08/12/2025
ایبٹ آباد ڈی ایچ کیو کی وہ لیڈی ڈاکٹر, جو چار دن پہلے اغوا ہوئی تھی, آج اُس کی لاش مل گئی. ایک ڈاکٹر, ایک بیٹی, ایک انسان, جو ڈیوٹی پر جانیں بچانے نکلتی تھی, خود اس نظام کی بے حسی کی بھینٹ چڑھ گئی. یہ صرف ایک قتل نہیں, یہ پورے سسٹم کی ناکامی کا اعتراف ہے.
اگر ایک سرکاری ہسپتال کی لیڈی ڈاکٹر تک محفوظ نہیں, تو عام شہری کس کھاتے میں آتے ہیں. ریاست نے اپنی ذمہ داری چھوڑ دی, اداروں نے آنکھیں بند کر لیں, اور مجرموں نے کھلے عام جرم کرنا سیکھ لیا, کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ پکڑا کوئی نہیں جائے گا.
یہ واقعہ ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ ہمارا نظام تحفظ دینے کے قابل نہیں رہا. چار دن تک ایک ڈاکٹر لاپتہ رہی, مگر کوئی ہنگامی حرکت میں نہ آیا. کوئی مؤثر سرچ آپریشن نہیں, کوئی تیز رفتار انویسٹی گیشن نہیں, کوئی فوری ریسکیو نہیں.
اس ملک میں ڈاکٹر صرف مریضوں کی جان نہیں بچاتے, وہ خود اپنی جان بھی روزانہ داؤ پر لگاتے ہیں.
اللہ پاک اُس شہید ڈاکٹر کی مغفرت فرمائے, اس کے گھر والوں کو صبر دے. آمین.
اور ہم, بطور معاشرہ, بطور ریاست, کب جاگیں گے؟ کب وہ دن آئے گا جب ایک عورت, ایک ڈاکٹر, ایک شہری اس زمین پر
محفوظ ہو کر سانس لے