Bilal future psycologist

Bilal future psycologist Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Bilal future psycologist, Psychologist, Swabi.

I started this page to aware people about mental health because physical sa well as mental health is important.our country people don't take care of mental health.

22/08/2023

Result announced 📢
For the Parent's...
Don't compare your child with some one else. Don't hurts their feelings. Support your child. Don't compare your child with their marks.
Let me clear One thing.
Marks doesn't matter.
The actual thing which are matter is your learning, your approach related to your goals, your intellectual level and expression.
Thank you ☺️
_ Regards Bilal Bahadar

Focus on yourself
12/08/2022

Focus on yourself

12/08/2022

University of swabi sports gala opening ceremony

12/08/2022
10/02/2022

Locous of Controlسائیکالوجی میں یہ اک تھیوری ہے جو Julian Rotter نے دی۔۔۔۔ جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ انسان دو طرح سے کنٹرول ہو رہا ہوتا ہے
1-External Locous
2-Internal Locous
1-ایکسَرنل لوکاس
اس میں فرد بیرونی دباو باتوں لوگوں کا اثر قبول کرتا ہے اور وہ دوسروں کے مشورے باتیں اور تلخی میں کی گئی باتوں کا اثر لیتا ہے۔,۔۔۔ اس کے زیر اثر شخص بے چینی اور بے یقینی کی سی کفیت میں رہتا ہے اور اس طرح کا شخص اپنے گول کو بہتر طور پر فوکس نہیں کر پاتا اور ہمیشہ ادھر اُدھر گھومتا رہتا ہے

2-انٹرنل لوکاس
اس کے زیر اثر شخص اپنے اندر سے ٹریگر ہو رہا ہوتا ہے اسکا گول واضح ہوتا ہے وہ دوسروں کی باتوں تنقید کا اثر نہیں لیتا بلکہ وہ اپنے واضح گول پر کام کرتا ہے محنت کرتا ہے اور اپنے گول کو پانے پر اپنی توانائی لگاتا ہے
جتنے بھی کامیاب لوگ ہیں وہ انٹرنل لوکاس کے زیر اثر ہوتے ہیں

آپ اپنے روٹین کو دیکھیں اور دیکھیں آپ کس لوکاس کے انڈر ہو اور آپ کس کا اثر لیتے ہو
خود کا گول دیکھیں اسکو واضح کریں اس پر کام کریں انشااللہ آپ کامیاب ہوں گے اور لوگوں کی آپ کے بارے بدلتی رائے کو انجوائے کریں اور لوگوں کے کام آتے رہیں جہاں تک ممکن ہو ضروتمندوں کے کام آئیں اس طرح آپ پر رحمت کی عطا بڑھتی رہے گی اور آپ پر اس اُس جہاں میں آپ پر اُس ذات کی خاص رحمت, عطا اور شفقت ہوگی

#بلالبہادر

15/01/2022

نئی نسل کیلئے لا جواب تحریر ۔۔ میری تو آنکھیں نم ہو گئیں
بڑی دوڑ دھوپ کے بعد وہ آفس پہنچ گیا _ آج اس کا انٹرویو تھا ۔

وہ گھر سے نکلتے ہوئے سوچ رہا تھا : اے کاش ، آج میں کامیاب ہو گیا تو فوراً اپنے پشتینی مکان کو خیر باد کہہ دونگا اور یہیں شہر میں قیام کروں گا _ امی اور ابو کی روزانہ کی مغزماری سے جان چھڑا لوں گا ۔!
صبح جاگنے سے لےکر رات کو سونے تک ہونے والی مغز ریزی سے اکتا گیا ہوں ، بیزار ہو گیا ہوں ۔
صبح غسل خانے کی تیاری کرو تو حکم ہوتا ہے :پہلے بستر کی چادر درست کرو پھر غسل خانے جاؤ !
غسل خانے سے نکلو تو فرمان جاری ہوتا ہے: نل بند کردیا _ تولیہ سہی جگہ پر رکھا ہے یا یوں ہی پھینک دیا ؟
ناشتہ کرکے کے گھر سے نکلنے کا سوچو تو ڈانٹ پڑی : پنکھا بند کیا یا چل رہا ہے ؟
کیا کیا سنیں؟؟! یار، نوکری ملے تو گھر چھوڑ دوں گا -

آفس میں بہت سے امیدوار بیٹھے "باس " کا انتظار کر رہے تھے _ دس بج گئے تھے _ اس نے دیکھا ، پیسج کی بتی ابھی تک جل رہی ہے _ امی یاد آگئیں تو بتی بجھا دی ۔ آفس کے دروازے پر کوئی نہیں تھا _
بازو میں رکھے واٹر کولر سے پانی رس رہاتھا ، اس کو بند کردیا _ والد صاحب کی ڈانٹ یاد آگئی _
بورڈ لگا تھا : انٹرویو دوسری منزل پر ہوگا !
سیڑھی کی لائٹ بھی جل رہی تھی _ اسے بند کرکے آگے بڑھا تو ایک کرسی سر راہ دکھائی دی _ اسے ہٹاکر اوپر گیا_ دیکھا ، پہلے سے موجود امیدوار اندر جاتے اور فوراً واپس آجاتے تھے _ معلوم کرنے پر پتا چلا کہ وہ اپلیکیشن لے کر کچھ پوچھتے نہیں ہیں ، فوراً واپس بھیج دیتے ہیں ۔

میرا نمبر آنے پر میں نے اپنی فائل مینجر کے سامنے رکھ دی _ تمام کاغذات دیکھ کر مینجر نے پوچھا : کب سے جوائن کر رہے ہو ؟
ان کے سوال پر مجھے یوں لگا ، جیسے آج یکم اپریل ہو اور یہ مجھے 'فول' بنا رہے ہیں -
مینجر نے محسوس کر لیا اور کہا : اپریل فول نہیں ، حقیقت ہے ۔

آج کے انٹرویو میں کسی سے کچھ پوچھا ہی نہیں گیا ہے_ صرف CCTV میں امیدواروں کا برتاؤ دیکھا گیا ہے _ سبھی امیدوار آئے ، مگر کسی نے نل یا لائٹ بند نہیں کی ، سوائے تمھارے _
مبارک باد کے مستحق ہیں تمہارے والدین ، جنہوں نے تمہیں تمیز اور تہذیب سکھائی ہے _
جس شخص کے پاس Self Discipline نہیں ، وہ چاہے جتنا ہوشیار اور چالاک ہو ، مینجمینٹ اور زندگی کی دوڑ میں پوری طرح کام یاب نہیں ہو سکتا _
یہ سب ہو جانے کے بعد میں نے پوری طرح طے کر لیا کہ گھر پہنچتے ہی امی اور ابو سے معافی مانگ کر انہیں بتاؤں گا کہ آج اپنی زندگی کی پہلی آزمائش میں ان کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر روکنے اور ٹوکنے کی باتوں نے مجھے جو سبق پڑھایا ہے ان کے مقابل میری ڈگری کی کوئی قیمت نہیں ہے ۔
زندگی کے سفر میں تعلیم ہی نہیں ، تہذیب کا اپنا مقام ہے _
Copied

14/01/2022

بہترین ڈاکٹر بننا چاہتی ہیں؟
ٹیچر سے پروموٹ ہو کر ہیڈ ٹیچر بننا چاہتی ہیں؟
آفس میں مینجر کے بعد بھی پروموشن کی خواہش ہے ؟
ہاں اس میں کوئی برائی نہیں۔ ہر ایک انسان کا خواب ہوتا ہے نا آگے سے آگے بڑھنا، ترقی کرنا، بڑے عہدے حاصل کرنا۔
کریں ضرور کریں۔
ہو سکتا ہے بہت محنت کرنا پڑے۔ ہو سکتا ہے آپ کی تقدیر میں لکھا کو کہ اگر یہ لڑکی اتنی محنت کرے گی تو اسکول کی پرنسپل بن جائے گی۔
اللہ تقدیر میں یہ تو لکھ سکتا ہے کہ فلاں انسان کی محنت کے صلے میں یہ عہدہ یہ پوزیشن اسے ملے گی لیکن کسی بھی لڑکی کی تقدیر میں یہ نہیں لکھا ہوتا کہ فیشن کرنے کی بنا پر ایسے بہترین انجینئرنگ فرم میں جاب مل جائے گی ۔۔۔۔ اچھی جاب کے حصول کے لیے خود کو پردے سے روکنا یہ آپ کا اپنا فیصلہ ہے۔
دنیاوی کامیابیوں کے لیے اپنے حسن کو چار چاند لگا کر باہر نکلنا، ایک سے ایک فیشن زدہ کپڑے پہن لینا، اب تو اکثر دوپٹہ بھی غائب ہوتا ہے۔ اکثر ٹیچرز کا حلیہ بھی ایسا ہوتا ہے کہ جو دیکھنے کے قابل نہیں ہوتا۔ کیا یہ درست ہے؟
پروفیشنل لیڈی عبایا یا چادر سے پردہ کر کے اگر نکلے گی تو کیا اس کی عزت میں کوئی کمی اجائے گی ؟
یقین کریں اگر آپ کے اندر اسکلز ہیں، آپ اپنی فیلڈ میں ماہر ہیں تو کوئی آپ کو آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتا۔
از فیض عالم

14/01/2022

اچھی نیند
Sleeping well
یہ آرٹیکل ان اشخاص کے بارے میں ھے جنہیں سونے میں دِقت ہوتی ھے یا وہ ان افراد کے ساتھ رہتے ہیں جنہیں سونے میں مشکل پیش آتی ہے۔ اس میں لوگوں کو پیش آنے والے نیند کے عام مسائل اور بعض غیر معمولی مسائل کا ذکر ھے ۔ اس میں اچھی نیند کے لیے بعض سادہ طریقے تجویز کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ معلومات شامل ہیں جو آپکو یہ فیصلہ کرنے میں معاون ہونگی کہ کیا آپکوپیشہ ورانہ مدد حاصل کرنی چاہیے۔

تعارف:
ہمیں عام طور پر نیند کے بارے میں کوئی غوروغوص کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی کیونکہ عام طور پر یہ زندگی کے معمول کا ایک حصہ ہ تا ھے۔ اس کے برعکس نیند کا نہ آنا ایک اچھا خاصا مسئلہ بن سکتا ھے۔ زیادہ تر افراد کو زندگی کے کسی نہ کسی حصے میں سونے میں مشکل پیش آتی ھے۔ اس کو بیان کرنے کے لیےلفظ بےخوابی(insomnia) استعمال کیا جاتا ھے۔ ایسا عام طور پر مختصر عرصے کے لیے ہوتا ھے جبہ م فکرمند ھوں یا کوئی ہیجا نی کیفیت ہو اور کُچھہ دنوں بعد معاملہ ٹھنڈا پڑ جاتا ہے اور ہم پھر معمول کے مطابق سونے لگتے ہیں۔ بہرحال نیند جسمانی اور دماغی صحت کے لیے ضروری ہے۔ اگراچھی نیند تسلسل سے نہ آئے تو اس کے اثرات ظاھر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

نیند کیا ھے؟
نیند چوبیس گھنٹےکے دوران وہ باقاعدہ وقفہ ھے جب ہم اپنے ماحول سے بے خبر ہوتے ھیں اور اس کا احساس نہیں رکھتے۔ نیند کی دو بڑی اقسام ہیں۔

تیز حرکتِ چشم نیند (Rapid eye movement sleep)یہ رات بھرمیں کئی مرتبہ وقوع پزیر ہوتی ھے اور تقریباً ہماری نیند کے دورانیے کا پانچواں حصہ ہوتی ھے۔ آر ای ایم نیند کے دوران ہمارا دماغ کافی مصروف ہوتا ھے اور ہمارے پٹھے بالکل ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔ ہماری آنکھیں تیزی سے دایئں با یئں حرکت کرتی ہیں اور ہم خواب دیکھتے ہیں۔

بغیر تیز حرکتِ چشم کے نیند (Non-REM sleep) دماغ خا موش ہوتا ھے لیکن ہو سکتا ہے جسم میں کچھ حرکت ہو۔ دوران خون میں ہارمون یا غدودی مائعات شامل ہوتے ھیں اور ہمارا جسم دن بھر کی شکست و ریختکے بعد اپنی مرمت کرتا ہے۔ نان آر ای ایم نیند کے چار مراحل ہیں:

۱۔ قبل از نیند (sleep-Pre) پٹھے ڈھیلے پڑ جاتے ھیں، دل آہستہ دھڑکتا ہے اور جسم کا درجہ حرارت کم ہو جاتا ہے۔

۲۔ ہلکی نیند۔ ہم بغیرکسی ذہنی مشکل کے آسانی سے بیدارہو سکتے ہیں۔

۳۔ سست موج نیند (slow wave sleep):ہما را فشارِخون کم ہو جاتا ہے اور سونے کی حالت میں بولنا اور چلنا دیکھنے میں آتا ھے۔

۴۔ گہری "سست موج" نیند: اس نیند سے بیدار کرنا کافی مشکل ہوتا ھے۔ اگر ہمیں جگایا جائے تو ہم کسی قدر بدحواس ہوتے ہیں۔

آر ای ایم سے نان آر ای ایم نیند میں منتقلی کا عمل دورانِ شب تقریبا پانچ مرتبہ ہوتا ھے اور صبح کے قریب زیادہ خواب دیکھے جاتے ہیں۔ ایک معمول کی رات میں بیداری کے مختصر وقفے بھی دیکھنے میں آتے ہیں۔ اِن کا دورانیہ ہر دو گھنٹے بعد ایک یا دومنٹ کے لیے ہوتا ھے۔ ہمیں عام طور پہ ان کی خبر نہیں ہوتی۔ صرف اس صورت میں ان کے یاد رھنے کا زیادہ امکان ھے اگر ھم فکرمند ھوں یا کوئی اور واقعہ ھو رھا ھو جیسے کہ اگر باھرشور ھو یا ھمارا شریکِ حیات خراٹے لے رہا ھو۔

ہمیں کس قدر نیند کی ضرورت ھوتی ھے؟ اس کا انحصار ھماری عمر پر ھے۔
۱۔ بہت چھوٹے بچے دن میں تقریباً سترہ گھنٹے سوتے ھیں۔

۲۔ ذرا بڑی عمر کے بچے دن میں تقریباً نو یا دس گھنٹے سوتے ھیں۔

۳۔ زیادہ تر بالغ افراد رات کے سات یا آٹھہ گھنٹے سوتے ھیں۔

۴۔ زیادہ بڑی عمر کے لوگوں کو نیند کی اتنی ہی مقدار درکار ھوتی ھے۔ لیکن عام طور پر دوران ِشب گہری نیند کا ایک ہی وقفہ دیکھنے میں آتا ھے جو کہ عام طور پر پہلے تین یا چار گھنٹے میں ھوتا ھے۔ اُس کے بعد اُنھیں نیند سے بیدار کرنا زیادہ آسان ھوتا ھے اور عمرکے بڑھنے کے ساتھہ ساتھہ خواب بھی کم آتے ھیں۔ ھم میں سے زیادہ تر کو رات کو سات یا آٹھہ گھنٹے سونے کی ضرورت ھوتی ھے لیکن بعض افراد تین گھنٹے سو کر بھی گزارا کر لیتے ہیں۔ ہر رات سات یا آٹھہ گھنٹے سے زیادہ باقاعدگی سے سونا فائدہ مند نہیں۔ بیداری کے مختصر وقفے کافی طویل محسوس ھوتے ھیں لہٰذا یہ مغالطہ ھو سکتا ھے کہ ھم کم سو رھے ہیں حالانکہ حقیقتاً ایسا نہیں۔

بے خوابی کی صورت میں کیا کیا جائے؟
بے خوابی پریشانی کا باعث بن سکتی ھے۔ اگر آپ کبھی کبھار رات کو جاگتے رھیں تو اگلا دن تھکا ھوا محسوس کریں گے لیکن اس سے آپکی جسمانی یا ذہنی صحت کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ اگرچہ بہت سی بے خواب راتوں کے بعد آپ محسوس کریں گے کہ:

۱۔ آپ سارا وقت تھکے ھوئے ہیں۔ آپ کو دن کے وقت نیند آنے لگتی ھے۔

۲۔ آپ کوتوجہ مرکوز کرنے میں دِقت ھوتی ھے۔

۳۔ آپکو فیصلے کرنے میں دِقت ھوتی ھے۔

۴۔ آپ پراداسی طاری ھو جاتی ھے۔ اگر آپ ڈرائیو کرتے ھوں یا بھاری مشینری چلاتے ھوں تو یہ بہت خطرناک ھو سکتا ھے۔ ہر سال بہت سی اموات واقع ھوتی ھیں جب لوگ گاڑی چلاتے ھوئے سو جاتے ہیں۔ بے خوابی سے عموماً فشارِخون، موٹاپے اور زیابیطس کا امکان بھی بڑھ جاتا ھے۔

بلوغت میں نیند کے مسائل:
نیند کی کمی بےخوابییا (insomnia) ھو سکتا ھے کہ آپ محسوس کریں کہ آپکو رات کوکافی نیند نہیں آتی یا اگر آپکی نیند کی مُدت پوری ھو بھی جائے تو آپکو مکمل آرام نہیں ملتا۔

اچھی نیند نہ آنے کی بہت ساری روزمرہ کی وجوہات ھیں۔

- ھو سکتا ھے کہ آپکی خوابگاہ یا گھر پُرشور ھو۔

- ھو سکتا ھے کہ گھر بہت گرم یا سرد ھو۔

- ھو سکتا ھے کہ آپکا بستر آرامدہ نہ ھو یا بہت چھوٹا ھو۔

- ھو سکتا ھے کہ آپکی شریکِ حیات کے سونے کا انداز آپ سے مختلف ھو۔

- ھوسکتا ھے کہ آپکا باقاعدہ کوئی معمول نہ ھو یا آپ کافی طور پر جسمانی کام نہ کر رھے ھوں۔

- ضرورت سے زیادہ کھانے سے نیند میں دِ قت ھو سکتی ھے۔ اگر آپ بغیر کھائے پیئے سو جائیں تو جلدی آنکھہ کھل جاتی ھے۔

- سگریٹ، الکحل اور کیفین والے مشروبات جیسے کہ چائے یا کافی۔

- بیماری، درد یا تیز درجہ حرارت۔

بعض زیادہ سنجیدہ وجوہات مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔ جذباتی مسائل

۲۔ کام کاج کے مسائل

۳۔ فکرمندی اور پریشانی

۴۔ اُداسی

۵۔ ھو سکتا ھے کہ آپ صبح کو بہت جلد بیدار ھو جائیں اور پھر دوبارہ نیند نہ آئے۔

۶۔ اور روزمرہ کے معاملات اور مسائل پر مسلسل سوچنا۔

کیا دوائیوں سے مدد مل سکتی ھے؟
لوگ سالہٰا سال تک خواب آور دوائیں استعمال کرتے ہیں لیکن اب یہ واضح ھے کہ:
۱۔ یہ بہت عرصے تک کام نہیں کرتیں۔

۲۔ اِس سے اگلے دن تھکاوٹ اور چڑچڑاپن محسوس ھوتا ھے۔

۳۔ ان کا اثر جلد ھی زائل ھو جاتا ھے، لہٰذا اُسی تا ثیرکو حاصل کرنے کے لیے خوراک کی مقدار بڑھانی پڑتی ھے۔ بعض لوگ ان کے عادی ھو جاتے ھیں، جتنا زیادہ آپ خواب آور گولیاں استعمال کریں اُتنا ھی زیادہ اس بات کا امکان ھے کہ آپ جسمانی اور نفسیاتی طور پر اُنکےعادی ھو جائیں گے۔

۴۔ کچھہ نئی خواب آور دوائیں zaleplone، zolpidem اورzopiclone دستیاب ہیں لیکن بظاہر لگتا ھے کہ اُنکے ویسے ھی نقصانات ہیں جیسے کہ پرانی دواؤں کے ہیں جیسے کہtemazepam, nitrazepam اور diazepam کے ۔ خواب آور گولیاں صرف مختصر عرصے کےلیےاستعمال کرنی چاہیے (دو ھفتے سے کم کےلیے)۔ مثلاً اگرآپ اس قدر بےچین ہیں کہ آپ بالکل نہیں سو پا رھے۔ اگر آپ لمبے عرصےسے خواب آور گولیاں استعمال کر رھے ہیں تو بہتر ھے کہ اُنہیں آہستہ آہستہ اپنے ڈاکٹر سے مشورے کے بعد کم کیا جائے۔ بعض صورتوں میں اُداسی کم کرنے والی گولیاں (antidepressant) مدد گار ھو سکتی ہیں۔

بغیر نسخے کے دوائیاں: آپ اپنے کیمیسٹ سے بہت ساری دوائیں بغیر نسخے کے خرید سکتے ہیں۔ ان مصنوعات میں اکثر(antihistamine) دوائی شامل ھو گی جیسا کہ نزلہ، زکاماوربخارِذیرہ (hay fever) کی دوائیں۔ یہ کارآمد تو ھوتی ہیں لیکن ھو سکتا ھے کہ اِن سے اگلی صبح آپ غنودگی محسوس کریں۔ اگر آپ انہیں استعمال کریں تو اِن پر لکھی ھوئی ہدایات (warning) کو غور سے پڑھیں اور اگلے دن گاڑی اور بھاری مشینری مت چلائیں۔ برداشت کا بڑھ جانا ایک اور مسئلہ ھے۔ جیسے جیسے آپکے جسم کو اس مواد کی عادت پڑ جاتی ھے آپکو اُسی تاثیر کے لیے ایک بڑھتی ھوئی مقدار لینا پڑتی ھے۔ بہتریہ ھے کہ لمبے عرصے کے لئے ہسٹامین مخالف دوایئں نہ لی جایئں ۔ جڑی بوٹیوں سے نکالی گئی دواؤں میں عام طور پر ایک جڑی بوٹی استعمال ھوتی ھے جسے valerian کہتے ہیں۔ یہ عام طور پر اس صورت میں بہتر طور پر کام کرتی ھے اگر آپ اِسے ہر رات دو، تین ھفتے کے لیے لیں۔ اگر آپ اِسے کبھی کبھار استعمال کریں تو اتنا کارآمد نہیں ھوتیں۔ ہسٹامین مخالف دواؤں کی طرح آپکو اِسکے ااثرات اگلی صبح تک موجود رھنے کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے۔ اگر آپ اپنے فشارِ خون کے لیے کوئی دوا لے رہے ہیں یا کوئی اور خواب آور یا سکون آور دوائیں لے رھے ھیں تو بغیر نسخے کی دوائیں استعمال کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کیجئے۔

جن چیزوں سے بچا جائے:
- الکحل۔ ہر شخص جانتا ھے کہ الکحل سے نیند آنے میں مدد ملتی ھے۔ مسئلہ یہ ھے کہ عام طور پر رات گئے آنکھہ کھل جاتی ھے۔ اگر آپ سونے کے لیے باقاعدگی سے الکحل پیتے ہیں تو آپ یہ دیکھیں گے کہ وقت کے ساتھہ آپکو اُسی تاثیر کے لیے زیادہ مقدار پینی پڑے گی۔ اگر آپ باقاعدگی سے الکحل پیتے ہیں اور آپ اچانک پینا بند کر دیتے ہیں تو آپکو ایک یا دو ہفتے تک نیند آنے میں مشکل ھو گی۔

اپنی مدد آپ: کچھہ آسان تجاویز مندرجھ ذیل ہیں جو کہ فائدہ مند پائی گئ ہیں۔ کیا چیز کی جائے،

۱۔ اِس بات کو یقینی بنائیے کہ آپ کا بستراور خواب گاہ آرام دہ ھے۔ زیادہ گرم سرد یا پُرشور نہیں۔

۲۔ اِس بات کو یقینی بنائیے کہ سونے کا بستر مناسب ساخت ھو، جسم کو مناسب سہارا دے۔ یہ اس قدر سخت نہیں ھونا چاہیئے کہ آپ کے کولھے اور کندھوں پر دباؤ پڑے اور نا یہ نرم ھونا چا ہیئے کہ اس میں جسم ڈھلک جائے۔ عام طور پر اچھی ساخت اور سہارا برقرار رکھنے کے لیے آپ کو اپنا گدّا ہر دس سال بعد بدلنا چاہیئے۔

۳۔ تھوڑی بہت ورزش ضرور کیجیئے۔ ضرورت سے زیادہ ورزش کرنے کا فائدہ نہیں لیکن با قائدہ تیراکی یا چہل قدمی فائدہ مند ھے۔ ورزش کے لیے سب سے اچھا وقت دن کا ھے۔ عام طور پہ سہ پہرکے آخر میں یا شام کے شروع میں۔ اِس کے بعد ورزش کرنے سے آپ کی نیند میں مداخلت ھو سکتی ھے۔

۴۔ سونے سے کچھہ وقت پہلے آرام کیجیئے۔ کچھہ لوگوں کا خیال ھے کہ aromatherapy (خوشبویات) سےعلاج فائدہ مند ھوتا ھے۔

۵۔ اگر آپ کے ذہن پر کوئی چیز سوار ھے اور اُس کے بارے میں آپ فوری طور پر کچھہ نہیں کر سکتے تو اِسے کا غذپر لکھہ لیجیئے اور اپنے آپ سے کہیئے کہ آپ اس سے اگلے دن نبردآزما ھوں گے، کہ آپ اِس کا اگلے دن حل تلاش کریں گے۔

۳۔ اگر آپ کو نیند نہیں آرہی تو اُٹھہ کر کوئی ایسا کام کیجیئے جس سے آپ کو سکون ملتا ھے، مثال کے طور پہ پڑھنا، ٹی وی دیکھنا یا ہلکی موسیقی سُننا۔ کچھہ عرصے بعد آپ پھر سے تھکاوٹ محسوس کریں گے اور نیند آجائے گی۔

نہ کرنے کی چیزیں:

۱۔ لمبے عرصے کے لیئے نیند کو نظرانداز مت کیجیئے۔ اُس وقت سونے کی کوشش کریں جب آپ تھک جائیں اور ایک معمول بنائیں کہ روزانہ ایک ہی وقت پر بیدار ھوں، چاھے آپ تھکے ھوئے ہی کیوں نہ ھوں۔

۲۔ کیفین جسم میں چائے یا کافی پینے کے کئی گھنٹے بعد تک موجود رہتی ھے۔ سہ پہرکے بعد چائے یا کافی مت پیجیئے۔ اگر آپ شام کے وقت کوئی گرم مشروب پینا چاھیں تو دودھ یا کسی اور جڑی بوٹی سے نکالا ھوا مشروب پیجیئے لیکن اس میں کیفین شامل نا ہو۔

۳۔ زیادہ الکحل کا استعمال نہ کیجیئے۔ اِس سے ھو سکتا ھے آپ کو نیند آجائے لیکن یہ بات بھی تقریباً یقینی ھے کہ آپ رات گئے بیدار ھو جائیں گے۔

۴۔رات کو دیر سے بہت زیادہ نہ کھائیں پیئں۔ رات کا کھانا شام کے آغاز میں کھائیں تو بہتر ھے۔

۵۔اگر آپ کی رات اچھی نہیں گزری تو اگلےدن مت سوئیےکیونکہ اس سے آپ کو اگلے رات پھر نیند نہیں آئے گی۔

اگر آپ نے اِن طریقوں پر عمل کیا اور آپ کو پھر بھی نیند نہیں آرہی تو اپنے ڈاکٹرسے مشورہ کیجیئے اور اُن مسائل کا ذکر کیجیئے جن کی وجہ سےآپ کو نیند نہیں آرہی۔ ڈاکٹراس بات کا تجزیہ کرے گا کہ آپ کی بے خوابی کسی جسمانی بیماری، نسخے، مجوزہ دوائی یا جزباتی مسائل کی وجہ سے نہیں ھے۔ اس بات کے بھی شواہد ھیں کہ CBT (کوگنیٹو بیہیویئر تھراپی) علاج اُن صورتوں میں فائدہ مند ھو سکتا ھے جب آپ کی بے خوابی کافی عرصے سے جاری ھو۔

نفسیاتی علاج: ایک تکنیک جسے cognitive behavioural therapy کہا جاتا ھے یا CBT۔ کہا جاتا ھے بھی فائدہ مند ثابت ھوئی ھے۔ اس علاج میں آپکی اُس طرزفکر کے بارے میں توجہ دلائی جاتی ھے جس سے کہ زیادہ فکر مند ھونے یا نیند کے متاثر ھونے کا امکان ھو۔

- وزن گھٹانے والی دوائیں نیند کو کم کردیتی ہیں۔ اِسی طریقے سے نشے کی خاطر استعمال ھونے والی دوائیں مثلآEcstasy, co***ne اورAmphetamine بھی نیند اڑا دیتی ہیں۔

بے قاعدگی سے سونا، شفٹوں میں کام کرنا اوربچے پالنے کے دوران:
سونے کے اوقات میں بےقا عدگی جیسا کہ شفٹوں میں کام کرنا اور بچے پالنا۔ ھوسکتا ھے کہ آپ کورات کواُس وقت کام کرنا پڑے جب آپ عام طور پر سو رھے ھوتے ہیں۔ اگر ایسا کبھی کبھار ھوتا ھے تو یہ زیادہ مشکل نہیں لیکن اگر ایسا با قاعدگی سے کرنا پڑے تو زیادہ مشکل صورتحا ل ھوتی ھے۔ شفٹ میں کام کرنے والے لوگ ڈ اکٹر،نرسیں جو کہتمام رات کام کرتے ہیں اور دودھ پلانے والی مائیں،ان سب کو یہ مسئلہ درپیش ھو سکتا ھے۔ انہیں اُس وقت نیند آجاتی ھے جب وہ بیدار رہنا چاہتے ہیں۔ یہ مسئلہjetlag ھوائی سفر سے ملتا جلتا مسئلہ ھے جب آپ دنیا کے مختلف حصوں میں سفر کرتے ہیں اور کئی دنوں تک آپ بیدار رہتےہیں جبکہباقی افراد سو رھے ھوتے ہیں۔ روزمرہ کا معمول بحال کرنے کا ایک طریقہ یہ ھے کہ آپعلی الصبح ایک ہی وقت بیدار ھوں اس بات کا خیال کیے بغیر کہگزشتہ رات آپ کتنی دیرسے سوئےتھے۔ بہتر یہ ھے کہالارم کلاک کی مدد لیں اور کوشش کیجئیے کہرات دس بجے سے پہلے مت سوئیں۔ اگر آپ چند راتوں کےلیے ایسا کرپائیں تو جلد ہی آپ کو صحیح وقت پر خود بخود نیند آجائے گی۔

زیادہ سونا:
ھ وسکتا ھےکہآپ کو دن کےاُن اوقات میں اکژ نیند آجائے جب آپ بیدار رہنا چاہتے ہیں۔اس کی سب سے عام وجہرات کو اچھی نیند کا نہ آنا ھے۔ اس کے باوجود بھی اگرآپ یہ دیکھیں کہآپ کو دن کے وقت نیند آتیھے باوجود اس کےکہ آ پ رات کو اچھی نیند سو رھے ہیں تو بعض اوقات اس کی وجہ جسمانی بیماری ھوسکتی ھے،مثلاًذیابیطس، کسی وائرس کی بیمارییاتھائیرائیڈ (thyroid)کی کوئی بیماری۔ کچھہ اور ایسی صورتیںھیںجنسے زیادہ نیند آنے لگتی ھے مثلاً:

- Narcolepsy دن کے وقت غنودگی : یہ ایک غیر معمولی کیفیت ھےجِس کی بعض دفعہ ڈاکٹر تشخیص نہیں کر پاتے۔ اس کی دو بڑی علامات ہیں:

۔ آپ کو دن کے دوران اچانک شدید غنودگی کا حملہ ھوتا ھے۔ اس وقت بھی جب آپ کسی محفل میں ھوں۔

۔ جذبات کی شدت کی صورت میں مثلاًمنہ سے قہقہے یا ہیجان کی صورت میں آپ کا اپنےپٹھوں پر اختیار ختم ھو جاتا ھےاور آ پ گر پڑتے ہیں۔ اِسےcataplexy یا نیند کا فالج کہا جا تا ھے۔

۔ نیند کا فالج (sleep paralysis) سو نے یا بیداری کےآغاز میں آپ بول نہیں سکتے یا حرکت نہیں کرسکتے

۔ کہآپ کو عجیب و غریب آوازیں سُنائی دیتی ہیں یا خواب کی طرح کی شبیحدیکھنے میں آتی ہیں(hallucinations) یا فریب حسی۔

۔ خودکاری(autopilot)کہآپ کوئی کام کرتے ہیں لیکن آپ کو یاد نہیں رہتا گویا کہآپ سوئےھوئے تھے۔

۔ آپ گرمی محسوس کرتے ھوئے رات کو بیدار ھوجاتے ہیں۔

اس کی وجہ حال ہی میں دریافت کی گئی ھے۔ ایک مواد کی کمی جِسےorexinیاhypocretin کہا جاتا ھے۔

علاج میں باقاعدہ ورزش اور رات کے وقت مقررہ وقت پر سونا شامل ہیں۔ ھوسکتا ھے کہ آپ کے لیےدوائیں فائدہ مند ھوں۔ اس کا انحصار آپ کی علامات کی نوعیت پر ھوگا۔ مثلاً ایسی دوا جس سےکہ بیداری میں اضافہ ھو، مثال کے طور پہ modafinil یا کوئی اداسی مخالف دوا antidepressant،خاص طور پر حملہ نیند کے لیے۔ اگر آپ پر دن میں نیند طاری رہتی ھے تو اس بات کا امکان ھے کہآپ کو ناکافی ورزش یا نیند مل رہی ھے یا یہ کہ آپ کا صحیح علاج نہیں ھو رہا۔ اس صورت میں دوسروں کو آگاہ کر دیجئیے کہآپ کو با وقت نیند سے بیدار کر دیا جائے۔

Sleep apnoea یا سوتے ھ وئے بے دم ھونا:
۔ Sleep apnoea یا نیند کےدوران سانس میں رکاوٹ (خوابیبے تنفسی). خوابیبے تنفسی میں ھو سکتا ھے کہ دن کے وقت کافی غنودگی طاری ھواور اس صورت میں narcolepsyیاحملہ نیند کا شبہ ھو سکتا ھے۔ اگر تشخیص میں کوئی شک ھو توکچھہ ٹیسٹ کرنےپڑتے ہیں (polysomnography -)۔

۔ اگر آپ خراٹے لیتے ہیں اور رات کے دوران مختصر وقفوں کے لیے سانس بند ھو جاتا ھے۔ اس کی وجہ یہ ھے کہ آپ کے سانس کے راستے کا اوپر والا حصہ بند ھو جاتا ھے۔

۔ جب بھی آپ کا سانس رُکتا ھے تو آپ اچانک بیدار ھو جائیں گے یا آپ کے جسم یا ہاتھہ پاؤں میں حرکت ھوگی یا ہاتھہپاؤں میں جھٹکا لگے گا۔

۔ سونے سے پہلے آپ تھوڑے عرصے کے لیے بیدار رہیں گے۔

۔ یہ رات میں کئی مرتبہ ھوتا ھےلہٰذاآپ اگلے دن تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں اور نیند کی شدید خواہش ھوتی ھے۔ ھو سکتا ھے اگلی صبح آپ کو سر درد ھو اور آپ کا گلاخشک ھو۔

یہ مندرجہ ذیل صورتوں میں زیادہ عام ھے،

۔ بڑی عمر کے لوگ

۔ موٹاپا

۔ تمباکونوشی

۔ وہ لوگ جو بہت کثرت سے الکحل کا استعمال کرتے ھیں۔ اکثر اوقات یہ مسئلہ مریض کیبجا ئے اسکےشریک حیات کے مشاہدے میں آتا ھے۔ علاج یہھے کہ آپکا طرز زندگی اس طور پر بدلا جائے کہوہ عوامل کم کیے جائیں جن سے مسئلہ بگڑ رہا ھے مثلاً، سگریٹ اور الکحل نوشی کو کم کرنا، وزن گھٹانا اور کسی مختلف انداز میں سونا۔ اگر آپکی بے دمی کافی زیادہ ھے تو ھو سکتا ھے کہایک چہرے کا ماسک پہننا پڑے جسے کہCPAP کہتے ھیں، continuous positive airway pressure یہ سانس کے راستے پر مسلسل مثبت دباؤکی مشین ھے۔ یہ آپکے ناک پر نصب ھو جاتا ھے اور مستقل دباؤ کے تحت ھوا مہیا کرتا رھتا ھے تاکہ آپکےسانس کا راستہ کھلا رہ سکے۔

سونےکے دیگر مسائل:
زندگی کے کسی مرحلے پربیس میں سے ایک بالغ افراد سوتے میں دہشت زدہ ھو جاتے ہیں اور سو میں سے ایک نیند میں چلتےھیں۔ یہ صورتیں بچوں میں زیادہ عام ہیں۔

نیند میں چلنا:
اگر آپ نیند میں چلتے ھیں تو دوسرے لوگ یہ دیکھیں گے کہ آپ گہری نیند سے بیدار ھوئے ھیں۔ آپ اٹھ کر مختلف کام انجام دیتے ھیں جو کہھو سکتا ھے کافی پیچیدہ ھوں مثلاًسیڑھیوں کے پاس سے گزرنا یا سیڑھیوں سے نیچے یا اوپر جانا۔ اس سے بعض اوقات شرمندگی یا بعض دفعہ خطرناک صورتحال پیدا ھو سکتی ھے۔ اگر کوئی آپکو بیدار نہ کرے تو آپ کو اگلے دن اس کے بارے میں کچھہیاد نہیں ھوگا۔ نیند میں چلنا بعض دفعہ رات میں دھشت زدہ ھونے کے بعد ھو سکتا ھے۔

نیند میں چلنے والے افراد کو آرام سے بستر تک واپس لے جانا چاہیے اور اس کو جگانا نہیں چاہیے۔ اُسکواور دوسروں کو چوٹ لگنے سے بچا نے کے لیے احتیاطی تدابیر کرنی چاہیے۔ ھو سکتا ھے کہ دروازے اور کھڑکیوں کومقفل کرنا پڑے یا تیز دھار اشیاء کو مثلاًچاقو اور اوزاروں کو مقفل کرنا پڑے۔

رات میں دہشت زدہ ھونا (night terrors)
یہ صورتحال الگ سے بھی وقوع پذیر ھو سکتی ھے جس میں نیند میں چلنے کا عنصر نہ ھو۔ نیند میں چلنے والے افراد کی طرح رات میں دہشت گزارھونے والا فرد لگے گا کہوہاچانک گہری نیند سے بیدار ھو گیا ھے۔ وہ غنودگی کے عالم میں سخت ڈرا ھوا نظرآئے گا لیکن عام طور پر اُسے مکمل طور پر بیدارھوئے بغیر دوبارہ نیند آجائے گی۔ ان افراد کی یہ مدد کی جا سکتی ھے کہ ان کے ساتھ بیٹھا جائے جب تک وہ دوبارہ نہ سو جائیں۔ رات میں دہشت زدہ ھونا ،ڈراؤنے خواب یا نہا یت واضح خواب سے فرق ہیں کیونکہ یہ لوگوں کو اگلی صبح یاد نہیں رہتے۔

ڈراؤنے خواب:
ھم میں سے زیادہ ترافراد کو ڈراؤنے خواب آتے ہیں۔ یہ ز یادہ تر رات کے آخری حصےمیں وقوع پذیر ھوتے ہیں جب ہمیں سب سے واضح اور یاد رہنے والے خواب نظر آتے ہیں۔ عام طور پر یہ کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرتے بشرط کہ کہ یہ باقاعدگی سے وقوع پذیر نہ ھوں۔ ایسا کسی جذباتی صدمے کی وجہ سےھوسکتاھے۔ ڈراؤنے خواب عام طورپر کسی صدمہ پہنچانے والے یا زندگی کو خطرےمیں ڈالنے والے واقعہکے بعد پیش آتے ہیں مثال کے طور پر موت، سانحہ، حادثہ یا پُرتشدد حملہ۔ نفسیاتی مشورہ(counselling) اس صورت میں مددگار ھوسکتی ھے۔

(Restless leg syndrome) بےقرار ٹانگوں کا سنڈروم
۔ آپ محسوس کریں گے کہآپکو اپنی ٹانگوں کو متحرک رکھنا پڑتا ھے (بعض اوقات جسم کے دوسرے اعضاء کو بھی)۔

۔ ھو سکتا ھے کہ آپ کو اپنی ٹانگوں میں درد یا جلن محسوس ھو۔

۔ یہ محسوسات صرف اس وقت ھوں گے جب آپ آرام کر رھے ھوں۔

۔ عام طور پر یہ رات کے وقت زیادہ تکلیف دہ ھوتے ہیں۔

۔ چلنے سے یا حرکت کے نتیجےمیں افاقہ ھوتا ھے مثلاًچلنے سے یا انگڑائی لینے سے،اُس وقت تک جب تک کہ یہ حرکت جاری رھے۔

۔ ھو سکتا ھے کہ آپ دن کے وقت نہ چل سکیں یا بیٹھ سکیں جس سے کہ کام کرنے میں اور سونے میں دِقت ھو سکتی ھے ۔ عام طور پر مریض درمیانی عمر میں علاج کے خواہاں ھوتے ہیں اگرچہ ھو سکتا ھے کہ اُنکو علامات بچپن سے ھوں۔ یہ صورت خاندانی ھو سکتی ھے۔ آر ایل ایس (RLS) عام طور پر الگ سے ھوتا ھے لیکن بعض دفعہ جسمانی بیماریوں کی وجہ سے ھو سکتا ھے مثال کے طور پر فولاد یا حیاتیات کی کمی ،ذیابببطس یا گُردے کے مسائل۔ یہ حمل کے دوران بھی ھو سکتا ھے۔ اگر یہ کسی اور جسمانی بیماری کی وجہ سے نہ ھو تو علاج کا انحصار اس کی شدت پر ھوتا ھے۔ ہلکے یا خفیفآر ایل ایسکی صورت میں علامات پر عام طور پراچھی نیند لانے کے آسان طریقوں کے ذریعے قابو پایا جا سکتا ھے۔ ذیادہ شدید نوعیت کےآر ایل ایسمیں دوائیں فائدہ مند ثابت ھو سکتی ہیں۔ ان دواؤں میں وہ دوائیں شامل ہیں جو کہپارکنسن (Parkinson)کی بیماری کے لیے استعمال ھوتی ہیں۔ اس کے علاوہ مرگی کے لیے استعمال ھونے والی دوائیں (benzodiazepine) سکون آور دوائیں اور درد کُش دوائیں (painkillers) شامل ھیں۔ اگر ان سب تدابیر سے فائدہ نہ ھو توموومنٹ ڈس آرڈر کے ماھرڈاکٹر یا نیند کے ماہر ڈاکٹر سے رجوع کیا جا سکتا ھے۔

آٹزم (Autism) آٹزم سے متاثرہ بعض افراد کو یہ احساس نہیں ھوتا کہ رات کاوقت سونے کے لیے ھے اور ھوسکتا ھے کہ وہ اُس وقت بیدار اور فعال ھوں جب ہر کوئی سونا چاھتا ھے۔ اس صورتحال کے لیے عام طور پر ماہرین کی مدد کی ضرورت پڑے گی۔

بحوالہ
ڈاکٹر سید احمر (ایم آر سی سائیک) اور ڈاکٹر مراد موسیٰ خان (ایم آر سی سائیک)
رائل کالج آف سائکائٹرسٹس، یو کے
ڈپارٹمنٹ آف سائکائٹرٰ ی، آغا خان یونیورسٹی کراچی

08/11/2021

Professor Dr.Erum Irshad Chairperson of Psychology Department University Of Peshawar.
of Media and Gadget on Child and youth.
Physical disability is not the actual disability but mental disability such as disability of thinking , behavior, negative thoughts, lack of emotions is the actual disability.

27/10/2021

آبسیسو کمپلسو ڈس آرڈر
Obsessive-compulsive disorder

تعارف:
" اس پر فٹ بال کا جنون ہر وقت طاری رہتا ہے"۔ " اس کو جوتوں کا حد سے زیادہ شوق ہے"۔ "وہ لازماً جھوٹ بولتا رہتا ہے"۔ ہم یہ الفاظ ان لوگوں کے لئے استعمال کرتے ہیں جو کچھ عادات یا حرکات باربار کرتے رہتے ہیں، حالانکہ دوسروں کو ان کے اس رویے کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔عام طور سے یہ عادت مسئلہ نہیں بنتی اور کچھ کاموں میں یہ مددگار بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ مگر، کسی کام کو بار بار کرنے کا یا کسی سوچ کو بار بار دماغ میں لانے کا تقاضہ زندگی پہ تکلیف دہ حد تک حاوی بھی ہو سکتا ہے۔

اگر :
آپ کے ذہن میں تکلیف دہ خیالات بار بار آتے ہیں، حالانکہ آپ کوشش کرتے ہیں کہ یہ خیالات آپ کے دماغ میں نہ آئیں،

یا

آپ کے دل میں بار بار تقاضہ ہوتا ہے کہ آپ کسی چیز کو بار بار چھوئیں، چیزوں کو بار بار گنتے رہیں، یا کسی کام کو بار بار کریں مثلاً ہاتھ بہت بار دھوئیں ،

تو آپ کو آبسیسو کمپلسیو ڈس آرڈر (او سی ڈی)ہو سکتا ہے۔

او سی ڈی کے مریضوں کو کیسا محسوس ہوتا ہے؟
(عائشہ) "مجھے ڈر لگتا رہتا ہے کہ مجھے دوسروں سے کوئی بیماری لگ جائے گی ۔ میں گھنٹوں اپنے گھر کو بلیچ سے صاف کرتی رہتی ہوں تاکہ جراثیم مر جائیں ، اور اپنے ہاتھ دن میں بہت دفعہ دھوتی ہوں۔ میں کوشش کرتی ہوں کہ کسی بھی کام کے لیے مجھے گھر سے باہر نہ جانا پڑے۔ جب میرے میاں اور بچے گھر آجاتے ہیں ، تو میں ان کے جوتے گھر میں داخل ہونے سے پہلے ہی اتروا دیتی ہوں۔ میں ان سے تفصیل سے پوچتی ہوں کہ وہ کہاں کہاں گئے تا کہ پتہ چلے کہ کہیں وہ کسی گندی جگہ مثلاً اسپتال وغیرہ تو نہیں گئے تھے۔ میں ان کو گھر آنے کے بعد مجبور کرتی ہوں کہ وہ فوراً کپڑے بدلیں اور اچھی طرح نہائیں۔ مجھے احساس بھی ہوتا ہے کہ کہ میرے یہ اوہام احمقانہ ہیں۔ میرے گھر والے اس عادت سے تنگ آچکے ہیں، مگر میں اتنے عرصے سے یہ سب کچھ کر رہی ہوں کہ میں اب اپنے آپ کو روک نہیں سکتی۔

او سی ڈی کی علامات:
آبسیسو کمپلسو ڈس آرڈر میں بنیادی طور سے دو طرح کی علامات ہوتی ہیں۔

۱۔ وہم کے خیالات۔ (آبسیشنز)

۲۔ ایسے کام جن کو بار بار کرنے کے لیے مریض اپنے آپ کو مجبور پاتا ہے۔ (کمپلشنز)

آبسیشنز (وہم کے خیالات)۔
مریضوں کے ذہن میں بار بار کچھ خیالات، وہم، شک اور وسوسے آتے ہیں جو گھنٹوں تک آتے رہتے ہیں۔ عام طور سے یہ وہم بہت تکلیف دہ ہوتے ہیں کیونکہ یہ تشدد پر مبنی یا جنسی نوعیت کے ہوتے ہیں اور مریض کو پتہ ہوتا ہے کہ یہ فضول خیالات ہیں۔ مریض ان کو بار بار اپنے ذہن میں آنے سے روکنے یا ان کو ذہن سے جھٹکنے کی کوشش کرتا ہے لیکن یہ خیالات ذہن سے نہیں نکلتے۔ مریض کو پتہ ہوتا ہے کہ یہ اس کے اپنے ہی خیالات ہیں لیکن یہ اس کی مرضی کے خلاف ذہن میں آتے رہتے ہیں۔ بعض دفعہ لوگوں کوبار بار اس طرح کے خیالات آتے ہیں کہ وہ کسی کو مار دیں یا برا بھلا کہیں۔ حالانکہ لوگ ان خیالات کو صحیح نہیں سمجھتے اور ان پر عمل نہیں کرتے لیکن یہ خیالات بہت ہی تکلیف دہ ہوتے ہیں۔بعض دفعہ مریضوں کو دن بھر اس طرح کے خیالات آتے رہتے ہیں کہ وہ جراثیم یا گرد سے آلودہ ہیں یا ان کو کوئی بڑی بیماری مثلاً کینسر یا ایڈز لگ جائے گی۔

کمپلشنز (بار بار کو ئی کام بلا وجہ دہرانا)
اس بیماری کے بہت سے مریض بعض کام بے شمار دفعہ دہراتے ہیں، مثلاً بعض لوگ ایک ایک گھنٹے تک ہاتھ دھوتے رہتے ہیں ، یا پچاس پچاس دفعہ چیک کرتے ہیں کہ دروازہ کہیں کھلا تو نہیں رہ گیا۔ اکثر مریضوں کو پتہ ہوتا ہے وہ یہ کام کر چکے ہیں اور اسے دوبارہ کرنا فضول کام ہے اور بیکار ہے، مثلاً ہاتھ صاف ہیں یا دروازہ کھلا ہے لیکن ان کے دل میں اس کام کو پھر کرنے کا شدید تقاضہ پیدا ہوتا ہے اور اگر وہ اس کام کو پھر نہ کریں اور اس سے رکنے کی کوشش کریں تو شدید گھبراہٹ ہونے لگتی ہے۔ بعض دفعہ مریض اس طرح کے کام بار بار اس لیے کرتے ہیں کیوں کہ انھیں لگتا ہے کہ اگر وہ یہ کام نہیں کریں گے تو ان پر یا ان کے گھر والوں پہ کوئی بڑی مصیبت آ جائے گی۔

او سی ڈی کتنا عام ہے؟
عام طور سے دو فیصد لوگ زندگی میں کبھی نہ کبھی اس بیماری سے متاثر ہوتے ہیں۔ مردوں اور عورتوں میں اس بیماری کی شرح برابر ہے۔

او سی ڈی کس حد تک شدید ہو سکتا ہے؟
او سی ڈی اگر بہت شدید ہو تو باقاعدگی سے کام کرنا، گھر والوں کے ساتھ اچھا وقت گزارنا یا خاندان کے معاملات میں دلچسپی لینا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔اگر مریض اپنے کمپلشنز میں اپنے گھر والوں کو بھی شامل کرنے کی کوشش کرے تو وہ پریشان اور ناراض ہو سکتے ہیں۔

جن لوگوں کو او سی ڈی کی بیماری ہے، کیا وہ پاگل ہوتے ہیں؟
جن لوگوں کو او سی ڈی کی بیماری ہو وہ ذہنی اعتبار سے بالکل صحیح ہوتے ہیں لیکن بہت دفعہ وہ اس بیماری کا اظہار کرنے سے ہچکچاتے ہیں کہ لوگ کہیں انھیں پاگل نہ سمجھیں ۔ حالانکہ مریض پریشان ہوتے ہیں کہ اس بیماری کی وجہ سے کہیں وہ اپنے آپ پہ قابو نہ کھو بیٹھیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔

او سی ڈی کس عمر میں شروع ہوتا ہے؟
او سی ڈی عام طور سے لڑکپن میں یا بیس بائیس سال کی عمر میں شروع ہوتا ہے۔ علامات کبھی شروع ہوتی ہیں، کبھی خود ہی ختم ہو جاتی ہیں اور پھر دوبارہ آ جاتی ہیں ، مگر مریض عام طور سے اس وقت تک مدد کے لیے رجوع نہیں کرتے جب تک یہ بیماری شروع ہوئے ہوئے کئی سال نہ ہو چکے ہوں۔

اگر او سی ڈی کا علاج نہ کروایا جائےتو کیا ہو گا؟
اگر بیماری ہلکی ہو تو بہت سے لوگ علاج کے بغیر ہی بہتر ہو جاتے ہیں۔ اگر بیماری درمیانے درجے یا شدید نوعیت کی ہو تو عموماً ایسا نہیں ہو تا، گو کہ وقتی طور سے کبھی کبھی علامات بہتر ہو جاتی ہیں۔ کچھ لوگوں کی بیماری وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ خراب ہوتی چلی جاتی ہے جبکہ کچھ لوگوں کی علامات ذہنی دباؤ یا ڈپریشن کی حالت میں زیادہ بگڑ جاتی ہیں۔ علاج سے عام طور سے لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے۔

او سی ڈی کی بیماری کیوں ہو جاتی ہے؟
جینز(Genes)۔
او سی ڈی کی بیماری بعض لوگوں میں موروثی ہوتی ہے اس لیے کبھی کبھی ایک خاندان میں ایک سے زیادہ لوگوں کو ہوتی ہے۔

ذہنی دباؤ (اسٹریس)۔
جن لوگوں کو او سی ڈی کی بیماری ہوتی ہے ان میں سے تقریباً ایک تہائی لوگوں میں یہ ذہنی دباؤ والے حالات اور واقعات کے بعد نمودار ہوتی ہے۔

زندگی میں تبدیلی۔
ایسے وقت جب کسی پہ اچانک سے اور زیادہ زمہ داریاں آ جا ئیں، مثلاً بالغ ہو جانا، بچے کی پیدا ئش یا نئ نوکری ملنا، اسوقت او سی ڈی کی علامات سامنے آنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

دماغی تبدیلی۔
ہمیں وثوق سے تو نہیں معلوم لیکن ریسرچرز کے مطابق اگر کسی میں او سی ڈی کی بیماری تھوڑے عر صے سے زیادہ سے موجود ہو تو ان لوگوں کے دماغ میں ایک کیمیکل سیروٹونن کے عمل میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے۔

شخصیت۔
جو لوگ بہت زیادہ صفائی پسند، با سلیقہ اورہر کام ایک خاص اصول اوراعلی معیار کے مطابق کرنے والے ہوتےہیں میں ان میں او سی ڈی پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ عام زندگی میں یہ خصوصیات فائدہ مند ہوتی ہیں لیکن اگر یہ حد سے بڑھ جائیں تو او سی ڈی کی طرف جا سکتی ہیں۔

ڈھنگ۔/سوچنے کا انداز
تقریباً ہم سب کے ذہنوں میں بعض دفعہ عجیب و غریب خیالات آتے ہیں، "کیا ہو گا اگر میں اس گاڑی کے سامنے آ جاؤں، کہیں میں اپنے بچے کو نقصان نہ پہنچادوں۔ ہم میں سے اکثر لوگ ان خیالات کو جھٹک دیتے ہیں اور ان کی طرف توجہ نہیں کرتے ۔ لیکن بعض لوگ اپنے خیالات میں بھی اخلاقیات کے اس قدر پابند ہوتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے خیالات بھی نہیں آنے چاہیئیں۔ اس طرح کے لوگ یہ فکر کرتے رہتے ہیں کہ کہیں اس طرح کے خیالات دوبارہ نہ آ جائیں اور جو لوگ یہ فکر کرتے ہیں ان میں یہ خیالات اور بڑھ جاتے ہیں۔

او سی ڈی کیوں ختم نہیں ہوتا؟
بعض دفعہ او سی ڈی کے مریض اپنی علامات کو کم کرنے کے لیے جو کوششیں کرتے ہیں انھیں سے ان کے خیالات بڑھتے ہیں، مثلاً:

آبسیشنز کو ذہن سے باہر نکالنے کی کوشش کرنا اور کوشش کرنا کہ یہ خیالات ذہن میں نہ آئیں۔اس کوشش سے عام طور سے یہ خیالات بڑھ جاتے ہیں۔

کمپلشنز کو بار بار انجام دینے سے، کاموں کو بار بار چیک کرنے سے، یا لوگوں سے بار بار تسلی طلب کرنے سے کچھ دیر کے لیے تو گھبراہٹ کم ہو جاتی ہے ، لیکن اس سے مریض کا یہ خیال اور پختہ ہو جاتا ہے کہ ان کاموں کو کرنے سے کوئی بری بات ہونے سے رک جاتی ہے، اس لیے اگلی دفعہ ان کاموں کو بار بار کرنے کے لیے پریشر اور بڑھ جاتا ہے۔

ایسے"صحیح" خیالات ذہن میں لانا جن سے "برے خیالات" ختم ہو جائیں۔ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو اس کو چھوڑ دیں اور انتظار کریں جب تک کہ آپ کی گھبراہٹ ختم ہو جائے۔

اپنی مدد آپ کرنا۔
اپنے آبسیشنز کا سامنا کریں۔ یہ آپ کو سننے میں عجیب سا لگے گا مگر اس سے اپنے خیالات پر قابو پانا آسان ہو جاتا ہے۔ اپنے آبسیشنز کو بول کر ریکارڈ کر لیں اور انھیں بار بار سنیں، یا انھیں لکھ لیں اور بار بار پڑھیں۔ آپ کو یہ با قاعدگی سےروزانہ تقریباً آدھے گھنٹے کے لیے کرنا ہوگا جب تک کہ آپ کی گھبراہٹ کم نہ ہو جا ئے۔

کمپلشنز سے رکنے کی کوشش کریں مگر آبسیشنز کو روکنے کی کوشش نہ کریں۔

گھبراہٹ دور کرنے کے لئے شراب نہ پیئیں ۔

اگر آپ کے خیالات آپ کو مذہبی اعتبار سے پریشان کرتے ہیں تو کسی عالم سے بات کر کے یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ کہیں آپ کے خیالات او سی ڈی کی وجہ سے تو نہیں ہیں۔

او سی ڈی کا علاج۔
میں دو طریقے استعمال ہو تے ہیں۔ CBT او سی ڈی کے لئے

Exposure and Response Prevention (ERP) and Cognitive Therapy (CT)

Exposure and Response Prevention (ERP)
یہ طریقئہ علاج گھبراہٹ اور کمپلشنز کو ایک دوسرے کو بڑھانے سے روکتا ہے۔ اگر انسان کسی ذہنی دباؤ والی صورتحال میں کافی وقت تک رہے تو آہستہ آہستہ وہ اس کا عادی ہو جاتا ہے اور اس کی گھبراہٹ کم ہو جاتی ہے۔اسی اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے اس علاج میں مریض کو ان حالات کا سامنا کروایا جاتا ہے جن میں اس کو وہم ہوتے ہیں مثلاً گرد آلود چیز کو چھونا لیکن اس کے تقاضے پہ عمل کرنے سے روکا جاتا ہے مثلاً بار بار ہاتھ دھونا ، جب تک اس کی گھبراہٹ کم نہ ہو جائے۔اس علاج کو اچانک پورا کرنے کے بجائے بتدریج کرنا بہتر ہے۔

ان چیزوں کی فہرست بنا ئیں جن سے آپ کو بہت گھبراہٹ ہوتی ہے یا جن سے آپ دور رہتے ہیں۔

ان حالات یا خیالات کو اپنی فہرست میں سب سے نیچے رکھیں جن سے آپ کو سب سے کم گھبراہٹ ہوتی ہے، اور ان کو اوپر رکھیں جن سے آپ کو سب سے زیادہ

گھبراہٹ ہوتی ہے ۔

سب سے پہلے ان حالات کا سامنا کریں جن سے آپ کو سب سے کم گھبراہٹ ہوتی ہے اور پھر ان چیزوں کی طرف آئیں جن سے زیادہ گھبراہٹ ہوتی ہے ۔ اگلے درجے پہ اس وقت تک نہ جا ئیں جب تک اس سے نچلےوالے درجے میں گھبراہٹ کم نہ ہو جائے۔

اس مشق کو روزانہ ایک دو ہفتے تک کریں۔ ہر بار اس کو اتنی دیر تک کریں جب تک آپ کی گھبراہٹ انتہا سے کم از کم آدھی نہ ہو جائے۔ شروع میں اس میں آدھہے سے ایک گھنٹہ لگتا ہے۔

آپ ایک سائیکو تھراپسٹ کے ساتھ ان اقدام کی مشق کر سکتے ہیں، مگر زیادہ تر وقت آپ کو یہ خود ہی کرنا ہو گا ۔ اس کو اسی رفتار سے کریں جسے آپ آرام سے برداشت کر سکیں۔ ضروری نہیں ہے کہ ہر دفعہ آپ کی گھبراہٹ پوری ختم ہو، بس اتنی کم ہونا ضروری ہے کہ آپ اس کے ساتھ اس صورتحال کا سامنا کر سکیں۔- یاد رکھیں کہ آپ کی گھبراہٹ:

تکلیف دہ ضرور ہے مگر یہ آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکتی ہے۔

بلا آخر دور ہو جا ئے گی۔

مستقل مشق کے ساتھ کم ہوتی چلی جائے گی۔

کو کرنے کے دو اہم طریقے ہیں:ERP

رہنما ئی کے ساتھ اپنی مدد آ پ کرنا۔
آپ کسی کتاب ، ٹیپ ، وڈیو، ڈی وی ڈی یا کسی سوفٹ وئیر کی رہنما ئی لیں۔ آپ کبھی کبھی کسی پیشہ ور تھراپسٹ سے صلاح مشورہ اور مدد لے سکتے ہیں۔ یہ طریقہ کار اس وقت بہتر ہے جب آپ کو ہلکا او سی ڈی ہو اور آپ کو خود پراتنا اعتماد ہو کہ آپ اپنی مدد آپ کے طریقے خود استعمال کر سکیں۔

سائیکولوجسٹ کی زیر نگرانی اکیلے یا گروپ میں علاج:
یہ ملاقات کے ذریعے یا فون پر ہو سکتا ہے۔ یہ عموماً شروع میں ہفتے میں ایک یا دو بار ہوتا ہے اور۴۵ سے ۶۰ منٹ تک ہوتا ہے۔

ایک مثال:
احمد روزانہ آفس جانے کے لئے گھر سے وقت پہ نہ نکل پاتا، کیونکہ اس کو بہت سی چیزوں کی دیکھ بھال کرنی ہوتی تھی۔ اس کو پریشانی رہتی تھی کہ کہیں گھر نہ جل جا ئے یا اس کے یہاں چوری نہ ہو جا ئے اگر اس نے گھر کی ہر چیز کو پانچ بار نہ دیکھ لیا ہو۔ اس نے ان سب چیزوں کی فہرست بنا رکھی تھی جن کو اس نے دیکھنا ہوتا تھا ۔ فہرست کچھ اس طرح تھی:

1۔ دیکچی (سب سے کم ڈر لگتا تھا)

2۔ چا ئے کی پتیلی

3۔ چولہا

4۔ کھڑکی یا کھڑکیاں

5۔ دروازے (سب سے زیادہ ڈر لگتا تھا )

اس نے علاج پہلے مرحلے سے شروع کیا ۔ دیکچی کو بہت بار دیکھنے کے بجا ئے ، وہ اسے صرف ایک بار دیکھتا تھا۔ ابتداء میں اسے بہت گھبراہٹ ہوتی تھی۔ اس نے اپنے آپ کو دوبارہ دیکھنے سے روکا۔ اس نے اس بات پر بھی آمادگی ظاہر کی تھی کہ وہ اپنی بیوی کو ہر چیز کو دیکھنے کو بھی نہیں کہے گا اور نہ ہی اس سے تسلی مانگے گا کہ گھر حفاظت میں ہے ۔ اس کا خوف آہستہ آہستہ دو ہفتوں میں کم ہوتا گیا۔ پھر وہ دوسرے مرحلے (چا ئے کی پتیلی) پر گیا اور اس طرح آگے بڑھتا گیا۔ آخر کار ، وہ اپنے گھر سے بغیر

سب چیزوں کو دیکھے نکل جاتا تھا اور کام پر وقت پر پہنچتا تھا۔

Cognitive Therapy (CT)
کاگنیٹیو تھراپی ایک نفسیاتی علاج ہے جس میں اس بات کی کوشش کی جاتی ہے کہ آپ کو اپنے آبسیشنز سے تکلیف ہونا کم ہو جائے بجا ئے اس کے کہ آپ ان سے چھٹکارہ پا لیں۔ یہ اس وقت کار آمد ہے اگر آپ آبسیشنزسے پریشان ہوں لیکن آپ کو کمپلشنز نہ ہوتے ہوں۔

اینٹی ڈپریسنٹ ادویات۔
ایس ایس آر آئی اینٹی ڈپریسنٹ ادویات آبسیشنز اور کمپلشنز کو کم کرتی ہیں۔ یہ ان لوگوں میں بھی کام کرتی ہیں جن کو ڈپریشن نہ ہو۔ یہ اکیلے یا سائیکوتھراپی کے ساتھ بھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔ اگر ایس ایس آر آئی کا علاج تین ماہ تک کرنے سے بالکل بھی فائدہ نہ ہو تو کوئی دوسری ایس ایس آر آئی یا پھر ایک دوسری دوا کلو مپرامین دی جاسکتی ہے۔

ان طریقئہ علاج سے کتنا فائدہ ہوتا ہے؟
Exposure Response Treatment (ERP)

ای آر پی کا علاج مکمل کرنے والے لوگوں میں سے تقریباً تین چوتھائی لوگوں کو کافی فائدہ ہوتا ہے ۔ جو لوگ بہتر ہو جاتے ہیں، ان میں سے ایک چوتھائی کو مرض کی علامات کچھ عرصے بعد دوبارہ پیدا ہو جاتی ہیں اور انہیں مزید علاج کی ضرورت پیش آتی ہے ۔

ادویات۔
تقریباً ساٹھ فیصد لوگ اینٹی ڈپریسنٹ ادویات سے ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اوسطاً ان کی علامات تقریباً آدھی رہ جاتی ہیں۔ اینٹی ڈپریسنٹ ادویات او سی ڈی کو واپس آنے سے روکتی ہیں ۔ یہ اثر علامات ختم ہونے کے کئی سال بعد تک موثر رہتا ہے۔جو لوگ ادویات بند کر دیتے ہیں ان میں سے تقریباً آدھے لوگوں میں اگلے کچھ مہینوں میں علامات واپس آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اگر دوا کے ساتھ کوگنیٹو بیہیویئر تھراپی بھی کروائی جائے تو علامات واپس آنے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔

کون سا طریقہ کار میرے لئے بہتر ہے۔ ادویات یا سائیکو تھراپی؟
ایکسپوژر ریسپونس ٹریٹمنٹکسی ماہرانہ مشورے کے بغیر بھی لی جا سکتی ہے (ہلکےمرض میں)۔ کافی لوگوں کو اس سے فائدہ ہوتا ہے ، اور سوائے شروع میں تھوڑی گھبراہٹ بڑھنے کے اس کے کوئی مضر اثرات نہیں ہوتے۔ دوسری طرف اس کے لئے بہت حوصلہ افزائی اور مشقت کی ضرورت ہوتی ہے اور شروع میں گھبراہٹ بڑھتی ہے ۔

سی بی ٹی اور ادویات سے ایک ہی جتنا فائدہ ہوتا ہے۔ اگر آپ کو ہلکے درجے کی او سی ڈی ہے تو صرف سی بی ٹی سے بھی فائدہ ہوتا ہے۔ اگر آپ کی بیماری نسبتاًشدید ہے تو پھر آپ سی بی ٹی یا ادویات دونوں طریقوں سے علاج کروا سکتے ہیں۔ اگر آپ کا او سی ڈی بہت شدید ہے تو ادویات اور سی بی ٹی کا ایک ساتھ استعمال آپ کے لئے بہتر ہو گا۔ اپنے سائیکائٹرسٹ سے ضرور مشورہ کریں جو آپ کو اور زیادہ معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔

اگر مجھے ابتدائی علاج سے فائدہ نہیں ہوتا تو کیا ہو گا؟
اپنے سائیکائٹرسٹ سے دوبارہ مشورہ کریں۔ہو سکتا ہے کہ وہ آپ کو یہ مشورہ دیں کہ:

بھی دی جا ئے۔ Cognitive Therapyیا ادویات کے ساتھ Exposure Treatment

دو اینٹی ڈپریسنٹ ادویات ایک ساتھ لی جا ئیں ، جیسے کلو مپرامین اور سیٹا لو پرام۔

دیگر نفسیاتی مسائل مثلاً گھبراہٹ، ڈپریشن یا شراب نوشی کا بھی علاج کیا جا ئے۔

اینٹی ڈپریسنٹ کے ساتھ اینٹی سا ئیکو ٹک ادویات بھی دی جائیں ۔

آپ کے گھر والوں کے ساتھ مل کر انھیں مشورہ دینا اور ان کی پریشانی کم کرنے کی کوشش کرنا۔

کیا مجھے علاج کے لئے ہسپتال میں داخل ہونا پڑے گا؟
ہسپتال میں داخلے کی ضرورت صرف اس وقت پیش آتی ہے جب:

آپ کی بیماری بہت شدید ہو، آپ خود اپنی دیکھ بھال نہ کر سکیں، یا آپ کو خود کشی کے خیالات آنے لگیں۔

آپ کو کو ئی اور شدید نفسیاتی مسائل ہوں مثلاً ایٹنگ ڈس آرڈر، شیزوفیرینیا، یا بہت شدید ڈپریشن۔

آپ بیماری کی علامات کی وجہ سے کلینک نہیں پہنچ سکتے۔

مریض کے گھر والوں اور دوستوں کے لئے مشورے۔
او سی ڈی کے مریضوں کا رویہ بعض اوقات گھر والوں کے لیے بہت پریشان کن ہو تا ہے۔ یہ یاد رکھنے کی کوشش کریں کہ وہ اپنے رویے سے جان بوجھ کر آپ کے لئے مشکل نہیں کھڑی کرنا چاہ رہا بلکہ اس بیماری کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔

ہو سکتا ہے کہ مریض کو یہ سمجھنے میں کچھ وقت لگے کہ اسے علاج کی ضرورت ہے۔ اس کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ او سی ڈی کے بارے میں پڑھیں اور کسی ماہر سے بات کریں۔

او سی ڈی کے بارے میں آپ خود معلومات حاصل کریں ۔

آپ ایکسپوژر ٹریٹمنٹ میں مدد کر سکتے ہیں کہ اپنے عزیز کی طرف اپنا رویہ بدلیں؛ ان کی ان حالات کا سامنا کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کریں جن سے انھیں گھبراہٹ ہوتی ہے، ان کے کمپلشنز میں حصہ نہ لیں، اور ان کو بار بار تسلیاں مت دیں کہ سب کچھ بالکل ٹھیک ہے۔

اس بات سے پریشان مت ہوں کہ اگر مریض کو تشدد پہ مبنی خیالات آتے ہیں تو وہ ان پہ عمل کر گزرے گا۔ ایسا ش*ذ و نادر ہی ہوتا ہے۔

Bilal future psychologist

Address

Swabi

Telephone

+923449885416

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bilal future psycologist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Bilal future psycologist:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category