12/11/2025
مختلف رویے
ہم نے دیکھنا ہے کہ جو مریض ہمارے سامنے بیٹھا ہے وہ باقی سب سے مختلف کیوں ہے اور کیسے ہے؟ مثلاً ایک مریض آپ کو وزٹ کرنا چاہتا ہے، آپ کو کال کرتا ہے۔ڈاکٹر صاحب اگر آپ مجھے آج کا ٹائم دے دیں تو بہت مہربانی ہو گی۔ جب کہ دوسرا مریض کہتا ہے۔، ڈاکٹر صاحب میں نے فوری آ پ کو وزٹ کرنا ہے۔تیسرا کہتا ہے، ڈاکٹر صاحب میں نے آپ کووزٹ کرنا ہے لیکن پہلے یہ بتائیں کہ آپ فیس کتنی لیتے ہیں، دوائیں لوکل استعمال کرتے ہیں یا امپورٹڈ؟چوتھا کہتا ہے، ڈاکٹر صاحب میں ابھی آرہا ہوں اور آتادو گھنٹے بعد ہے۔ پانچواں، ہر دس منٹ بعد آپ کو فون کال کر کے کہتا ہے ڈاکٹر صاحب میں فلاں جگہ پہنچ گیا ہوں ابھی اتنی دیر میں آپ کے کلینک پہنچ جاؤں گا۔ آپ کلینک پر ہی ہوں گے نا؟ اُٹھ تو نہیں جائیں گے؟ چھٹا مریض کہتا ہے ڈاکٹر صاحب دوا کتنی دیر میں اثر کرے گی مجھے کب تک علاج کرانا ہو گا؟ساتواں کہتا ہے ڈاکٹر صاحب دوا سخت تو نہیں ہوگی؟آٹھواں، ڈاکٹر صاحب دوا تیز قسم کی دیجیے تاکہ جلدی اثر کرے۔تو یہ سب ایک جیسے کیسے ہو سکتے ہیں؟
جدہ میں میرے پاس ایک مریض آیا کرتا تھا۔ نکس کا مریض تھا۔ جس ٹائم کی اپوائنٹ منٹ ہوتی اسی وقت آتا۔ ایک بار میں نے اسے شام چھ بجے کا ٹائم دیا۔چھ بجے سے کچھ پہلے اتفاقاً میں نے اپنے ڈرائنگ روم کی کھڑکی سے باہر جھانکا تو وہ شخص باہر گلی میں ٹہلتا نظر آیا۔ دراصل وہ چھ بجنے کا انتظار کر رہا تھا اور وہی ہوا۔ جوں ہی چھ بجے کال بیل بجی۔میں نے دروازہ کھولا تو چودھری صاحب سامنے کھڑے تھے۔ بڑے اصول پرست تھے لیکن مقابلہ بازی میں آجاتے توبازی جیتنے کے لیے ہر جائز و ناجائزحربے کا استعمال جائز قرار دیتے۔بعض مریضوں کا انداز بیان دو جمع دو چار والا ہوتا ہے جیسے ان کے اندرڈیجیٹل سگنلز کام کر رہے ہوں جیسے کالی کارب وغیرہ۔ یہ لوگ پرسکون نہیں رہ سکتے۔
(کتاب۔ آرٹ آف کیس ٹیکنگ سے اقتباس)