02/07/2023
آج پنجاب پر مسلط PDM کی ٹاؤٹ نگران حکومت نے PTI حکومت کی جانب سے “یونیورسل ہیلتھ کوریج” کے تحت شروع کئے گئے “صحت کارڈ” کو بند کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا اور اپنے آقاؤں کی طرح جھوٹ کے پلندوں پر مشتمل پریس کانفرنس کی
ٹاؤٹ نگران حکومت کے لیے چند حقائق:
• نگران حکومت کا کام صرف الیکشن کروانا ہے نا کہ عوام کے منتخب نمائندوں اور اسمبلیز کی جانب سے منظور کردہ پالیسیز کو رول بیک کرنا-
یہ ٹاؤٹ حکومت اپنی آئینی ذمہ داریوں کے علاوہ سب کام کر رہی ہے جن کی کوئی آئینی اور قانونی حیثیت نہیں
• صحت کارڈ کے ذریعے 2022 کے آخر تک پنجاب میں 38 لاکھ اور خیبر پختونخوا میں 19 لاکھ مریضوں کا مفت علاج ہو چکا
• دسمبر 2022 تک صحت کارڈ پر علاج کروانے والوں کی ماہانہ تعداد پنجاب میں ماہانہ تقریباً 3 لاکھ اور خیبر پختونخوا میں ماہانہ سوا لاکھ تک پہنچ چکی تھی
• عالمی سٹینڈرز کے مطابق 2018 میں پنجاب میں سرکاری سطح پر 50 ہزار سے زائد ہاسپٹل بیڈز کی کمی تھی-
صحت کارڈ کے ذریعے پنجاب کے تقریباً 500 پرائیویٹ سیکٹر ہسپتالوں کے 55 ہزار بیڈز بھی عوام کو علاج کے لیے دستیاب ہو گئے- جس سے تمام شہریوں کو بہترین علاج کی سہولتیں ملیں-
• صحت سہولت پروگرام جنوری 2015 میں PTI کی خیبر پختونخوا حکومت نے 4 اضلاع سے شروع کیا اور 2018 تک پورے صوبے میں یہ پروگرام پھیلا دیا گیا تھا- اس وقت کی PMLN کی وفاقی حکومت نے نقل کرتے ہوئے جنوری 2016 میں 23 اضلاع میں پروگرام شروع کرنے کا دعوی کیا جو کہ 2018 تک اشتہارات اور چند ہزار لوگوں تک ہی محدود رہا-
• شروع میں یہ سہولت صرف بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا میں آنے والے غریب افراد کو حاصل تھی- لیکن وہ ڈیٹا 10 سال پرانا اور سیاسی بنیادوں پر بنا ہوا تھا جس وجہ سے “یونیورسل ہیلتھ کوریج” کے ذریعے 100 فیصد آبادی کو ہیلتھ کارڈ کی سہولت دینے کا فیصلہ کیا گیا-
• 2019 میں تحریک انصاف کی وفاقی، پنجاب ، خیبرپختونخوا کی حکومتوں نے 100 فیصد آبادی کو ہیلتھ کارڈ کی سہولت دینے کا فیصلہ کیا-
اس وقت خیبر پختونخوا، پنجاب، اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی 100 فیصد آبادی کو ملک بھر کے 900 سے زائد پرائیویٹ اور سرکاری ہسپتالوں میں 10 لاکھ روپے فی خاندان تک کے سالانہ علاج کی سہولت حاصل ہے-