02/04/2026
آج دن زخمی ہونے والے مریض کے حوالے سے پوسٹ میں لگائے گئے الزامات حقائق کے برعکس ہیں۔ مریض کو ایمرجنسی میں لانے کے فوراً بعد مکمل طور پر manage کیا گیا۔ مارننگ ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر صہیب یعقوب نے اپنی ڈیوٹی ختم ہونے (2 بجے) کے باوجود 3 بجے تک موجود رہ کر مریض کو سنبھالا، جبکہ ایوننگ شفٹ میں ڈاکٹر نوشابہ فخر بھی شامل ہوئیں۔ مزید برآں سرجن ڈاکٹر کامران نے خود مریض کا تفصیلی معائنہ کیا، ڈریسنگ کی اور ٹانکے لگائے، جبکہ زخم کی نوعیت کے پیش نظر مناسب کمپریشن کیلئے خصوصی بینڈیج باہر سے منگوائی گئی۔ اس تمام عمل کے دوران تینوں ڈاکٹرز موجود اور متحرک رہے۔
چونکہ واقعہ پولیس کیس (MLC) نوعیت کا تھا، اس لیے پولیس بھی موقع پر موجود تھی اور تمام صورتحال کی تصدیق کر سکتی ہے۔ اس کے باوجود لواحقین بار بار OT میں غیر ضروری داخل ہو کر رش کرتے رہے، حالانکہ انہیں متعدد بار ہدایت دی گئی کہ صرف ایک فرد اندر رہے تاکہ علاج بہتر طریقے سے ہو سکے۔ اس غیر ضروری مداخلت سے نہ صرف ہسپتال پروٹوکول متاثر ہوا بلکہ مریض کے علاج میں بھی خلل پڑا، جس کا تصویری ثبوت موجود ہے۔
مریض کو مکمل طور پر stabilize کرنے کے بعد اسے سی ٹی اسکین (جو DHQ بھمبر میں دستیاب ہے) اور نیورو فزیشن کے معائنے کیلئے ریفر کیا گیا، جو کہ مکمل طور پر معیاری طبی طریقہ کار کے مطابق اور مریض کے بہترین مفاد میں تھا۔ براہِ کرم بغیر تصدیق معلومات پھیلانے سے گریز کریں، کیونکہ اس طرح کے بے بنیاد الزامات ہتکِ عزت کے زمرے میں آتے ہیں اور ان پر قانونی کارروائی کا حق محفوظ ہے