13/03/2026
مایستھینیا گریوس(Myasthenia gravis)
دماغ انسانی جسم کا مرکزی کنٹرول سینٹر ہے جہاں سے تمام پیغامات بنتے ہیں۔ یہ پیغامات جسم کے مختلف حصوں تک ایک جال کی طرح پھیلے ہوئے اعصاب کے ذریعے پہنچتے ہیں، جنہیں ہم اعصابی ریشے یا نروز (Nerves) کہتے ہیں۔ انہی پیغامات کے ذریعے پٹھے حرکت کرتے ہیں، آنکھیں کھلتی بند ہوتی ہیں، بولنا، نگلنا اور سانس لینا ممکن ہوتا ہے۔ اعصاب سے پٹھوں تک پیغام پہنچانے کے لیے ایک خاص کیمیائی مادہ استعمال ہوتا ہے جسے نیورو ٹرانسمِٹر (Neurotranmitter)کہا جاتا ہے۔ یہ مادہ اعصاب اور پٹھوں کے درمیان موجود مخصوص ریسیپٹرز کے ذریعے پیغام آگے منتقل کرتا ہے۔
جب اس راستے میں کسی بھی جگہ خرابی پیدا ہو جائے تو اعصاب کا پیغام پٹھوں تک صحیح طرح نہیں پہنچ پاتا اور پٹھے کمزور ہو جاتے ہیں۔ مایستھینیا گریوس (Myasthenia Gravis) ایک ایسی ہی بیماری ہے جس میں مسئلہ اعصاب اور پٹھوں کے درمیان رابطے پر ہوتا ہے۔ اس بیماری میں جسم کا مدافعتی نظام غلطی سے پٹھوں پر موجود ریسیپٹرز کے خلاف اینٹی باڈیز(Antibodies) بنا لیتا ہے۔ نتیجتاً یہ ریسیپٹرز خراب ہو جاتے ہیں اور اعصاب کا پیغام پٹھوں تک پوری طاقت سے نہیں پہنچ پاتا، جس کی وجہ سے پٹھوں میں کمزوری پیدا ہو جاتی ہے۔
مایستھینیا گریوس میں سب سے عام علامات آنکھوں کے پٹھوں کی کمزوری سے متعلق ہوتی ہیں۔ مریض کی پلکیں جھکنے لگتی ہیں، آنکھیں پوری طرح کھلی نہیں رہتیں،دو دو نظرآتا شروع ہوجاتا ہے یا آنکھوں میں ٹیڑھا پن پیدا ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ نگلنے میں مشکل، بولنے میں دقت، آواز کا بھاری یا ناک سے نکلنا، اور کھانا کھاتے ہوئے بار بار رک جانا گلے میں پھنس جانا یا نگلنے میں مسلہ بھی اس بیماری کی عام علامات ہیں۔ شدید صورتوں میں جسم کے دوسرے پٹھے بھی کمزور ہو سکتے ہیں اور پورا جسم نڈھال محسوس ہونے لگتا ہے۔
بعض اوقات بیماری خطرناک صورتوں میں سانس کے پٹھوں کو بھی متاثر کرسکتی ہے، جس سے سانس لینے میں دشواری پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسی حالت کو مایستھینک کرائسس کہا جاتا ہے، جو جان لیوا بھی ہو سکتی ہے۔ اس حالت میں مریض مکمل طور پر کمزور ہو جاتا ہے، سانس اور نگلنے کی صلاحیت متاثر ہو جاتی ہے، اور مریض کو فوری طور پر آئی سی یو میں داخل کر کے ونٹیلیٹر کے زریعے مصنوعی سانس، معدے کی نالی کے ذریعے خوراک اور خصوصی علاج کی ضرورت پڑتی ہے۔
اس بیماری کی ایک نہایت اہم اور نمایاں علامت یہ ہے کہ پٹھوں کی کمزوری کام کرنے سے بڑھتی ہے۔ عام طور پر مریض صبح کے وقت بالکل ٹھیک ہوتا ہے، آنکھیب کھلی ہوتی ہیں، بولنے اور نگلنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ لیکن جیسے جیسے دن گزرتا ہے اور مریض پٹھوں کا استعمال کرتا ہے، ویسے ویسے کمزوری بڑھتی جاتی ہے۔ شام تک آنکھیں جھکنے لگتی ہیں، بولنے میں دقت اور نگلنے میں مسئلہ شروع ہو جاتا ہے۔ شدید قسم میں یہ علامات دن بھر موجود رہ سکتی ہیں۔
تشخیص کے لیے تفصیلی ہسٹری، مکمل اعصابی معائنہ اور مخصوص ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ خون کے ٹیسٹ میں مخصوص اینٹی باڈیز کی جانچ کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ (NCS-EMG) ٹیسٹ کے ذریعے اعصاب اور پٹھوں کے درمیان رابطے کو پرکھا جاتا ہے، جس سے تشخیص میں مدد ملتی ہے۔
علاج مختلف ادویات کے ذریعے کیا جاتا ہے جو اعصاب اور پٹھوں کے درمیان پیغام رسانی کو بہتر بناتی ہیں اور علامات کو کنٹرول میں رکھتی ہیں۔ زیادہ شدید صورتوں میں خون کی تبدیلی یا دیگر خصوصی طریقہ علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ بروقت تشخیص اور درست علاج سے اس بیماری کو اچھی طرح کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور زیادہ تر بچے معمول کی زندگی گزار سکتے ہیں۔
مایستھینیا گریوس ایک قابلِ علاج مگر حساس بیماری ہے، علاج کے لیے اپنے چائلڈ نیورولوجسٹ سے رجوع کریں تاکہ بروقت تشخیص، مناسب علاج اور طویل المدتی دیکھ بھال ممکن ہو سکے۔
ڈاکٹر ارشد محمود
کنسلٹنٹ
چائلڈ اسپیشلسٹ اینڈ چائلڈ نیورولوجسٹ
ایگزیکٹو کلینک، فاطمہ میموریل ہسپتال، لاہور