15/03/2026
ازل سے ہی انسان نے جو علاج سیکھا وہ کارآمد علاج تھا اس کے اندر شفاء تھی مکمل علاج تھا بیماری کو ختم کرنا اور انسان کو دوبارہ صحت مند زندگی کی طرف واپس لانا لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ دور میں ایلوپیتھک ادویات کے اندر ایسی کوئی چیز نہیں ہے بھاڑا بنا دیا گیا ہے خدمت کے بجائے ایک مستقل کاروبار میں تبدیل کر دیا ہے۔ آج دنیا بھر میں بے شمار ایسے مریض موجود ہیں جو برسوں سے ایک ہی بیماری کی دوائیں کھا رہے ہیں، مگر بیماری ختم ہونے کے بجائے ان دواؤں کے ساتھ ان کی زندگی کے ساتھ نہ صرف جڑی رہتی ہے بلکہ متعدد مزید بیماریوں کی پیدائش کا سبب بھی ہے مجھے آج بھی اپنے ایک ایسا دوست جو امیر تھا اور ایلوپیتھک ادویات استعمال کرنا پسند کرتا تھا بعد میں اس کی ادویات اتنی زیادہ ہو گئیں جیسے کوئی مکمل کھانے کا پیکج لیکن مسائل جوں کے توں رہے ایسے بے شمار واقعات
ایک بنیادی سوال پیدا کرتے ہیں کہ اگر کسی بیماری کی دوا ایک سال، دو سال یا اس سے بھی زیادہ عرصہ مسلسل کھانی پڑے تو کیا واقعی یہ علاج ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اصل علاج وہ ہوتا ہے جو بیماری کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے نہ کہ مریض کو زندگی بھر دواؤں کا محتاج بنا دے بس کھاتے رہو اور چلتے رہو جب کسی شخص کو کہا جائے کہ وہ سالہا سال ایک ہی دوا لیتا رہے تو اس کا مطلب اکثر یہ ہوتا ہے کہ بیماری کو ختم نہیں کیا جا رہا بلکہ صرف اس کے اثرات کو وقتی طور پر دبایا جا رہا ہے۔
دوسری طرف ایک اور تشویشناک حقیقت یہ ہے کہ بہت سی دوائیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو ایک بیماری کو دباتے دباتے جسم میں دوسری نئی بیماریاں پیدا کر دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر کئی دوائیں جگر، معدہ، گردوں یا اعصابی نظام پر منفی اثرات ڈالتی ہیں اور ایسی لاکھوں زندہ مثالیں صرف پاکستان کے اندر موجود ہیں مریض ایک بیماری کے علاج کے لیے دوا لیتا ہے مگر کچھ عرصے بعد اسے ایک نئی بیماری کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ واقعی علاج ہے یا صرف بیماریوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ طب یونانی کا یہ اصول نہیں ہے علاج لگاتار چلتا رہے اور ساری زندگی مریض دوا کھاتا رہے اس کے تمام اعضاء اور اس کے مدافعتی نظام کا علاج ہی بیڑا غرق کر دے۔ جب جسم خود مضبوط ہو جاتا ہے تو بہت سی بیماریاں خود بخود ختم ہونے لگتی ہیں۔ اس کے برعکس اگر کوئی علاج ایسا ہو جو انسان کو مستقل طور پر دواؤں کا محتاج بنا دے تو اس پر سوال اٹھانا بالکل جائز ہے
قدرتی طب اور جڑی بوٹیوں کے قدیم نظامِ علاج میں ہمیشہ یہی اصول رہا ہے کہ جسم کی اصل خرابی کو درست کیا جائے۔ اس میں خوراک، طرزِ زندگی اور قدرتی ادویات کے ذریعے جسم کے توازن کو بحال کیا جاتا ہے۔ جب جسم کا توازن بحال ہو جاتا ہے تو بیماری کی بنیاد کمزور ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم حکماء ہمیشہ مختصر مدت کے علاج کو ترجیح دیتے تھے اور مریض کو صحت مند زندگی کی طرف واپس لانے کی کوشش کرتے تھے۔
آج کے دور میں ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگ علاج اور کاروبار کے فرق کو سمجھیں علاج وہ ہے جو بیماری کو ختم کرے، جسم کو مضبوط بنائے اور مریض کو دواؤں سے آزاد کر دے۔ جبکہ وہ طریقہ جس میں مریض کو برسوں تک ایک ہی دوا کھانے پر مجبور رکھا جائے اور ساتھ ساتھ نئی بیماریاں بھی پیدا ہوں، اسے علاج کہنا مشکل ہے بلکہ کچھ ڈاکٹر حضرات تو مریض کو دوا کھانے پر انتہائی مجبور کر دیتے ہیں
لہٰذا ہر مریض کو چاہیے کہ وہ علاج کے انتخاب میں شعور اور تحقیق سے کام لے۔ دوا صرف اس وقت فائدہ مند ہوتی ہے جب وہ جسم کو صحت کی طرف لے جائے، نہ کہ انسان کو ہمیشہ کے لیے دواؤں کے سہارے پر زندہ رہنے پر مجبور کر دے طب یونانی میں ایسا نہیں ہے کہ ہمیشہ کے لیے بیماری کی دوا کھاتے رہیں جب علاج اس مقصد کو پورا کرے تو وہ حقیقی علاج ہے، ورنہ وہ صرف ایک چلتا ہوا کاروبار بن کر رہ جاتا ہے
آپ دیکھ لیں غور کریں تو پاکستان کے اندر ہی آپ کو کروڑوں مثالیں ملیں گی اربوں غلطیاں ملیں گی جس کے اندر ان کی قصائیت نظر آئے گی دجالیت واضح ہو گی اور آپ کو یہ پورا نظام ایک مخصوص نظام کے اندر چلتا ہوا نظر آئے گا جس کی واضح مثال کرونا کے دنوں میں ان لوگوں نے زبردستی لوگوں کو کرونا کی ویکسینیں لگائیں بعد میں پتہ چلا کہ یہ حقیقت میں کوئی بڑی بیماری ہی نہیں تھی بے شمار ملکوں کو کھربوں ڈالرز کا نقصان پہنچایا گیا لیکن ان ممالک کو فائیدہ پہنچا کوئی نقصان نہیں ہوا ان کا بلکہ انہوں نے ڈالر کمائے کس طرح یہ بھی دیکھیں انہوں نے مختلف ایپس آنلائن کاروبار سے کمایا ویکسین بیچ کر کمایا
سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ دنیا کی سب سے جھوٹی قوم ہے دوسری بات یہ ہے کہ یہ چور قوم ہیں دوسروں کی علمی قابلیت اور علمی مواد کو چوری کرتے ہیں جھوٹ بولتے ہیں ان کے بڑے بھی سب سے بڑے جھوٹے ہیں جس کی واضح مثال ہمیں ایران میں کیے گئے حملے میں نظر آئی جو انہوں نے کیا اور مکر گئے اور الزام ایران پر ہی لگا دیا یہاں سے غ زہ سے پر کیے گئے ظلم بھی دیکھیں اس کے علاوہ دنیا میں ان کے کالے کرتوتوں پر کتابیں لکھی جا سکتی ہیں انسانیت شرماتی ہے ان کے کالے کرتوت دیکھ کر آپ پھر بھی ان کے طریقہ علاج کو پسند کرتے ہیں اس علاج کو چھوڑ کر جو اللہ پاک نے آپ کے لیئے پسند کیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پسند فرمایا جس علم کو حضرت داؤد علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت لقمان علیہ السلام پر نازل فرمایا گیا جو علم خالص انبیاء کرام علیہم السلام کو عطا کیا گیا علم تھا جس کو چھوڑ کر ہم نے شیطانی علم کو اپنا لیا
قدرت اب بھی آپ کا انتظار کر رہی ہے چلیں لوٹ چلیں قدرتی غذائیں قدرتی جڑی بوٹیاں ہی آپ کا علاج ہیں کیونکہ آپ کو ہم سب کو قدرت نے پیدا فرمایا ہے نہ کہ فیکٹریوں نے
آپکا خیر اندیش، طالب دعا:
*پروفیسر حکیم محمد علی ملک*