Herbal Solution

Herbal Solution Discover the power of nature's remedies, healing and restoring with the magic of herbs. 🌿✨

08/11/2025
11/10/2025

آپ
کی معلومات
کے لئے ماہرین کہتے
ہیں کہ لاسےگ ٹیسٹ (Lasègue’s Test) کمر درد کی تشخیص میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے، خاص طور پر جب درد ٹانگ میں پھیلتا ہے (sciatica)۔ آئیے اس کے اہم نکات دیکھتے ہیں:

🔹 لاسےگ ٹیسٹ کا مقصد

یہ ٹیسٹ یہ جاننے کے لیے کیا جاتا ہے کہ مریض کا درد ڈسک ہرنی ایشن (herniated disc) یا سائٹک نرو کے دباؤ کی وجہ سے ہے یا نہیں۔

عام طور پر یہ ٹیسٹ اس وقت کیا جاتا ہے جب مریض کمر درد کے ساتھ ٹانگ یا پاؤں میں سنسناہٹ، جلن یا کمزوری محسوس کرے۔

🔹 ٹیسٹ کرنے کا طریقہ

1. مریض سیدھا لیٹتا ہے۔

2. معالج (ڈاکٹر) مریض کی ٹانگ کو گھٹنے سیدھے رکھتے ہوئے آہستہ آہستہ اوپر اٹھاتا ہے۔

3. اگر 40–70 ڈگری زاویہ پر اٹھانے سے کمر سے ٹانگ تک درد ہو تو ٹیسٹ مثبت مانا جاتا ہے۔

4. پاؤں کو اوپر موڑنے (Dorsiflexion) سے اگر درد مزید بڑھ جائے تو یہ sciatic nerve irritation کی مزید تصدیق کرتا ہے۔

🔹 مثبت ٹیسٹ کے نتائج (Implications)

L4-L5 یا L5-S1 ہرنی ایٹڈ ڈسک میں زیادہ تر یہ ٹیسٹ مثبت ہوتا ہے۔

Sciatica (ٹانگ میں جلن اور کھنچاؤ) کی بڑی نشانی ہے۔

یہ ٹیسٹ بتاتا ہے کہ مسئلہ محض پٹھوں (muscles) کا نہیں بلکہ نرو (nerve root) کے دباؤ کا ہے۔

🔹 اضافی معلومات
اگر درد صرف کمر میں ہو اور ٹانگ میں نہ پھیلے تو یہ پٹھوں یا ligaments کا مسئلہ ہوسکتا ہے۔

اگر ٹانگ میں بجلی کے جھٹکے جیسا درد نیچے پاؤں تک جائے تو یہ sciatic nerve compression کی واضح علامت ہے۔ (منقول)
#حجامہ #تھراپی

شوگر کے مریضوں کا لبلبہ کام کرنا بند نہیں کرتا! جدید تحقیق! ۔شوگر کے مرض کے بارے میں عرض کرتا چلوں کہ اب سے کچھ عرصہ پہل...
11/10/2025

شوگر کے مریضوں کا لبلبہ کام کرنا بند نہیں کرتا!
جدید تحقیق!

۔
شوگر کے مرض کے بارے میں عرض کرتا چلوں کہ اب سے کچھ عرصہ پہلے تک میڈیکل سائنس کے مطابق شوگر کا مرض اس لئے ہوتا ہے کہ انسان کا لبلبہ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔

شوگر کے مریضوں کا لبلبہ کام کرنا بند نہیں کرتا!
جدید تحقیق!
شوگر کے مرض کے بارے میں عرض کرتا چلوں کہ اب سے کچھ عرصہ پہلے تک میڈیکل سائنس کے مطابق شوگر کا مرض اس لئے ہوتا ہے کہ انسان کا لبلبہ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے
یہ ہمارے خون میں گلوکوز کی مقدار کو مناسب نارمل لیول پر رکھتی ہے۔ جبکہ بعض ماہرین ہمیشہ یہ کہتے تھے کہ لبلبہ کام کرنا نہیں چھوڑتا بلکہ شوگر کی کچھ دوسری وجوہات ہوتی ہیں۔
۔
بہرحال اب میڈیکل کی جدید ترین ریسرچ کے مطابق شوگر کے مرض میں انسانی لبلبہ واقعی کام کرنا بند نہیں کرتا بلکہ مسلسل انسولین خارج کرتا رہتا ہے لیکن کولیسٹرول کی طرح چربی کا ایک خاص قسم کا مالیکیول سیرامائڈ Ceramide لبلبے کی نالیوں میں جم کر انسولین کا راستہ بند کردیتا ہے جس کی وجہ سے ذیابیطس کا مرض ہوتا ہے جس میں مریض کو روزانہ انجکشن کی صورت انسولین لینا پڑتی ہے۔
۔
مطالعہ کی کثرت سے ملنے والے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ سیرامائیڈ کم از کم تین مختلف میکانزم کے ذریعے ذیابیطس میں اہم کردار ادا کرتا ہے:
▫️لبلبے کے β-سیل اپوپٹوس کو دلانا،
▫️انسولین کے خلاف مزاحمت میں اضافہ،
▫️اور انسولین جین کے اظہار کو کم کرنا۔
۔
‏اگر دواؤں کی مدد سے یہ ceramide ختم کردیا جائے تو شوگر کا مرض ختم ہو کر انسان دوبارہ نارمل زندگی گزار سکتا ہے۔
آجکل لیبارٹریز میں چوہوں پر تجربات جاری ہیں اور ذیابیطس کے مریض بہت جلد خوشخبری سنیں گے۔ ڈاکٹر حضرات جسم سے یہ سیرامائڈ نامی چربی ختم کرنے کی ادویات بنانے میں تقریبا” کامیاب ہوچکے ہیں اور بہت جلد یہ مرض صرف ماضی کا حصہ بن جائے گا۔
۔
کچھ ایسی ھربز یعنی جڑی بوٹیاں بھی ہیں جو یہ بلاکیج ختم کرکے سیراماءڈ کو ختم کردیتی ہیں۔ لیکن اس کے لئے کم از کم چھ ماہ پابندی سے دوالینی چاہئے۔
ڈاکٹر حضرات سیرامائڈ کے خاتمے کے لئے کچھ غذائیں بھی تجویز کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر حضرات ہمیشہ سے شوگر کے مریضوں کے لئے لمبی واک تجویز کرتے رہے ہیں۔ تو بس جسم میں کسی بھی قسم کی مضر صحت چربی جمع نہ ہونے دیں۔ ہم جو غذائیں لے رہے ہیں ان میں یہ ریفائنڈ آئل سب سے زیادہ مضر اور جسم میں پیچیدہ و خطرناک بیماریوں کا سبب ہے۔
۔
ریفائنڈ آٹا، ریفائنڈ شوگر، ریفائنڈ آئل اور ریفائنڈ نمک۔ ان چار چیزوں کو اپنی زندگی سے نکال دیجئے۔ کیونکہ اگر آپ صحتمند ہیں تو یہ تمام اشیا ہضم ہوکر جسم میں گلوکوز کی صورت جمع ہوتی رہتی ہیں اور جب سے گلوکوز جو کہ ہمارے لیور میں اسٹور ہوتا رہتا ہے ایک خاص مقدار سے بڑھ جاتا ہے تو پھر یہ چکنائ یا چربی کی صورت جسم میں اکٹھا ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ یہی چربی فیٹی لیور بناتی ہے۔ خون میں خراب کولیسٹرول بنتا ہے جس کی وجہ سے جسم میں موجود تمام نالیاں تنگ ہونے لگتی ہیں۔ بلڈ پریشر، قلب اور شوگر کے امراض پیدا ہوجاتے ہیں۔ جسم کی تمام تر بیماریوں کی دو وجوھات ہوتی ہیں وہ یہ کہ یا تو جسم کی کوئ نالی یا نالیاں ضرورت سے زیادہ کشادہ ہوجائیں یا پھر جسم کی نالیاں نارمل کے مقابلے سکڑ کر چھوٹی ہوجائیں یا کوئ نالی بند ہوجائے۔ اب ہم یہی دیکھتے ہیں کہ امراض قلب دل کی نالیوں کے تنگ ہونے سے پیش آتے ہیں۔ اب شوگر کا بھی پتہ چل گیا کہ یہ لبلبے کی نالیوں میں تنگی یا رکاوٹ کی وجہ سے ہوتا ہے۔
۔
اب اگر ایک نارمل بندہ ہےجس کو شوگر کی بیماری نہیں اور مناسب مقدار میں اعتدال کے ساتھ میٹھا کھاتا ہے تو اس کو شوگر کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

لیکن بے تحاشہ میٹھا کھانا اور ریفائنڈ آٹا یعنی میدہ سے بنی اشیا کھاتا ہے تو لامحالہ اس کے جسم میں گلوکوز کی مقدار بڑھے گی۔ پھر یہ گلوکوز چربی بنے گا اور پھر یہ چربی مختلف بیماریوں کا سبب بنے گی۔

پتے کی پتھری بھی دراصل کولیسٹرول یا جمی ہوئی چکنائی ہی ہوتی ہے۔ جگر کے خلیے سیرامائڈز، فیٹی لپڈ مالیکیولز پیدا کرتے ہیں جو انسولین کے خلاف مزاحمت کا سبب بن سکتے ہیں۔
۔
کچی سبزیوں کا سلاد، روغن زیتون کی ڈریسنگ کے ساتھ لازمی کھائیں، ہر طرح کے پھل کھائیں۔خاص طور پر امرود، بیر، جامن، لوکاٹ، کینو، گریپ فروٹ اور انار ، ایواکیڈو، شہتوت انجیر وغیرہ۔

سبزیوں میں کچی بروکلی، بندگوبھی،السی کے بیج، سیب کا سرکہ، اس کے علاوہ بغیر چھنے دیسی آٹے کی روٹی کھائیں۔

خاص طور پر جوار باجرہ اور جو کو ضرور اپنی غذا کا حصہ بنائیں۔ یہ جوار باجرہ اور جو خون سے کولیسٹرول اس طرح چوس لیتے ہیں جیسے کہ اسفنج پانی چوس لیتا ہے۔ آجکل جو ملٹی گرین آٹا ہے اس میں یہ تمام اناج شامل ہوتے ہیں۔ کالے چنے کا آٹا بھی بہت بہترین ہے۔

گلابی نمک کھیوڑہ والا استعمال کریں۔ آئل صرف سرسوں یا تل کا یا زیتون کا استعمال کریں۔ میٹھے میں گڑ دیسی شکر یا شہد وغیرہ استعمال کریں تو یہ صحتمند جسم کی ضمانت ہے۔
۔
چاول بھی کھائیں لیکن ایسے چاول جن کو ابال کر ان کا پانی نکال دیا گیا ہو۔ یاد رکھئے کہ سب سے زیادہ خطرناک چیز فرائی شدہ کاربوھائیڈریٹس ہیں۔ جیسے کہ میدہ یا سفید آٹے کے پراٹھے۔ پُوریاں، یہ سارے کا سارا جسم میں جاکر گلوکوز اور چکنائی بنے گا۔

اسی طرح فرنچ فرائز، سموسے وغیرہ۔ تلے ہوئے یا فرائی شدہ کاربوھائڈریٹس اپنی زندگی سے نکال دیجئے۔ یہ تمام سنیکس کبھی کبھار کھانے میں کوئ حرج نہیں مگر ان کو روز کھانا یا عادت بنا لینا ہرگز درست نہیں۔

اسی طرح پلاؤ بریانی جس میں چاولوں کے ساتھ چکنائ شامل ہوتی ہے۔ یہ بھی کبھی کبھار لینا بہتر ہے۔ اگر افورڈ کرسکتے ہیں تو ائر فرائر استعمال کیجئے جس میں بغیر گھی تیل کے فرائی کرسکتے ہیں۔
۔
روزانہ کم از کم چالیس منٹ کی واک یا سائیکل چلانا لازم کرلیجئے۔

خالص زیتون کا تیل دو چمچ پینا اپنی عادت بنالیں۔ یہ ہمارے جسم سے خراب کولیسٹرول ختم کردیتا ہے۔

شوگر کے مریضوں کے لئے بہرحال خوشخبری ہے کہ جلد سیرامائڈ کو ختم کرنے والی دوا آنے والی ہے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو تمام بیماریوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین-(منقول)

Gall bladder Stone🌿 پتّے میں پتھری نہیں بلکہ جما ہوا صفرا ہوتا ہے 🌿اکثر لوگوں کو کہا جاتا ہے کہ پتہ میں "پتھری" ہے، حالا...
26/09/2025

Gall bladder Stone
🌿 پتّے میں پتھری نہیں بلکہ جما
ہوا صفرا ہوتا ہے 🌿

اکثر لوگوں کو کہا جاتا ہے کہ پتہ میں "پتھری" ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ جما ہوا صفرا ہوتا ہے جو جگر کے ٹھنڈا ہونے کی وجہ سے پتہ میں جم جاتا ہے اور پتھری کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
یہ دراصل اصلی پتھری نہیں ہوتی۔

❌ ڈاکٹر حضرات اکثر پتہ نکالنے کی تجویز دیتے ہیں، جو مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے۔
👉 اللہ تعالیٰ نے پتہ انسان کے جسم میں کسی حکمت سے رکھا ہے، اسے کاٹ دینا علاج نہیں۔
جیسا کہ اگر انگلی میں درد ہو تو کیا اسے کاٹ دینا چاہیے یا علاج کرنا چاہیے؟
یقیناً علاج کرنا چاہیے۔

✨ آئیے علاج کی طرف آتے ہیں:

🌿 ھوالشافی 🌿
ایک چمچ زیتون کا تیل
ایک چمچ لیموں کا رس
ایک چٹکی سہانگ بریاں

ان سب کو اچھی طرح ملا کر صبح نہار منہ کھائیں۔
اس کے بعد ایک گھنٹے تک پانی بھی نہ پئیں اور نہ ہی کچھ کھائیں۔
پھر ایک گھنٹے بعد ناشتہ کریں۔

📅 اس عمل کو 15 سے 20 دن جاری رکھیں اور اس کے بعد دوبارہ ٹیسٹ کروائیں، ان شاء اللہ جما ہوا صفرا ختم ہو جائے گا۔

فیٹی لیور اور امراضِ جگر کا لاجواب نسخہعلامات:🔹 جگر پر چربی چڑھ جانا🔹 دل کا بار بار خراب ہونا🔹 منہ کا ذائقہ کڑوا ہونا🔹 م...
25/09/2025

فیٹی لیور اور امراضِ جگر کا لاجواب نسخہ

علامات:
🔹 جگر پر چربی چڑھ جانا
🔹 دل کا بار بار خراب ہونا
🔹 منہ کا ذائقہ کڑوا ہونا
🔹 مقام جگر پر ابھار، سوجن یا درد رہنا
🔹 کسی چیز کا ذائقہ اچھا نہ لگنا
🔹 پیشاب کی رنگت میں تبدیلی
🔹 جسم پر خارش ہونا
🔹 پیٹ میں سوجن یا بھاری پن

ھوالشافی:
سنڈھ (سونٹھ) 30 گرام
نوشادر ٹھیکری 40 گرام
ریوند خطائی 40 گرام
سنا مکی 40 گرام
فلفل سیاہ 10 گرام
ہلدی ثابت 40 گرام

بنانے کا طریقہ:-
تمام ادویات کو اچھی طرح صاف کر کے باریک پیس لیں اور سفوف بنا لیں۔
طریقہ استعمال:
آدھی چمچ سے ایک چمچ تک، دن میں دو بار تازہ پانی کے ساتھ استعمال کریں۔
مزید بہتر نتائج کے لیے معجون دبیدالود بھی ساتھ استعمال کی جا سکتی ہے۔
فوائد:
✅ جگر پر چربی (فیٹی لیور) ختم کرے
✅ جگر کی خرابی اور سوجن دور کرے
✅ جگر کی اصل ورکنگ بحال کرے
✅ ہاضمہ بہتر بنائے
✅ منہ کے ذائقہ اور بھوک کو درست کرے
✅ خون صاف کرے اور خارش ختم کرے

19/09/2025

"میں میگنیشیم ہوں۔"

دروازے پر دستک ہوئی
تو میں نے اندر سے پوچھا، "کون ہے؟"
جواب آیا، "میں میگنیشیم ہوں۔"
یہ نام میرے لیے نیا نہ تھا، مگر حیرانی ضرور ہوئی کہ میگنیشیم کیسے دروازے پر آ سکتا ہے؟ میں نے دروازہ کھولا، تو سامنے ایک بارعب مگر مہذب شخصیت کھڑی تھی۔ چہرے پر وقار، انداز میں شائستگی، جیسے کوئی بزرگ دانشور ہو۔ انہیں اندر آنے کی دعوت دی اور ڈرائنگ روم میں لے آیا۔

"آپ کون ہیں؟" اپنا مکمّل تعارف کرائیں
میں نے دلچسپی سے پوچھا۔

وہ مسکرا کر بولے، "میں آپ کے جسم کا ایک لازمی حصہ ہوں۔ آپ کی ہر سانس، ہر حرکت، ہر سوچ میں میری شمولیت ہے۔ مگر افسوس کہ اکثر لوگ مجھے نظر انداز کر دیتے ہیں۔"

میں نے حیرانی سے پوچھا،
"کیا میں نے آپ کو کبھی نظر انداز کیا ہے؟"
"بالکل!" وہ بولے، "کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ بستر پر کروٹ لیں اور اچانک گردن میں بل پڑ جائے؟"
میں نے سر ہلایا،
"جی، ایسا تو آج صبح ہی ہوا ہے ہے۔"
"یہی تو میری کمی کی سب سے بڑی نشانی ہے۔"
وہ سنجیدگی سے بولے۔ "جب میں کم ہو جاتا ہوں، تو جسم میں کھچاؤ پیدا ہوتا ہے، پٹھے اکڑنے لگتے ہیں، نیند متاثر ہوتی ہے، ذہنی دباؤ بڑھ جاتا ہے، اور دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو سکتی ہے۔ مگر پھر بھی لوگ مجھے اہمیت نہیں دیتے۔"

"کیا آپ صرف پٹھوں کے لیے ضروری ہیں؟"
میں نے پوچھا۔ "نہیں، میں آپ کے دماغ کے لیے بھی اتنا ہی اہم ہوں جتنا جسم کے لیے۔" وہ بولے، "اگر آپ کو بےچینی محسوس ہو، چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ آ جائے، یا ذہن الجھا ہوا لگے، تو اس کا مطلب ہے کہ میں کم ہو چکا ہوں۔ میں آپ کے دل، گردوں، ہڈیوں اور حتیٰ کہ آپ کی نیند کے لیے بھی بےحد ضروری ہوں۔"

"تو پھر آپ سب سے زیادہ کہاں پائے جاتے ہیں؟"
میں نے تجسس سے پوچھا۔
"میں قدرتی طور پر کئی غذاؤں میں پایا جاتا ہوں۔ سب سے زیادہ میرا خزانہ مغز کدو، یعنی پمپکن سیڈ میں ہے۔ اس کے علاوہ میں ہرے پتوں والی سبزیوں، بادام، اخروٹ، چیا سیڈز، کیلے، مچھلی، ڈارک چاکلیٹ اور دالوں میں بھی پایا جاتا ہوں۔ مگر بدقسمتی سے آج کل کی خوراک میں میری مقدار کم ہو چکی ہے، اسی لیے اکثر لوگ میری کمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔"

"اگر کوئی آپ کی کمی کا شکار
ہو جائے تو اس کے لیے کیا حل ہے؟"
"سب سے پہلے تو قدرتی غذاؤں سے میری مقدار پوری کرنی چاہیے۔ اگر پھر بھی کمی برقرار رہے تو میرے پانچ اور بھائی بھی ہیں، یعنی مختلف قسم کے میگنیشیم سپلیمنٹس۔ جیسے میگنیشیم گلیسینیٹ، جو ذہنی سکون کے لیے بہترین ہے۔ میگنیشیم سٹریٹ، جو معدے کے مسائل حل کرتا ہے۔ میگنیشیم مالیٹ، جو پٹھوں کی کمزوری دور کرتا ہے۔ میگنیشیم تھیریونیٹ، جو دماغی کارکردگی بہتر بناتا ہے۔ اور میگنیشیم کلورائیڈ، جو جِلد اور جوڑوں کے لیے مفید ہے۔ مگر یاد رہے، کسی بھی سپلیمنٹ کا استعمال کرتے وقت ہمیشہ ماہر معالج سے مشورہ اور مقدار کا خیال رکھنا ضروری ہے۔"

"یہ بتائیں،
کیا آپ کی کمی کا تعلق نیند سے بھی ہے؟"
"بےشک! اگر آپ کو نیند آنے میں مشکل ہو، یا رات میں بار بار آنکھ کھل جائے، تو یہ بھی میری کمی کی نشانی ہو سکتی ہے۔ میں جسم کو پر سکون رکھتا ہوں، نیند کے لیے ضروری ہارمون کو متوازن رکھتا ہوں، اور دن بھر کی تھکن اتارنے میں مدد دیتا ہوں۔"

"تو آپ کے بغیر زندگی کیسی ہوگی؟"
میں نے سوال کیا۔
"تصور کریں، اگر میں نہ ہوں تو کیا ہوگا؟
آپ کی ہڈیاں کمزور ہو جائیں گی، ذہنی دباؤ بڑھ جائے گا، نیند متاثر ہوگی، توانائی کم ہو جائے گی، اور زندگی کا لطف جاتا رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ قدرت نے مجھے آپ کے جسم میں شامل کیا ہے تاکہ آپ کی صحت بہترین رہے۔"

"آپ کی یہ باتیں بہت دلچسپ ہیں،
مگر لوگ آپ کو نظر انداز کیوں کرتے ہیں؟"
وہ مسکرا کر بولے، "شاید اس لیے کہ میں نظر نہیں آتا، بس خاموشی سے اپنا کام کرتا ہوں۔ مگر جب میری کمی ہوتی ہے، تب لوگوں کو احساس ہوتا ہے کہ میں کتنا ضروری ہوں۔"

میں نے گہری سانس لی اور کہا،
"واقعی، آج آپ سے مل کر اندازہ ہوا کہ آپ کتنے اہم ہیں۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ آپ کو نظر انداز نہیں کروں گا۔"

میگنیشیم نے مسکراتے ہوئے ہاتھ بڑھایا،
"یہی تو میں چاہتا تھا اور یہی بتانے آیا تھا کہ صحت مند زندگی کا راز یہی ہے کہ آپ اپنی خوراک اور طرزِ زندگی میں میری مقدار کا خیال رکھیں۔"

یہ کہہ کر وہ جانے لگے تو میں نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا اب ہم آپ کو کہیں نہیں جانے دیں گے آپ یہیں رہیں گے ہمارے ساتھ..

اللہ ، آپ کو آسانیاں عطا فرمائے
اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے.
Copypaste

اسلام علیکم ایک مشھور موذی مرض کا علاج جو میں بڑی کامیابی سے کر رھا ھوں اس کے بارے میں چند معلومات آپ کے گوش گذار کر رھا...
17/09/2025

اسلام علیکم
ایک مشھور موذی مرض کا علاج جو میں بڑی
کامیابی سے کر رھا ھوں
اس کے بارے میں چند معلومات آپ کے
گوش گذار کر رھا ھوں،
تاکہ اس میں مبتلا افراد علاج کرواکر راحت
پا سکیں،،،،،
https://share.google/YeynLJahJUaA44cTH
حکیم ریحان سالک راولپنڈی

انسانی بدن کی سب سے لمبی عصب کے
درد سے چھٹکارہ کیسے پایا جائے؟
دورجدید میں شیاٹیکا (عرق النسا) کا
درد عام ہو چکا۔اس درد میں زیادہ تر
خواتین مبتلا ہوتی ہیں، اسی لیے اسے
عرق النسا کہا جانے لگا۔
اسی نام کی وجہ سے لوگوں میں یہ غلط
فہمی پھیل گئی کہ مرد اس تکلیف میں
مبتلا نہیں ہوتے۔
ایسا نہیں ہے، مرد بھی اس درد کا شکار
ہوتے ہیں مگر خواتین کی نسبت ان کی
تعداد کم ہے۔ یہ درد پیٹرو (Pelvis) سے
شروع ہو کر ٹانگ کے پچھلے حصے سے
ہوتا ہوا ٹخنے تک جاتا ہے۔
یہ ایک عصبی درد ہے کیونکہ یہ پیٹرو سے
شروع ہونے والی ایک عصب (Nerve)
شیاٹیکا (Sciatic) میں جنم لیتا ہے۔
یہ انسانی جسم میں پائی جانے والی
سب سے لمبی عصب ہے۔
یہ ریڑھ کی ہڈی سے نکل کر پیر کی ایڑی
تک جاتی ہے۔
درد عموماً ایک ٹانگ میں ہوتا ہے اور اس
کی شدت کم یا زیادہ ہوتی رہتی ہے۔
تکلیف میں مبتلا مریض مسلسل بے
چینی کا شکار رہتا ہے۔
بعض اوقات متاثرہ ٹانگ بھاری ہو جاتی ہے
اور مریض کے لیے اس پر بوجھ ڈالنا مشکل
ہو جاتا ہے۔ متاثرہ ٹانگ میں کمزوری محسوس
ہوتی ہے۔ اکثر ٹانگ سن ہو جاتی ہے۔
بیٹھنے اور کھڑے رہنے سے بھی درد کی شدت
بڑھتی ہے۔ اس درد کا خطرہ عموماً درمیانی
عمر میں زیادہ ہوتا ہے۔
امریکن اکیڈمی آف آرتھوپیڈک سرجنز کے
مطابق تیس سے پچاس برس کی عمر میں
مریض اس کا زیادہ نشانہ بنتے ہیں۔
شیاٹیکا کی تکلیف مختلف وجوہ کی بنا
پر جنم لیتی ہے۔
لہٰذا علاج سے قبل تشخیص بے حد ضروری ہے۔
کمر کو شدید جھٹکا لگنے، ریڑھ کی ہڈی کے
مہرے ہل جانے، مہروں کے درمیان خلا کم
یا زیادہ ہونے، کولھے کے پٹھوں کی سوزش،
قبض، زیادہ دیر نمدار جگہ پر بیٹھنے،
بہت زیادہ بوجھ اٹھانے، اعصابی تنائو،
مسلسل ایک ہی کروٹ لیٹے رہنے،
غلط طریقوں سے چلنے، بیٹھنے، اٹھنے،
کسی حادثے کے باعث، غرض وہ تمام
عوامل جو شیاٹیکا عصب پر بوجھ ڈالیں
اور تنائو کا باعث بنیں، وجہ درد بن سکتے ہیں۔
عمر کے ساتھ ہونے والی جسمانی توڑ پھوڑ بھی
اس میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔
نیز اونچی ایڑی پہننے والی خواتین،
نرم گدوں پر سونے والے اور فربہ لوگ بھی
اس درد کا شکار آسانی سے ہو جاتے ہیں
کیونکہ ان کی شیاٹیکا عصب پہ مسلسل
دبائو پڑتا رہتا ہے۔
شیاٹیکا کا مریض عموماً ٹانگ گھسیٹ کر
چلتا ہے۔ متاثرہ ٹانگ میں اکثر بل بھی پڑ
جاتا ہے اور نسیں اکڑ جاتی ہیں۔
مریض کرسی پر ٹانگ لٹکا کر بیٹھا ہو اور
گھٹنے کو دبایا جائے تو اْسے ناقابل برداشت
درد محسوس ہوتا ہے۔
بچاراٹانگ کو بآسانی پیٹ کی طرف موڑ نہیں
سکتا کیونکہ کھچائو سے مزید تکلیف ہوتی ہے۔
ذرا سی بھی ٹھنڈک درد بڑھا دیتی ہے۔
عرق النسا کے درد میں جس قدر دوا کی
ضرورت ہوتی ہے، اتنا ہی پرہیز اور احتیاط
بھی درکار ہے۔
دوا، پرہیز اور احتیاط سے عموماً چھے
ہفتوں میں مریض صحت یاب ہو جاتا ہے۔
سب سے پہلے تو مریض کو اپنے اٹھنے،
بیٹھنے، چلنے اور سونے کے طریقے بدلنے
چاہئیں۔
مثال کے طور پر وہ بیٹھنے اور سونے کے
دوران اپنی پوزیشن بدلتا رہے۔
زیادہ دیر کھڑے ہونے اور زیادہ دیر بیٹھنے
سے گریز کرے۔
سیدھا سوتے وقت تکیہ اپنے گھٹنوں کے
نیچے رکھے۔ کروٹ لے کر لیٹے‘ تو ٹانگیں
ذرا موڑ کر گھٹنوں کے درمیان تکیہ رکھ
کے سوئے۔ اس سے ریڑھ کی ہڈی اور
اعصاب پر کم دبائو پڑتا ہے۔
بیٹھتے وقت کرسی کے پیچھے تکیہ اور
کشن وغیرہ رکھے تاکہ کمر کو سہارا ملتا رہے۔
عرق النسا سے چھٹکارا پانے میں غذا کا کردار
بہت اہم ہے۔ مریض ایسی غذا کھائے جو غذائیت
سے بھرپور ہو اورخصوصاً اْسے قبض سے بچائے۔
اس بیماری کے باعث شیاٹیکا عصب پر مزید
دبائو پڑتا ہے۔
کیلشیم و وٹامن سے بھرپور غذا اعصاب اور
پٹھوں کو تقویت بخشتی اور درد سے بچاتی ہے۔
پوٹاشیم بھی پٹھوں میں لچک پیدا کرنے میں
معاون بنتا ہے۔ چناںچہ دہی، دلیہ، مغزیات، پھل
اور تازہ سبزیاں اپنی غذا میں شامل رکھیے۔
گاجر اور چقندر کا رس نوش کیجیے۔
یہ شیاٹیکا سے جلد نجات دلانے میں مدد کرے گا۔
پانی خوب پیجئے۔ ادرک، لہسن، ہلدی کو اپنی غذا
میں شامل رکھیے۔
یہ جڑی بوٹیاں سوزش کم کر کے درد سے آرام دیتی ہیں۔ تلسی، روز میری، بابونہ وغیرہ کی چائے بھی
اس مرض میں مفید ہے۔
شیاٹیکا کا علاج بس لیٹے رہنے نہیں بلکہ خود
کو متحرک رکھنے میں مضمر ہے۔
کیونکہ اس سے اعصاب اور پٹھوں کو خون
اور غذائی اجزا کی فراہمی بہتر طریقے سے
ہوتی ہے۔ روزانہ ۲۰ سے ۴۰منٹ تک پیدل ضرور
چلیے۔ ورزش بھی آرام دینے میں معاون ہوتی ہے۔
بشرطیکہ ماہر ڈاکٹر یا فزیوتھراپسٹ باقاعدہ
تشخیص کے بعد اسے تجویز کرے۔
اس مرض میں غلط ورزش درد بڑھا دیتی ہے۔
لہٰذا احتیاط بہت ضروری ہے۔
مگر کچھ ورزشیں تمام مریضوں کے لیے
مفید ثابت ہوتی ہیں۔
ان کی تفصیل درج ذیل ہے:
۱۔ کمر کے بل لیٹ جائیے اور اپنی بائیں ٹانگ
سینے تک موڑ کر لائیے اس طرح کہ گھٹنا آپ
کے سینے کو چھو لے۔ اب ۱۰ تک گنتی گنیے۔
پھر دوسری ٹانگ کے ساتھ یہ عمل دہرائیے۔
یہ ورزش دونوں ٹانگوں کے ساتھ تقریباً پانچ
بار دہرائیے پھر دونوں ٹانگیں اکٹھی سینے
تک لے جائیے۔
۲۔ کمر کے بل لیٹیے اور اپنی ٹانگیں دیوار پر
بالکل سیدھی اپنے سامنے اٹھائیے۔
اس حالت میں ۱۵سیکنڈ تک رہیے۔
یہ ورزش بھی پانچ بار دہرائیے۔
ورزش کے علاوہ سانس کی مشقیں، یوگا،
آکوپنکچر اور آکو پریشر بھی شیاٹیکا کے
علاج میں معاون ہیں۔
اگر وجہ ایسی ہو جسے آپریشن کے ذریعے
دور کیا جا سکے
(جیسا کہ مہروں کے درمیان پٹھے دب جانا‘ ڈسک سِرک جانا وغیرہ)
تو وہ بھی تجویزکیا جاتا ہے۔
ایپی ڈیورل سٹرائیڈانجکشن
( Injection Steriod Epidural)
بھی درد سے نجات پانے میں مفید ہے،
مگر اس کا اثر چند ہفتے یا مہینے تک رہتا ہے۔
اور یہ ہر ایک پر اثرنہیں کرتا اور اس کے
مضر اثرات بھی ہیں۔
مثلاً پٹھوں اور اعصاب کی کمزوری۔

۳۔مساج مالش آکوپریشر ریکی بھی شیاٹیکا کا ایک
مستند علاج کیا جاتا ھے۔
جائے تو چند دن میں درد جاتا رہتا ہے۔
زیتون کے تیل کی مالش بھی بہتر ہے
فوری علاج اور درد میں آرام کیلئے ہم حجامہ کرتے ہیں اور دواء کھانے کےلئے اور مالش کیلئے دیتے ہیں ۔ آللہ بہت جلد شفاء یاب کرتا ہے
علاج کیلے رابطہ نمبر
03215545963
03115545963
https://share.google/YeynLJahJUaA44cTH

*مردانہ قوت اور دل کی صحت کے درمیان گہرا تعلق*۔ خاص طور پر "Er****on" (انعطاف) اور "Heart Efficiency" (دل کی کارکردگی) ک...
16/09/2025

*مردانہ قوت اور دل کی صحت کے درمیان گہرا تعلق*

۔ خاص طور پر "Er****on" (انعطاف) اور "Heart Efficiency" (دل کی کارکردگی) کے باہمی تعلق کے متعلق ذیل میں اس کی تفصیل پیش ہے:

۱۔ بنیادی تعلق: خون کی گردش (Blood Circulation)

دل اور عضو تناسل دونوں کا تعلق خون کی گردش کے نظام (Cardiovascular System) سے ہے۔

· دل (Heart): دل پورے جسم میں خون پمپ کرنے کی پمپ ہاؤس ہے۔ اس کی کارکردگی کا مطلب ہے کہ وہ کتنی موثر طریقے سے آکسیجن سے بھرپور خون کو شریانوں کے ذریعے جسم کے ہر حصے تک پہنچاتا ہے۔
· انعطاف (Er****on): مردانہ عضو تناسل میں انعطاف کا عمل بھی خون کی گردش پر منحصر ہے۔ جب جنسی تحریک ملتی ہے، تو دماغ سے اعصاب کے ذریعے عضو تک сигیل جاتے ہیں۔ اس کے جواب میں، عضو کی شریانیں پھیل جاتی ہیں اور زیادہ خون عضو کے اسفنجی بافتوں (Corpora Cavernosa) میں داخل ہوتا ہے۔ ساتھ ہی، خون کی نکاسی کرنے والی رگیں سکڑ جاتی ہیں، جس سے خون عضو میں پھنس جاتا ہے اور سخت نعوذ بنتا ہے۔

نتیجہ: اگر دل کی کارکردگی اچھی نہ ہو (جیسے دل کی بیماری، ہائی بلڈ پریشر، یا سخت شریانیں)، تو عضو تناسل تک اتنا خون نہیں پہنچ پاتا جتنا کہ ایک مضبوط انعطاف کے لیے درکار ہوتا ہے۔ اس لیے، اعضائی تناسل کو خون پہنچانے والی شریانیں دل تک خون پہنچانے والی شریانوں کا ایک طرح سے "مینیچر ماڈل" ہیں۔ اگر عضو کی شریانوں میں خون کی روانی متاثر ہو رہی ہے، تو یہ ایک انتباہی علامت ہو سکتی ہے کہ دل کی بڑی شریانیں بھی سخت ہو رہی ہیں یا ان میں رکاوٹیں بن رہی ہیں۔

۲۔ بنیادی وجوہات اور خطرے کے عوامل (Common Risk Factors)

دل کی بیماری اور عضو تناسل میں خرابی (Erectile Dysfunction - ED) دونوں کی بنیادی وجوہات اکثر ایک جیسی ہوتی ہیں:

· ** atherosclerosis (شریانوں کا سخت ہونا):** یہ سب سے بڑا مشترکہ عامل ہے۔ کولیسٹرول اور چربی کی تہیں شریانوں کے اندر جم جاتی ہیں، انہیں تنگ اور سخت کر دیتی ہیں۔ یہ عمل دل کی شریانوں (Coronary Arteries) کو متاثر کرے تو ہارٹ اٹیک کا خطرہ ہوتا ہے، اور اگر عضو تناسل کی شریانوں کو متاثر کرے تو انعطاف میں دشواری ہوتی ہے۔
· ہائی بلڈ پریشر (High Blood Pressure): بلند فشار خون شریانوں کی دیواروں کو نقصان پہنچاتا ہے، انہیں کم لچکدار بنا دیتا ہے۔ اس سے دونوں اعضاء کے افعال متاثر ہوتے ہیں۔
· ذیابیطس (Diabetes): شوگر کی زیادہ مقدار اعصاب اور خون کی نالیوں دونوں کو شدید نقصان پہنچاتی ہے۔ یہ ED اور دل کی بیماری دونوں کا ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔
· تمباکو نوشی (Smoking): سگریٹ میں موجود نکوٹین خون کی نالیوں کو سکڑتی ہے اور خون کے بہاؤ کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔
· موٹاپا (Obesity) اور غیر فعال طرز زندگی (Sedentary Lifestyle): یہ کولیسٹرول، بلڈ پریشر اور ذیابیطس کے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔
· ہائی کولیسٹرول (High Cholesterol)
· تناؤ اور اضطراب (Stress & Anxiety): ذہنی تناؤ بلڈ پریشر بڑھاتا ہے اور بعض ہارمونز کو متاثر کرکے دونوں مسائل میں اضافہ کر سکتا ہے۔

۳۔ انعطاف کی خرابی (ED) دل کی بیماری کی ایک ابتدائی warning sign ہو سکتی ہے۔

تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ:

· عضو تناسل کی شریانیں دل کی شریانوں کے مقابلے میں چھوٹی اور تنگ ہوتی ہیں۔
· اس لیے، atherosclerosis کا اثر سب سے پہلے ان چھوٹی شریانوں پر ظاہر ہوتا ہے۔
· لہٰذا، انعطاف میں دشواری (ED) اکثر سینے میں درد (Angina) یا ہارٹ اٹیک سے ۲ سے ۳ سال پہلے ظاہر ہوتی ہے۔ اگر ED کی وجہ خون کی گردش کا مسئلہ ہے، تو یہ مستقبل قریب میں دل کے کسی بڑے واقعے کی ایک اہم پیشگی علامت ہو سکتی ہے۔

۴۔ علاج اور احتیاطی تدابیر (Treatment & Prevention)

خوش قسمتی سے، دونوں مسائل کو بہتر بنانے یا روکنے کے لیے اقدامات بھی ایک جیسے ہیں:

· طرز زندگی میں تبدیلی (Lifestyle Modifications): یہ سب سے اہم اور بنیادی علاج ہے۔
· ورزش: باقاعدہ aerobic ورزش (تیز چہل قدمی، جاگنگ، تیراکی) دل اور خون کی گردش کو بہتر بناتی ہے۔
· متوازن غذا: پھل، سبزیاں، سارا اناج، اور کم چربی والی غذائیں کھائیں۔ processed foods، میٹھے مشروبات اور saturated fats سے پرہیز کریں۔
· وزن میں کمی: معمول کے وزن کو برقرار رکھنا۔
· تمباکو نوشی ترک کرنا: یہ ایک انتہائی اہم قدم ہے۔
· شراب نوشی سے پرہیز:
· تناؤ کا انتظام: یوگا، مراقبہ، یا مشاورت کے ذریعے تناؤ کو کم کریں۔
· ادویات (Medications):
· ED کی ادویات (جیسے Vi**ra, Cialis): یہ دوائیں دراصل خون کی نالیوں کو relax کرکے خون کے بہاؤ کو بہتر بناتی ہیں۔ اگرچہ یہ عضو تناسل پر کام کرتی ہیں، لیکن یہ دل کی صحت کے لیے بھی مفید ثابت ہو سکتی ہیں (لیکن ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر انہیں استعمال نہ کریں، خاص طور پر اگر آپ دل کی بیماری کے مریض ہیں یا nitrates جیسی دوائیں لے رہے ہیں)۔
· دل کی ادویات: بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور ذیابیطس کنٹرول کرنے والی دوائیں بہتر خون کی گردش کے ذریعے ED کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

خلاصہ:
مردانہ انعطاف (Er****on) اور دل کی کارکردگی (Heart Efficiency) کا گہرا تعلق ہے۔ دونوں صحت مند خون کے بہاؤ پر انحصار کرتے ہیں۔ انعطاف میں مستقل مسئلہ دل کی کسی underlying بیماری کی پہلی warning sign ہو سکتی ہے۔ دونوں مسائل کی بنیادی وجوہات اور خطرے کے عوامل (جیسے تمباکو نوشی، ذیابیطس، بلڈ پریشر، موٹاپا) ایک جیسے ہیں۔ اچھی خبر یہ ہے کہ ایک صحت مند طرز زندگی اپنا کر نہ صرف دل کی صحت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے بلکہ مردانہ صحت کو بھی بحال کیا جا سکتا ہے۔

اہم مشورہ: اگر آپ کو انعطاف کے مسائل کا سامنا ہے، تو اسے نظر انداز نہ کریں۔ یہ صرف ایک علیحدہ مسئلہ نہیں بلکہ آپ کے entire cardiovascular system کی صحت کے بارے میں ایک انتباہ ہو سکتا ہے۔ کسی ماہر امراض urinary system (Urologist) اور دل کے ڈاکٹر (Cardiologist) سے رجوع کریں تاکہ مکمل چیک اپ کرایا جا سکے اور اصل وجہ کا پتہ لگایا جا سکے۔

اسی لیے اکثر لوگ کہتے ہیں میرا دل نہیں مان رہا یا میرے دل کو کچھ ہو رہا ہے۔ دراصل یہ احساس آپ کے دماغ سے نہیں بلکہ آنتوں...
12/09/2025

اسی لیے اکثر لوگ کہتے ہیں میرا دل نہیں مان رہا یا میرے دل کو کچھ ہو رہا ہے۔ دراصل یہ احساس آپ کے دماغ سے نہیں بلکہ آنتوں کے نظام سے آرہا ہوتا ہے۔

اسے "اینٹرک نروس سسٹم" کہا جاتا ہے، جو کہ آنتوں میں موجود خاص قسم کے نیورونز کا ایک جال ہے۔ اس نیورل نظام میں تقریباً 10 کروڑ نیورونز ہوتے ہیں، جو دماغ کے بعد سب سے زیادہ کسی بھی جسمانی حصے میں پائے جاتے ہیں۔
یہ آنتوں کا دماغ خود فیصلے کرتا ہے۔ کہ کب خوراک کو آگے بھیجنا ہے، کب جذب کرنا ہے، اور کب فضلہ نکالنا ہے۔ یہ دماغ کے بغیر بھی کام کر سکتا ہے۔ اگر دماغ سے اس کا رابطہ منقطع بھی ہو جائے تو یہ نظام پھر بھی کام کرتا رہتا ہے۔ یہ ہاضمے کے ساتھ ساتھ مزاج پر بھی اثر انداز ہوتا ہے، کیونکہ آنتیں سیروٹونن جیسا کیمیکل پیدا کرتی ہیں، جو خوشی اور سکون سے جڑا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آنتوں کو دوسرا دماغ کہا جاتا ہے۔ یہ بات نہ صرف سائنسی طور پر حیرت انگیز ہے بلکہ یہ اس بات کی طرف اشارہ بھی ہے کہ جسم کا ہر نظام ایک دوسرے سے کس قدر جُڑا ہوا اور باہمی تعاون سے کام کرتا ہے۔ (سبحان اللہ)

Address

531, B Block Near Madni Masjid Satellite Town
Rawalpindi

Telephone

03215545963

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Herbal Solution posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Herbal Solution:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram