11/02/2026
گزشتہ رات وزیرآباد ہسپتال میں ڈیوٹی پر موجود ایک ڈاکٹر کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ خبر جب سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی تو افسوس کے ساتھ ساتھ دل کو سب سے زیادہ دکھ اُن منفی اور نفرت آمیز تبصروں سے ہوا جو بعض لوگوں نے ڈاکٹروں کے بارے میں لکھے۔ ایسا لگا جیسے ایک واقعہ نے برسوں کی خدمت، قربانی اور جاگتی راتوں کو یکسر نظر انداز کر دیا ہو۔
مجھے فلم "منا بھائی ایم بی بی ایس" کا وہ منظر یاد آگیا جب ایک چور کو مشتعل ہجوم مار رہا ہوتا ہے اور ہیرو کا والد سب کو روک کر کہتا ہے کہ تم سب اپنی اپنی زندگیوں کی محرومیوں اور پریشانیوں کا غصہ اس بے بس انسان پر نکال رہے ہو۔ حقیقت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ ہسپتال میں آنے والا ہر شخص کسی نہ کسی دکھ، خوف اور بے بسی کا شکار ہوتا ہے۔ لیکن کیا اس خوف اور غصے کا حل یہ ہے کہ ہم اُس شخص پر ہاتھ اٹھا دیں جو ہماری مدد کے لیے کھڑا ہے؟
ڈاکٹر بھی انسان ہوتے ہیں۔ وہ بھی کسی کے بیٹے، بیٹیاں، ماں باپ اور بہن بھائی ہوتے ہیں۔ وہ بھی تھکتے ہیں، وہ بھی جذبات رکھتے ہیں، وہ بھی خوف محسوس کرتے ہیں۔ رات کی ڈیوٹیوں میں جب پوری دنیا سو رہی ہوتی ہے، ڈاکٹر ایمرجنسی میں کھڑے زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں۔ کبھی وسائل کم ہوتے ہیں، کبھی مریض زیادہ، کبھی نظام کی خامیاں آڑے آتی ہیں۔ لیکن اس سب کے باوجود ڈاکٹر اپنی پوری کوشش کرتے ہیں کہ کسی کی سانس نہ ٹوٹنے پائے۔
اگر کسی ہسپتال میں کوئی کوتاہی ہو، اگر کسی ڈاکٹر یا عملے سے غلطی ہو جائے، تو اس کا طریقہ تشدد نہیں ہے۔ ہمارا ملک قانونی نظام رکھتا ہے۔ شکایت درج کرانے کے باقاعدہ طریقے موجود ہیں۔ ہیلتھ کیئر کمیشن، ایم ایس آفس، ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی اور اعلیٰ حکام تک رسائی کے دروازے کھلے ہیں۔ تحریری شکایت کریں، ثبوت دیں، قانون کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کریں۔ قانون ہاتھ میں لینا نہ صرف جرم ہے بلکہ معاشرے کو مزید انتشار کی طرف دھکیلتا ہے۔
ہسپتال عبادت گاہ کی طرح ہوتے ہیں جہاں صبر، تحمل اور احترام کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہم ڈاکٹر پر ہاتھ اٹھائیں گے تو کل کون نوجوان اس پیشے میں آئے گا؟ اگر ہر ڈیوٹی ڈاکٹر کو یہ خوف ہو کہ کسی بھی لمحے مشتعل ہجوم اُس پر ٹوٹ پڑے گا، تو وہ دل جمعی سے کیسے علاج کر سکے گا؟
آئیے ہم اپنے رویوں کا جائزہ لیں۔ اپنے دکھ اور غصے کو قانون کے دائرے میں رکھیں۔ اپنے بچوں کو سکھائیں کہ ہسپتال میں شور نہیں، صبر کیا جاتا ہے؛ الزام نہیں، تعاون کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر دشمن نہیں، آپ کے محافظ ہوتے ہیں۔
یاد رکھیے:
Doctors are doctors, Not The Bell Of Mandirs that everyone wants to play with.
ڈاکٹرز ہیں کوئ مندر کا گھنٹہ نہیں۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر نعمان رفیع راجپوت