20/10/2025
پاکستان میں ویپ V**e کا استعمال تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے اب سوال یہ ہے کہ ویپ کیا ہے ؟ ویپ دراصل الیکٹرانک سگریٹ ہے اس میں یاد رکھیں کہ سگریٹ نوشی خطرناک ہے مگر V**e ( الیکٹرانک سگریٹ) سگریٹ سے بھی کئی گنا زیادہ خطرناک ہے ای سگریٹ کی مارکیٹنگ اس طرح کی گئی ہے کہ یہ سگریٹ کا متبادل ہے اور اس سے سگریٹ کی لت چھوٹ سکتی ہے جبکہ ایسا نہیں ہے۔‘ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کا نشہ چھوڑنے کے لیے اپنے ہیلتھ پروفیشنل سے مشورہ کر کے ہی کامیابی مل سکتی ہے
پاکستان میں ماہرین کے کہنا ہے کہ یہ تاثر یکسر غلط ہے کہ ’ای سگریٹ‘ اور ’ویپ‘ کا استعمال دیگر سگریٹس کی طرح نقصان دہ نہیں ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق پانچ سال V**e پینا 30 سال سگریٹ نوشی سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتا ہے
آجکل چھوٹی عمر کے بچے صرف شو بازی اور TikTok , فیس بک پر ویوز لینے کے لیے ہی اس V**e ( الیکٹرانک سگریٹ) کا بے دریغ استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں جو بعد میں ان کی مستقل عادت بن جاتی ہے ۔جو ان کے لیے انتہائی خطر ناک ثابت ہوتا ہے ۔ جوانی میں ہی ان کے پھیپھڑے ختم ہو جاتے ہیں اور وہ موت کا شکار ہو جاتے ہیں
انڈس ہسپتال کراچی میں ’وائسز اگینسٹ ٹوبیکو‘ کے عنوان سے تحقیق کرنے والی پلمونولوجسٹ ڈاکٹر صائمہ کا کہنا ہے کہ ’ای سگریٹ کی مارکیٹنگ ایسے کی جاتی ہے جیسے اس کا کوئی نقصان نہیں یا تمباکو کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔‘ جب کہ تمباکو نوشی کی بات آتی ہے تو ای سگریٹ یا ویپ کا نام خود بہ خود آ جاتا ہے’اصل بات یہ ہے کہ ای سگریٹ میں جو مواد استعمال ہوتا ہے وہ نکوٹین ہے۔‘کسی بھی قسم کا نشہ چھوڑنے کے لیے اپنے ہیلتھ پروفیشنل سے مشورہ کر کے ہی کامیابی مل سکتی ہے۔‘
کیا ای سگریٹ کسی بیماری کا سبب بن سکتا ہے؟
اس سوال کے جواب میں پلمونولوجسٹ ڈاکٹر صائمہ کہتی ہیں کہ ’سگریٹ اور ای سگریٹ میں صرف پیکیجنگ کا فرق ہے، لیکن نقصان لگ بھگ ایک جیسا ہے۔‘
’نکوٹین تو دونوں میں ہی ہوتی ہے، سگریٹ میں تمباکو کو جلا کر نکوٹین ملتی ہے، جو بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے۔ جبکہ ای سگریٹ میں مائع نکوٹین (لیکویڈ فلیور) ہوتی ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’مشاہدے سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ ای سگریٹ، سگریٹ کی لت لگانے کا سب سے بڑا ذریعہ بن جاتا ہے جبکہ یہی بنیادی چیز خطرناک نشوں میں مبتلا کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے، اسی لیے دونوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔‘
ای سگریٹ صحت کے سنگین خطرات کا باعث بنتی ہے، جن میں ڈپریشن، پھیپھڑوں کی بیماری اور کینسر کا خطرہ شامل ہے۔‘
’امریکہ میں دو سو سے تین سو افراد ای سگریٹ کے نشے میں پڑ کر پھیپھڑوں کے مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں اور کچھ کیسز میں جان کی بازی بھی ہار چکے ہیں۔ امریکہ میں فلیورنگ پر مقدمات ہوئے ہیں تاکہ یہ نوجوان نسل کو اپنی جانب نہ کھینچے جبکہ انڈیا میں بھی تمباکو پروڈکٹس پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔‘
نیکوٹین وہ کیمیائی مادہ ہے جو سگریٹ میں پایا جاتا ہے. نیکوٹین ایک انتہائی نشہ آورکیمکل ہے. جس کی وجہ سے آپ کو سگریٹ کی طلب ہوتی ہے۔کینسر، امراض قلب، پھیپھڑوں کے مسائل ور ذیابیطس جیسی خطرناک بیماریاں سگریٹ کے استمعال سے منسلک ہیں
۔ نئی نسل خصوصاً ان کے والدین سے گزارش ہے کہ وہ اپنی نسلوں کو اس کا شکار ہوکر برباد ہونے سے بچائیں ۔ حکومت وقت کو بھی اس کے خلاف ایکشن لینا چاہیے