Dr. Muhammad Tayyab

Dr. Muhammad Tayyab Dr. Muhammad Tayyab (Child Specialist)
ڈاکٹر محمد طیب (بچوں کے ماہر ڈاکٹر)

🩵 پیاری ماں، یہ تمہارے لیے ہےارے، پیاری ماں، جو اپنے بچے کے سینے پر سو جانے کے بعد اب اپنے فون کو گھور رہی ہے،یہ تحریر ت...
05/12/2025

🩵 پیاری ماں، یہ تمہارے لیے ہے
ارے، پیاری ماں، جو اپنے بچے کے سینے پر سو جانے کے بعد اب اپنے فون کو گھور رہی ہے،
یہ تحریر تمہارے بارے میں ہے۔
تم، جو ہسپتال کے واش روم میں تیسرے دن رو پڑی تھی کیونکہ درد اتنا تھا کہ تمہیں لگا اب تم ایک اور بار یہ نہیں کر پاؤ گی۔
تم، جس نے صبح 2 بجے لیٹے لیٹے دودھ پلانا سیکھا تاکہ بیس منٹ کی اضافی نیند چرا سکے۔
تم، جس نے میٹنگوں کے درمیان سپلائی کوٹھڑی (supply closet) میں بھی پمپ کیا اور پھر بھی وقت پر پک اپ کے لیے پہنچ گئی۔
تم، جو راکنگ چیئر پر بیٹھی رہی اور تمہارے گالوں پر آنسو بہہ رہے تھے کیونکہ بچے نے آخر کار صحیح طریقے سے دودھ پینا شروع کر دیا اور یہ جادو کی طرح محسوس ہوا۔
تم، جس نے گیلے ڈائپرز کو ایسے گنا جیسے وہ سونے کے ستارے ہوں۔
تم، جس کے سارے بریسٹ بینڈز (bras) لیک ہو گئے تھے اور بعد میں تم اس پر ہنسی تھی۔
تم، جس نے اس ننھے سے، دودھ پی کر مدہوش اور پرفیکٹ چہرے کو گھورا اور ایک سیکنڈ میں محسوس کیا کہ تمہارا دل تین گنا بڑا ہو گیا ہے۔
تم، جو اس وقت بھی پلاتی رہی جب تمہاری نپلوں سے خون بہہ رہا تھا۔
تم، جو اس وقت بھی پلاتی رہی جب تم تھکاوٹ اور 'ٹچڈ آؤٹ' ہونے کی وجہ سے عاجز آ چکی تھی۔
تم، جو اس وقت بھی پلاتی رہی جب کسی نے یہ نہیں دیکھا کہ یہ کتنا مشکل تھا۔
اور تم، جس نے روکنے کا فیصلہ کیا (چھ ہفتوں، چھ مہینوں، یا دو سال پر) کیونکہ تمہارے جسم، تمہارے بچے، یا تمہارے دل نے کہا کہ اب بس۔ وہ بھی بہادری تھی۔
تم نے یہ کر دکھایا۔
تم نے ایک انسان کو اپنے اندر پروان چڑھایا اور پھر اپنے جسم سے اس انسان کو خوراک دی۔ تم نے دن رات، مطالبے پر، دن، مہینوں یا سالوں تک مائع محبت (liquid love) فراہم کی۔
ذرا خود کو دیکھو۔
اب بھی یہاں ہو۔ اب بھی ہر صحیح جگہ سے نرم۔ اب بھی ہر اہم طریقے سے مضبوط۔
تم ناقابل یقین ہو۔
اور تمہارا بچہ بہت، بہت خوش قسمت ہے کہ وہ تمہارا ہے۔
آج فخر محسوس کرو، ماں۔
یہ سب کچھ؟ یہ کبھی بھی "صرف" دودھ پلانا نہیں تھا۔
یہ تم تھی جو ایک ایک بار دودھ پلانے میں اپنا سب کچھ دے رہی تھی۔
تم معجزہ ہو۔
اسے کبھی مت بھولنا۔
Dr Muhammad Tayyab
Children Hospital Sahiwal

✨ بچے کا دودھ واپس اگلنا… آخر ہوتا کیوں ہے؟( ماؤں کی سب سے عام پریشانی)آپ نے دیکھا ہو گا، اکثر بچے دودھ پینے کے بعد تھوڑ...
04/12/2025

✨ بچے کا دودھ واپس اگلنا… آخر ہوتا کیوں ہے؟
( ماؤں کی سب سے عام پریشانی)

آپ نے دیکھا ہو گا، اکثر بچے دودھ پینے کے بعد تھوڑا سا یا کبھی پورا دودھ منہ سے باہر نکال دیتے ہیں۔ کبھی چند قطرے… کبھی پورا دھار کی طرح…
اور ماں فوراً گھبرا کر سوچتی ہے: کیا میرے بچے کو کچھ ہو گیا؟ کیا میرا دودھ زیادہ ہے؟ کیا پیٹ خراب ہے؟

اصل میں، یہ ایک ماہ سے تین ماہ کے بچوں میں بہت عام ہے اور اکثر ڈاکٹر اسے بالکل نارمل سمجھتے ہیں۔ بلکہ ڈاکٹر اس کو عام بڑھوتری کا حصہ سمجھتے ہیں۔

✅ یہ کیوں ہوتا ہے؟
بچہ دنیا میں آتا ہے تو اس کا نظامِ ہاضمہ ابھی پختہ نہیں ہوتا۔ اس کے معدے اور خوراک کی نالی کے درمیان جو دروازہ ہوتا ہے، وہ ابھی بہت نرم ہوتا ہے۔ جب بچہ دودھ پیتا ہے اور پیٹ تھوڑا بھر جاتا ہے، تو دودھ آسانی سے واپس اوپر آ سکتا ہے۔یہ عمل تکلیف دہ نہیں ہوتا، اور زیادہ تر بچوں میں بالکل نارمل سمجھا جاتا ہے۔

✅ یہ خطرناک کب نہیں ہوتا؟
اگر بچہ:
✓دودھ پینے کے بعد سکون سے سو جاتا ہے
✓وزن ٹھیک بڑھا رہا ہے
✓دودھ دودھ جیسا ہی واپس آرہا ہے
✓بچہ نارمل طریقے سے پیشاب پاخانہ کر رہا ہے
تو یہ کیفیت عام ہے اور وقت کے ساتھ خود ہی ختم ہو جاتی ہے۔ زیادہ تر بچے 4 سے 6 ماہ میں اس سے نکل جاتے ہیں۔

✅ ماں کیا کرے؟ (آسان گھر کے نسخے)
✔️ فیڈ کے بعد بچے کو ہلکا سا کندھے پر رکھ کر ڈکار دلائیں۔
ہر فیڈ کے بعد تقریباً 10–15 منٹ بچہ سیدھا کندھے پر رکھیں۔

✔️ فیڈ کے فوراً بعد نہ لٹائیں
20–30 منٹ سیدھا رکھیں۔
جلدی لٹانے سے دودھ اوپر آسکتا ہے۔
✔️ فیڈ کو تھوڑا، مگر بار بار دیں، یہ طریقہ پیٹ کو ضرورت سے زیادہ بھرنے سے روکتا ہے۔
✔️ اگر بوتل استعمال ہو رہی ہے،تو اس کا بہاؤ بہت تیز نہ ہو، ورنہ بچہ جلدی جلدی دودھ پی کر اُگل دیتا ہے۔

✅ ڈاکٹر کو کب دکھائیں؟ (اہم نشانیاں) اگر:
✓دودھ زور سے دور تک پھٹ کر نکلے (projectile vomiting)
✓دودھ میں خون یا سبز رنگ نظر آئے
✓بچہ وزن نہیں بڑھا رہا
✓بہت رو رہا ہے، پیٹ سخت ہے
✓سانس یا رنگت میں تبدیلی آتی ہے، تو فوراً ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ یہ صورتیں نارمل نہیں ہوتیں۔

🌞یہ قدرتی مسئلہ اکثر چند ماہ میں خود ختم ہو جاتا ہے، اور یاد رکھیں، آپ کا دودھ سب سے بہترین غذا ہے جو آپ کا بچہ بڑھنے اور مضبوط ہونے کے لیے لے رہا ہے

Dr Muhammad Tayyab
Consultant Pediatrician
Children Hospital Sahiwal

آج کل پھیلنے والی وبا کیا ہے؟ Influenza A — ایک اہم آگاہی پوسٹآج کل پورے پاکستان میں ایک ایسی وبا پھیلی ہوئی ہے جو بالکل...
04/12/2025

آج کل پھیلنے والی وبا کیا ہے؟ Influenza A — ایک اہم آگاہی پوسٹ
آج کل پورے پاکستان میں ایک ایسی وبا پھیلی ہوئی ہے جو بالکل ڈینگی کی طرح محسوس ہوتی ہے، مگر ڈینگی ٹیسٹ ہمیشہ نیگیٹو آتا ہے۔
اصل مسئلہ ڈینگی نہیں… بلکہ Influenza A (خاص طور پر H3N2) ہے، اور اس وقت ہر دوسری OPD میں یہی کیسز نظر آ رہے ہیں۔

شروع میں مریض کو بالکل عام نزلہ زکام ہوتا ہے، چھینکیں، گلا خراب، ہلکا بخار اور بدن ٹوٹنا۔ پھر آہستہ آہستہ پیٹھ کی ہڈیوں اور جوڑوں کا درد بڑھنے لگتا ہے، سر بھاری ہوتا جاتا ہے، چکر آتے ہیں اور متلی محسوس ہوتی ہے۔

اس کے بعد بخار یک دم تیز ہونا شروع ہوتا ہے اور بہت سے مریضوں میں 103–104 تک پہنچ جاتا ہے۔ 3–6 دن تک بخار کا نہ ٹوٹنا اب عام بات ہو چکی ہے۔ مریض جسمانی طور پر ٹوٹ جاتا ہے، بھوک ختم، منہ کا ذائقہ خراب، اور ہر وقت کمزوری اور بےچینی۔

جب بخار کا فیز گزر جاتا ہے تو آغاز ہوتا ہے دوسری مشکل کا:
ناک کا نزلہ گاڑھا ہو کر **Sinusitis** میں بدل جاتا ہے۔ بلغم بدبودار، سر بھاری، ناک بند، اور کھانسی بھی شامل ہو جاتی ہے۔ اس ساری کیفیت میں مریض کی کمزوری اتنی بڑھ جاتی ہے کہ کئی کئی دن تک اٹھنے کو دل نہیں کرتا۔

ڈینگی ٹیسٹ نیگیٹو اس لئے آتا ہے کہ یہ ڈینگی ہے ہی نہیں۔ Influenza A بخار، بون پین اور شدید کمزوری تو دیتا ہے، مگر platelets خطرناک حد تک نہیں گراتا۔ اسی لئے لوگ کنفیوز ہوتے ہیں کہ “علامات تو ڈینگی والی ہیں مگر رپورٹس کیوں نارمل؟”

اس وقت سب سے اہم چیز یہ ہے کہ مریض آرام کرے، پانی زیادہ پئے، steam لے، اور علامات کے مطابق symptomatic care کرے۔
اگر بلغم بدبو دار ہو یا سر بہت بھاری ہو تو یہ واضح سائن ہے کہ سائنوسائٹس ہو چکا ہے اور اس کا علاج ساتھ چلانا لازم ہے۔

شدید کمزوری میں multivitamins فائدہ دیتے ہیں۔
اگر سانس میں دقت، بہت زیادہ بخار، یا پانی کی کمی محسوس ہو تو فوراً ڈاکٹر کو دکھانا چاہیے۔

مختصر یہ کہ پاکستان میں اس وقت Influenza A کا زور ہے، اور اسی کی وجہ سے ہر طرف یہی بخار، نزلہ، کمزوری اور سائنوسائٹس والے کیسز نظر آ رہے ہیں۔

Dr Muhammad Tayyab
Children Hospital Sahiwal


Imp message for new mothers
04/12/2025

Imp message for new mothers

Do Newborns Need Daily Baths in Winter?

No. Bathing a newborn every day in winter can cause dry, itchy skin.

Doctor's Advice:

Limit Baths: A bath every 2 to 3 days is sufficient.

Alternative: On non-bath days, simply clean your baby with a soft, warm damp cloth (sponge bath).

📍 Doctor Details:
👨‍⚕️ Dr. Muhammad طیب, Child Specialist
🏥 Children Hospital Sahiwal
📱 WhatsApp: 0340-4460010

ڈاکٹر صاحب، میں بہت پریشان ہوں۔ گھر والوں کی باتیں سن کر بار بار دل ڈوب جاتا ہے کہ دودھ کم ہے۔ کیا واقعی کمی ہے یا میں ک...
03/12/2025

ڈاکٹر صاحب، میں بہت پریشان ہوں۔ گھر والوں کی باتیں سن کر بار بار دل ڈوب جاتا ہے کہ دودھ کم ہے۔ کیا واقعی کمی ہے یا میں کسی غلطی کی وجہ سے ایسا محسوس کر رہی ہوں؟ اور اگر کم ہے، تو کیوں؟اور غلطی کو کیسے ٹھیک کروں اس بار یا اگلی پریگنینسی کے بعد کے لیے؟ آپ رہنمائی کر دیں…

جواب)....
اکثر ماؤں کو لگتا ہے کہ اُن کا جسم دودھ نہیں بنا پا رہا۔ حقیقت میں زیادہ تر عورتوں میں جسمانی طور پر دودھ بنانے کی صلاحیت مکمل موجود ہوتی ہے۔ اصل مسئلہ ماں کے جسم میں نہیں… بلکہ اُن حالات میں ہوتا ہے جو پیدائش سے ہی ماں اور بچے کو صحیح شروعات نہیں لینے دیتے۔ عالمی ادارۂ صحت اور بڑے میڈیکل ذرائع کے مطابق، اصل (سچی) جسمانی کمی صرف چند فیصد عورتوں میں ہوتی ہے، جیسے کہ:
✓ چھاتی کے غدود کی کمی (Insufficient Glandular Tissue)
✓ شیهان سنڈروم (پیدائش میں شدید خون بہنے کے بعد)
✓ پیدائشی طور پر چھاتی کی بناوٹ میں فرق
✓ کچھ ہارمونل بیماریاں
✓ بعض سرجریاں جن سے نالیاں متاثر ہو جائیں
یہ سب بیماریاں بہت نایاب ہیں۔
تو پھر زیادہ تر ماؤں کو کیوں لگتا ہے کہ اُن کا دودھ کم ہے؟

زیادہ‌تر کیسز ’’ثانوی وجوہات‘‘ ہوتے ہیں۔ یعنی ماں کا جسم تو دودھ بنا سکتا تھا، لیکن ماحول، ہسپتال، غلط مشورے، اور بے وقت مداخلتوں نے دودھ کم کر دیا۔

مثلاً یہ ساری چیزیں دودھ کے بہاؤ کو روک دیتی ہیں:
✅ بچے کی پیدائش کے بعد ماؤں سے ہونے والی عام غلطیاں

1️⃣ پیدائش کے فوراً بعد بچے کو ماں سے الگ کر دینا۔۔
پیدائش کے چند منٹ بچے کے لیے سب سے قیمتی ہوتے ہیں۔
اُس وقت ماں کی خوشبو، جسم کی گرمی، اور سینے سے لگنا بچے کی سانس، دل کی دھڑکن اور سکون کو بہترین بناتا ہے۔
جب بچہ فوراً الگ کر دیا جاتا ہے تو: وہ زیادہ روتا ہے، اُس کی سانس اور دھڑکن بے ترتیب ہوتی ہے،وہ ماں کا سینہ تلاش کرنے کا قدرتی عمل کھو دیتا ہے
دودھ بنانے والے ہارمون کمزور پڑ جاتے ہیں، عالمی ادارۂ صحت اور ماہرین دونوں پیدائش کے پہلے گھنٹے کو “سونے کی گھڑی” کہتے ہیں۔

2️⃣ پہلے ہی گھنٹے میں بچے کو سینہ نہ لگوانا۔۔

پہلا گھنٹہ ایسا وقت ہوتا ہے جب بچہ خود بخود ماں کا سینہ تلاش کرتا ہے۔ اگر یہ وقت گزر جائے تو: بچہ جلد نیند میں چلا جاتا ہے سینہ پکڑنے میں مشکل ہوتی ہے
دودھ کے شروع ہونے کا اشارہ جسم کو ٹھیک طرح نہیں ملتا
ماہرین کے مطابق ابتدا کی فیڈز آئندہ دودھ کی مقدار کا رخ طے کرتی ہیں۔

3️⃣ ضرورت کے بغیر آغاز میں فارمولہ دینا

پیدائش کے فوراً بعد فارمولہ دینے سے:
بچہ سینہ کم پکڑتا ہے، اُس کے پیٹ میں اجنبی اجزاء جلد داخل ہو جاتے ہیں، ماں کے دودھ کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔
بچہ سینہ چھوڑ کر بوتل کی طرف مائل ہو سکتا ہے
ماہرین کہتے ہیں کہ طبی ضرورت کے بغیر فارمولہ شروع کرنا ماں کے دودھ کے عمل کو کمزور کرتا ہے۔

4️⃣ صحیح انداز میں سینہ لگانا(latching) نہ سکھایا جانا

بہت سی مائیں پہلے دنوں میں صرف اِسی وجہ سے مشکل میں پڑتی ہیں کہ کوئی ماہر ہاتھ پکڑ کر سینہ لگانے کا latching کا درست طریقہ نہیں سکھاتا۔
اس کے نتیجے میں:
درد، سوجن ،نپل زخمی ہونا،
بچہ پوری مقدار میں دودھ نہ پینا، یہ سب مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

✅ پیدائش اور لیبر کے دوران کی مداخلتیں

5️⃣ بلا ضرورت لیبر کو خود سے شروع کروانا۔۔
اگر کسی وجہ کے بغیر لیبر کو دوا وغیرہ سے شروع کروایا جائے تو: لیبر طویل ہو جاتی ہے،
ماں بہت تھک جاتی ہے،بچہ پیدا ہوتے ہی ضرورت سے زیادہ غنودگی میں ہوتا ہے،پہلی فیڈ لینے میں دیر کرتا ہے

6️⃣ بہت لمبی لیبر یا بھاری ادویات۔۔
اگر لیبر بہت طویل ہو یا درد کم کرنے کی ادویات زیادہ ہوں تو:
بچہ سست ہو جاتا ہے،ماں کی توانائی کمزور پڑتی ہے،سینہ لگانے میں تاخیر ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق لمبی لیبر بچے کو چھاتی تلاش کرنے کے عمل میں سست کر دیتی ہے۔

✅ پیدائش کے بعد آنے والے مسائل

7️⃣ غلط انداز میں سینہ لگانا
یہ ماں کے دودھ کے کم ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
غلط لگاؤ میں:
بچہ کم دودھ نکالتا ہے
جسم کم دودھ بناتا ہے
ماں کو مسلسل درد رہتا ہے

8️⃣ جلدی بوتل شروع کرنا
جلدی بوتل دینے سے: بچہ سینہ چھوڑ کر آسان راستہ اختیار کرتا ہے، وہ جلدی بہاؤ کا عادی ہو جاتا ہے، ماں کے دودھ کی مقدار گھٹنے لگتی ہے

9️⃣ بچے کو گھڑی کے حساب سے دودھ دینا۔۔
دودھ جسم کی گھڑی کے نہیں بچے کی ضرورت کے مطابق بنتا ہے۔ اگر ماں یہ سوچ کر فیڈ دے کہ ہر تین گھنٹے بعد دینا ہے تو:
جسم کو کم تحریک ملتی ہے
دودھ کی مقدار کم ہو جاتی ہے

🔟 بچہ نرسری یا نگہداشت کے یونٹ میں ہو۔
جب بچہ بیمار ہو یا پہلے کچھ دن ماں سے دور رہے تو:
ماں کے پاس بچے کو بار بار لگانے کا موقع کم ملتا ہے
دودھ کے بہاؤ میں کمی آتی ہے
جلدی جلدی بچہ چھاتی سے لگانا یا ہاتھ سے دودھ نکال کر وقفوں کو پورا کرنا بہت مفید ہوتا ہے۔
1️⃣1️⃣ ماں کا مناسب آرام نہ کرنا۔۔
اگر ماں:پوری نیند نہ لے۔کھانے پینے کی کمی ہو۔ مسلسل مہمانوں میں گھری رہے
تو جسم کے ہارمون متاثر ہوتے ہیں اور دودھ کم ہو جاتا ہے۔

1️⃣2️⃣ پانی اور خوراک کی کمی۔۔۔
پانی کم پینے یا کمزور خوراک کی وجہ سے: جسم کے پاس دودھ بنانے کی توانائی کم رہ جاتی ہے، دودھ کا بہاؤ سست ہو جاتا ہے
1️⃣3️⃣ ذہنی دباؤ، خوف اور بےچینی۔۔
خوف، افسردگی اور ذہنی دباؤ وہ ہارمون کم کرتے ہیں جو دودھ بہاتے ہیں۔
پرسکون ماں کا دودھ بہتر بہتا ہے۔
1️⃣4️⃣گھر والوں کے غلط مشورے۔۔
تمہارا دودھ پتلا ہے،
بچہ بھوکا ہے، بوتل دے دو،
پہلے ایک سینہ پندرہ منٹ، پھر دوسرا…
ایسے مشورے نئی ماں کا اعتماد توڑ دیتے ہیں اور دودھ کا عمل متاثر ہوتا ہے۔

1️⃣5️⃣ بار بار دودھ نکال کر ذخیرہ کرنے کی کوشش۔۔
اگر ماں بچے سے زیادہ بار نکالے تو: بچہ پیچھے رہ جاتا ہے
سینے پر قدرتی تحریک کم ہو جاتی ہے،نظام بگڑ جاتا ہے،
دودھ کا سلسلہ بچے کی ضرورت کے مطابق ہونا زیادہ بہتر ہے۔
1️⃣6️⃣بڑی بوتلیں اور موٹے نپل...
ایسی بوتلوں سے بچہ بہت جلد بھر جاتا ہے، پھر اسے سینہ پکڑنے کی ضرورت کم محسوس ہوتی ہے، جس سے ماں کا دودھ کم ہو جاتا ہے۔
1️⃣7️⃣ رات کو ماں اور بچے کا الگ سونا....
رات کو بچہ ماں کے قریب رہے تو وہ زیادہ بار دودھ لیتا ہے،
جس سے دودھ کا سلسلہ مضبوط رہتا ہے۔
1️⃣8️⃣ ماں کی کچھ بیماریاں یا دوائیں...
زیادہ تر دوائیں ماں کے دودھ کے ساتھ محفوظ ہوتی ہیں،
لیکن کچھ حالات میں دودھ کم محسوس ہو سکتا ہے۔ یہ کمی عارضی ہوتی ہے اور درست رہنمائی سے ٹھیک ہو جاتی ہے۔

🌸🌸 ماہرین کی عملی رہنمائی، دودھ بڑھانے کے پکے اور آزمودہ طریقے۔🌸🌸

1️⃣ پیدائش کے فوراً بعد پہلی بار دودھ پلانا۔۔۔
پیدائش کے پہلے ایک سے دو گھنٹے میں بچے کو ماں کے سینے سے لگانا نہایت اہم ہے۔
یہ لمحے: دودھ بننے کا فطری عمل شروع کرتے ہیں،بچے کو ماں کی خوشبو اور سکون ملتا ہے، ماں اور بچے کے رشتے کو مضبوط بنیاد دیتے ہیں، یہ وقت ضائع نہ کریں، یہی سب سے بہترین شروعات ہے۔

2️⃣ صحیح طریقے سے سینہ لگانا سب سے بنیادی قدم
تقریباً نوّے فیصد ماؤں کے مسائل کی اصل وجہ غلط لگاؤ ہوتا ہے، نہ کہ دودھ کی کمی۔
صحیح لگاؤ میں: بچے کا منہ صرف نوک نہیں، بلکہ اردگرد کے سیاہ حصے کو بھی پکڑتا ہے،بچے کی ٹھوڑی ماں کے سینے سے لگی ہوتی ہے، ماں کو درد محسوس نہیں ہوتا
جب لگاؤ ٹھیک ہوتا ہے تو دودھ خود بخود زیادہ بنتا ہے،یہی اصل راز ہے۔

3️⃣ بچے کو بار بار لگانا، دودھ بڑھانے کا سب سے قدرتی اصول
جتنا زیادہ بچہ سینہ پکڑے گا،
اتنا ہی زیادہ دودھ بنے گا۔
یہ ماں کے جسم کا فطری قانون ہے: جتنا نکلے گا… اتنا ہی بھرے گا۔ کم بار پلانے سے دودھ بھی کم ہوتا ہے، اور زیادہ بار پلانے سے بھرپور۔

4️⃣ دن اور رات کی فیڈ دونوں اہم ہیں۔۔
رات کا دودھ خاص فائدہ رکھتا ہے کیونکہ اُس وقت جسم میں دودھ بنانے والا ہارمون سب سے زیادہ ہوتا ہے۔
اگر رات کی فیڈ کم ہو جائے تو:
✓دودھ کم ہونے لگتا ہے
✓بچہ چڑچڑا ہو سکتا ہے
✓جسم کو کم تحریک ملتی ہے
اس لیے دن کے ساتھ ساتھ رات کی فیڈ پر بھی توجہ دیں۔

5️⃣ ماحول اور ماں کی ذہنی کیفیت۔۔
پرسکون ماحول میں دودھ کا بہاؤ بہتر ہوتا ہے۔ محبت، نرمی، اطمینان، یہ سب دودھ کو نکالنے والے ہارمون کو مضبوط کرتے ہیں۔
جبکہ:
✓دباؤ
✓غصہ
✓بےچینی
✓تھکن
یہ چیزیں دودھ کے نکلنے کو روک دیتی ہیں۔ ماں کے آرام اور سکون کا خیال رکھنا گھر کا فرض ہے۔

6️⃣ مناسب پانی، اچھی غذا اور بھرپور آرام۔۔۔
ماں کا جسم محنت کرتا ہے، اس لیے اسے:
✓مناسب پانی
✓متوازن گھر کا کھانا
✓تھوڑی دیر کا وقفہ
✓چند گھنٹے کی پرسکون نیند
ضرور چاہیے۔
پیاسے جسم اور تھکے ذہن سے دودھ کا بہاؤ کمزور پڑتا ہے۔اپنے آپ کو نظرانداز نہ کریں آپ کی صحت ہی بچے کی قوت ہے۔
7️⃣ فارمولا کا استعمال سوچ سمجھ کر۔۔
بعض حالات میں ڈاکٹر کی ہدایت پر فارمولا مددگار ہوتا ہے، مگر بلا ضرورت یا بار بار دینے سے: بچہ سینہ کم پکڑتا ہے،جلد بھر جاتا ہے، دودھ کم بننے لگتا ہے۔ فارمولا تب دیں جب واقعی ضرورت ہو، نہ کہ ہر رونے پر۔

8️⃣ بچے کی نشانیاں دیکھیں کہ دودھ کافی مل رہا ہے
اگر: بچے کا وزن بڑھ رہا ہے، دن میں چھ سے آٹھ بار پیشاب آ رہا ہے، بچہ جاگنے پر چست ہو، دودھ پینے کے بعد پرسکون رہے
تو سمجھ جائیں کہ دودھ پورا مل رہا ہے۔ ہر چند منٹ بعد میرا دودھ کم ہے سوچنا خود کو تکلیف دینے والی بات ہے۔

9️⃣ ضرورت ہو تو مدد ضرور لیں اگر:
لگاؤ ٹھیک نہ ہو رہا ہو
بار بار درد ہو
بچہ سینہ ٹھیک سے نہ پکڑ رہا ہو۔ تو کسی ماہر مددگار سے مشورہ لینا بہت فائدہ دیتا ہے۔ اکثر مسئلہ صرف چند منٹ کی رہنمائی سے حل ہو جاتا ہے۔

🌼 ماں کے جسم میں کمی نہیں، بلکہ رہنمائی کی کمی ہوتی ہے اکثر ماؤں میں دودھ کم بننے کی اصل وجہ جسمانی نہیں ہوتی، بلکہ:
غلط معلومات، پیدائش میں ہونے والی رکاوٹیں، سینہ نہ لگوانا, گھر کا ماحول, یا وقت پر مشورہ نہ ملنا ہوتا ہے۔لیکن اچھی بات یہ ہے کہ: صحیح لگاؤ + بار بار پلانا + پرسکون ماحول + تھوڑا صبر = ماں کا دودھ دوبارہ بھرپور مقدار میں واپس آ جاتا ہے۔
ماں کا جسم حیرت انگیز ہے۔
اُس پر بھروسہ رکھیں, وہ کبھی ساتھ چھوڑتا نہیں۔

ڈاکٹر محمد طیب

02/12/2025

Must watch

Courtesy زچگی کا وہ تاریک پہلو جس کے بارے میں کوئی نہیں بتاتا 😔🖤​ہاں امی... پوسٹ پارٹم ڈپریشن (Postpartum Depression) ای...
01/12/2025

Courtesy
زچگی کا وہ تاریک پہلو جس کے بارے میں کوئی نہیں بتاتا 😔🖤
​ہاں امی... پوسٹ پارٹم ڈپریشن (Postpartum Depression) ایک حقیقت ہے۔
اور اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ آپ ایک بُری ماں ہیں۔
​آپ نے مہینوں تک ایک انسان کو اپنے اندر پالا...
آپ کا جسم بدل گیا...
آپ کی زندگی راتوں رات پلٹ گئی...
لیکن لوگ پھر بھی توقع کرتے ہیں کہ آپ 24 گھنٹے "خوش" رہیں گی؟
​چلیں ایمانداری سے بات کرتے ہیں 👇
​🔥 پوسٹ پارٹم ڈپریشن کیسی دِکھتی ہے:
​— چپکے سے رونا تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ آپ ناشُکری ہیں۔
​— اپنے ہی جسم میں اجنبی محسوس کرنا۔
​— اپنے بچے کو دیکھ کر سوچنا، "مجھے خوشی کیوں محسوس نہیں ہو رہی؟"
​— تصویروں میں مسکرانا لیکن رات کو ٹوٹ جانا۔
​— غائب ہو جانے کی خواہش کرنا کیونکہ یہ بوجھ بہت زیادہ محسوس ہوتا ہے۔
​— لوگوں کے درمیان گھری ہونا پھر بھی مکمل تنہائی محسوس کرنا۔
​ماں... یہ آپ کی غلطی نہیں ہے۔
یہ کمزوری نہیں ہے۔
یہ بُری ماں ہونا نہیں ہے۔
​یہ PPD ہے اور یہ کسی بھی عورت کو ہو سکتا ہے۔
​💛 وہ بات جو آپ کو سُننے کی ضرورت ہے:
آپ مدد کی حقدار ہیں۔
آپ آرام کی حقدار ہیں۔
آپ حمایت (support) کی حقدار ہیں۔
آپ صحت یاب ہونے کی حقدار ہیں۔
​📣 برائے مہربانی کسی سے بات کریں— اپنے ڈاکٹر، مڈوائف، یا کسی بھروسہ مند شخص سے۔
PPD قابل علاج ہے۔
خاموشی خطرہ ہے، آپ نہیں۔
​آپ کے بچے کو ایک صحت مند آپ کی ضرورت ہے، نہ کہ ایک کامل آپ کی۔
آپ کی ذہنی صحت بھی اہمیت رکھتی ہے۔ ❤️
Dr Muhammad Tayyab
Consultant Pediatrician
Children Hospital Sahiwal
03404460010

21/11/2025

خسرہ کی ویکسین آپ کے بچے کے لیے ضروری ہے۔
براہ کرم اپنے بچے کو ویکسین لگائیں۔

15/11/2025

Vomiting issues in babies

06/11/2025

Can we give rice to our baby?
Rice can cause chest infection?

15/10/2025

Weather is changing for newborn

Courtesy Dr Arshad گیس یا کالک (Infantile Colics) کا درد بچوں میں بہت عام ہے اور یہ آپ کے بچے اور آپ کو تکلیف پہنچا سکتا...
24/09/2025

Courtesy Dr Arshad

گیس یا کالک (Infantile Colics) کا درد بچوں میں بہت عام ہے اور یہ آپ کے بچے اور آپ کو تکلیف پہنچا سکتا ہے۔ گیس اکثر روتے وقت یا کھانا کھلانے یا ہاضمے کے عمل سے ہوا نکلنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اگرچہ گیس آپ کے بچے کے لیے درد کا باعث بن سکتی ہے، لیکن یہ عام طور پر بے ضرر ہے۔ گیس کے اخراج کو فروغ دے کر اور اس سے بچا کر، آپ اپنے بچے کی گیس کو دور کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

گیس کی علامات میں شامل ہیں: ٹانگیں اوپر کھینچنا۔
مٹھیوں کو بند کرنا۔
ادھر ادھر گھومنا گویا وہ بے چین ہے۔
بہت رونا۔
ڈکار لینا۔
ہوا کا خارج ہونا۔
چہرے کا سرخ ہو جانا۔

یہاں والدین کے لیے کچھ سادہ گھریلو مشورے دیے جا رہے ہیں جو بچے کے کولک (colic) کے دوران آرام پہنچانے میں مددگار ہو سکتے ہیں:

1. پیٹ کی مالش (Belly Massage)
بچے کے پیٹ پر ہلکے ہاتھ سے گولائی میں مالش کریں۔ اس سے گیس کم ہو سکتی ہے اور بچہ سکون محسوس کرتا ہے۔

2. ٹمی ٹائم (Tummy Time)
بچے کو کچھ دیر کے لیے پیٹ کے بل نرم سطح پر لٹائیں (ہمیشہ نگرانی میں رکھیں)۔ یہ عمل پیٹ کے دباؤ کو کم کرتا ہے اور گیس خارج کرنے میں مدد دیتا ہے۔

3. پیٹ کے بل گود میں پکڑنا (Holding in Prone Position)
بچے کو اپنے بازو پر الٹا لٹا کر پیٹ کے بل رکھیں اور ہلکے ہلکے جھولیں۔ یہ پوزیشن بچے کے پیٹ کو آرام دیتی ہے اور رونے میں کمی لا سکتی ہے۔

4. سیدھا لٹا کر ٹانگوں کی حرکت (Lying Supine with Leg Movements)
بچے کو سیدھا (کمر کے بل) لٹائیں اور آہستہ آہستہ اس کی ٹانگوں کو سائیکلنگ کی طرح حرکت دیں۔ یہ عمل گیس نکالنے میں مددگار ہے۔

5. لپیٹ کر رکھنا (Swaddle)
بچے کو نرم کپڑے میں آرام سے لپیٹیں تاکہ وہ محفوظ اور پرسکون محسوس کرے۔ اس سے کولک کے دوران رونا کم ہو سکتا ہے۔

اگر آپ کو بچے کو سہلانے اور آرام کرانے سے اس کی گیس دور کرنے میں مدد نہیں ملتی ہے، تو اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ وہ ان بیماریوں یا آنتوں کے مسائل کی تشخیص کر سکتا ہے جو مستقل گیس کا سبب بن سکتے ہیں۔

Address

Sahiwal

Telephone

+923404460010

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Muhammad Tayyab posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr. Muhammad Tayyab:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram