30/01/2026
خود اعتمادی یہ یقین کہ ہے میں حالات کا سامنا کر سکتا ہوں۔ یہ یقین کسی ایک دن میں پیدا نہیں ہوتا،
یہ زندگی کے تجربات، کوششوں اور خود سے کیے گئے وعدوں سے بنتا ہے۔ ماہرِ نفسیات البرٹ بینڈورا کے مطابق خود اعتمادی عمل سے پیدا ہوتی ہے، صرف سوچنے سے نہیں۔ جب آپ ڈرتے ہوئے بھی قدم بڑھاتے ہیں، مشکل کام سے بھاگتے نہیں اور ناکامی کے بعد آہستہ آہستہ بہتر ہوتے ہیں تو دماغ سیکھتا ہے کہ میں کر سکتا ہوں اور خود پہ یقین پیدا ہوتا ہے ۔ جب انسان اپنی قدر صرف اس بات سے کرنے لگے کہ لوگ کیا کہیں گے؟ تو اعتماد کمزور ہو جاتا ہے۔ آپ اپنے آپ سے جیسے بات کرتے ہیں، دماغ ویسا ہی مان لیتا ہےاس لئے خود اعتمادی کا آغاز خود سے نرمی کر نے سے ہوتا ہے، خود کو گرانے یہ غلط کہنے سے نہیں۔ اسلام انسان کی قدر لوگوں کی رائے سے نہیں کرتا۔ قرآن فرماتا ہے “بے شک اللہ کے نزدیک سب سے عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے” (سورۃ الحجرات)۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے مگر کوشش انسان کی ذمہ داری ہے نبی ﷺ نے فرمایا “طاقتور مومن کمزور مومن سے بہتر ہے”۔ جب آپ پوری نیت اور سچائ سے کوشش کرتے ہیں تو وہ کوشش عبادت بن جاتی ہے اور یہی کو شش خود اعتمادی کی سب سے پاک شکل ہے۔
Ms Tayyaba Riasat
Clinical psychologist
ISJ PSYCHOLOGICAL SERVICES