Dr Nauman Rafi Rajput Official

Dr Nauman Rafi Rajput Official Dr Nauman Rafi Rajput Is ex Assistant Professor of Medicine MBBS\MD ,MCPS(CPSP).

MD(Medicine KEMU) .MPH( GCUF).Dip Dibe(BIDE) CHPE( FMU).Dip Dibe( IDF)
Certificate in AI (HSA)
and Medical Specialist & """ Value Creator""

15/02/2026

آج کا پاک بھارت کرکٹ میچ کون جیتے گا آپکے خیال میں؟؟؟

14/02/2026

How to Examine pt with Eye swellngs

میرے چہرے سے یہ نہ اندازہ لگانا اے عمر۔۔۔۔مجھ پہ بیتی ہے بہت میں نے گزاری کم ہے۔۔۔۔۔۔
14/02/2026

میرے چہرے سے یہ نہ اندازہ لگانا اے عمر۔۔۔۔
مجھ پہ بیتی ہے بہت میں نے گزاری کم ہے۔۔۔۔۔۔

گزشتہ دو روز وزیرآباد میں منعقد ہونے والے شاندار بک فیئر میں شرکت میرے لیے نہایت خوشی اور اعزاز کا باعث بنی۔ ایک مصنف کی...
14/02/2026

گزشتہ دو روز وزیرآباد میں منعقد ہونے والے شاندار بک فیئر میں شرکت میرے لیے نہایت خوشی اور اعزاز کا باعث بنی۔ ایک مصنف کی حیثیت سے جب میں اس علمی میلے میں پہنچا تو منتظمین کی جانب سے جس پُرجوش استقبال اور محبت کا اظہار کیا گیا، وہ میرے دل میں ہمیشہ محفوظ رہے گا۔ بالخصوص اس خوبصورت اور منظم تقریب کے انعقاد پر جناب آصف تارڑ صاحب اور طیب بُک ڈپو والے مبارکباد کے مستحق ہیں، جن کی کاوشوں نے اس علمی سرگرمی کو ایک یادگار رنگ دیا۔
کتابوں کی خوشبو، علم دوست لوگوں کا ہجوم اور نوجوان نسل کا جوش و خروش دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔ اپنے بُک اسٹال پر بیٹھ کر قارئین سے براہِ راست ملاقات کرنا، اُن کے تاثرات سننا اور اپنی کتابوں پر دستخط کرنا ایک یادگار تجربہ تھا۔ طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے نہ صرف کتابیں خریدیں بلکہ ان کے موضوعات پر سنجیدہ گفتگو بھی کی۔ یہ دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی کہ ہماری نوجوان نسل آج بھی کتاب سے جڑی ہوئی ہے اور مطالعہ کو اپنی زندگی کا حصہ بنا رہی ہے۔ میرے قارئین اور چاہنے والوں کی محبت میرے لیے سب سے بڑا سرمایہ ہے۔
ایسے علمی میلوں کا انعقاد معاشرے میں فکری بیداری اور مثبت سوچ کو فروغ دیتا ہے۔ کتاب انسان کی بہترین دوست ہے، اور مطالعہ وہ عظیم عمل ہے جو شخصیت کو نکھارتا اور سوچ کو وسعت دیتا ہے۔ میری دعا ہے کہ وزیرآباد میں یہ سلسلہ آئندہ برس بھی اسی جوش و جذبے کے ساتھ جاری رہے اور مزید نوجوان علم کے سفر سے وابستہ ہوں۔
تمام منتظمین، بالخصوص آصف تارڑ صاحب اور طیب بُک ڈپو ٹیم، اور میرے پیارے قارئین کا تہہ دل سے شکریہ جنہوں نے اس تقریب کو یادگار بنایا۔

ڈاکٹر نعمان رفیع راجپوت
کنسلٹنٹ میڈیکل اسپیشلسٹ
مصنف، کالم نگار و مقرر

13/02/2026

Full Programe On Diabetes and Ramzan for General Public......

شوگر کے مریضوں کے لیے رمضان المبارک میں مکمل ہدایات پر مبنی پروگرام۔۔۔۔۔
0321-6266658 for Contact

ڈاکٹر نعمان رفیع راجپوت

13/02/2026

Main Physical Symptoms in Kidney patients

Contact us 03216266658

صرف اللہ ہی سب سے بڑا ہے — ماشطہ کی لازوال قربانیتاریخِ انسانیت میں کچھ واقعات ایسے ہیں جو ایمان کی عظمت اور اللہ کی کبر...
13/02/2026

صرف اللہ ہی سب سے بڑا ہے — ماشطہ کی لازوال قربانی

تاریخِ انسانیت میں کچھ واقعات ایسے ہیں جو ایمان کی عظمت اور اللہ کی کبریائی کو ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ فرعون کے دور کی ایک مؤمنہ خاتون، ماشطہ، کا ہے۔

ماشطہ فرعون کی بیٹی کی خادمہ تھیں۔ ایک دن وہ شہزادی کے بال سنوار رہی تھیں کہ ان کے ہاتھ سے کنگھی گر گئی، اور ان کے لبوں سے بے ساختہ نکلا: “بسم اللہ”۔ شہزادی نے حیران ہو کر پوچھا: “کیا تم میرے والد کو رب کہتی ہو؟” ماشطہ نے پوری استقامت سے جواب دیا: “میرا رب اور تمہارا رب صرف اللہ ہے۔”

یہ سن کر فرعون آگ بگولہ ہو گیا۔ اس نے انہیں حکم دیا کہ اللہ کا انکار کریں، مگر ایک سچی مؤمنہ نے دنیا کی زندگی پر آخرت کو ترجیح دی۔ فرعون نے کھولتے ہوئے تیل کی ایک دیگ تیار کروائی اور ان کے بچوں کو ایک ایک کر کے اس میں ڈال دیا۔ جب ان کے شیر خوار بچے کی باری آئی تو اللہ کے حکم سے اس معصوم بچے نے کہا:
“اے میری ماں! صبر کرو، بے شک آپ حق پر ہیں۔”

یہ سن کر ماشطہ کے دل کو سکون ملا، اور وہ بھی اللہ کی راہ میں شہید ہو گئیں، مگر اپنے ایمان کا سودا نہ کیا۔

یہ واقعہ خود حضرت محمد ﷺ نے بیان فرمایا کہ معراج کی رات آپ ﷺ نے جنت میں ایک خوشبو محسوس کی، اور بتایا گیا کہ یہ خوشبو ماشطہ اور ان کے بچوں کی ہے۔

یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اقتدار، دولت اور دنیا کی طاقت عارضی ہے۔ ہمیشہ باقی رہنے والی حقیقت صرف یہ ہے کہ اللہ ہی سب سے بڑا ہے، اللہ ہی رب ہے، اور صرف اسی کی عبادت کرنی چاہیے۔ آج کے دور میں بھی ہمیں اپنے ایمان کو مضبوط رکھنا چاہیے، کسی خوف یا دنیاوی لالچ کی وجہ سے اپنے رب کو نہیں بھولنا چاہیے۔

اللہ کے سامنے جھکنا ہی اصل عزت ہے، اور اسی کی عبادت ہی ہماری کامیابی ہے۔

تحریر: نعمان رفیع راجپوت

12/02/2026

Signing My New Book Copies For The Readers in Kitab Milla Wazirabad...

میں نعرہ مستانہ میں شوخئ رندانہ۔۔۔۔۔

Dil ki Btayain In The Hands of Future of pakistan …. Thanks u guys for being my Fan and Fan of my Books شکریہ میرے ننھے ...
12/02/2026

Dil ki Btayain In The Hands of Future of pakistan …. Thanks u guys for being my Fan and Fan of my Books



شکریہ میرے ننھے فینز کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو میری کتاب کی اور علم کی محبت میں گرفتار کتاب میلے میں مجھ تک آ گئے۔۔۔۔دل جیت لیا آپ نے۔۔۔۔۔۔۔
۔
ڈاکٹر نعمان رفیع راجپوت

12/02/2026

Very important Message for Junior Doctors phyical Findings Of A Cough live Patient

گزشتہ رات وزیرآباد ہسپتال میں ڈیوٹی پر موجود ایک ڈاکٹر کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ خبر جب سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی...
11/02/2026

گزشتہ رات وزیرآباد ہسپتال میں ڈیوٹی پر موجود ایک ڈاکٹر کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ خبر جب سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی تو افسوس کے ساتھ ساتھ دل کو سب سے زیادہ دکھ اُن منفی اور نفرت آمیز تبصروں سے ہوا جو بعض لوگوں نے ڈاکٹروں کے بارے میں لکھے۔ ایسا لگا جیسے ایک واقعہ نے برسوں کی خدمت، قربانی اور جاگتی راتوں کو یکسر نظر انداز کر دیا ہو۔
مجھے فلم "منا بھائی ایم بی بی ایس" کا وہ منظر یاد آگیا جب ایک چور کو مشتعل ہجوم مار رہا ہوتا ہے اور ہیرو کا والد سب کو روک کر کہتا ہے کہ تم سب اپنی اپنی زندگیوں کی محرومیوں اور پریشانیوں کا غصہ اس بے بس انسان پر نکال رہے ہو۔ حقیقت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ ہسپتال میں آنے والا ہر شخص کسی نہ کسی دکھ، خوف اور بے بسی کا شکار ہوتا ہے۔ لیکن کیا اس خوف اور غصے کا حل یہ ہے کہ ہم اُس شخص پر ہاتھ اٹھا دیں جو ہماری مدد کے لیے کھڑا ہے؟
ڈاکٹر بھی انسان ہوتے ہیں۔ وہ بھی کسی کے بیٹے، بیٹیاں، ماں باپ اور بہن بھائی ہوتے ہیں۔ وہ بھی تھکتے ہیں، وہ بھی جذبات رکھتے ہیں، وہ بھی خوف محسوس کرتے ہیں۔ رات کی ڈیوٹیوں میں جب پوری دنیا سو رہی ہوتی ہے، ڈاکٹر ایمرجنسی میں کھڑے زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں۔ کبھی وسائل کم ہوتے ہیں، کبھی مریض زیادہ، کبھی نظام کی خامیاں آڑے آتی ہیں۔ لیکن اس سب کے باوجود ڈاکٹر اپنی پوری کوشش کرتے ہیں کہ کسی کی سانس نہ ٹوٹنے پائے۔
اگر کسی ہسپتال میں کوئی کوتاہی ہو، اگر کسی ڈاکٹر یا عملے سے غلطی ہو جائے، تو اس کا طریقہ تشدد نہیں ہے۔ ہمارا ملک قانونی نظام رکھتا ہے۔ شکایت درج کرانے کے باقاعدہ طریقے موجود ہیں۔ ہیلتھ کیئر کمیشن، ایم ایس آفس، ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی اور اعلیٰ حکام تک رسائی کے دروازے کھلے ہیں۔ تحریری شکایت کریں، ثبوت دیں، قانون کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کریں۔ قانون ہاتھ میں لینا نہ صرف جرم ہے بلکہ معاشرے کو مزید انتشار کی طرف دھکیلتا ہے۔
ہسپتال عبادت گاہ کی طرح ہوتے ہیں جہاں صبر، تحمل اور احترام کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہم ڈاکٹر پر ہاتھ اٹھائیں گے تو کل کون نوجوان اس پیشے میں آئے گا؟ اگر ہر ڈیوٹی ڈاکٹر کو یہ خوف ہو کہ کسی بھی لمحے مشتعل ہجوم اُس پر ٹوٹ پڑے گا، تو وہ دل جمعی سے کیسے علاج کر سکے گا؟
آئیے ہم اپنے رویوں کا جائزہ لیں۔ اپنے دکھ اور غصے کو قانون کے دائرے میں رکھیں۔ اپنے بچوں کو سکھائیں کہ ہسپتال میں شور نہیں، صبر کیا جاتا ہے؛ الزام نہیں، تعاون کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر دشمن نہیں، آپ کے محافظ ہوتے ہیں۔
یاد رکھیے:
Doctors are doctors, Not The Bell Of Mandirs that everyone wants to play with.

ڈاکٹرز ہیں کوئ مندر کا گھنٹہ نہیں۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر نعمان رفیع راجپوت

11/02/2026

Very important Findings In Diabetics

Address

Nizama Abad Wazirabad
Wazirabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Nauman Rafi Rajput Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr Nauman Rafi Rajput Official:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram