Raziq Healthcare Center Tangi - Charsadda.

Raziq Healthcare Center Tangi - Charsadda. Health facilities are available 24/7 Free dispensing of injection, wound dressings and free admissions till recovery from acute pain in clinic.

16/11/2025
ہم باہر کے لیے اچھے اور اپنے گھر والوں کے لیے سخت کیوں؟— ایک فلسفیانہ اور نفسیاتی جائزہ:انسان ایک عجیب مخلوق ہے:باہر وال...
16/11/2025

ہم باہر کے لیے اچھے اور اپنے گھر والوں کے لیے سخت کیوں؟
— ایک فلسفیانہ اور نفسیاتی جائزہ:

انسان ایک عجیب مخلوق ہے:
باہر والوں کے لیے اس کا لہجہ نرم، الفاظ خوشبو، اور رویہ مسکان سے بھرا ہوتا ہے۔
مگر گھر کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی وہی انسان اکثر سخت، بے صبرا اور تلخ لہجے والا نظر آتا ہے۔
یہ تضاد محض اتفاق نہیں، بلکہ انسانی نفسیات اور معاشرتی دباؤ کا ایک گہرا کھیل ہے۔
1. جہاں محبت زیادہ ہو، وہاں توقعات بھی زیادہ ہوتی ہیں
گھر والے وہ لوگ ہیں جن سے ہمیں سب سے زیادہ پیار ہوتا ہے۔
مگر محبت کے ساتھ ایک اور چیز بھی پیدا ہوجاتی ہے: توقعات۔
ہم چاہتے ہیں کہ اپنے لوگ ہمیں سمجھیں، قبول کریں، اور ہماری کمزوریوں کو نظر انداز کریں۔
جب یہ توقعات پوری نہیں ہوتیں، تو رویے میں سختی شامل ہوجاتی ہے۔
باہر والوں سے توقع کم → لہجہ نرم
گھر والوں سے توقع زیادہ → لہجہ سخت
یہ انسانی فطرت کا پہلا فلسفہ ہے۔
2. باہر کی دنیا میں ہم ’’کردار‘‘ ادا کرتے ہیں
سڑک، دفتر، بازار یا کسی محفل میں ہم ایک سوشل ماسک پہن کر جاتے ہیں۔
وہ ماسک ہمیں مہذب، پرسکون اور شفیق بنا دیتا ہے۔
ہم اپنے اندر کی جھنجھلاہٹ، غصہ اور تھکن چھپا لیتے ہیں، کیونکہ معاشرہ ہمیں ’’اچھا‘‘ دیکھنا چاہتا ہے۔
مگر گھر میں…
مسکراہٹ کا یہ ماسک اتر جاتا ہے
اور انسان اپنی اصل تھکاوٹ اور کمزوری کے ساتھ سامنے آجاتا ہے۔
3. گھر محفوظ ترین جگہ ہوتی ہے
ہم باہر جھگڑنے، لڑنے، یا اپنا غصہ دکھانے سے ڈرتے ہیں—
کہ کہیں لوگ بُرا نہ سمجھیں، رشتے نہ خراب ہوں، یا معاشرتی وقار متاثر نہ ہو۔
لیکن گھر میں ہمیں یقین ہوتا ہے کہ:
"یہ لوگ ہمیں چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔"
اسی یقین کی وجہ سے انسان سب سے زیادہ سختی بھی انہی کے ساتھ کرتا ہے جو اسے سب سے زیادہ چاہت دیتے ہیں۔
یہی وہ حقیقت ہے جسے صدیوں پہلے صوفیاء نے کہا تھا:
"انسان سب سے زیادہ زخم انہیں دیتا ہے جو اسے سنبھال لیتے ہیں۔"
4. جذبات کا بوجھ گھر میں اُترتا ہے
دن بھر کے کام، ذمہ داریاں، ٹینشن، دباؤ اور مسائل—
ان سب کا بوجھ انسان گھر لے کر آتا ہے۔
باہر وہ ضبط میں رہتا ہے، مگر گھر میں یہی دباؤ سخت لفظوں اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصے کی صورت میں ظاہر ہونے لگتا ہے۔
یہ انسان کی کمزوری ہے،
مگر حقیقت ہے۔
5. گھر والوں کے سامنے ہم ’’اصل‘‘ ہوتے ہیں
انسان باہر کی دنیا میں اپنی بہترین شکل دکھاتا ہے،
مگر گھر میں وہ اپنی اصل شخصیت کے ساتھ ہوتا ہے۔
جو نرم ہے، وہ یہاں بھی نرم رہتا ہے۔
جو اندر سے غصے والا ہے، وہ یہاں کھل کر سامنے آجاتا ہے۔
جو کمزور ہے، وہ یہاں کمزوری بھی دکھا لیتا ہے۔
باہر ہم ’’امیج‘‘ بچاتے ہیں،
گھر میں ’’دل‘‘ لے کر رہتے ہیں۔
6. کیا یہ رویہ درست ہے؟
نہیں۔
کیونکہ نرمی اور محبت کی سب سے زیادہ ضرورت انہی لوگوں کو ہوتی ہے جو ہمارے قریب ترین ہیں۔
گھر والے وہ اصل سرمایہ ہیں جن کی محبت سے زندگی کا سکون بنتا ہے۔
صوفی حکمت کہتی ہے:
"جو محبت کے سب سے قریب ہوں، انہیں سب سے زیادہ احترام ملنا چاہیے۔"
مختصر نتیجہ
ہم باہر کے لوگوں کے لیے اچھے اس لیے ہوتے ہیں کہ وہاں ہمارا کردار، ساکھ اور معاشرتی چہرہ داؤ پر ہوتا ہے۔
اور ہم گھر والوں کے ساتھ سخت اس لیے ہوتے ہیں کہ ہم انہیں اپنا سمجھتے ہیں، اور اپنے ہونے کا غلط فائدہ لے لیتے ہیں۔
مگر اصل حکمت یہ ہے کہ:
انسان اپنی بہترین صورت باہر والوں کے لیے نہیں،
بلکہ گھر والوں کے لیے اختیار کرے۔
کیونکہ دنیا سے پہلے،
انسان کے کردار کی گواہی گھر والے دیتے ہیں۔

16/11/2025

خسرہ (Measles):

عوامی آگاہی پیغام —
خسرہ تیزی سے پھیل رہا ہے
خسرہ اس وقت ہمارے علاقے میں تیزی سے پھیل رہا ہے، اور یہ بیماری خاص طور پر چھوٹے بچوں کے لیے نہایت خطرناک ہو سکتی ہے۔
براہِ کرم اپنی اور اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے درج ذیل احتیاطی تدابیر ضرور اپنائیں:

✔ بچوں کی ویکسین لازمی کروائیں:
خسرہ سے بچاؤ کا سب سے مؤثر طریقہ MMR ویکسین ہے۔ جن بچوں کی ویکسین رہ گئی ہے، فوری طور پر مکمل کروائیں۔

✔ بخار، کھانسی اور سرخی والے دھبے ظاہر ہوں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں
خسرہ کی علامات ظاہر ہونے پر خود علاج نہ کریں، تاخیر بیماری کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
✔ متاثرہ بچوں کو بھیڑ والی جگہوں پر نہ لے جائیں
اس سے بیماری مزید پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
✔ صفائی کا خاص خیال رکھیں
ہاتھ دھونا، گھر کی ہوا کی نکاسی بہتر کرنا اور بچوں کو صاف ماحول میں رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
✔ کمزور مدافعت والے بچوں کا خاص خیال
کمزور، غذائی قلت کے شکار یا پہلے سے بیمار بچے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
📌 یاد رکھیں:
خسرہ ایک روکی جانے والی بیماری ہے۔ بروقت ویکسینیشن اور احتیاط ہی حفاظت ہے۔
اپنے بچوں، اپنے گھر اور اپنی کمیونٹی کو محفوظ بنائیں۔

گورنمنٹ ہائی سکول نمبر ۱ تنگی — تاریخ، تعلیم اور تہذیب کا امینابتدائی تعارفتنگی (ضلع چارسدہ) کا گورنمنٹ ہائی سکول نمبر ۱...
10/11/2025

گورنمنٹ ہائی سکول نمبر ۱ تنگی — تاریخ، تعلیم اور تہذیب کا امین
ابتدائی تعارف
تنگی (ضلع چارسدہ) کا گورنمنٹ ہائی سکول نمبر ۱ ایک قدیم اور باوقار تعلیمی ادارہ ہے جس نے کئی دہائیوں سے علم و تربیت کی روشنی پھیلائی ہے۔ یہ سکول بیسویں صدی کے وسط میں قائم ہوا اور جلد ہی علاقے کے ذہین و محنتی طلباء کے لیے علم کا مرکز بن گیا۔ ۱۹۷۰ء اور ۱۹۸۰ء کی دہائیاں اس ادارے کے سنہری ادوار میں شمار ہوتی ہیں۔
۱۹۷۸ تا ۱۹۸۲ء — سنہری یادوں کا زمانہ
یہ وہ زمانہ تھا جب اس سکول میں تعلیم حاصل کرنا فخر کی بات سمجھی جاتی تھی۔ اس دور میں سکول کے اساتذہ علم، اخلاق اور نظم و ضبط کے پیکر تھے۔
طلباء صبح کے وقت قطاروں میں کھڑے ہوکر قومی ترانہ گاتے، اس کے بعد نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ کھیلوں، تقریری مقابلوں اور ڈرامہ فنون میں حصہ لیتے۔
اس زمانے کے طلباء میں ایک خاص جذبۂ حب الوطنی اور خلوص نظر آتا تھا۔
اساتذہ محض پڑھانے والے نہیں بلکہ کردار ساز بھی تھے — وہ طلباء کو انسانیت، دیانت اور سچائی کا درس دیتے۔
تعمیراتی و ثقافتی پہلو
سکول کی عمارت اپنی نوعیت میں تاریخی اہمیت رکھتی ہے۔ سرخ اینٹوں، بلند محرابی دروازوں، اور کشادہ صحن نے اسے ایک روایتی مگر پُر وقار تعلیمی مرکز بنایا۔
درختوں سے گھرا یہ سکول طلباء کے لیے سائے، تازگی اور سکون کا استعارہ تھا۔
یہاں کی فضا علم، ادب اور دوستی کی خوشبو سے معمور رہتی تھی۔
سماجی و علمی کردار
گورنمنٹ ہائی سکول نمبر ۱ تنگی نے نہ صرف تعلیمی میدان میں بلکہ سماجی ترقی میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
یہاں سے فارغ التحصیل طلباء نے بعد میں طب، تدریس، سیاست، عدلیہ، اور انتظامیہ میں نمایاں خدمات انجام دیں۔
یہ ادارہ درحقیقت ایک "اکیڈمی آف کیریکٹر بلڈنگ" ثابت ہوا۔
تحقیقی پہلو
تحقیقی اعتبار سے اس سکول کی تاریخ پشتون معاشرت کے اُس دور کی عکاسی کرتی ہے جب تعلیم کو ایک مقدس فریضہ سمجھا جاتا تھا۔
یہ وہ زمانہ تھا جب استاد کا احترام خلوص دل سے کیا جاتا، اور علم کو دولت سے بڑھ کر درجہ حاصل تھا۔
نتیجہ
گورنمنٹ ہائی سکول نمبر ۱ تنگی محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ تاریخ کا ایک زندہ ورق ہے۔
یہ ادارہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ علم و اخلاق کا ملاپ ہی ایک قوم کو ترقی کی راہوں پر گامزن کرتا ہے۔
آج بھی جب کوئی سابق طالب علم اس سکول کو یاد کرتا ہے، تو ماضی کی خوبصورت یادیں، کلاس روم کی خوشبو، اور اساتذہ کی آوازیں دل میں تازہ ہو جاتی ہیں۔

ڈاکٹر فضلِ رازق۔

02/11/2025

ایم ڈی کیٹ میں رہ جانے والے بچوں کیلیے:
—————————————————-
میرے بہت اور عزیز بچوں اور بچیوں!
السلام علیکم ورحمت اللہ و براکتہُ-
زندگی کبھی صرف ایک دروازے کے نام پر نہیں لکھی گئی۔ کبھی کبھی وہ دروازہ جسے ہم سب سے اہم سمجھ رہے ہوتے ہیں، بند ہو جاتا ہے، اور ساتھ ہی کوئی کھڑکی دھیرے سے کھل جاتی ہے۔ ایم ڈی کیٹ میں مطلوبہ نمبر نہ آنا کوئی انجام نہیں۔ یہ صرف ایک موڑ ہے، جیسے دریا کا بہاؤ پتھر سے ٹکرا کر ایک نیا راستہ بناتا ہے۔
علم کا مقصد شہرت یا ڈگری نہیں۔ علم ایک دیا ہے جو اس دل میں روشن ہوتا ہے جو خدمت چاہتا ہے۔ اگر آپ کا مقصد انسانیت کی خدمت ہے تو راستے بے شمار ہیں۔ ڈاکٹر بننا یقیناً ایک معزز راستہ ہے، مگر یہ واحد راستہ نہیں۔ کچھ لوگ لفظوں سے زخم بھرتے ہیں اور ادیب بن جاتے ہیں۔ کچھ انجینئر بن کر مشینوں میں زندگی کا سانس ڈالتے ہیں۔ کچھ ٹیچر ہو کر مستقبل کے دلوں میں چراغ رکھتے ہیں۔ کچھ محقق بنتے ہیں اور نئے کائناتی راز ڈھونڈتے ہیں۔ کچھ نرسیں اور پیرامیڈیکل کارکن وہ کام کرتے ہیں جو کبھی کبھی الفاظ سے بھی بڑا ہوتا ہے: درد کے وقت ہاتھ تھامنا۔
کامیابی کی پہچان نمبر نہیں، نیت اور محنت ہے۔ آج آپ جس جگہ کھڑے ہیں، وہ صرف سفر کی شروعات ہے۔ آپ کا دل اگر روشن ہے، تو منزل آپ سے بھاگ نہیں سکتی۔ دنیا میں وہ لوگ بھی عظیم بنے جن کے پاس بڑے نمبر نہیں تھے، مگر بڑے خواب تھے۔
مایوسی صرف وہ دروازہ ہے جو خوابوں کی روشنی کو روک دیتا ہے۔ اس کو کھول دیں، باہر تازہ ہوا ہے، نئے افق ہیں، اور آپ کی قدموں کے انتظار میں راستے پڑے ہیں جن پر ابھی کسی نے نقش نہیں چھوڑا۔ آپ وہ پہلے ہو سکتے ہیں۔
اپنے دل کو مضبوط رکھیں۔ محنت جاری رکھیں۔ نئے زاویوں سے دیکھیں۔ کبھی کبھی زندگی بہتر راستہ دکھانے کے لیے ایک راستہ بند کرتی ہے۔ آپ اس لمحے کو ہار نہیں، اشارہ سمجھیں۔
آگے بڑھیں، روشنی آپ کے ساتھ ہے۔
والسلام آپ سب کاا خیر خواہ
ڈاکٹر فضل رازق



28/10/2025

کتاب کا نام ڈوپامین ڈی ٹاکس —
مصنف(ڈاکٹر کیمرون سپاہ)
اپنی توجہ اور خوشی واپس پانے کی کہانی کا بنیادی خیال:

آج کی زندگی میں ہمارا دماغ ہر لمحہ زیادہ تحرک (stimulation) کا شکار ہے —
فون کی گھنٹیاں، سوشل میڈیا، لذت انگیز کھانے، ویڈیوز، گیمز، اور فضول مصروفیات۔
یہ سب چیزیں دماغ میں ڈوپامین (Dopamine) نامی کیمیکل کو بار بار اور غیر فطری طور پر بڑھا دیتی ہیں۔
وقت کے ساتھ دماغ عادی (desensitized) ہو جاتا ہے —
یعنی پہلے جتنی خوشی کے لیے اب زیادہ اور زیادہ تحرک چاہیے۔
نتیجہ؟
انسان تھک جاتا ہے، بےچینی، اکتاہٹ اور توجہ کی کمی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
مسئلہ کہاں ہے؟
ہم نے اپنے دماغ کو “فوری لذت” (instant pleasure) کا عادی بنا لیا ہے۔
ہمیں اب سادہ خوشیاں — جیسے کتاب پڑھنا، خاموشی سے بیٹھنا، یا گھر والوں سے بات کرنا —
پُرکشش نہیں لگتیں۔
ہم مقصدی خوشی (purposeful joy) کے بجائے وقتی خوشی (short-term pleasure) کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔
ڈوپامین ڈی ٹاکس کیا ہے؟
ڈاکٹر کیمرون سپاہ کہتے ہیں کہ “ڈی ٹاکس” کا مطلب ڈوپامین ختم کرنا نہیں،
بلکہ دماغ کے ضرورت سے زیادہ تحرک کو روک کر
اسے ری سیٹ (reset) کرنا ہے تاکہ وہ پھر سے نارمل خوشی محسوس کر سکے۔
طریقہ کار (How to Do It)
اپنی زندگی میں وہ ایک عادت چنیں جو آپ کو سب سے زیادہ کھینچتی ہے
(مثلاً موبائل، سوشل میڈیا، گیمز، میٹھا، یا کسی نشے کی شکل)
اس سے 24 سے 72 گھنٹے تک مکمل پرہیز کریں۔
اس دوران کم تحرک والی، پرسکون سرگرمیاں کریں —
جیسے واک، غور و فکر، دعا، جرنل لکھنا، یا کسی قریبی سے بات کرنا۔
جب خواہش اُبھرے تو فوراً عمل نہ کریں —
بلکہ اسے صرف محسوس کریں اور گزرنے دیں۔
اس سے دماغ خود پر قابو پانے کی تربیت لیتا ہے۔
چند دنوں میں انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ دوبارہ
سادہ چیزوں میں لطف محسوس کر سکتا ہے —
ایک چائے کا کپ، ایک گفتگو، یا خاموشی کا لمحہ۔
گہرا پیغام
ڈوپامین ڈی ٹاکس کا مقصد زندگی سے لذت ختم کرنا نہیں،
بلکہ لذت پر قابو پانا ہے۔
جب انسان اپنی خواہشات کا غلام نہیں بلکہ ان کا نگران بن جاتا ہے،
تو وہ حقیقی سکون، توانائی، اور خوشی حاصل کرتا ہے۔
اہم اقتباس
“تمہیں زیادہ ڈوپامین کی نہیں،
بلکہ اس پر قابو پانے کی ضرورت ہے جو تمہیں ڈوپامین دیتا ہے۔”
— ڈاکٹر کیمرون سپاہ
خلاصہ
ڈوپامین ڈی ٹاکس ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ:
خوشی باہر نہیں، اندر کے توازن میں ہے۔
دماغ کو سکون دو، وہ خود تمہیں توانائی لوٹا دے گا۔
جب تم خود پر قابو پا لیتے ہو،
تو دنیا کی کوئی چیز تمہیں کمزور نہیں کر سکتی۔

28/10/2025

جب تم کہیں چند لوگوں کو رقص کرتے ہوئے دیکھتے ہو تو دفعتا تمہارے پاؤں بھی رقص پر آمادہ ہو جاتے ہیں ہوسکتا ہے تم ان پر ضبط کرنے کی کوشش کرو کیونکہ ضبط کرنا قابو پانا کنٹرول کرنا تمہیں سکھایا جو گیا ہے لیکن تمہارا جسم رقص میں شامل ہونے کا خواہاں ہوگا جب کبھی تمہیں ہنسنے کا موقع ملے تو ہنسو جب کبھی تمہیں رقص کرنے کا موقع ملے تو رقص کرو جب کبھی تمہیں گانے کا موقع ملے تو گاؤ اور ایک دن تم پاؤ گے کہ تم اپنی جنت خود تخلیق کر چکےہونگے-
اوشو

اوشو کے اقتباس پر ایک خوبصورت اور فکری نفسیاتی مضمون جو آپ کسی تربیتی لیکچر یا اصلاحی کالم میں استعمال کر سکتے ہیں -
اپنی جنت خود تخلیق کرو — اوشو کی بات اور جدید نفسیات کا زاویہ
جب اوشو کہتا ہے:
“جب کبھی تمہیں رقص کرنے کا موقع ملے تو رقص کرو،
جب کبھی تمہیں ہنسنے کا موقع ملے تو ہنسو،
اور ایک دن تم پاؤ گے کہ تم اپنی جنت خود تخلیق کر چکے ہو۔”
تو یہ محض ایک شاعرانہ خیال نہیں، بلکہ انسانی نفسیات کی ایک گہری سچائی ہے۔
اوشو دراصل انسان کو زندگی کے فطری بہاؤ (natural flow) میں جینے کی دعوت دیتا ہے —
یعنی احساسات کو دبانے کے بجائے، ان کا اظہار کر کے خود کو آزاد کرنا۔
جذباتی دباؤ اور مصنوعی کنٹرول
انسانی ذہن کو بچپن سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ ضبط کرو، روکو، قابو پاؤ۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم اپنی قدرتی جبلّتوں اور احساسات سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔
ہنسی آتی ہے تو چہرے پر روک لیتے ہیں،
رقص کا دل چاہتا ہے تو بدن کو جامد کر دیتے ہیں،
اور رفتہ رفتہ زندگی ایک میکانکی سانس بن جاتی ہے۔
اوشو کا فلسفہ کہتا ہے کہ یہی دباؤ خوشی کو مٹا دیتا ہے۔
جب ہم خود پر حد سے زیادہ کنٹرول کرتے ہیں تو زندگی کی لذت، حیرت اور فطری مسرت ہم سے چھن جاتی ہے۔
نفسیاتی نظر سے اوشو کی بات
جدید نفسیات، خاص طور پر Positive Psychology، اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ
خوشی کسی بیرونی شے سے نہیں بلکہ اندر سے اُبھرتی ہے۔
جب انسان کسی لمحے میں پوری طرح شامل ہوتا ہے —
چاہے وہ رقص ہو، مسکراہٹ ہو، یا کوئی خالص جذبہ —
تو وہ “Flow State” میں داخل ہوتا ہے،
جہاں خودی مٹ جاتی ہے اور صرف تجربہ باقی رہتا ہے۔
یہی لمحے “اندرونی جنت” کی بنیاد رکھتے ہیں۔
جسم، دماغ اور روح کی ہم آہنگی
اوشو کے نزدیک جسم دشمن نہیں بلکہ روح کا اظہار ہے۔
رقص، ہنسی، محبت، خاموشی — یہ سب روح کی زبانیں ہیں۔
جدید neuroscience بھی کہتی ہے کہ جب ہم خوشی کے اعمال کرتے ہیں
تو دماغ dopamine، serotonin اور oxytocin جیسی خوشی دینے والی کیمیکلز خارج کرتا ہے۔
یعنی جسم خود فطری طور پر “جنت” تخلیق کرنے کے لیے پروگرام شدہ ہے۔
نتیجہ
اوشو کا پیغام دراصل ایک یاد دہانی ہے کہ
زندگی کو سمجھنے کی کوشش کم کرو، اور جینے کی کوشش زیادہ۔
جب تم خود کو بہاؤ کے حوالے کر دو —
ہنسنے، رقص کرنے، محبت کرنے اور جینے میں —
تب تمہارا اندر روشن ہوتا ہے، اور تم اپنی جنت خود تخلیق کرتے ہو۔
خلاصہ:
“خوشی کوئی منزل نہیں، بلکہ ایک طرزِ احساس ہے۔
وہ لمحہ جب تم خود کو زندگی کے حوالے کر دیتے ہو،
وہی تمہاری جنت کا آغاز ہوتا ہے۔”

27/10/2025

ہمارا دماغ —
خیال اور حقیقت کے درمیان دھندلا ہوا پردہ:
——————————————————-

انسانی دماغ قدرت کا سب سے پیچیدہ اور حیران کن نظام ہے۔ یہ وہ عضو ہے جو ہمیں سوچنے، محسوس کرنے، یاد رکھنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ مگر اسی دماغ کی ایک دلچسپ مگر خطرناک کمزوری یہ ہے کہ یہ خیال اور حقیقت میں فرق کرنے سے اکثر قاصر رہتا ہے۔

خیال کی طاقت اور حقیقت کا دھوکہ-

جب ہم کسی واقعے کا تصور کرتے ہیں — چاہے وہ خوشگوار ہو یا خوفناک — ہمارا دماغ تقریباً ویسے ہی ردِعمل دیتا ہے جیسے وہ واقعہ حقیقت میں پیش آیا ہو۔
مثلاً اگر آپ آنکھیں بند کر کے تصور کریں کہ آپ ایک اونچی عمارت سے گر رہے ہیں، تو آپ کا دل تیزی سے دھڑکنے لگے گا، سانس پھولنے لگے گی، اور جسم پسینے سے تر ہو جائے گا۔
حالانکہ “آپ حقیقت میں ایک محفوظ جگہ پر بیٹھے ہیں”۔

یہی وجہ ہے کہ خواب، فوبیا (خوف کی بیماریاں)، اور یادیں ہمیں حقیقت کی طرح متاثر کر سکتی ہیں۔ دماغ کے لیے ایک “خیال” اکثر اتنا ہی طاقتور ہوتا ہے جتنا کہ ایک “حقیقی تجربہ”۔

دماغ کا بنیادی نظام-

دماغ کا لیمبک سسٹم (Limbic System)— خاص طور پر امیگڈالا (Amygdala)— جذبات اور خطرے کی شناخت کا مرکز ہے۔
امیگڈالا کے پاس وقت نہیں ہوتا کہ وہ چیک کرے “یہ منظر سچ ہے یا صرف خیال”۔
بس جیسے ہی کوئی خوفناک یا خوش کن تصور سامنے آتا ہے، یہ فوراً جسمانی ردعمل پیدا کر دیتا ہے۔
اسی لیے خوفناک فلم دیکھنے کے دوران جسم میں حقیقی ہارمونی تبدیلیاں آتی ہیں، حالانکہ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف ایک فلم ہے۔

مثبت اور منفی خیالات کا اثر:

اگر کوئی انسان بار بار منفی خیالات میں ڈوبا رہے، جیسے “میں ناکام ہو جاؤں گا”، “لوگ مجھے پسند نہیں کرتے”، تو دماغ انہی خیالات کو حقیقت سمجھنے لگتا ہے۔
نتیجتاً خوداعتمادی کم اور ڈپریشن بڑھنے لگتا ہے۔
برعکس، اگر انسان مثبت تصورات پر فوکس کرے — “میں یہ کام کر سکتا ہوں”، “زندگی بہتر ہو سکتی ہے” — تو دماغ خوشی اور حوصلے کے کیمیکلز جیسے ڈوپامین اور سیروٹونن زیادہ خارج کرتا ہے۔

یوں دماغ حقیقت کو نہیں، بلکہ ہمارے یقین کو حقیقت مانتا ہے۔

پریشانیوں اور خوشیوں کا منبع-

اس اصول کو سمجھ کر ہم اپنی زندگی میں حیران کن تبدیلی لا سکتے ہیں۔

اگر ہمارا دماغ خیالات کو حقیقت سمجھتا ہے تو ہمیں اپنے خیالات کی حفاظت کرنی چاہیے۔
ایسے تصورات پیدا کریں جو ہمیں حوصلہ، امید اور خوداعتمادی دیں، نہ کہ خوف، شرمندگی یا نفرت۔
یہی اصول نفسیاتی علاج (Cognitive Behavioral Therapy - CBT) کی بنیاد ہے — جہاں منفی خیالات کو مثبت سوچ سے بدلا جاتا ہے تاکہ دماغ نئے "حقائق" قبول کرے۔

نتیجہ:

ہمارا دماغ ایک طاقتور مگر سادہ “یقین کرنے والا آلہ” ہے۔
یہ اس بات کی پروا نہیں کرتا کہ ہم کیا سوچ رہے ہیں — صرف یہ دیکھتا ہے **کہ ہم کس شدت سے یقین کرتے ہیں۔
اس لیے اگر ہم اپنے دماغ کو مسلسل خوف، شک اور نفرت کے خیالات دیتے رہیں تو وہی ہماری حقیقت بن جائے گی۔
اور اگر ہم امید، محبت، اور کامیابی کے تصورات کو ذہن میں پروان چڑھائیں تو دماغ انہی کو سچ مان کر ویسا ہی ماحول تخلیق کر دے گا۔

پسِ نوشت:
“خیالات حقیقت نہیں ہوتے، مگر وہ حقیقت بننے کی پوری طاقت رکھتے ہیں۔”

27/10/2025

زندگی کی چھ اہم ہدایات:
۱- جب تم اکیلے ہو، اپنے خیالات کا خیال رکھو۔
اکیلا وقت انسان کے ذہن کی آزمائش ہوتا ہے۔ برے خیالات انسان کے کردار کو بگاڑ دیتے ہیں، اس لیے اکیلے میں بھی دل و دماغ کو پاک رکھو۔
۲- جب تم دوستوں کے ساتھ ہو، اپنی زبان کا خیال رکھو۔
دوستی میں مذاق اور بات چیت عام ہوتی ہے، مگر زبان کی پھسلن اکثر دلوں کو توڑ دیتی ہے۔ میٹھے اور محتاط الفاظ ہمیشہ عزت دلاتے ہیں۔
۳- جب تم غصے میں ہو، اپنے مزاج پر قابو رکھو۔
غصہ ایک لمحے کا جنون ہوتا ہے جو زندگی بھر کا پچھتاوا بن جاتا ہے۔ خاموشی سب سے بہتر جواب ہے۔
۴-جب تم کسی گروپ یا مجمع میں ہو، اپنے رویے کا خیال رکھو۔
اجتماع میں انسان کا اصل اخلاق ظاہر ہوتا ہے۔ عاجزی، احترام اور تحمل ہی وقار کا نشان ہیں۔
۵-جب تم مصیبت میں ہو، اپنے جذبات کو سنبھالو۔
پریشانی کے وقت گھبراہٹ یا غم انسان کی عقل کو مفلوج کر دیتی ہے۔ صبر اور اعتماد سب سے بڑی طاقت ہیں۔
۶- جب اللہ تمہیں نعمتیں عطا کرے، اپنے غرور کا خیال رکھو۔
نعمتوں کے وقت انسان بھول جاتا ہے کہ دینے والا کون ہے۔ شکرگزاری اور عاجزی ہی نعمتوں کو دوام دیتی ہیں۔

خلاصہ:
“زندگی کے ہر مرحلے میں خود پر قابو رکھنا ہی اصل کامیابی ہے۔
جو اپنے خیالات، زبان، غصے، رویے، جذبات اور غرور پر قابو پا لے — وہی حقیقی دانشمند ہے۔”

27/10/2025

لڑکیاں کیوں پھنس جاتی ہیں دوسروں کے دام میں؟
——————————————————
ایک اصلاحی اور فکری جائزہ:
——————————-
تحریر: ڈاکٹر فضلِ رازق
آج کا دور رابطوں، سوشل میڈیا اور دکھاوے کا دور ہے۔ رشتے، الفاظ، اور احساسات سچے نہیں رہے — اور سب سے زیادہ نقصان نرم دل، معصوم اور بھروسہ کرنے والی لڑکیوں کو ہو رہا ہے۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ اچھی تعلیم، نیک خاندان اور عزت دار ماحول میں پلی ہوئی لڑکیاں بھی کسی دھوکے، محبت یا ہمدردی کے جال میں آ کر اپنی زندگی برباد کر بیٹھتی ہیں۔
سوال یہ ہے:
آخر لڑکیاں کیوں پھنس جاتی ہیں دوسروں کے دام میں؟
1. جذبات پر عقل کا غالب آ جانا
لڑکیاں فطری طور پر احساساتی اور محبت پر یقین رکھنے والی ہوتی ہیں۔
جب کوئی شخص نرم لہجے میں تعریف، ہمدردی یا محبت کے الفاظ کہتا ہے تو وہ دل سے سمجھ بیٹھتی ہیں کہ یہ جذبات سچے ہیں۔
حالانکہ اکثر اوقات یہ الفاظ دھوکے کی چابی ہوتے ہیں، جو صرف وقتی تسکین یا مفاد کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
2. توجہ اور محبت کی کمی
بہت سی لڑکیاں گھروں میں والدین کی مصروفیت یا عدم توجہ کا شکار ہوتی ہیں۔
جب کوئی غیر شخص ان کی بات سن لیتا ہے، ہمدردی دکھاتا ہے، یا تعریف کرتا ہے تو وہ دل سے جڑ جاتی ہیں۔
یہ کمی دراصل جذباتی بھوک بن جاتی ہے — اور پھر کوئی بھی جھوٹا سہار ا انہیں بہا لے جاتا ہے۔
3. سوشل میڈیا کا فریب
آن لائن دنیا میں تعلقات چہرے سے زیادہ الفاظ پر بنتے ہیں۔
جھوٹی تصویریں، بناؤٹی پروفائلز اور مصنوعی وعدے لڑکیوں کے دلوں پر اثر کرتے ہیں۔
اکثر وہ نہیں سمجھ پاتیں کہ جس شخص سے وہ بات کر رہی ہیں وہ دراصل کوئی استفادہ کرنے والا، فراڈ یا نفسیاتی شکاری بھی ہو سکتا ہے۔
4. خوابوں اور رومانس کا غیر حقیقی تصور
ٹی وی ڈرامے، فلمیں اور ناولز میں دکھائی جانے والی "خوشنما محبت" ایک جھوٹی دنیا بناتی ہے۔
جب اصل زندگی میں کوئی تھوڑا سا پیار، خیال یا وعدہ دکھاتا ہے تو لڑکی سوچتی ہے:
“یہی میرا ہیرو ہے”
حالانکہ زندگی فلم نہیں ہوتی، یہ ایک امتحان ہے جہاں عقل اور کردار ہی کامیاب ہوتے ہیں۔
5. خود اعتمادی کی کمی
جب لڑکیاں خود کو کمزور، بدصورت، یا ناکام سمجھنے لگتی ہیں تو وہ کسی بھی تعریف کرنے والے پر بھروسہ کر لیتی ہیں۔
یہ احساسِ کم تری ہی ان کو دھوکے بازوں کے لیے آسان شکار بناتی ہے۔
ایک مضبوط خوداعتماد لڑکی کبھی کسی غلط وعدے یا جھوٹے پیار میں نہیں پھنس سکتی۔
اصلاح کی راہ
والدین اپنی بیٹیوں سے دوستی کریں — تاکہ وہ باہر کسی اجنبی کے پاس تسلی نہ ڈھونڈیں۔
اساتذہ اور مشیران لڑکیوں کو سوشل میڈیا اخلاقیات، جذباتی تحفظ اور خوداعتمادی کی تربیت دیں۔
لڑکیاں خود اپنی عزت، وقار، اور ذہانت کو پہچانیں۔
یاد رکھیں، جو محبت عزت چھین لے، وہ محبت نہیں، جال ہے۔
اختتامی پیغام
“تم کسی کی محتاج نہیں ہو۔ تمہاری عظمت تمہارے کردار، تمہارے ایمان اور تمہارے حیا میں ہے۔
جھوٹے پیار کے پیچھے بھاگنے سے بہتر ہے اپنے خوابوں، تعلیم اور مقصد کے لیے جینا۔”

— ڈاکٹر فضلِ رازق

27/10/2025

مریضوں کیلیے معلومات:
———————————————————
"M**h
یا آئس کا استعمال فوراً بند کریں — اپنی زندگی بچائیں"

M**h
ایک خطرناک نشہ آور دوا ہے
یہ دماغ میں ڈوپامین کو غیر فطری طور پر بڑھاتی ہے، جس سے وقتی جوش، توانائی اور خوشی محسوس ہوتی ہے،
مگر چند دنوں یا ہفتوں کے اندر:
دماغ کی کارکردگی کمزور ہو جاتی ہے
نیند، بھوک، اور یادداشت ختم ہونے لگتی ہے
دل کی دھڑکن تیز، بلڈ پریشر اور بے چینی بڑھ جاتی ہے
اور آخرکار انسان ڈپریشن، وہم، یا پاگل پن تک پہنچ سکتا ہے۔
M**h
چھوڑنے کے بعد کیا ہوتا ہے؟
جب مریض M**h چھوڑتا ہے تو جسم اور دماغ کو دوبارہ توازن میں آنے کے لیے وقت چاہیے۔
یہ عمل "Detox" کہلاتا ہے اور عام طور پر 7 سے 10 دن تک جاری رہتا ہے۔
ممکنہ علامات:
زیادہ نیند یا بے خوابی
بےچینی اور چڑچڑاپن
دل کی دھڑکن میں تبدیلی
بھوک میں اضافہ
ڈپریشن یا ذہنی کمزوری
یہ تمام علامات وقتی ہوتی ہیں — اور مناسب نگہداشت سے مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہیں۔

M**h
چھوڑنے کے بعد 7 دن کا سادہ ڈی ٹاکس پلان
دن 1–2:
صرف پانی، ORS یا ناریل پانی زیادہ پیئیں (3–4 لیٹر)
آرام کریں اور نیند پوری کریں
نرم خوراک: دلیہ، چاول، دہی، پھل
دن 3–4:
ہلکی واک یا نرم ورزش
انڈے، دالیں، گوشت یا مچھلی (پروٹین سے دماغ کی مرمت)
وٹامن بی کمپلیکس اور اومیگا-3 سپلیمنٹ
دن 5–7:
تازہ پھل، سبزیاں اور جوس
مثبت سرگرمی: نماز، تلاوت، مطالعہ یا ہلکی جسمانی محنت
منفی دوستوں اور ماحول سے دور رہیں

ڈاکٹر کا مشورہ:
خود سے دوائیں نہ لیں، صرف ڈاکٹر کی ہدایت پر علاج کریں۔
اگر بہت زیادہ بےچینی، ڈپریشن یا خودکشی کے خیالات آئیں — فوراً قریبی ہسپتال سے رابطہ کریں۔
آپ کی زندگی کی واپسی ممکن ہے، بشرطیکہ آپ پہلا قدم آج اٹھائیں۔
پیغامِ حوصلہ
“نشہ چھوڑنا سزا نہیں، شفا کا پہلا دروازہ ہے۔”
— ڈاکٹر فضلِ رازق

Address

Near THQ Hospital Tangi. District Charsadda KPK
Tangi
24540

Telephone

+923339483755

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Raziq Healthcare Center Tangi - Charsadda. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Raziq Healthcare Center Tangi - Charsadda.:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category