HarooniHomeopathy

HarooniHomeopathy اچھی صحت اچھا مستقبل
۔سیدنا کریم ﷺ

یرقان کی علامات کیا ہیں؟پیلی جلد اور آنکھیںخارش، بخار، اور پیشاب کا گہرا رنگ پیلا یا مٹی کے رنگ کا پاخانہالٹی اور متلی، ...
07/09/2025

یرقان کی علامات کیا ہیں؟
پیلی جلد اور آنکھیں
خارش، بخار، اور پیشاب کا گہرا رنگ پیلا یا مٹی کے رنگ کا پاخانہ
الٹی اور متلی، شدید قبض، انتہائی کمزوری
بھوک میں کمی
پیٹ میں درد
غیر معمولی وزن میں کمی
پٹھوں اور مشترکہ درد
بخار، سر درد
سردی لگ رہی ہے
کھجلی جلد، منہ میں کڑوا ذائقہ تھکاوٹ

وٹامن ای۔          Vitamin E ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻻﺋﻒ ﻣﯿﮟﺍﯾﮉ ﻻﺯﻣﯽ ﮐﺮﻟﯿﮟ ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺩُﻋﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ انشاء اللہ تعالیٰ -ﺟﯿﺴﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﻭﻗﺖ...
25/05/2025

وٹامن ای۔ Vitamin E
ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻻﺋﻒ ﻣﯿﮟﺍﯾﮉ ﻻﺯﻣﯽ ﮐﺮﻟﯿﮟ ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺩُﻋﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ انشاء اللہ تعالیٰ -
ﺟﯿﺴﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﮨﮯ ﺑﮍﮬﺘﯽ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﺁﺛﺎﺭ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﻧﻈﺮ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺧﯿﺮ ﺍﺏ ﯾﮧ ﻋﻤﺮ ﮐﺎ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟﺍﺏ ﻭﻗﺖ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﻣﺮﺩ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ - ﻣﺮﺩﻭﮞﮐﻮ ﭨﯿﻨﺸﻦ ﮈﭘﺮﯾﺸﻦ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﺷﻮﮔﺮ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﭨﺎﭘﮯ ﺟﯿﺴﯽ ﺧﺒﯿﺚ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﻮﮞﻧﮯ ﮔﮭﯿﺮ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ
ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﻮ ﻣﯿﻨﻮﭘﺎﺯ جسے سن یاس بھی کہتے ہیں، ﺟﻠﺪﯼ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﮨﮯ، ﮨﺎﺭﻣﻮﻧﺰ ﭘﺮﺍﺑﻠﻢ، PCOS ﮐﺎ ﺑﮭﯿﺎﻧﮏ ﻣﺴﺌﻠﮧ۔ ﺑﺪﻟﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮉﯾﺎ ﺟﻮ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻭﻗﺖ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﻮﺍﻥ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺁﺝ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺑﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﮈﭘﺮﯾﺸﻦ ﺍﻭﺭ ﺗﻨﺎﺅ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﺩﻭﮌ ﺑﮭﺎﮒ ﺍﻭﺭ ﺳﭩﺮﯾﺲ ﻧﮯ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﺑﮩﺖ ﮐﻢ ﮐﺮﺩﯼ ﮨﮯ۔
ﻭﭨﺎﻣﻦ E کی کمی کا علاج ھومیو ادویات سے کریںﯾﮧ ادویات ﮨﺮ ھومیو ﻣﯿﮉﯾﮑﻞ ﺳﭩﻮﺭ ﺳﮯ ﺑﺎﺁﺳﺎﻧﯽ ﻣﻞ ﺟﺎتی ہیں ہفتہ دو ہفتہ بھر استعمال کریں'پھر دو دن وقفہ کریں
ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ سینئر ھومیو ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺳﮯ ﮐﻨﻔﺮﻡ ﮐﺮﯾﮟ اور ادویات صحیح کا چناؤ کریں
ﺣﺎﻣﻠﮧ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮨﻮﮞ ﯾﺎ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﻼﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﺎﺋﯿﮟ ﺳﺐ ﺑﻼ ﺧﻮﻑ ﻭ ﺧﻄﺮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﯾﮟ۔
ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻓﺎﺋﺪﮮ ﺍﺗﻨﮯ ﮨﯽ ﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﮨﯿﮟ ﺟﺘﻨﮯ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺗﯿﻦ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﺭﯾﮕﻮﻟﺮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﺴﺌﻠﮯ ﺣﻞ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﺟﻦ ﺳﮯ ﺟﺎﻥ ﭼﮭﻮﭨﻨﮯ ﮐﺎ ﺗﺼﻮﺭ ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﻧﮯ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﮨﻮﮔﺎ۔
ﺳﮑﻦ ﭘﺮ ﭘﻮﺭﯼ ﺑﺎﮈﯼ ﮐﯽ ﺍﻟﺮﺟﯽ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﮯ ﺩﺍﻍ ﺩﮬﺒﮯ ﺩﺍﻧﮯ ﺍﯾﮑﻨﯽ ﭘﻤﭙﻠﺰ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺻﺎﻑ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺳﮑﻦ ﺗﯿﻦ ﻣﮩﯿﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﻟﮧ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻭﺍﻟﯽ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ ﺑﻨﺪﮦ ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﭼﮩﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﮈﯼ ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﺻﺎﻑ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ۔ جو افراد ہومیو ادویات ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ہیں ان کے لئیے ﻣﻤﮑﻦ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﮧ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺟﮭﺮﯾﺎﮞ ﭘﮍﯾﮟ۔ ﺳﮑﻦ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﭨﺎﺋﭧ ﺭﮨﮯ ﮔﯽ ﯾﮧ ﮔﺎﺭﻧﭩﯽ ﮨﮯ۔ ہومیو ادویات ﺁﭖ ﮐﮯ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﮔﺮﻭﺗﮫ اور ﺑﺎﻟﻮﮞ کی چمک اور ملایم اور ﺷﺎﻧﺪﺍﺭ بنا ﺩیتی ہیں-
ﮐﺌﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﺮﺩ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺟﻮ ﺳﺎﭨﮫ ﭘﯿﻨﺴﭩﮫ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﮐﻮ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺟﻮﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮑﭩﻮ ﮨﯿﮟ۔ ہومیو ادویات ﺁﭖ ﮐﮯ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﻔﯿﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﯾﺘیں ﻧﻮﺧﺸﮑﯽ، ﻧﻮ ﮨﺌﯿﺮ ﻓﺎﻝ ﻧﻮ ﺑﺎﻟﭽﺮ ﻧﻮ ﮔﻨﺞ ﭘﻦ۔ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﮨﺮ ﻣﺴﺌﻠﮯ ﮐﺎ ﯾﮧ ﮐﯿﭙﺴﻮﻝ ﺗﯿﺮﺑﮩﺪﻑ ﻋﻼﺝ ﮨﮯ۔ ایک ﮐﺎﻡ ﺟﻮ ان ادویات ﮐﺎ ہے اور ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﻧﺮﺟﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮑﭩﻮﻧﺲ ﮨﮯ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺑﺠﻠﯽ ﺑﮭﺮﯼ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺑﻨﺪﮦ ﮈﭘﺮﯾﺲ ﮨﻮ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ ﺟﺘﻨﺎ ﻣﺮﺿﯽ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻟﻮ ﺟﺘﻨﯽ ﺑﮭﯽ ﺗﯿﺰ ﻻﺋﻒ ﮨﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﭨﯿﻨﺸﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺘﻨﺎ ﻣﺮﺿﯽ ﺑﮍﺍ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺁﺟﺎﺋﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔
ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﻤﮏ، ﺳﮑﻦ ﭨﺎﺋﭧ، ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺣﻠﻘﮯ ﻏﺎﺋﺐ، ﺑﺎﻝ ﮔﮭﻨﮯ ﺳﯿﺎﮦ، ﭼﮩﺮﮦ ﻓﺮﯾﺶ، ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺍﻍ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﮬﺒﮧ ﺍﻭﺭ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ- ھومیوپیتھی ادویات کے ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﻮ ﻣﺮﺩﻭﮞﻣﯿﮟ ﮨﺎﺭﭦ ﺍﭨﯿﮏ ﮐﺎ ﺧﻄﺮﮦ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺟﺎتا ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ادویات ﺩﻝ ﮐﯽ ﺷﺮﯾﺎﻧﻮﮞﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﮐﺮتی ہیں
ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺮﯾﮉﺯ ﺭﯾﮕﻮﻟﺮ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ . ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺧﻮﻥ ﮐﮯ ﺩﺑﺎﺅ ﮐﻮ ﺑﮩﺘﺮ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭﺧﻮﻥ ﮐﯽ ﺷﺮﯾﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺍﻧﯽ ﮐﺎ ﺑﯿﺴﭧ ﻋﻼﺝ ﮨﮯ.
ﺟﻦ ﮐﻮ ﺧﻮﻥ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ، ﺍﯾﻨﯿﻤﯿﺎ ﻭﺍﻻ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮨﮯ ﺍُﻥ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﯾﮧ ﻋﻈﯿﻢ ﻧﻌﻤﺖ ﮨﮯ. یہ بے ضرر ادویات اگر درست چناؤ کے بعد استعمال ھو۔ تو ﮨﺎﺭﻣﻮﻧﺰ ﮐﻮ ﺑﯿﻠﻨﺲ ﮐﺮتی ہیں . ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺑﺎﺕ ﮐﮧ یہ ادویات ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﮐﯿﻨﺴﺮ ﺳﮯ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﺮتی ہیں.

مردانہ طاقت کیلئے بڑھاپے میں بھی کارآمد ہوتی ہیں - میاں بیوی کے درمیان جنسی عمل ایک ایسا عمل ہے جو نہ صرف انسانی بڑھوتری کا سبب ہے بلکہ اس سے زیادہ انسان کی جذباتی تسکین کا ذریعہ بھی ہے ۔ اس فعل کو بڑھانے اور زیادہ دیر تک لطف اندوز ہونے کے لئے ہومیو ادویات موجود ہیں وٹامن E کی کمی سے جنسی ہارمون اور غدود نخامیہ کا ہارمون دونوں کم ہوجاتے ہیں۔ یہ وٹامن بانجھ پن کو دور کرنے اوراسقاط حمل کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ﺍﯾﮏ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ 15 ﻣﻨﭧ ﻭﺍﮎ ﺑﮭﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﯾﮟ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﺭﺯﻟﭧ ﻣﻠﯿﮟ گے۔ وٹامن ای کی کمی کی وجہ سے ہونے والی علامات
🎗️ وٹامن ای کی کمی کی علامات
عصبی پٹھوں کی کمزوری
وٹامن ای کی کمی کی وجہ سے ہمیں پٹھوں کی کمزوری ہوتی ہے ہمارے اعصابی نظام کے لئے وٹامن ای بہت ضروری ہے یہ اہم آکسیڈنٹ میں شامل ہے۔اس کی کمی کی وجہ سے پٹھوں میں تناؤ پیدا ہوتا ہے جو پٹھوں کی کمزوری کا باعث بنتا ہے۔
چلنے میں دشواری
وٹامن ای کی کمی کی وجہ سے پیدل چلنے میں دشواری ہوتی ہے اور جسم میں کمزوری پیدا ہوتی ہے جس وجہ سے انسان پیدل چلنے سے تھک جاتا ہےاور تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔
نظامِ انہظام کے مسائل
وٹامن ای کی کمی کی وجہ سے ہمارا نظامِ انہظام ٹھیک طریقے سے کام نہیں کرتا۔وٹامن ای کی کمی ہمارے مدافعتی خلیوں کو روکتی ہے اس لئے بڑی عمر کے لوگوں کو نقصان ہوسکتا ہے۔
برائے مہربانی پوسٹ کو شیئر کریں. وٹامن ای کی کمی کے لیے عام ہومیوپیتھک ادویات
1) نکس وامیکا
فوائد:
غذائی اجزاء کے جذب کو بڑھاتا ہے اور معدے کی خرابی کو ٹھیک کرتا ہے۔
کیسے لیں:
عام طور پر 30C کی طاقت، ہفتے میں 2-3 بار۔
کب لینا ہے:
مثالی طور پر، رات کو، سونے سے آدھا گھنٹہ پہلے۔
2) کیلکیریا فاسفورکا
فوائد:
غذائی قلت اور عام کمزوری میں مفید ہے۔
لینے کا طریقہ:
6X ، 30, 200طاقت، 2 گولیاں دن میں دو بار۔
کب لینا ہے:
کھانے کے بعد، بہتر جذب کے لیے۔
3) فاسفورس 30, 200,1M
فوائد:
تھکاوٹ، جلد کی خشکی اور اعصابی کمزوری کو دور کرتا ہے۔
لینے کا طریقہ:
روزانہ ایک بار 30C کی طاقت۔
کب لینا ہے:
صبح خالی پیٹ پر بہترین۔
4) آرسینکم البم 6,30, 200
فوائد:
خشک، کھردری جلد اور کمزوری کے لیے بہترین ہے۔
لینے کا طریقہ:
30C طاقت، ہر متبادل دن، ایک بار۔
کب لینا ہے:
کھانے سے پہلے، تیز بدبو یا ذائقوں سے دور۔
نوٹ: کوئی بھی دوا لینے سے پہلے ہمیشہ پیشہ ور ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے پوچھ لیں۔

عورت میں ضروری صحت کے پہلوبیضہ دانی (Ovaries) صحت مند ہو۔فلوپین ٹیوبز میں بلاکیج نہ ہو۔بچہ دانی (Uterus) درست حالت میں ہ...
22/05/2025

عورت میں ضروری صحت کے پہلو
بیضہ دانی (Ovaries) صحت مند ہو۔
فلوپین ٹیوبز میں بلاکیج نہ ہو۔
بچہ دانی (Uterus) درست حالت میں ہو۔
👨 مرد میں ضروری پہلو
سپرمز کی صحت اور تعداد درست ہو۔
سپرم کی کوالٹی بہتر بنانے کے لیے غذائیں
وٹامن C، وٹامن E
لہسن، پیاز، زنک
اخروٹ، بھنے ہوئے چنے، سفید چنے
دودھ (اگر pus cells نہ ہوں)
لیموں، مالٹا، آڑو
سلاد روزانہ دوپہر کو
چائے کا استعمال کم یا بند کریں
مفید عادات
ورزش اور یوگا
فیٹی ایسڈ والی خوراک
سگریٹ اور شراب سے پرہیز
🧪 منی کا طبعی معائنہ
شادی کے ایک سال بعد حمل نہ ٹھہرنے کی صورت میں منی کا لیب ٹیسٹ لازمی کروائیں۔
نارمل مقدار
1.5 ملی لیٹر سے 5 ملی لیٹر
مائع ہونے کا وقت
10 تا 15 منٹ (زیادہ سے زیادہ 30 منٹ)
سپرم کی نارمل تعداد
60 تا 120 ملین فی ملی لیٹر
20 ملین سے کم ہونے پر Oligospermia
بالکل نہ ہونے پر Azoospermia
سپرم کی حرکت
60 تا 80 فیصد حرکت ہونی چاہیے
خون یا پیپ کے ذرات
اگر موجود ہوں تو انفیکشن کی نشانی ہے۔
🏋️ سپرم کی بہتری کے لیے اہم نکات
ورزش
یوگا
متوازن خوراک
خصیوں کے لیے مناسب ٹمپریچر (صبح کی ورزش سے بہتری آتی ہے)

 ؟ اگر یہ ٹھیکہ کام نہ کر رہا ہو تو کیا مسائل ہو سکتے ہیں۔؟پچوٹری گلینڈ دماغ کے نچلے حصے میں واقع ایک چھوٹا سا گلینڈ ہوت...
20/05/2025

؟ اگر یہ ٹھیکہ کام نہ کر رہا ہو تو کیا مسائل ہو سکتے ہیں۔؟

پچوٹری گلینڈ دماغ کے نچلے حصے میں واقع ایک چھوٹا سا گلینڈ ہوتا ہے، جسے اکثر "ماسٹر گلینڈ" کہا جاتا ہے کیونکہ یہ جسم کے کئی اہم گلینڈز کو کنٹرول کرتا ہے،

👈 تھائیرائیڈ گلینڈ۔
👈 ایڈرینل گلینڈ۔
👈 گوناڈز (اووریز/ٹیسٹیز)

پچوٹری گلینڈ کے پیدا کردہ اہم ہارمونز اور ان کی کمی کی علامات۔

👉 1. ACTH (Adrenocorticotropic hormone)
یہ ایڈرینل گلینڈ کو cortisol بنانے کے لیے متحرک کرتا ہے۔

کمی کی علامات۔
شدید تھکن۔ لو بلڈ پریشر۔ متلی، قے۔ وزن کم ہونا۔ ذہنی دباؤ برداشت نہ کرنا وغیرہ

👉 2. TSH (Thyroid-stimulating hormone)
یہ تھائیرائیڈ گلینڈ کو ہارمون بنانے کے لیے متحرک کرتا ہے۔

کمی کی علامات۔
جسمانی تھکن۔ سستی، سُستی۔ قبض۔ سردی کا زیادہ احساس۔ وزن میں اضافہ۔ چہرے یا آنکھوں کی سوجن۔

👉 3. LH & FSH (Luteinizing hormone & Follicle-stimulating hormone)
یہ تولیدی (reproductive) نظام کو کنٹرول کرتے ہیں۔

کمی کی علامات۔
خواتین میں ماہواری کی بے ترتیبی یا بند ہو جانا۔ بانجھ پن۔
مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون کی کمی، جنسی خواہش میں کمی، ایریکٹائل ڈسفنکشن۔۔ بالوں کا گرنا (جنسی اعضا کے گرد)

👉 4. GH (Growth hormone):
بچوں میں نشوونما، بڑوں میں عضلات، ہڈیوں اور میٹابولزم کے لیے اہم ہوتا ہے۔

کمی کی علامات۔
بچوں میں قد بڑھنے کی رفتار میں کمی یا پست قدی۔ بڑوں میں عضلات کی کمزوری، چربی کا بڑھ جانا۔ دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جانا۔

👉 5. Prolactin۔
خواتین میں دودھ کی پیداوار کے لیے اہم ہے۔

زیادتی:۔۔ (اکثر ٹیومر کی وجہ سے ہوتا ہے)
خواتین میں غیر معمولی دودھ آنا۔ مردوں میں جنسی کمزوری۔

👉 6. ADH (Antidiuretic hormone):
اگرچہ یہ ہارمون hypothalamus سے بنتا ہے لیکن اسے پچوٹری سے خارج کیا جاتا ہے۔

کمی کی علامات:۔۔ (Diabetes Insipidus)
پیشاب کی مقدار میں غیر معمولی اضافہ۔ جسم میں پانی کی کمی۔ بار بار پیاس لگنا۔

👈👈 وجوہات کہ پچوٹری گلینڈ کام کیوں نہیں کرتا۔

👈 پچوٹری ٹیومر (adenoma)
👈 دماغی چوٹ یا سرجری۔
👈 دماغی سوجن یا انفیکشن (جیسے meningitis)
👈 ریڈی ایشن تھراپی۔
👈 پیدائشی نقص۔

👈👈 تشخیص کیسے کی جاتی ہے؟

👈بلڈ ٹیسٹ:۔۔
👈 ہارمونی سطحوں کی جانچ

👉MRI/CT Scan۔
👈دماغ میں ٹیومر یا سوجن دیکھنے کے لیے

👉Visual field test۔
اگر ٹیومر optic nerves پر دباؤ ڈال رہا ہو۔

👈 علاج کیلئے کچھ ہومیوپیتھک ادویات۔👇👇👇
یہ دوائیں مجموعی جسمانی، ذہنی، اور ہارمونی علامات کے مطابق منتخب کی گئی ہیں۔

👉 Pituitrinum 200 / 1M
براہ راست پچوٹری گلینڈ پر اثر ڈالتی ہے۔
ہارمونی عدم توازن، تھکن، جنسی کمزوری، حیض کی بے قاعدگی میں مؤثر۔

👉 Sepia 200 / 1M
خواتین میں ہارمونی خرابی، حیض بند ہونا، تھکن، موڈ سونگ، رحم کی کمزوری۔

👉 Lycopodium 200 / 1M
ہاضمہ کی خرابی، تھائیرائیڈ/ہارمونی مسائل، کمزوری، جنسی کمزوری، اعتماد کی کمی۔

👉 Calcarea Carb 200 / 1M
جسم میں چربی بڑھنا، سستی، سردی کا حساس، پسینہ آنا، ہارمونی ڈس آرڈر۔

👉 Thyroidinum 200 / 1M
تھائیرائیڈ، ہارمونی عدم توازن، سستی، ذہنی دھند، وزن بڑھنا، حیض میں بے قاعدگی۔

👉 Withania Somnifera Q (Ashwagandha)
اعصابی کمزوری، تھکن، ہارمونی توازن بحال کرنا، جنسی و جسمانی طاقت میں بہتری۔
👉 Chlorinum Q
ہارمونی غدود کی خرابی، خاص طور پر glandular deficiencies میں مفید۔

👉 Calcarea Phosphorica 6X
غدود، ہڈیوں، اور عمومی نشوونما کے لیے بہترین۔
جسمانی کمزوری، نشوونما میں کمی، تھکن، ہارمونی عدم توازن میں مفید۔

👈👈👈اگر کچھ سمجھ نہ آئے تو یہ کمبینیشن استعمال کروائیں ۔👇👇👇

👉 1. Pituitrin (پچوٹرین) X3
پچوٹرین، پچوٹری گلینڈ سے اخذ کردہ ایک دوا ہے جو
ADH (Antidiuretic Hormone)
جیسا اثر رکھتی ہے۔
یہ گردوں میں پانی کے اخراج کو کم کرتی ہے، پیشاب کی مقدار کو نارمل کرتی ہے۔
جسم میں پانی اور نمکیات کا توازن بحال کرنے میں مدد دیتی ہے، خاص طور پر Diabetes Insipidus میں مفید۔

👉 2. Phosphorus (فاسفورس) X3
فاسفورس خون کی روانی، اعصابی ترسیل، اور بافتوں (tissues) کی غذائیت بہتر بناتا ہے۔
یہ جسم میں آکسیجن کی ترسیل، تھکن، اور دماغی کمزوری کو دور کرتا ہے۔
پھیپھڑوں، جگر، اور خون کی کمزوری میں استعمال ہوتا ہے، خاص طور پر nerve exhaustion میں۔

👉 3. Bellis Perennis (بیلس پرینس) X3

بیلس پرینس جسم کے نرم ٹشوز، مسلز اور گہرے صدمات پر کام کرتی ہے۔
چوٹ لگنے، اندرونی سوجن یا سختی کی علامات میں خون کی روانی بہتر کرتی ہے۔
عضلاتی درد، سرجری کے بعد کی سوجن، اور اندرونی چوٹ کے لیے مفید ہے۔

یہ ایک معلوماتی پوسٹ ہے

گردے کی پتھری کرسٹل کے جھرمٹ ہیں جو آپ کے پیشاب کی نالی میں معدنیات اور دیگر مادوں سے بنتے ہیں۔ زیادہ تر پتھری آپ کے جسم...
14/05/2025

گردے کی پتھری کرسٹل کے جھرمٹ ہیں جو آپ کے پیشاب کی نالی میں معدنیات اور دیگر مادوں سے بنتے ہیں۔ زیادہ تر پتھری آپ کے جسم سے آپ کے پیشاب میں خود ہی نکل جاتی ہے، لیکن جب وہ گزرتے ہیں تو یہ بہت تکلیف دہ ہو سکتے ہیں۔ آپ کو پتھر کو توڑنے یا ہٹانے کے لیے ایک طریقہ کار کی ضرورت ہو سکتی ہے اگر یہ خود سے نہیں گزر سکتا ہے یا اس میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔اس صورت حال میں آپ بہت شدید درد گردہ کا شکار ہو سکتے ہیں یہ درد ٹڑپا دینے والا ھو سکتا ھے -گردے کی پتھری کی اہم اقسام مندرجہ ذیل ہیں
1) کیلشیم کی پتھری، یورک ایسڈ کی پتھری
2) سٹروائٹ پتھری اور
3) سیسٹین پتھر ہیں۔ کیلشیم پتھر سب سے عام قسم ہیں، اور انہیں مزید کیلشیم آکسیلیٹ یا کیلشیم فاسفیٹ کے طور پر درجہ بندی کیا جا سکتا ہے۔
4) یورک ایسڈ کی پتھری کم عام ہوتی ہے اور اس وقت بنتی ہے جب پیشاب میں بہت زیادہ تیزاب ہوتا ہے۔ سٹروائٹ پتھر اکثر پیشاب کی نالی کے انفیکشن سے منسلک ہوتے ہیں، اور سسٹین کی پتھری بہت کم ہوتی ہے، جس کا نتیجہ جینیاتی خرابی ہے۔ مریض کا کم پانی پینا اس کی ایک وجہ ھے زیادہ ٹی ڈی ایس کا پانی بھی وجہ بنتا ھے اور ایٹنگ اور مرغن غذاوں کا استعمال کم کریں صحت مند زندگی کیلئے مارننگ والک کو اپنی عادت بنائیں آٹھ گلاس پانی ضرور پئیں جو پانی پیئں اسکا ٹی ڈی ایس 160 ملیگرام سے کم اور 500 ملیگرام سے زیادہ نہ ہو ہماری ھومیوپیتھک میڈیکل سائنس اس طرح کے پتھروں کو کامیابی سے باہر نکال دیا کرتی ھے سوائے Stag horn stone کے یہ پتھر گردے میں بارہ سنگھے کے سینگہ کی طرح گردے میں پیوست ھوتا ھے اور بعض اوقات لیزر شعائیں بھی اس پر گارگر ثابت نہیں ھوتی اور گردے کو ناقابل تلافی نقصان ھو جاتا ھے اور مریض کی گردے کی کارکردگی ہمیشہ کے لئیے متاثر ہو جاتی ہے
لیمن ملا پانی آپکی تکلیف کو کم کر سکتا ھے گرم پٹیاں یا گرم ٹکور آپکے درد کی شدت کم یا ختم کر سکتی ھے گردوں کو شدید نقصان چاول روزانہ کھانے سے ھوتا ھے لہذا اس سے پرہیز کریں نمک کا استعمال کم کریں لال مرچ مصالحہ جات کا استعمال کم کریں

*گردے کی پتھری کی چند علامات* پہلو اور کمر میں شدید دردپیشاب کرتے وقت درددرد جو پیٹ اور کمر تک پھیلتا ہے۔پیشاب میں خوناب...
13/05/2025

*گردے کی پتھری کی چند علامات*
پہلو اور کمر میں شدید درد
پیشاب کرتے وقت درد
درد جو پیٹ اور کمر تک پھیلتا ہے۔
پیشاب میں خون
ابر آلود یا بدبودار پیشاب
قے
متلی
بخار اور سردی لگ رہی ہے
پیشاب کی کثرت سے خواہش
کم مقدار میں پیشاب کرنا
بعض صورتوں میں، جہاں گردے کی پتھری چھوٹی ہوتی ہے، پتھری آپ کے پیشاب کی نالی سے گزرنے کے دوران آپ کو کوئی درد یا علامات نہیں ہوسکتی ہیں۔
*گردوں کی پتھری کی اقسام* .
یورک ایسڈ کی پتھری
سلفیٹ پتھر
ٹریگمس
سسٹین کی پتھری

جگر خون سے نقصان دہ مادوں کو فلٹر کرتا ہے، انہیں توڑ دیتا ہے اور اخراج کے لیے بے ضرر ضمنی مصنوعات میں تبدیل کرتا ہے۔ میٹ...
13/05/2025

جگر خون سے نقصان دہ مادوں کو فلٹر کرتا ہے، انہیں توڑ دیتا ہے اور اخراج کے لیے بے ضرر ضمنی مصنوعات میں تبدیل کرتا ہے۔
میٹابولزم:
یہ کاربوہائیڈریٹس، چکنائی اور پروٹین جیسے غذائی اجزاء پر کارروائی کرتا ہے، انہیں قابل استعمال توانائی اور جسم کے لیے تعمیراتی بلاکس میں تبدیل کرتا ہے۔ جگر صفرا پیدا کرتا ہے، جو چکنائی کو ہضم کرنے میں مدد کرتا ہے اور جسم سے فاضل اشیاء کو نکالنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ خون کے جمنے، مدافعتی افعال، اور پورے جسم میں مادوں کی نقل و حمل کے لیے ضروری پروٹین تیار کرتا ہے۔
جگر خون میں شکر کی سطح کو مستحکم رکھنے کے لیے گلوکوز کو ذخیرہ کرتا اور جاری کرتا ہے۔ ہارمون اور انزائم کی
یہ مختلف ہارمونز اور انزائمز تیار کرتا ہے جو جسمانی عمل کی ایک وسیع رینج میں شامل ہوتے ہیں۔ جگر ضروری غذائی اجزاء جیسے وٹامنز، معدنیات، اور گلائکوجن (ذخیرہ شدہ گلوکوز) کو ذخیرہ کرتا ہے۔
یہ خون کو فلٹر کرتا ہے، زہریلے مادوں، فضلہ کی مصنوعات اور بیکٹیریا کو ہٹاتا ہے۔ جگر مدافعتی ردعمل میں کردار ادا کرتا ہے، خون سے بیکٹیریا اور غیر ملکی مادوں کو نکالنے میں مدد کرتا ہے۔جگر ایک اہم عضو ہے جو وسیع پیمانے پر افعال کے لیے ذمہ دار ہے، بشمول سم ربائی، میٹابولزم، اور ضروری مادوں کی پیداوار۔ یہ عمل انہضام، خون کے جمنے اور مدافعتی ردعمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے-جگر خون سے نقصان دہ مادوں کو فلٹر کرتا ہے، انہیں توڑ دیتا ہے اور اخراج کے لیے بے ضرر ضمنی مصنوعات میں تبدیل کرتا ہے۔
یہ کاربوہائیڈریٹس، چکنائی اور پروٹین جیسے غذائی اجزاء پر کارروائی کرتا ہے، انہیں قابل استعمال توانائی اور جسم کے لیے تعمیراتی بلاکس میں تبدیل کرتا ہے۔ یہ خون کے جمنے، مدافعتی افعال، اور پورے جسم میں مادوں کی نقل و حمل کے لیے ضروری پروٹین تیار کرتا ہے۔
جگر خون میں شکر کی سطح کو مستحکم رکھنے کے لیے گلوکوز کو ذخیرہ کرتا اور جاری کرتا ہے۔ ہارمون اور انزائم کی
یہ مختلف ہارمونز اور انزائمز تیار کرتا ہے جو جسمانی عمل کی ایک وسیع رینج میں شامل ہوتے ہیں۔ جگر ضروری غذائی اجزاء جیسے وٹامنز، معدنیات، اور گلائکوجن (ذخیرہ شدہ گلوکوز) کو ذخیرہ کرتا ہے
یہ خون کو فلٹر کرتا ہے، زہریلے مادوں، فضلہ کی مصنوعات اور بیکٹیریا کو ہٹاتا ہے۔
جگر مدافعتی ردعمل میں کردار ادا کرتا ہے، خون سے بیکٹیریا اور غیر ملکی مادوں کو نکالنے میں مدد کرتا ہے۔جگر کے سکڑنے اور تلی پر اثرات اور ہومیو پیتھی
جگر (Liver) انسانی جسم کا سب سے بڑا غدود (gland) ہے، جو خون صاف کرنے، زہریلے مادوں کو نکالنے، صفرا (bile) بنانے، اور متعدد میٹابولک افعال میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ جب جگر کسی وجہ سے سکڑنے لگے، تو یہ صرف خود ہی متاثر نہیں ہوتا بلکہ قریبی اعضاء، خاص طور پر تلی (Spleen) پر بھی گہرا اثر ڈالتا ہے۔ ہومیوپیتھی میں اس طرح کے مریض کو محض عضویاتی (organ-specific) علاج نہیں دیا جاتا بلکہ علامات، مزاج اور مریض کی مکمل کیفیت کو مدنظر رکھ کر دوا منتخب کی جاتی ہے۔
جگر کے سکڑنے کی وجوہات: دائمی ہیپاٹائٹس (B، C)
الکحل کا زیادہ استعمال فیٹی لیور کی پیچیدگی
خود کار مدافعتی امراض (Autoimmune Hepatitis)
جگر کی شریانوں کی بندش
ادویات یا زہریلے کیمیکلز کا اثر
تلی پر اثرات:
Splenomegaly: تلی کا بڑہ جانا
Hypersplenismتلی خون کے خلیات کو غیر معمولی طور پر تباہ کرنے لگتی ہےکمزوری، سستی، سانس پھولنا (خون کی کمی کی وجہ سےاندرونی خون بہنے کا خطرہ۔)
ہومیوپیتھی میں علاج کا انحصار مریض کی مکمل تصویر (Totality of Symptoms) پر ہوتا ہے۔ تاہم چند مخصوص دوائیں جو جگر و تلی کی خرابی میں مفید ثابت ہوئی ہیں، درج ذیل ہیں:
1. Chelidonium Majus Q, 30 to CM potency.
دایاں جگر متاثر ہو ۔۔پیلیا، قبض، بھوک کی کمی
تلی کا درد، زبان پیلی پیشاب گہرا زرد
چہرہ زرد، آنکھوں کے گرد سیاہی
2. Carduus Marianus Q, 6, 30 and 1M potency.
جگر کی پرانی بیماریاں
تلی اور جگر دونوں بڑھے ہوئے
جگر کی وجہ سے پیروں میں سوجن صفرا کی زیادتی، کڑوا ڈکار، متلی وغیرہ
3. Phosphorus 6,30, 200 and 1M potency.
جگر سکڑ چکا ہو، خون کی کمی ہو - ناک یا مسوڑھوں سے خون آنا ، تھکن، کمزوری، دل کی دھڑکن تیز ھو جاتی ھے
مریض ٹھنڈا پانی چاہتا ہے
4. China Officinalis Q, 6, 30, 200, 1M potency.
خون کی کمی، چکر، نقاہت
تلی کی خرابی کے ساتھ بائیں پہلو میں بھاری پن
بار بار بخار، پسینے اور تھکن کے ساتھ
5. Natrum Sulphuricum, 3X, 6, 30, 200, 1M potency.
جگر اور لمف نظام کی صفائی کرنے والی دوا دم گھٹنے جیسا احساس، خاص طور پر صبح کے وقت-میٹھا پسند، غمزدہ مزاج، نم جگہ پر تکلیف بڑہ جاتی ھے
6. Ceanothus Q, 6 , 30, Americanus 200 powet
خاص طور پر تلی کی بڑی اہم دوا بائیں پہلو میں سختی اور درد- تلی کے بڑھنے سے سانس میں دقت جگر کا دایاں حصہ بھی متاثر ہو سکتا ہے
7. Arsenicum Album 6, 30, 200 &. 1M potency.
شدید کمزوری، گھبراہٹ، موت کا خوف رات کو علامات بڑھ جائیں - مریض کی علامات کے مطابق دوا کا انتخاب:
کلاسیکل ہومیوپیتھی میں مریض کی مزاجی دوا (Constitutional Remedy) کو فوقیت دی جاتی ہے۔ مثلاً:
اگر مریض خوفزدہ، صفائی پسند، اور سردی سے حساس ہو تو Arsenicum Album 6, , 30, 200, 1M potency۔
اگر مریض چڑچڑا، ضدی اور زرد رنگ کا ہو تو Nux Vomica یا Lycopodium۔ چھوٹی طاقت میں اچھا کام کرتی ہیں
احتیاطی تدابیر:
جگر کے مریض کو چکنائی، گوشت، مسالے دار اشیاء اور الکحل سے پرہیز
نیم گرم پانی کا استعمال
وقت پر دوا لینا اور سنیئر ھومیو معالج سے مکمل مشورہ کریں - جگر کا سکڑنا ایک سنگین علامت ہے جو تلی پر منفی اثر ڈال کر پورے خون کے نظام کو متاثر کر سکتا ہے۔ ہومیوپیتھک طریقہ علاج اس حالت کو جڑ سے سمجھ کر علامات و مزاج و پتھالوجیکل تبدیلیوں کے مطابق دوا دے کر نہ صرف مرض کو قابو میں لاتا ہے بلکہ مریض کو ایک نئی زندگی کی طرف لے جاتا ہے
علاج سے بہتر ہے آپ پرہیز کریں ورزش کو اپنی عادت بنائیں صبح سویرے اٹھیں فجر کی نماز کے بعد مارننگ والک کو اپنی عادت بنائیں صبح سویرے سورج کی روشنی میں روزانہ سات بجے سے آٹھ بجے تک بیٹھیں یہ آپکی ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں مدد گار ثابت ھو گی.

گردے کی پتھری کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے بچا جائے؟غلط طرز زندگی اور کھانے کی عادات انسانی جسم کے فضلے کے اخراج کے ...
13/05/2025

گردے کی پتھری کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے بچا جائے؟
غلط طرز زندگی اور کھانے کی عادات انسانی جسم کے فضلے کے اخراج کے عمل کو متاثر کرتی ہیں۔ اس حوالے سے گردے کی پتھری ایک عام مسئلہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے مریض کو ناقابل برداشت تکلیف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

گردے کی پتھری سے متعلق دیگر سوالات کے جوابات جاننے کے لیے امراض گردہ کے ماہرین کے جوابات

گردے کی پتھری کیا ہے؟
گردے کی پتھری جسم سے خارج ہونے والے فضلے میں شامل معدنیات کے گردوں میں جمع ہونے کی وجہ سے بنتی ہے۔اس میں دیگر معدنیات کے علاوہ یورک ایسڈ اور کیلشیم بھی ہوتا ہے۔

پتھری بننے کی ایک وجہ پیشاب میں یورک ایسڈ کی زیادتی یا کم سائٹریٹ ہو سکتی ہے۔گردے کی پتھری کیوں بنتی ہے؟
پیشاب میں یورک ایسڈ کی مقدار میں اضافہ یا سائٹریٹ کی مقدار میں کمی گردے کی پتھری کا سبب ہو سکتی ہے۔

سائٹریٹ گردے کی پتھری کی تشکیل کو روکنے کے لیے ذمہ دار ہے۔ اس لیے پتھر بنانے اور پتھری کو روکنے والے عناصر کا توازن برقرار رہنا ضروری ہے۔

کچھ لوگوں کے پیشاب میں پہلے سے ہی کیلشیم کی زیادتی ہوتی ہے اور کھانوں کی عادات کے علاوہ کافی پانی نہ پینا بھی اس کا سبب بن سکتا ہے۔

سائٹریٹ پتھر کی تشکیل کو روکنے میں مدد کرتا ہے۔ جسم میں موجود تیزاب کا تناسب اس میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

گردے کی پتھری کی علامات کیا ہیں؟
زیادہ تر مریضوں میں کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں، آپ کو صرف سکین کروا کر ہی پتھری کے بارے میں پتا چلے گا۔

بہت سے لوگوں کی پتھری پیشاب کے ذریعے نکل جاتی ہے۔

اس عمل میں بہت شدید درد ہوتا ہے جو پیٹ سے شروع ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں کو پیشاب میں خون بھی آ سکتا ہے۔کس قسم کے کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے؟
چاکلیٹ، پالک، گری دار میوے (کاجو، بادام، پستے) سے گردے کی پتھری کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

تاہم، نمک یقینی طور پر گردے کی پتھری کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

گردے کی پتھری کو کب سرجری کی ضرورت ہوتی ہے؟
عام طور پر 5-6 ملی میٹر کی پتھری پیشاب کے ذریعے نکل جاتی ہے تاہم اس دوران کچھ درد ہو سکتا ہے۔ اگر پتھری زیادہ بڑی ہو تو علاج کی ضرورت ہے۔

اگر علامات ظاہر ہوں تو پہلے الٹراساؤنڈ کرانا چاہیے۔ اس میں بڑے سائز کے پتھر نظر آ جاتے ہیں۔

تاہم اگر مثانے میں پتھری ہو یا سائز میں چھوٹی ہو تو سی ٹی سکین کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ پتھر کے سائز اور مقام کے لحاظ سے لیزر سرجری یا اوپن سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔کیا قدرتی طور پر اسے تحلیل کرنا ممکن ہے؟
پتھری کو تحلیل کرنے کے لیے خوراک اور باقاعدہ پانی پینا ضرروری ہے۔ اگر مناسب مقدار میں نمک اور پانی کا استعمال کیا جائے تو ان کو تحلیل کرنا آسان ہے۔

ماہرین کے مطابق بہت سے مریضوں کی ادویات کے ساتھ ساتھ خوراک میں بھی تبدیلیاں کی جاتی ہیں اور ہر ایک کو چاہیے کہ اپنے جسم کی ضروریات کے مطابق پانی پیئے۔

سونے سے پہلے پانی پی لیں کیونکہ نیند کے دوران جسم میں سب سے زیادہ پانی کی کمی ہو جاتی ہے۔

زیادہ پانی پینے کے کیا نقصانات ہیں؟
کچھ لوگ بہت زیادہ پانی پیتے ہیں تاہم، اگر آپ کئی سال تک بہت زیادہ پانی پیتے ہیں، تو گردے کا کام متاثر ہو سکتا ہے۔

خاص طور پر گردوں کی خون سے اضافی پانی نکالنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔کیا صرف مردوں کو گردے کی پتھری کا خطرہ ہوتا ہے؟
جی ہاں، مردوں میں کئی وجوہات کی بنا پر عورتوں کے مقابلے میں گردے کی پتھری ہونے کا امکان زیادہ ہو سکتا ہے۔ جیسے بہت زیادہ باہر رہنا، جسمانی مشقت اور پسینے کی وجہ سے جسم میں پانی کی کمی وغیرہ۔

لوگوں کا بدلتا ہوا طرز زندگی بھی اس کا ذمہ دار ہے۔ وہ لوگ جو زیادہ دیر تک پیشاب نہیں کرتے یا شفٹوں میں کام کرتے ہیں، وہ اس کا زیادہ شکار ہیں۔

نیز گرم جگہوں پر کام کرنے والے لوگ جہاں پینے کا پانی کم ہے وہاں کے افراد بھی اس سے زیادہ متاثرہ ہیں۔

کیا گردے کی پتھری دوبارہ پیدا ہو سکتی ہے؟کیا صرف مردوں کو گردے کی پتھری کا خطرہ ہوتا ہے؟
جی ہاں، مردوں میں کئی وجوہات کی بنا پر عورتوں کے مقابلے میں گردے کی پتھری ہونے کا امکان زیادہ ہو سکتا ہے۔ جیسے بہت زیادہ باہر رہنا، جسمانی مشقت اور پسینے کی وجہ سے جسم میں پانی کی کمی وغیرہ۔

لوگوں کا بدلتا ہوا طرز زندگی بھی اس کا ذمہ دار ہے۔ وہ لوگ جو زیادہ دیر تک پیشاب نہیں کرتے یا شفٹوں میں کام کرتے ہیں، وہ اس کا زیادہ شکار ہیں۔

نیز گرم جگہوں پر کام کرنے والے لوگ جہاں پینے کا پانی کم ہے وہاں کے افراد بھی اس سے زیادہ متاثرہ ہیں۔

کیا گردے کی پتھری دوبارہ پیدا ہو سکتی ہے؟ایک بار پتھر بننے کے بعد اس کے دوبارہ پیدا ہونے کا امکان بہت زیادہ ہے۔ ایک بار جب یہ جسم سے نکل جائے تو آپ کو یہ فکر چھوڑ نہیں دینی چاہیے کہ یہ واپس نہیں آئے گا بلکہ ایسے مریض جن کے گردوں میں اکثر پتھری بن جاتی ہے، ان کے گردے فیل ہونے کے امکانات بھی بہت بڑھ جاتے ہیں۔

علاج کا بنیادی مقصد پتھری بننے کی وجہ تلاش کرنا ہونا چاہیے۔ اس کے بغیر آپ پتھروں کی تشکیل کو نہیں روک سکتے۔

گردوں کے ایک ماہر ڈاکٹر نے ہمیں بتایا کہ ’ایک سولہ سالہ لڑکی میرے پاس علاج کے لیے آئی تھی۔ اس کی حالت بہت سنگین تھی۔ اس کے پہلے ہی دو آپریشن ہو چکے تھے اور سی ٹی سکین سے ہمیں پتھر دوبارہ ملا۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ایسے مریضوں کو نہ صرف کڈنی ٹرانسپلانٹ بلکہ لیور ٹرانسپلانٹ کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

کس عمر کے افراد کو پتھری کا خطرہ سب سے زیادہ ہے؟
پہلے صرف چالیس یا اس سے زیادہ عمر کے لوگ اس بیماری کا شکار نظر آتے تھے تاہم حالیہ برسوں میں نوجوان مرد اور خواتین گردے کی پتھری کے مسائل کے ساتھ ہسپتال آ رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس کی حمایت کرنے کے لیے کافی ڈیٹا موجود نہی لیکن یہ واضح ہے کہ یہ مسئلہ زیادہ ہونے کا امکان ہے..03455751241 واٹس ایپ نمبر رابطہ کریں

ہرنیا کیا ہے کیوں ہوتا ہے علاج کیا ہےایک ایسا مرض جو زیادہ تر مردوں میں ہے لیکن خواتین بھی اس کا شکار ہو سکتی ہیں۔  ہرنی...
13/05/2025

ہرنیا کیا ہے کیوں ہوتا ہے علاج کیا ہے
ایک ایسا مرض جو زیادہ تر مردوں میں ہے لیکن خواتین بھی اس کا شکار ہو سکتی ہیں۔


ہرنیا کیا ہے؟ اگر کوئی شخص پیٹ میں گانٹھ محسوس کرتا ہے تو یہ ہرنیا ہو سکتا ہے۔ گانٹھ شروع میں نرم چھوٹا اور بغیر کسی درد کے ہو سکتا ہے اور کچھ عرصے کے بعد اس کو تھوڑی تکلیف اور سوجن بھی ہو سکتی ہے۔

ہرنیا کیوں اور کیسے ہوتا ہے؟ ہرنیا اس وقت ہوتا ہے جب پیٹ کے اعضا کا ایک حصہ جیسے آنت، آنتوں یا مثانے یا پیٹ میں موجود فیٹی ٹشوز کمزور جگہ کے ذریعے دھکے کھاتے ہیں یا پیٹ کے پٹھوں میں آنسو ہوتے ہیں۔ گانٹھ یا بلچ کا مواد آنت یا فیٹی ٹشو ہو سکتا ہے۔ کبھی کبھی پیٹ کی دیوار میں اس گانٹھ کو آؤٹ باٹوپنگ کہا جاتا ہے۔

ہرنیا عام طور پر پیٹ کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں پیٹ کی دیوار کمزور یا پتلی ہوتی ہے یا تو اسی وجہ سے کہ جگہ پہلے سے کمزور ہے یا کسی خرابی کے عمل کی وجہ سے یہ جگہ کمزور ہو جاتی ہے۔ اور پیٹ کی دیواریں پتلی ہو جاتی ہیں۔ اور پیٹ کے اندر دباؤ بڑھ جاتا ہے جیسے کھانسی آنے سے پیٹ پر دباؤ پڑتا ہے یا کوئی وزن اٹھانے سے تو ہرنیا ظاہر ہو سکتا ہے۔

یہ مواد عام طور پر آنتوں کی نالی یا پیٹ کا حصہ تشکیل adipose ٹشو کی ایک اندرونی سطح پرت ایک پتلی جھلی جس کا بنیادی مقصد کی طرف سے احاطہ ہرنیا کسی بھی علامت کے بغیر اظہار کرسکتے ہیں اور کبھی کبھار ناقابل برداشت درد کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ تقریباً ہر معاملے میں ہرنیا دوران خون کے مسائل کا ایک حصہ ہے جہاں خون کے مسائل کی خلاف ورزی شروع ہو جاتی ہے کہ کسی خون کی سپلائی کم کہیں زیادہ یا خون کی کوئی اور پرابلم پیدا ہو جاتی ہے وہاں پر ہرنیا کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

جب ہرنیا کمزور حصے سے نکل کر باہر آجاتا ہے اس سوراخ کے ذریعے یہ ان کی مکمل کلیمنگ کے نئے کافی طاقت کے ساتھ خون کی وریدیں سکیڑنے لگتا ہے خون کی خرابی کی شکایت ہرنیا کے مسئلے کے ساتھ ساتھ حل کیا جاتا ہے۔ ہمارے جسم کو آکسیجن کی ہر وقت ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا درد اچانک اٹھتا ہے اور اس میں آکسیجن کی کمی پیدا کرسکتا ہے۔ اگر فوری طور پر آکسیجن دستیاب نہ ہو تو مریض کی زندگی کو خطرہ ہو سکتا ہے کہ دیگر پیچیدگیوں کے باعث مریض مر سکتے ہیں اس میں تاخیر بالکل نہیں کرنی چاہیے اور جتنی جلدی ممکن ہو، ہرنیا کا علاج شروع کردینا چاہیے۔

ہرنیا کیسے شکار بناتا ہے؟ ہرنیا ایک ایسا مرض ہے جو زیادہ تر مردوں میں عام ہوتا ہے لیکن خواتین بھی اس کا شکار ہو سکتی ہیں۔ اس مرض میں پیٹ کے کمزور حصے سے آنتیں یا دیگر اعضا پیٹ کے باہر خارج ہو کر جلد کے نیچے ایک تھیلی کی شکل میں نظر آتے ہیں۔ عام طور پر ہرنیا شکم میں ہوتا ہے مگر یہ ناف، ران کے اوپری حصے اور gorim کا حصہ بھی ہو سکتا ہے یہ پیدائشی بھی ہو سکتا ہے تاہم زیادہ تر یہ عمر کے 30 یا 40 کے بعد سامنے آتا ہے۔

ہرنیا کی وجوہات:ہرنیا اس وقت کسی کو شکار بنا سکتا ہے جب کمزور مسلز یا مسلز میں کمزوری جسم کے اندر ٹشوز کے ٹوٹنے اور مرمت کے قدرتی طریقے میں مداخلت کا باعث بن جائے۔ عمر میں اضافہ، دائمی کھانسی اور سرجری کی وجہ سے مسلز کا کمزور ہو جانا۔ بہت زیادہ بوجھ اٹھانا۔ زیادہ تر قبض کا رہنا۔ معدے میں سیال کا اجتماع یا اس حصے کی سرجری سے بھی یہ خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

ہرنیا کی علامات:اس مرض کی سب سے عام علامت متاثرہ حصے میں ایک گلٹی ابھرنا ہے۔ علامت نہ ہونے والے شخص کی ڈاکٹر علاج کے دوران کمر یا پیٹ میں گانٹھ کا پتا لگا سکتے ہیں۔ عام طور پر ہرنیا والے افراد دباؤ سے اور زیادہ جھکنے سے کھانسی سے کسی قسم کے تناؤ سے درد محسوس کرتے ہیں جب مریض کھڑا ہوتا ہے تو اس گانٹھ کو صاف محسوس کیا جاسکتا ہے۔ یہ ہرنیا جب معمولی ہوتا ہے جب کی علامت ہے اس وقت اس کو پیٹ میں دھکیل دیا جاسکتا ہے جب کوئی شخص کھڑا ہوتا ہے تو کشش ثقل کی کھینچنے کی وجہ سے گانٹھ خاص طور پر چیک کی جاسکتی ہے اس وقت یہ بہت نمایاں ہوتی ہے۔

ہرنیا کی دیگر علامات یہ ہیں:1۔دمہ اور پیٹ میں ایک بھاری احساس۔ 2۔اسکروٹیم (مرد) میں درد اور سوجن۔ 3۔آنتوں کی حرکت کے ساتھ یا پیشاب کے دوران درد ہوتا ہے۔ 4۔کسی بھاری چیز اٹھانے یا دوسری جگہ رکھنے پر درد ہوتا ہے۔ 5۔ اگر زیادہ دیر کھڑا رہا جائے تو بھی درد شروع ہو جاتا ہے۔ 6۔ بچوں میں والدین کو گانٹھ محسوس ہوسکتی ہے جب بچہ روئے۔ کھانسنے یا تناؤ کا شکار ہو۔ اس میں ہرنیے کو واپس اندر دھکیلا جاسکتا ہے۔

بعض دفعہ حمل کے دباؤ کی وجہ سے بھی ہرنیا ہو سکتا ہے۔ سخت قسم کی ملازمت جس میں وزن بھی اٹھانا پڑے اور کھڑا بھی رہنے سے ہرنیا ہو سکتا ہے۔ سگریٹ نوشی یا پھیپھڑوں کی دوسری وجوہات کی بنا پر پھیپھڑوں کے خراب ہونے سے کھانسی کا زیادہ آنا یا الرجی کی وجہ سے چھینکوں کی زیادتی، موٹاپا، آنتوں کی حرکت کے ساتھ تناؤ (قبض کے ساتھ) یا پیشاب کرنا، زیادہ ورزش کرنے سے بھی درد ہوتا ہے۔

ہرنیا کی دیگر وجوہات میں چوٹ بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ سرجری میں کوئی بھی غلطی ہو جائے اور مکمل شفا نہ ہو، سرجری میں چیرا جتنا زیادہ بڑا لگایا جاتا ہے ہرنیا کے امکانات اتنے زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ بعض کے خاندان کی ہسٹری میں ہرنیا ہوتا ہے بعض بچوں کی قبل از پیدائش بھی ہرنیا کا سبب بن سکتی ہے۔ جن لوگوں کو پیٹ کے ایک طرف ہرنیا ہوتا ہے ان کے دوسری طرف بھی ہرنیا ہو سکتا ہے۔

ہرنیا کو اندر نہیں دھکیلا جاسکتا ہے اور ہرنیا کو کم بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اگر اللہ نہ کرے ٹشو آنتوں میں پھنس جائے اور خون کی فراہمی منقطع ہو جائے، اگر ایسا ہو تو درد کا بہت بڑھ جانا، متلی، الٹی کا ہونا اس شخص کو بخار بھی ہو سکتا ہے، یہ ایک طبی ایمرجنسی مرض ہے اس قسم کے ہرنیے کے لیے فوری طور پر آپریشن کرنا پڑتا ہے۔

ہرنیا کی اقسام:Inguinal or groin hernia یہ سب سے عام قسم ہے جو امریکا میں 2 فی صد مردوں میں پائی جاتی ہے۔

باالواسطہ ہرنیا:جو قبل ازپیدائش خصیص کی نشوونما کے دوران پایا جاتا ہے اور پیٹ سے خراش میں آتا ہے۔ یہ راستہ عام طور پر پیدائش سے پہلے ہی بند ہو جاتا ہے۔ بعض دفعہ inguinal اسٹروٹم میں پھیل سکتا ہے۔ یہ کسی بھی عمر کے لوگوں کو ہو سکتا ہے۔

براہ راست ہرنیا:براہ راست ہرنیا بالواسطہ ہرنیا کے سائیڈ کے اندر سے تھوڑا سا ہوتا ہے اس جگہ جہاں پیٹ کی دیوار قدرتی طور پر قدرے پتلی ہوتی ہے یہ ش*ذ و نادر ہی اسکاچ میں پھیل پاتا ہے۔ یہ ہرنیا ہمیشہ درمیانی عمر کے بوڑھے لوگوں میں ہوتا ہے کیونکہ پیٹ کی دیواریں عمر کے ساتھ کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ہرنیا کی اور بھی متعدد اقسام ہیں۔

چیراسی ہرنیا:اگر پیٹ کی سرجری ہو اس کے بعد ہرنیا ہو جائے تو اس کو چیراسی ہرنیا کہتے ہیں۔ ان علامات میں درد، معدے کی مستقل کچھ نہ کچھ پرابلم، پیٹ کی تکمیل کا مسلسل احساس عام طور پر اس ہرنیا کی سرجری ہوتی ہے۔

ہیٹل ہرنیا:جب پیٹ کے اوپری حصے کا ایک حصہ ڈایا فرام کے ذریعے جاتا ہے۔ عام طور پر ڈایا فرام معدے کو مضبوطی سے اپنی جگہ پر رکھتا ہے لیکن اگر کسی بھی قسم کا نقص پیدا ہو جائے جس کی وجہ سے پیٹ اوپر کی طرف بڑھ جائے۔ اس کی بھی مختلف اقسام ہوتی ہیں۔ ہرنیا کی یہ اقسام اکثر معدے کی بیماری کا سبب بنتی ہیں اس میں بھی آپریشن کی ضرورت پڑ سکتی ہے کیونکہ ڈایا فرام کے ذریعے آنتوں یا پیٹ کا ایک بڑا حصہ جا رہا ہوتا ہے۔ اگر ہرنیا اتنا نہ بڑھا ہو کہ آپریشن کی ضرورت پڑے تو آپ احتیاط کریں۔

فیموریل ہرنیا:یہ شرونی کے نچلے حصے میں اندرونی ران کے قریب اور تمام طور پر جسم کے دائیں جانب ہوتا ہے۔ یہ قسم غیر معمولی ہے۔ ہرنیا کی تمام اقسام میں سے یہ 3 فیصد سے بھی کم ہوتا ہے۔ اس قسم کا ہرنیا مردوں کے مقابلے میں خواتین کو زیادہ ہوتا ہے۔ اگر آپ کمر میں درد محسوس کرتے ہیں جہاں عام طور پر فیمورل ہرنیا ہوتا ہے تو اس کا علاج کروائیں۔ یہ کم ہوتا ہے لیکن اس سے موت واقع ہو سکتی ہے۔

اپیگیسٹرک ہرنیا:یہ شرٹ کا جو بٹن پیٹ پر آتا ہے اس سے تھوڑا اوپر پسلیوں کا جو پنجرہ ایسا بنا ہوتا ہے اس کے نیچے ہوتا ہے۔ یہ ہرنیا زیادہ جگہوں پر پایا جاتا ہے بچوں اور بڑوں سب میں ہوتا ہے۔ یہ ہمیشہ علامات کا سبب نہیں بنتا کبھی علامات ملتی ہیں اور کبھی بالکل نہیں ملتیں۔ کبھی یہ بہت کم جگہ پر چھوٹا سا ٹکڑا محسوس ہوتا ہے اور کبھی بہت بڑی جگہ پر ہوتا اور بہت بڑا ٹکڑا محسوس ہوتا ہے اس کا واحد علاج سرجری ہے۔

نال ہرنیا:یہ حالت بچوں میں عام طور پر پائی جاتی ہے۔ عموماً 4 سال کی عمر سے بڑے بچوں میں۔ یہ عام طور پر آنتوں کی حرکت کے دوران، کھانسی یا تناؤ یا زیادہ دباؤ کی وجہ سے ہوتا ہے اگر اچانک شدید درد اور قے کی علامات ہوں تو فوراً ڈاکٹر کے پاس جائیں۔

ہرنیا سے متعلق درد یا متلی جیسی علامات کو نظرانداز نہ کریں یہ علامات اشارہ کرتی ہیں کہ آپ کے ٹشوز میں خون کا بہاؤ نہیں ہو رہا ہے۔

ہرنیا اور ہومیوپیتھی سرجری:ہرنیا کی اقسام اور ان کا ہومیوعلاج:

Umbical Harnia یہ بچوں میں زیادہ ہوتا ہے۔

کاکولس Cocculus

نکس وامیکا Nuxvomica

پوڈوفائیلم Podophyllum

Inguinal Harnia۔ اس میں آنت جنگاسہ والی نالی کے راستے اتر کر کولن میں آجاتی ہے ۔ یہ مردوں میں زیادہ ہوتا ہے۔

لائیکو پوڈیم Lycopodium

Femoral Harnia۔ اس میں آنت کولن ران کے سوراخ سے اتر جاتی ہے یہ زیادہ تر عورتوں میں ہوتا ہے۔

کاربوویج Carboveg

Reducible Harnia۔ یہ پیٹ کی دیواروں کی کمزوری اور زیادہ بوجھ اٹھانے سے ہوتا ہے۔

کاربوویج Carboveg

نکس وامیکا Nuvomica

Secrctal Harnia۔ اس میں آنت کولن میں اتر جاتی ہے۔

لائیکو پوڈیم Lycopodium

Irreducible Harnia۔ اس قسم میں آنت کو ہاتھ سے واپس پیٹ میں نہیں کیا جاسکتا۔

سلیشیا Silicea

Strangulated Harnia۔ یہ خطرناک قسم ہے اس میں آنت پھنس جاتی ہے۔

پلمبم میٹ Plumbum Met

بیلاڈونا Belladonna

نکس وامیکا Nuxvomica

موسم کی تبدیلی سے ہونے والا ہرنیا

ایکونائیٹم Aconite

نکس وامیکا Nux Vomica

جب مریض کا درجہ حرارت کم ہو تو

کاربوویج Carboveg

جب آنت پیرمیٹک کارڈ کے خلا سے دائیں طرف پیٹ میں جائے

کاکولس Cocculus

جب فضلات کا اخراج نہ ہو اور خون زہریلا ہو۔ درد، مایوسی

لیکیس Lachesis

امبلائیکل ہرنیا

نکس وامیکا Nuxvomica

جب آنت میں بل پڑ جائے۔

اوپیم O***m

بوڑھے مردوں میں

آرم میسٹ Aurum Met

جب آنتوں میں گرہ پڑ جائے

پلبم میٹ Plumbum Met
03455751241 واٹس ایپ نمبر

Address

2no
Sargodha
40410

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when HarooniHomeopathy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to HarooniHomeopathy:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram