Doctors Waqas

Doctors Waqas Specially Diabetic & Ulcerative patients Diabetic control center

28/04/2023
15 دسمبر سے روزآنہ
08/12/2022

15 دسمبر سے روزآنہ

ہاتھوں پیروں کی جلن وجوہات1 ذیابطیس کی وجہ سے2 غذائيت کی کمی کے سبب3 ہائپو تھائرائڈزم4 اتھلیٹ فٹ5 گردے کی تکالیف6 اعصاب ...
22/03/2022

ہاتھوں پیروں کی جلن
وجوہات
1 ذیابطیس کی وجہ سے
2 غذائيت کی کمی کے سبب
3 ہائپو تھائرائڈزم
4 اتھلیٹ فٹ
5 گردے کی تکالیف
6 اعصاب کی کمزوری
ہاتھوں پیروں میں جلن ایک ایسی بیماری ہے جو کسی بھی عمر میں اور کسی بھی جنس کے فرد کو ہوسکتی ہے ۔ اگرچہ اس بیماری کی بہت ساری وجوہات ہوتی ہیں اور اس کا علاج انہی وجوہات کی بنا پر کیا جاتا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ اس کے علاج کے لۓ اکثر لوگ گھریلو ٹوٹکوں کا بھی استعمال کرتے ہیں
ہاتھوں پیروں میں جلن ہونے کی سب سےبڑی وجہ اعصاب کی کمزوری ہوتی ہے جس کے بنیادی اسباب میں ذیابطیس ، مختلف وائرل ، یا بیکٹیریل انفیکشن وٹامن کی کمی ، کیموتھراپی اور مختلف نشہ آور اشیا کی استعمال اس کی بنیادی وجوہات میں شامل ہے جن کے بارے میں تفصیلات کچھ اس طرح سے ہیں
اگر کافی عرصے تک ذیابطیس کو کنٹرول نہ کیا جاے اور شوگرکی شرح خون میں بہت زیادہ ہو تو اس کی وجہ سے اعصاب کمزور ہو جاتے ہیں اور اس وجہ سے دماغ تک پیغامات کے آنے جانے کا عمل سست پڑ جاتا ہے

اس کے ساتھ ساتھ ذیابطیس کی وجہ سے شریانیں کمزور پڑ جاتی ہیں جس سے جسم میں خون اور آکسیجن کی ترسیل متاثر ہوتی ہے اعصاب کا ذیابطیس سے اس طرح متاثر ہونا اور اس سے ہاتھوں پیروں میں جلن کا ہونا پیریفیرل نیوروپیتھی کہلاتا ہے

جس کی وجہ سے ہاتھوں پیروں میں نہ صرف جلن ہوتی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ہاتھوں پیروں کا سن ہونا ، تیز چبھن والا درد، بے تحاشا پسینہ انا اور ہاتھوں پیروں کا بھاری پن بھی اس کی دیگر علامات میں سے ایک ہے
غذائيت کی کمی کے سبب
ہاتھوں پیروں میں جلن کا ایک سبب غذائیت کی کمی بھی ہو سکتی ہے ۔ عام طور پر وٹامن بی 6 ، وٹامن بی 12 اور وٹامن بی 9 کی کمی کی وجہ سے بھی یہ علامات ظاہر ہو سکتی ہیں اس کے علاوہ خون کی کمی کی صورت میں بھی ہاتھوں پیروں میں جلن ہو سکتی ہے ۔ اس کے علاوہ اس کی دیگر علامات میں دل کی دھڑکن کا تیز ہونا ،سانس لینے میں دشواری اور کمزوری بھی ا س کی علامات میں شامل ہے

ہائپو تھائرائڈزم
تھائی رائڈ گلینڈ کا انسانی جسم میں بہت اہم کردار ہےاس میں سے خارج ہونے والے ہارمون اگر مقدار میں کم خارج ہوں تو اس صورت میں بھی صحت کے لیے مسائل کا باعث ہوتے ہیں جب کہ اگر زیادہ خارج ہوں تو اس صورت میں بھی اعصاب پر دباؤ پڑتا ہے جس کی وجہ سے ہاتھوں پیروں میں خون اور آکسیجن کی روانی متاثر ہوتی ہے جو کہ جلن کا باعث بنتی ہے

اتھلیٹ فٹ
یہ ایک فنگل انفیکشن ہے ۔ جو کہ عام طور پر ہاتھوں پیروں کی انگلیوں کے درمیان ہو جاتا ہے اس کی علامات میں ہاتھوں پیروں میں سنسناہٹ ، جلن اور خارش ہونا شامل ہے ۔ اس کی وجہ سے جلد پر چھالے ، جلد پر ہونے والی خشکی بھی اس کی علامات میں شامل ہیں
گردے کی تکالیف
گردوں کا کام جسم میں سے زہریلے مادوں کا اخراج ہوتا ہے لیکن اگر کسی وجہ سے گردے اپنے افعال مناسب انداز میں نہ انجام دے سکیں تو اس کی وجہ سے یہ زہریلے مادے جسم مین جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں

زہریلے مادوں کی بلند شرح کی وجہ سے ہاتھوں پیروں میں جلن شروع ہو جاتی ہے اس کی دیگر علامات میں پیشاب کا کم آنا ، سانس لینے میں دشواری ، متلی ، چکر آنا ،اور تھکن شامل ہیں.
ہاتھوں پیروں کی جلن کی تکلیف کی صورت میں جب ڈاکٹر سے رجوع کیا جاۓ تو ابتدائی طور پر وہ ہاتھوں ، پیروں کا معائنہ کر کے یہ دیکھے گا کہ کیا جلد پر کوئیانفیکشن تو نہیں ہے جو کہ جلن کا سبب بن رہا ہے

اس کے بعد اگر جلد پر کسی بھی قسم کا انفیکشن نہ ہو تو اس صورت میں ڈاکٹر کچھ خون کے ٹیسٹ کروا کر یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس تکلیف کا بنیادی سبب ہے کہ گردے کے اندر کسی قسم کی خرابی تو نہیں ، وٹامن کی کمی اور تھائی رائڈ کی خرابی اور ذیابطیس کی شرح کے بارے میں بھی خون کے ٹیسٹ سے جانا جاسکتا ہے

جس کے بعد ڈاکٹر اس مرض کی وجوہات کے مطابق اس کا علاج تجویز کرتے ہیں اور ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کر کے اس تکلیف سے جان چھڑائی جا سکتی ہے

ہاتھون پیروں کی جلن دور کرنے کے گھریلو ٹوٹکے
ہاتھوں پیروں کی جلن کی صورت میں صدیوں سے گھر کے بڑے کچھ نسخے تجویز کرتے رہتے ہیں اور ان کے استعمال سے عارضی طور پر اس جلن سے نجات بھی مل سکتی ہے مگر یہ عارضی حل ہوتا ہے اور اس کو مستقل علاج قرار نہیں دیا جا سکتا ہے

ہاتھوں پیروں پر بغیر کیمیکل والی مہندی لگانا

کھیرے کو کدو کش کر کے اس کا لیپ ہاتھوں پیروں پر لگانا

ٹھنڈے پانی میں ہاتھ پاؤں بھگونا

کسی بھی تیل سے ہاتھوں پیروں کا مساج کرنا

Copy by Karamat Aliمرد کا جسم مسلسل نطفہ بناتا ہے، لیکن نطفہ کی تخلیق نو فوری نہیں ہوتی۔ اوسطاً، ایک مرد کو شروع سے آخر ...
22/01/2022

Copy by Karamat Ali
مرد کا جسم مسلسل نطفہ بناتا ہے، لیکن نطفہ کی تخلیق نو فوری نہیں ہوتی۔ اوسطاً، ایک مرد کو شروع سے آخر تک نئے سپرم پیدا کرنے میں لگ بھگ 74 دن لگتے ہیں۔
اگرچہ اوسط وقت 74 دن ہے، لیکن کسی فرد کے سپرم بنانے کا اصل وقت مختلف ہو سکتا ہے۔
جسم اوسطاً 20-300 ملین سپرم سیلز فی ملی لیٹر منی پیدا کرتا ہے۔
اوسطاً، خصیوں میں نطفہ بننے میں 50-60 دن لگتے ہیں۔
اس کے بعد، نطفہ ایپیڈیڈیمس میں منتقل ہوتا ہے، جو خصیوں کے پیچھے موجود نالی ہیں جو سپرم کو ذخیرہ اور لے جاتی ہیں۔
ایپیڈیڈیمس میں سپرم کو مکمل طور پر پختہ ہونے میں مزید 14 دن لگتے ہیں۔ Spermatogenesis وہ عمل ہے جس کے ذریعے جسم سپرم بناتا ہے۔ یہ عمل اس وقت شروع ہوتا ہے جب دماغ میں ہائپوتھیلمس گوناڈوٹروپین جاری کرنے والا ہارمون جاری کرتا ہے۔ یہ ہارمون anterior pituitary gland کو luteinizing hormone (LH) اور follicle stimulating hormone (FSH) کے اخراج کے لیے متحرک کرتا ہے۔ یہ دونوں ہارمون خون کے ذریعے خصیوں تک جاتے ہیں۔
LH ٹیسٹوسٹیرون بنانے کے لیے Leydig خلیوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ ایف ایس ایچ سیمینیفرس نلیوں پر کام کرتا ہے، خصیوں کا وہ علاقہ جہاں جسم سپرم بناتا ہے۔
ان میں سے کسی بھی ہارمون کا مسئلہ کسی شخص کی سپرم بنانے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتا ہے اور اس عمل کو سست کر سکتا ہے۔
اوسطاً، نطفہ کی پیداوار شروع سے ختم ہونے میں 74 دن لگتی ہے، لیکن انفرادی مردوں میں یہ عمل کم یا زیادہ ہو سکتا ہے۔
اوسطاً مرد ہر روز لاکھوں نطفہ پیدا کرتا ہے۔
تاہم، عمر کے ساتھ سپرم کے معیار اور شمار میں کمی واقع ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بوڑھے مردوں کے نطفہ میں زیادہ تغیرات ہوسکتے ہیں، اور اس وجہ سے کہ وہ کم نطفہ پیدا کرسکتے ہیں۔
دیگر عوامل، جیسے کہ صحت اور طرز زندگی، سپرم کی پیداوار اور صحت دونوں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
مثال کے طور پر، چوہوں کے 2013 کے مطالعے سے پتا چلا ہے کہ ٹائٹینیم ڈائی آکسائیڈ کے چھوٹے ذرات کے سامنے آنے سے ماؤں کے ہاں پیدا ہونے والے چوہوں کی پہلی نسل میں سپرم کی تعداد کم ہوتی ہے جسے محققین نے ذرات کے سامنے لایا تھا۔
اس کے علاوہ، جن چوہوں کے باپوں نے سائنسدانوں کو کاربن بلیک کے چھوٹے ذرات کا سامنا کرنا پڑا، ان میں دو نسلوں تک سپرم کی پیداوار کم دکھائی دی۔
تمام مردوں میں سے تقریباً 1% اور بانجھ پن کے شکار 10-15% کے انزال میں کوئی سپرم نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر اس حالت کو azoospermia کہتے ہیں۔
بعض صورتوں میں، ایک مرد نارمل، صحت مند نطفہ پیدا کرتا ہے جو کسی رکاوٹ یا دیگر جسمانی پریشانی کی وجہ سے انزال تک نہیں پہنچتا۔
دوسرے معاملات میں، ایک مرد بہت کم یا کوئی سپرم پیدا نہیں کرتا ہے۔ یہ اکثر خصیوں یا اینڈوکرائن سسٹم میں کسی مسئلے کی وجہ سے ہوتا ہے۔
ایک بار جب نطفہ اپنی نشوونما مکمل کر لیتا ہے، تو وہ ایپیڈیڈیمس میں رہتے ہیں۔ جب مرد کا انزال ہوتا ہے تو سیمینل ویسیکلز سے نکلنے والا سیال منی بنانے کے لیے منی میں شامل ہو جاتا ہے۔
اگر مرد کا نطفہ انزال نہیں ہوتا ہے، تو جسم بالآخر ٹوٹ جاتا ہے اور انہیں دوبارہ جذب کر لیتا ہے۔
نطفہ مرد کے جسم کے باہر چند منٹوں میں مر سکتا ہے۔ تاہم، نطفہ خواتین کے جسم کے اندر 3-5 دن تک زندہ رہ سکتا ہے اگر وہ سروائیکل بلغم پیدا کر رہے ہوں۔ یہ بلغم سپرم کی پرورش اور حفاظت میں مدد کرتا ہے اور سپرم کے لیے انڈے تک تیرنا آسان بناتا ہے۔
ایک مرد اپنے تمام منی کا انزال نہیں کرتا، اور جسم مسلسل زیادہ نطفہ پیدا کرتا ہے۔ نتیجے کے طور پر، مرد کے منی میں اب بھی نطفہ موجود رہے گا چاہے وہ دن میں کئی بار انزال کرے۔
جب ایک مرد کئی دن بغیر انزال کے گزرتا ہے تو ان کے سپرم کی تعداد میں قدرے اضافہ ہوتا ہے۔ زیادہ کثرت سے انزال سپرم کی تعداد کو کم کرتا ہے لیکن صحت مند مردوں میں زرخیزی کو متاثر کرنے کا امکان نہیں ہے۔
2016 کی ایک تحقیق میں تین مردوں کے سپرم کی تعداد کا جائزہ لیا گیا جنہوں نے 2 گھنٹے کے وقفے سے چار بار انزال کرنے سے پہلے کئی دنوں تک انزال سے پرہیز کیا تھا۔ محققین نے پایا کہ ان کے سپرم کی تعداد بار بار انزال کے ساتھ گر گئی لیکن عالمی ادارہ صحت (WHO) کے رہنما اصولوں کے اندر رہے۔ صحت مند سپرم شمار.
2015 کے ٹرسٹڈ سورس کے مطالعے نے سپرم کے معیار اور گنتی پر بار بار انزال کے اثرات کا جائزہ لیا۔ سپرم کے معیار کے دیگر اقدامات — جیسے کہ شکل، تیرنے کی صلاحیت، اور ارتکاز — ایک جیسے ہی رہے، یہاں تک کہ کثرت سے انزال ہونے کے باوجود۔
ایک ساتھ، یہ مطالعات بتاتے ہیں کہ کم زرخیزی والے مردوں میں، بار بار انزال سپرم کی تعداد کو قدرے کم کرکے حاملہ ہونے کے امکانات کو کم کر سکتا ہے۔
تاہم، زیادہ تر مردوں کے لیے، یہاں تک کہ بہت کثرت سے انزال سے بھی زرخیزی متاثر ہونے کا امکان نہیں ہے۔
سپرم ٹھنڈے درجہ حرارت پر بہترین کام کرتے ہیں۔ خصیے جسم سے اتر کر سپرم کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد کرتے ہیں۔ گرمی کی طویل نمائش - جیسے گرم ٹبوں سے، شدید ورزش، یا کام کی جگہ کا سامان - سپرم کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
جو مرد زرخیزی کو بہتر بنانا چاہتے ہیں انہیں ڈھیلا ڈھالا انڈرویئر پہننا چاہیے۔ تنگ انڈرویئر گرمی کو پھنس سکتے ہیں اور خصیوں کو جسم کے خلاف مجبور کر سکتے ہیں، درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ کوئی بھی چیز جو مجموعی صحت کو متاثر کرتی ہے وہ سپرم کی پیداوار کو بھی متاثر کر سکتی ہے، کیونکہ سپرم کی صحت کا انحصار کئی ہارمونز اور جسمانی نظام کے پیچیدہ تعامل پر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، ضرورت سے زیادہ شراب نوشی، منشیات اور تمباکو نوشی سے زرخیزی متاثر ہو سکتی ہے۔ ورزش خون کے بہاؤ اور مجموعی صحت کو بہتر بنا سکتی ہے، ممکنہ طور پر سپرم کے معیار کو بہتر بنا سکتی ہے۔ کچھ مطالعات ٹرسٹڈ ماخذ بتاتے ہیں کہ باقاعدگی سے ورزش کرنے سے سپرم کے معیار یا گنتی میں بہتری آسکتی ہے، حالانکہ اس کی وجہ بتانے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ صحت مند، متوازن غذا کھانا بھی ضروری ہے۔ تحقیق نے کچھ کھانوں کو کم سپرم کی صحت سے جوڑ دیا ہے۔ ان کھانوں میں پروسس شدہ گوشت، ٹرانس فیٹ، سویا کی مصنوعات اور زیادہ چکنائی والی دودھ کی مصنوعات شامل ہیں۔
کیا مرد کے سپرم سیل مکمل طور پر ختم ہو سکتے ہیں؟
نہیں کیونکہ مرد کا جسم مسلسل نئے سپرم سیل بنا رہا ہے، وہ ختم نہیں ہوں گے۔ یہاں تک کہ اگر وہ دن میں ایک یا کئی بار انزال کرتے ہیں، منی میں عام طور پر ہمیشہ سپرم سیل ہوتے ہیں۔ فرد کی جینیات اور عمر پر منحصر ہے، ان کے سپرم کی پیداوار کا دور اور سپرم سیل کا معیار مختلف ہوگا۔ کچھ ادویات اور طرز زندگی کے عوامل - جیسے خوراک، انزال کی فریکوئنسی، تمباکو نوشی کی حیثیت - مرد کے جسم میں پیدا ہونے والی منی کی مقدار کو متاثر کر سکتی ہے۔

جلنا کیا ھے؟ ابتدائی طبی امداداگر آپ کی جلد آگ کے شعلوں، گرم مائع، بجلی یا کسی بھی گرم شے سے زخمی ھو جائے تو اسے جلنا کہ...
31/12/2021

جلنا کیا ھے؟ ابتدائی طبی امداد
اگر آپ کی جلد آگ کے شعلوں، گرم مائع، بجلی یا کسی بھی گرم شے سے زخمی ھو جائے تو اسے جلنا کہتے ھیں جیسے کہ چولہے کی آگ سے جلنا، وغیرہ۔ زیادہ تر جلنا گھر کے اندر ھی ھوتا ھے، وجہ گرم پانی یا تیل کا جلد پر گرنا ھوتا ھے، اس قسم کے جلنے کو گرم مائع سے جلنا کہتے ھیں۔

جلنے کی درجہ بندی
ڈاکٹروں نے جلی جلد کے متاثرہ حصوں اور زخم کی گہرائی دیکھ کر اسکی درجہ بندی کی ھے۔
فرسٹ ڈگری کا جلنا
پہلے درجہ کا جلنا یا اوپری سطح کا زخم صرف جلد کی بالائی سطح کو متاثر کرتا ھے، اس کی ایک عام مثال سورج سے جلنا ھے۔ پہلے درجے کے جلنے سے آپ کے بچے کی جلد سرخ ھو گی، سوج جائے گی اور درد کرے گی۔۔ اس قسم کا زخم جند دنوں میں ٹھیک ھو جاتا ھے اور کوئی نشان بھی نہیں چھوڑتا۔

دوسرے درجے کے زخم
جلے ھوئے زخم کی گہرائِ
جلد کا یہ حصہ زخم کی گہرائی کو ڈگری میں دکھاتا ھے۔پہلی ڈگری کا زخم جلد کی اوپری سطح پر ھوتا ھے دوسری ڈگری کاجلا زخم جلد کے نیچے والے حصے یا دوسری پرت کو متاثر کرتا ھے تیسری ڈگری کا جلا زخم پوری جلد ،دونوں اوپری پرتوں اور اسکے نیچے ٹیشوز کو بھی نقصان پہنچاتا ھے
یہ دوسرے درجے کے زخم یا جزوی موٹائی کے زخم ھوتے ھیں جو کہ جلد کی اوپری سطح یا نیچے کی کچھ پرتوں کو بھی زخمی کرتے ھیں، اس سے بچے کی جلد پر سرخی، سوجن اور چھالے نمودار ھوں گے۔ اس سے بہت درد اور تکلیف ھوتی ھے، دوسرے درجے کا جلنا چند ھفتوں میں خود بخود ٹھیک ھو جاتا ھے اور یہ جسم پر نشان چھوڑ جاتا ھے۔
تیسرے درجے کے زخم
تھرڈ ڈگری کے زخم پوری موٹائی کے ھوتے ھیں اور جلد کی ساری تہوں کو متاثر کرتے ھیں جس میں ریشے، خون کی نالیاں، اور بالوں کی جڑیں شامل ھیں۔ آپ کے بچے کی جلد کالی یا سفید ھو سکتی ھے۔ تھرڈ ڈگری کے جلنے میں درد کا احساس کم ھو جاتا ھے کیونکہ اس حصے کے پٹھوں کو نقصان پہنچ چکا ھوتا ھے۔
اگر آپ کے بچے کو تیسرے درجے کا زخم ھو گیا ھے تو اسے نئی جلد لگانے کی ضرورت ہو گی۔ گرافٹینگ ایک طبی طریقہ کار ھے جس میں جسم کے ایک تندرست حصے کی جلد جلے ھوئے حصے سے جوڑدی جاتی ھے۔ تیسرے درجے کے زخم ٹھیک ھونے میں کئی مہینے لگ جاتے ھیں اور اس کا نشان باقی رھتا ھے

طبی امداد کی ضرورت کب پڑے گی
اگر آپکا
ایسا زخم جو کہ گہرا ھو اور جلد کی ساری تہوں کو متاثر کرے
ایسا زخم جو کہ 10 سی ایم یا 4 انچ سے زیادہ ھو
ایسا زخم جو کہ ھاتھوں ، پاوں ، پستان، مقعد، نازک حصوں یا کسی اور جگہ پر ھو
اگر آپکے بچے کے زخموں میں کسی وقت انفیکشن ھو جائے اور اسے آرام نہ آ رھا ھو تو فوری ڈاکٹر سے رجوع کیجئے
علاج
بڑے زخم
اگر آپ کو خدشہ ھے کہ آپ کا بچہ زیادہ جل گیا ھے تو آپ کو مندرجہ ذیل کام کرنے ھیں :

نیم تھنڈے پانی سے کوئی صاف کپڑا یا تولیہ بھگو کر زخم پر رکھیں
اپنے بچے کے جلے ھوئے کپڑے نہ اتارِیں
اگر چھالے پڑ گئے ھیں تو انہیں پھوڑیں نہیں
زخم پر پانی کے علاوہ کوئی کریم یا دوا استعمال نہ کریں
معمولی زخم
چھوٹے زخموں میں فرسٹ ڈگری یا زیادہ تر سیکنڈ ڈگری کے زخم ھوتے ھیں، جلا ھوا حصہ سورج کے سامنے لانے سے گریز کریں، اس سے زخم خراب ھو سکتا ھے اور اس کے درست ھونے میں زیادہ عرصہ لگ سکتا ھے ۔ علاوہ ازیں سن سکرین کا استعمال زخم کو محفوظ رکھنے کی بجائے اور زیادہ خرابی کا باعث بنے گا۔
جلے ھوئے زخم کو ٹھنڈا رکھیں
جلے ہوئے ہاتھ کو بہتے ہوئے پانی میں پکڑنا
جلے ھوئے زخم کو بہتے ھوئے پانی کے نیچے 10 منٹ تک رکھیں۔ یہ کام جتنی جلدی ممکن ھو اتنا ھی اچھا ھے۔اپنے بچے کے کپڑے اتارنے میں وقت ضائع مت کریں، اگر آپ باھر ھیں تو باغ کا نلکا استعمال کریں یا پینے والا نلکا استعمال کریں یا کسی اور طریقے سے ٹھنڈا پانی حاصل کریں۔ زخم کو پانی کے ساتھ تھنڈا کرنے سے بچے کی درد میں کمی ھو گی۔ تھنڈا پانی ڈالنے سے سوجن میں کمی ھو گی اور زخم، جلد کی گہرائی تک جانے سے بچ جائے گا۔

زخم کو ڈھانپ کر رکھیں
جلے ہوئے حصے پر باریک کپڑا لپٹا ہوا ہاتھ
اگر بچے کا زخم بڑا ھے تو اسے جراثیم سے پاک کپڑے یا پٹی سے ڈھا نپ دیں۔ پٹی کو سختی سے نہ باندھیں لیکن ڈھا نپا ھوا زخم صاف رھے گا اور درد میں کمی کا باعث ھو گا۔ زخم کے اوپر روئی کا پھائے رکھنے سے گریز کریں اور نہ ھی کسی قسم کےِ مرہم کا استعمال کریں۔
زخم کی صفائی
بغیر خوشبو کے مائِع صابن اور پانی سے زخم کو دن میں دو بار دھوئیں۔ اپنا زخم ٹھنڈے پانی کے اندر رکھیں یا 10 منٹ تک اس کے اوپر سے پانی بہا ئیں ۔ زخم کو شفاف کپڑے یا تولئَے سے تھپک کر صاف کیجئے، اگر بچے کے چھالے بن گئے تو انہیں پھوڑیں مت۔ یہ چھالے زخم کے اوپرانفیکشن کے خلاف خفاظتی جلد کا کام کرتے ھیں اور اگر یہ چھالے پھٹ جاتے ھیں تو ان پر اینٹی بایئوٹک کریم پولی سپورین لگائیِں اور جراثیم سے پاک پٹی سے لپیٹ دیں

درد سے آرام پانا
جلنے کا زخم بچے کو بہت تکلیف دیتا ھے ۔ درد کم کرنے کے لئے بچے کو آئی بروفین یا ایسٹامینوفین لیبل پر دی گئی ھدائت کے مطابق دیجئے۔ اپنے بچے کو اے ایس اے یا کسی برانڈ کی بھی ایسپرین مت دیجئے۔ آئی بروفین اور ایسٹامینوفین بھی اتنی ھی اچھی ھیں جتنی کہ اے ایس اے، جو کہ درد کو کم کرنے کا کام آتی ھے۔

بشکریہ ڈاکٹر ریمشا بخاری ویاگرا /جنسی طاقت کی گولیوں کیسے انسانی جسم اور صحت کومتاثر کرتی ہیں؟  ایسے افراد جنہیں ایرکشن،...
02/12/2021

بشکریہ ڈاکٹر ریمشا بخاری
ویاگرا /جنسی طاقت کی گولیوں کیسے انسانی جسم اور صحت کومتاثر کرتی ہیں؟

ایسے افراد جنہیں ایرکشن، یعنی عضو تناسل میں تناؤ نہ آنے کامسلہ ہوتا ہے وہ میڈیکل سٹور وں سے بغیر کسی ڈاکٹری نسخے کے خود سے ویاگرا خرید کر استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں میڈیکل سٹوروں پر عام طور پر جو گولیاں دی جاتی ہیںوہsildenafil یاtadalafil ہوتی ہیں ان دونوں دوائیوں کا کام انسانی جسم میں بلڈفلو ،بلڈ پریشر بڑھا کرعضو تناسل میں ایرکشن لانا ہے ان سے ہونے والے سائیڈ ایفیکٹس ، نقصانات کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

1۔ Common /عام سائیڈ ایفیکٹس

عام نقصانات میں سب سے پہلا نقصان یہ ہوتا ہے کہ مرد کو سر میں شدید قسم کا نا قابل برداشت درد محسوس ہوتا ہے کیونکہ ویاگرا کا کام بلڈ فلو کو بڑھانا ہےاس لیے چہرہ لال ہو جاتا ہے دیکھنے میں دھندلا پن بھی عارضی طور پر محسوس ہو سکتا ہے یا کچھ وقت کے لیے چیزیں بلیو کلر کی دیکھائی دینے لگتی ہیں اس کے علاوہ چکر آنا اور الٹی کا سامنا بھی ہو سکتا ہے مسلز میں ہلکا سا درد محسوس ہونا اورکمر میں ہلکاسا درد ہونانارمل ہے کیونکہ یہ آکسی ٹوسن ہارمون ریلیز ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے ۔

2۔ Rare /ؒخطر ناک سائیڈ ایفیکٹس

ایسے لوگ جو مستقل ویاگرااستعمال کرنے کے عادی ہوتے ہیں ان کی نظر کمزور پڑ سکتی ہے کیونکہ اس سے آپٹک نروجو ہمیںدیکھنے میں مدد دیتی ہے اس کی بلڈ سپلائی کم ہو جاتی ہے اور 45سال 50سال کی عمر میں کئی افراد مستقل اندھا پن کا شکار بھی ہو چکے ہیں جب وہ اندھا پن کا شکار ہوئے تو دریافت کرنے پر ایسے افراد نے بتایا کہ لاسٹ ٹائم انہوں نے ویاگرا استعمال کر رکھی تھی جن لوگوں کو ہائی بلڈ پریشر کا مسلہ ہو ، پہلے سے ہارٹ اٹیک ہو چکا ہو ، لقوہ ہو چکا ہو ، یا پھر شوگر کے مریض ہوں اور عمر بھی45سال 50سال ہو ، ایسے افراد میں میں نقصانات کے چانسز اور بھی زیادہ بڑھ جاتے ہیں کیونکہ جب ان گولیوں کواستعمال کیا جاتا ہےتو کچھ دیر بعد اس کی وجہ سے دل کے اوپر مزید پریشر پڑتا ہے اور اگر کوئی شخص دل کا مریض ہو تو ہارٹ اٹیک ہونے کاچانس بھی بڑھ جاتا ہے بہت کم لوگوں میں ایک بیماری بھی ہو سکتی ہے جسے prapisamبولتے ہیں اس بیماری میں مبتلا افراد کا عضو تناسل ضرورت سے زیادہ ہی ہارڈ ہو جاتا ہے اور کافی 3سے 4گھنٹوں تک مسلسل ہارڈ رہتا ہے اگر عضو تناسل کافی لمبے عرصے تک ہارڈ رہے تو اس جانب بلڈ سپلائی متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ اعضو تناسل کے مسلز بھی ڈیمج ہو سکتے ہیں prapisamایک میڈیکل ایمر جنسی ہے نوجوان افراد جنہیں ڈپریشن کی وجہ سے ایرکشن نہیں ہوتی یا پھر نیم حکمیوں کی وجہ سے غلط فہمیوں میں مبتلا ہوتے ہیں وہ بھی ویاگرا استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ انہیں ایسا لگتا ہے کہ شاید وہ مشت زنی کے باعث اپنی قدرتی طاقت سے محروم ہو چکے ہیں اور یہ بات ان کے زہن میں بیٹھ جاتی ہے جس وجہ سے انہیں بھی ویاگرا کی گولی کھائے بغیر ایرکشن نہیں ہو پاتی اور وہ عمر بھر لکیر کے فقیر بن کر رہ جاتے ہیںصحت مند ہونے کے باؤجود شادی سے ڈرنے لگتے ہیں آخر میں نصیحت یہ ہے کہ انٹرنیٹ سے دیکھ کر یا پھر سنی سنائی باتوں پر یقین کر کے خود سے کبھی بھی کوئی دوا استعمال مت کریں ورنہ عمر بھر پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔

یادداشت کے مسائل اور ڈیمینشیاMemory problems and dementiaکبھی نہ کبھی ہم سب کچھ نہ کچھ بھول جاتے ہیں۔ عمر کے بڑھنے کے سا...
10/11/2021

یادداشت کے مسائل اور ڈیمینشیا
Memory problems and dementia
کبھی نہ کبھی ہم سب کچھ نہ کچھ بھول جاتے ہیں۔ عمر کے بڑھنے کے ساتھ بھولنے کا یہ عمل تیز ہو جاتا ہے۔

وہ مسائل جو یادداشت کو متاثر کرسکتے ہیں:
ڈپریشن اور اینگزائٹی۔

یہ وہ مسائل ہیں جن میں مریض اپنی تکالیف میں ہی الجھا رہتا ہے اور اپنے ارد گرد کے حالات سے بے خبر رہتا ہے۔ یہ امراض توجہ کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ ڈپریسڈ مریض اکثر سوچتے ہیں کہ ان کی یادداشت ختم ہوتی جا رہی ہے لیکن زیادہ امکان اس بات کا ہوتا ہے کہ وہ بوڑھے افراد جو خراب یادداشت کی شکایت کرتے ہیں دراصل ڈیمینشیا کے بجائے ڈپریشن میں مبتلا ہوں۔

عمر۔

بوڑھے افراد کو باتیں یا چیزیں یاد رکھنے یا لوگوں کو ان کے ناموں سے پہچاننے میں مشکل پیش آتی ہے۔تقریباً پچاس برس کی عمر کے بعد سے یہ مسئلہ ہم سب کو کسی نہ کسی حد تک ضرورمتاثر کرتا ہے۔

بوریت، تھکن یا نیند آنا۔

یہ کیفیات بھی یاد داشت کو متاثر کرتی ہیں۔

جسمانی صحت ۔

خراب سماعت اور بصارت، شراب نوشی، نیند کی دوائیں یا طویل عرصے کا درد بھی یادداشت کو متاثر کرسکتے ہیں۔

تھائیرائڈ غدود کا صحیح کام نہ کرنا۔

اگر یہ غدودصحیح طرح کام نہ کرتے ہوں تو جسم اور دماغ سست ہوجاتاہے۔

دل اور پھیپھڑے کی بیماریاں۔

ان بیماریوں کی وجہ سے دماغ میں آکسیجن کی کمی ہوجاتی ہے۔

ذیابیطس۔

شکر کی بڑھی ہوئی یا کم سطح بھی دماغ کے فعل کو متاثر کرتی ہے۔

سینے یا پیشاب کا انفیکشن۔

سینے یا پیشاب کے انفیکشن حتیٰ کہ غیر مناسب خوراک بھی یادداشت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔

ڈیمینشیا
Dementia

یہ مرض بنیادی طور پر بوڑھے افراد کو متاثر کرتا ہے۔ ۸۰ برس سے زائد عمر کے تقریباً بیس فیصد ا فراد کو یادداشت کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔

ان میں سب سے عام مسئلہ الزائمر کی بیماری ہے۔ یہ بیماری مختلف مسائل کا سبب بنتی ہے مثلاً خراب یادداشت، صحیح الفاظ کے چناؤ میں مشکل؛ اپنے روز مرہ کے کاموں میں مشکل ہونا مثلاً کپڑے خود سے نہ تبدیل کر سکنا؛ فیصلے کی صلاحیت کا متاثر ہونا، چیزوں کا اندازہ صحیح نہ کر سکنا (اپنی والدہ کی عمر اپنے برابر بتانا)؛ شخصیت میں تبدیلی؛ چڑچڑاپن، غصہ، درشتگی، جن چیزوں میں پہلے دلچسپی تھی ان میں دلچسپی کم ہو جانا؛ شکوک و شبہات پیدا ہو جانا، گھبراہٹ، ڈپریشن؛ اور اس بات کو ماننے سے انکار کرنا کہ ان کی ذہنی صلاحیتیں پہلے جیسی نہیں ہیں چاہے باقی گھر والوں کو واضح طور پہ ایسا لگ رہا ہو ۔ حالت زیادہ خراب ہوجائے تو ڈیمینشیا کا مریض اپنے ہی گھر میں راستے بھول سکتا ہے۔ ڈیمینشیا کے مریض اپنے شوہر، بیوی یا بچوں کو بھی نہیں پہچان پاتے
تقریباً تمام مریضوں میں یہ بیماری آہستہ آہستہ زیادہ شدید ہوتی جاتی ہے۔ گو کہ یہ عمل تیزی سے بھی ہوسکتا ہے تاہم عام طور پر بتدریج ہوتا ہے۔ بعض دفعہ فالج کے یکے بعد دیگر ہونے والےمعمولی حملے بھی ڈیمینشیا (ملٹی انفارکٹ ڈیمینشیا) کا سبب بن سکتے ہیں۔ ان حملوں کی وجہ سے ڈیمینشیا کی علامات اچانک تیزی سے اور خراب ہو جاتی ہیں۔ تاہم حملوں کے درمیان تقریباً سال بھر کا ایسا وقفہ ہوسکتا ہے جس میں کوئی خاص تبدیلی نہ ہو ۔ اس طرح کا ڈیمینشیا موروثی بھی ہوسکتا ہے۔

کچھ ایسے مریض جن کو احساس ہو جاتا ہے کہ وہ اس بیماری کا شکار ہو گئے ہیں وہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کمزوریوں، مثلاً یاد داشت کی کمزوری اور روز مرہ کے کا م کرنے میں مشکل ہونا ،کو سمجھ لیتے ہیں اور اپنے آپ کو ان کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرلیتے ہیں کہ انھیں دوسروں پر زیادہ انحصار کرنا ہوگا اور یوں وہ اپنی دیکھ بھال میں دوسروں کی مدد کرسکتے ہیں۔ جبکہ دیگر مریض اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ ان کے ساتھ کچھ مسئلہ ہے، ایسے لوگوں کی مدد کرنی مشکل ہوتی ہے۔

ڈیمینشیا کیوں ہوتا ہے؟
ہمیں ڈیمینشیا کی زیادہ تر اقسام کی حقیقی وجہ وثوق سے معلوم نہیں لیکن وجوہات کے بارے میں تھوڑا بہت اندازہ ہے۔ ڈیمینشیا بعض دفعہ خاندانی بیماری ہوتی ہے جیسے کہ الزائمر کی بیماری خاندان میں ایک سے زیادہ افراد کو ہو سکتی ہے۔ڈاؤن سنڈروم سے متاثر ہ افراد میں ڈیمینشیا بہت عام ہے۔ سر پر بہت شدید چوٹ لگنے کی وجہ سے بھی ڈیمینشیا کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول، ذیابیطس، سگریٹ نوشی، شراب نوشی اور موٹاپا بھی ڈیمینشیا کے خطرے کو بڑھاتے ہیں کیونکہ ان مسائل کی وجہ سے دماغ کو خون کی سپلائی متاثر ہوتی ہے۔ ڈیمینشیا کی ایک قسم ان افراد کو ہوتی ہے جو پارکنسن نامی بیماری میں مبتلا ہوں۔ ڈیمینشیا کی ایک قسم کورساکوف سنڈروم ہے جو نوجوان افراد کو ہوسکتی ہے۔ یہ یادداشت کے اس حصے کو متاثر کرتی ہے جس کا تعلق حالیہ واقعات کو یاد رکھنے سے ہوتا ہے۔ یہ بیماری وٹامن کی کمی سے ہوتی ہے اور بہت زیادہ شراب نوشی کی وجہ سے اس کا خطرہ کافی بڑھ جاتا ہے۔ بعض انفیکشن مثلاً کروزفیلڈ جیکب ڈزیز یا ایڈز کی وجہ سے بھی ڈیمینشیا ہوسکتا ہے۔

چند طریقے جو ڈیمینشیا کے مریضوں کے لیے مددگار ثابت ہوسکتے ہیں:
توجہ:حال ہی میں ملنے والے شخص کا نام دہرانا اور پیغامات کو لکھ لینا بھی یاد رکھنے میں آپ کی مدد کرتا ہے۔

منظم طرز زندگی: اگر آپ منظم ہیں تو امکان ہے کہ آپ اپنی رکھی ہوئی چیزیں یاد رکھ سکیں گے۔

ڈائری کا استعمال:ڈائری کا استعمال کریں تاکہ آپ یاد رکھ سکیں کہ کل یا پچھلے ہفتے کیا ہواتھا۔

چاق و چوبند رہیں:باقاعدہ ورزش کریں، اعتدال میں رہتے ہوئے کھائیں پیئیں، سگریٹ نوشی سے پرہیز کریں۔ اس بات کا خیال رکھیں کہ آپ صحیح عینک یا آلہ سماعت استعمال کررہے ہوں۔

باقاعدہ جسمانی چیک اپ:جسمانی چیک اپ نہ صرف آ پ کو صحت مند رہنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ الزائمر کی فوری تشخیص میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ کچھ ایسی ادویات موجود ہیں جو الزائمر کی بیماری کو ایک سال یا طویل عرصے کے لیے آہستہ کرسکتی ہیں۔ اگر آپ ڈپریسڈ ہیں تو آپ کا معالج یہ علاج تجویز کرسکتا ہے۔

دماغ کا زیادہ استعمال:معلومات عامہ کے مقابلے، معمے، مطالعہ، شاعری یا نثر یاد کرنا یاایسے کھیل کھیلنا جن میں ذہن پہ زور پڑے، جیسی سرگرمیاں بڑھتی ہوئی عمر کے اثرات کو زائل کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

حقائق کی یاد دہانی کراتے رہنا: ڈیمینشیا کے مریض کے سامنے ضروری معلومات بیان کی جاتی ہیں اور ان کو یہ معلومات دہرانے کو کہا جاتا ہے۔ یہ عمل مفید ثابت ہوتا ہے۔

بیرونی مدد: دن یا تاریخ جاننے کے لیے اخبار یا کیلنڈر کی مدد لی جاسکتی ہے۔

جنکو بلوبا: یہ ایک ایسا جزو ہے جومیڈن ہیئر نامی درخت سے کشید کیا جاتا ہے۔ قدیم زمانوں سے خیال کیا جاتا ہے کہ یہ یادداشت کو بہتر کرتا ہے۔ ہو سکتا ہے یہ جسم میں موجود زہریلے مواد کو صاف کرکے ایسا کرتا ہو یا دماغ میں خون کے بہاؤ کی روانی کو بہتر کرتا ہو۔ اس کے ضمنی اثرات اتنے زیادہ نہیں لیکن اس کو ایسے مریضوں پر نہیں استعمال کرنا چاہیے جن کو خون بہنے کی شکایت ہو یا وہ ایسپرین یا وارفیرن جیسی ادویات استعمال کررہے ہوں
وٹامن ای: وٹامن ای سویا بین، سورج مکھی، بھٹے اور کپاس کے بیجوں، اناج ، مچھلی کے جگرکے تیل اور میووں میں پایا جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ الزائمر کے علاج میں مدد کرتا ہے تاہم اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ ضرورت سے زائد وٹامن ای نقصان دہ ہوتا ہے اس لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے روزانہ 200 سے زیادہ یونٹ استعمال نہیں کرنے چاہییں۔

مدد طلب کرنا
اگر آپ کو ایسا محسوس ہو رہا ہو کہ آپ کی یادداشت خراب ہوتی جارہی ہے تو اپنے ڈاکٹر سےمشورہ کریں۔ وہ آپ کا معائنہ یا خون کے ٹیسٹ کر کے طبی یا نفسیاتی مسئلے کی تشخیص کر سکتے ہیں۔ کوئی مسئلہ نہ ہونے کی صورت میں وہ آپ کو مطمئن کرسکتے ہیںجبکہ مسئلے کی صورت میں وہ آپ کو کسی اسپیشلسٹ مثلاً فزیشن، سائیکائٹرسٹ، نیورولوجسٹ یا سائیکولوجسٹ سے رجوع کرنے کا مشورہ دے سکتے ہیں۔

Address

Sheikhupura
39520

Opening Hours

Monday 09:00 - 19:00
Tuesday 09:00 - 19:00
Wednesday 09:00 - 19:00
Thursday 09:00 - 19:00
Friday 09:00 - 13:00
15:00 - 19:00
Saturday 09:00 - 18:00
Sunday 10:00 - 19:00

Telephone

+923004508235

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Doctors Waqas posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Doctors Waqas:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram