڈز ، کولڈ ڈرنکس ، بیکری پروڈکٹس ، تلی ہوئی اشیاء کے بے دریغ اِستعمال اور کھیل کود کی دوری کی وجہ سے بچوں میں موٹاپہ ایک اُبھرتا ہوا مسئلہ ہے

۔ بچوں میں موٹاپے کی وجہ سے میٹابولک مسائل ،جِس میں ٹائپ 2 ذیابیطس اور فیٹی لیور شامل ہیں، کا ہونا بڑی تیزی سے سامنے آ رہا ہے۔

ذیل میں بائیں جانب تصویر میں گردن پر کالے رنگ کے نِشان نظر آ رہے ہیں جو کے مستقبل قریب میں جسم میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے آنے کا اشارہ ہیں

۔ان نشانات کو ایکینتھوسس نائگریکنز ،Acanthosis Nigricans کہتے ہیں ۔ اس کے علاؤہ یہ بغلوں، اور کہنیوں کے فرنٹ پہ بھی پائے جاتے ہیں.

آنکھ کی سٹاٸ     (Eye stye )یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں پلکوں کے کنارے پر واقع غدود بند ہو جاتا ہے اور اس میں انفیکشن ہ...
10/06/2023

آنکھ کی سٹاٸ (Eye stye )
یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں پلکوں کے کنارے پر واقع غدود بند ہو جاتا ہے اور اس میں انفیکشن ہو جاتا ہے۔ مریضوں کی پلکوں کے کنارے پر دردناک سرخ سوجن کی شکایت ہوتی ہے۔ ہی سات سے دس دن تک رھ سکتی ہے۔
مریضوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ علاج کے لیے اپنے آنکھوں کے ڈاکٹر سے ملیں۔
ڈاکٹر سے چیک کروانے تک آپ گھریلو علاج جیسے گرم ٹکور شروع کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے تھوڑا سا گرم پانی لیں اور صاف کپڑا لیں .کپڑے کو پانی میں بھگو دیں اور پھر اسے نٍچوڑ دیں۔ پانی زیادہ گرم نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس سے آنکھوں میں جلن ہو سکتی ہے۔ آنکھیں بند کریں اور اس کپڑے کو دن میں پانچ سے چھ بار تین سے چار منٹ تک آنکھوں پر رکھیں۔ گرم ٹکور سے یہ کھل جاۓ گا۔

پولی فیکس آئی مرہم ڈاکٹروں کے مشورے سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

Address

Rawalpindi
47330

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Fiza Azhar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr Fiza Azhar:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category