Dr Nauman Rafi Rajput Official

Dr Nauman Rafi Rajput Official Dr Nauman Rafi Rajput Is ex Assistant Professor of Medicine MBBS\MD ,MCPS(CPSP).

MD(Medicine KEMU) .MPH( GCUF).Dip Dibe(BIDE) CHPE( FMU).Dip Dibe( IDF)
Certificate in AI (HSA)
and Medical Specialist & """ Value Creator""

16/03/2026

جگر کی گرمی اور گنے کی روو کا تعلق؟؟؟؟؟
شوگر کے مریض لازمی دیکھیں

ڈاکٹر نعمان رفیع راجپوت
0321-6266658 For contacting Us

#ہم سے اپکا میٹھا چھپ نہیں سکتا

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے موزوں جرابوں (Diabetic Socks) کا استعمال پاؤں کو زخمی ہونے، انفیکشن اور السر سے بچانے میں بہت ا...
15/03/2026

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے موزوں جرابوں (Diabetic Socks) کا استعمال پاؤں کو زخمی ہونے، انفیکشن اور السر سے بچانے میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ عام جرابوں کے مقابلے میں ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بنائی گئی جرابوں میں کچھ خاص خصوصیات ہونی چاہئیں تاکہ پاؤں محفوظ رہیں۔ اہم خصوصیات درج ذیل ہیں:

1۔ بغیر سخت ایلاسٹک (Non-Binding Top)
جراب کے اوپر کا حصہ زیادہ سخت نہیں ہونا چاہیے تاکہ ٹانگوں اور پاؤں میں خون کی روانی متاثر نہ ہو۔
2۔ سیون لیس یا ہموار اگلا حصہ (Seamless Toe)
جراب کے اگلے حصے میں سلائی نہ ہو یا بہت ہموار ہو تاکہ انگلیوں پر رگڑ نہ پڑے اور زخم نہ بنیں۔
3۔ نمی جذب کرنے والی (Moisture Wicking)
جراب کا کپڑا ایسا ہو جو پسینہ جذب کر کے پاؤں کو خشک رکھے، کیونکہ نمی فنگس اور انفیکشن کا خطرہ بڑھاتی ہے۔
4۔ نرم اور آرام دہ کپڑا
کپڑا نرم، سانس لینے والا اور جلد کے لیے محفوظ ہونا چاہیے تاکہ جلد میں جلن یا خارش پیدا نہ ہو۔
5۔ مناسب کشننگ (Cushioning)
جراب میں ہلکی سی گدی یا کشننگ ہونی چاہیے جو چلنے کے دوران دباؤ کو کم کرے اور پاؤں کو تحفظ دے۔
6۔ درست فٹنگ (Proper Fit)
جراب نہ زیادہ تنگ ہو اور نہ بہت ڈھیلی۔ درست سائز کی جراب رگڑ اور چھالوں سے بچاتی ہے۔
7۔ اینٹی بیکٹیریل خصوصیات
بعض جرابوں میں اینٹی بیکٹیریل مواد شامل ہوتا ہے جو بدبو اور جراثیم کو کم کرتا ہے۔
8۔ مضبوط لیکن لچکدار کپڑا
جراب ایسی ہو جو جلدی خراب نہ ہو اور بار بار دھونے کے باوجود اپنی شکل برقرار رکھے۔
اگر ذیابیطس کے مریض ان خصوصیات والی جرابیں استعمال کریں تو پاؤں کے زخم، انفیکشن اور پیچیدگیوں کے امکانات کافی حد تک کم ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹر نعمان رفیع راجپوت

کنسلٹنٹ فزیشن
جنرل سیکرٹری، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن وزیرآباد
مصنف محققین شوگر اسپیشلسٹ

For Contacting Us 0321-6266658

14/03/2026

Whats the Difference between hepatitis acute or Chronic… kala yaa peela yarkan kya hot ha.

کالا اور پیلے یرقان کا فرق؟؟؟؟

ریفائنڈ آٹا (میدہ) اور صحت پر اس کے اثراتریفائنڈ فلور جسے عام طور پر میدہ کہا جاتا ہے، گندم کو اس طرح پروسیس کر کے تیار ...
13/03/2026

ریفائنڈ آٹا (میدہ) اور صحت پر اس کے اثرات

ریفائنڈ فلور جسے عام طور پر میدہ کہا جاتا ہے، گندم کو اس طرح پروسیس کر کے تیار کیا جاتا ہے کہ اس میں سے زیادہ تر فائبر، وٹامنز اور معدنیات نکال دیے جاتے ہیں۔ اس عمل کے بعد جو سفید آٹا باقی رہتا ہے وہ دیکھنے میں صاف اور نرم تو ہوتا ہے، لیکن غذائیت کے لحاظ سے کمزور ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے ہم ڈاکٹرز اور ماہرین صحت اسے زیادہ استعمال کرنے سے منع کرتے ہیں۔

ریفائنڈ آٹے کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ اس میں فائبر نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ فائبر کی کمی کی وجہ سے ہاضمہ متاثر ہوتا ہے، قبض کی شکایت بڑھ سکتی ہے اور انسان جلدی بھوک محسوس کرتا ہے۔ اس کے علاوہ میدہ جلدی ہضم ہو کر خون میں شکر (گلوکوز) کی مقدار کو تیزی سے بڑھا دیتا ہے، جس سے موٹاپا، ذیابیطس اور دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

پاکستان میں روزمرہ زندگی میں بہت سی مقبول چیزیں میدے سے تیار کی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر نان، کلچہ، پراٹھے کی کچھ اقسام، سموسے، پکوڑے کی کوٹنگ، بسکٹ، کیک، پیسٹری، پیزا بیس، برگر بن، سفید بریڈ، رول اور نمک پارے وغیرہ۔ چونکہ یہ غذائیں ذائقے میں اچھی اور آسانی سے دستیاب ہوتی ہیں اس لیے لوگ انہیں کثرت سے کھاتے ہیں، مگر مسلسل استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

میرا یہاں پر آپکو مشورہ ہے کہ میدے کی بجائے چوکر والا آٹا (ہول ویٹ)، ملٹی گرین آٹا، باجرہ، جو یا جئی جیسی غذاؤں کو ترجیح دی جائے۔ ان میں فائبر اور غذائی اجزاء زیادہ ہوتے ہیں جو ہاضمے کو بہتر بناتے ہیں اور جسم کو دیر تک توانائی فراہم کرتے ہیں۔

مختصر یہ کہ بہتر صحت کے لیے ضروری ہے کہ ہم میدے سے بنی اشیاء کا استعمال کم کریں اور قدرتی اور زیادہ غذائیت والی غذا کو اپنی روزمرہ خوراک کا حصہ بنائیں۔
#ہم سے آپکا میٹھا چھپ نہیں سکتا

ڈاکٹر نعمان رفیع راجپوت
میڈیکل اسپیشلسٹ اور شوگر اسپیشلسٹ

0321-6266658 for Contacting US

13/03/2026

Jumaaa Mubarak

سورت التکاثر۔۔۔۔۔

یہ مختصر مگر بہت گہری معنی رکھنے والی سورت ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ انسان کو ایک بڑی کمزوری کی طرف متوجہ کرتے ہیں، اور وہ ہے زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی دوڑ۔ انسان مال، جائیداد، عہدہ، طاقت اور اولاد کی کثرت میں اس قدر مشغول ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی اصل حقیقت یعنی آخرت کو بھول جاتا ہے۔

سورت کی پہلی آیت میں بتایا گیا ہے کہ “تمہیں زیادہ کی چاہت نے غافل کر دیا”۔ یعنی انسان زندگی بھر یہ سوچتا رہتا ہے کہ میرے پاس دوسروں سے زیادہ دولت، زیادہ زمین، زیادہ کاروبار اور زیادہ عزت ہو۔ اس مقابلہ بازی میں وہ اپنے رب کی یاد، عبادت اور آخرت کی تیاری کو نظر انداز کر دیتا ہے۔

دوسری آیت میں فرمایا گیا کہ یہ غفلت اس وقت تک جاری رہتی ہے “یہاں تک کہ تم قبروں تک جا پہنچتے ہو”۔ مطلب یہ کہ انسان پوری زندگی اسی دوڑ میں لگا رہتا ہے اور جب ہوش آتا ہے تو زندگی ختم ہو چکی ہوتی ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ انسان کو تنبیہ کرتے ہیں کہ عنقریب تم حقیقت جان لو گے۔ قیامت کے دن جب انسان اللہ کے سامنے کھڑا ہوگا تو اسے سمجھ آئے گا کہ اصل کامیابی دنیا کی دولت نہیں بلکہ نیک اعمال تھے۔

سورت کے آخر میں ایک بہت اہم بات فرمائی گئی ہے کہ قیامت کے دن تم سے نعمتوں کے بارے میں ضرور سوال کیا جائے گا۔ یعنی صحت، وقت، مال، اولاد، علم اور سہولتیں—یہ سب اللہ کی دی ہوئی نعمتیں ہیں۔ انسان سے پوچھا جائے گا کہ اس نے ان نعمتوں کو کس طرح استعمال کیا۔

اس سورت کا پیغام یہ ہے کہ انسان دنیا میں محنت ضرور کرے، لیکن دنیا کو مقصدِ زندگی نہ بنائے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اللہ کو یاد رکھے، نیکی کرے، لوگوں کے حقوق ادا کرے اور آخرت کی تیاری کرے۔ دنیا عارضی ہے جبکہ آخرت ہمیشہ کے لیے ہے۔

طالب دعا
ڈاکٹر نعمان رفیع راجپوت

12/03/2026

انسان کو پہلی دفعہ بولنے میں 2 سال لگ جاتے ہیں۔۔پر کب کیا نہیں بولنا اس کو سیکھنے میں پوری عمر لگ جاتی ہے
ڈاکٹر نعمان رفیع راجپوت

ایک دن میرے کلینک میں ایک صاحب تشریف لائے۔ وہ قدرے موٹے تھے اور چہرے پر تشویش کے آثار نمایاں تھے۔ بیٹھتے ہی کہنے لگے:“ڈا...
12/03/2026

ایک دن میرے کلینک میں ایک صاحب تشریف لائے۔ وہ قدرے موٹے تھے اور چہرے پر تشویش کے آثار نمایاں تھے۔ بیٹھتے ہی کہنے لگے:
“ڈاکٹر صاحب! میں نے آپ کے پیج پر ایک ویڈیو دیکھی تھی جس میں ایک موٹے آدمی نے آپ کی رہنمائی سے اپنا وزن کافی کم کیا تھا۔ کیا آپ مجھے بھی بتا سکتے ہیں کہ میں اپنا وزن کیسے کم کر سکتا ہوں؟”

میں نے مسکرا کر انہیں تسلی دی اور کہا:
“بالکل! وزن کم کرنا ممکن ہے، لیکن اس کے لیے دوائی سے زیادہ ضروری طرزِ زندگی میں تبدیلی ہے۔ اگر آپ چند بنیادی اصولوں پر عمل کریں تو آپ صحت مند طریقے سے وزن کم کر سکتے ہیں۔”

پھر میں نے انہیں مرحلہ وار رہنمائی دی۔
1. طرزِ زندگی میں تبدیلی (Lifestyle Modification)
سب سے پہلے ہمیں اپنی روزمرہ زندگی کو بدلنا ہوتا ہے۔ زیادہ دیر بیٹھنے کے بجائے جسم کو متحرک رکھنا ضروری ہے۔ چھوٹی چھوٹی عادتیں جیسے پیدل چلنا، سیڑھیاں استعمال کرنا اور روزانہ جسمانی سرگرمی بڑھانا بہت مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
2. خوراک میں تبدیلی (Diet Modification)
موٹاپے کے علاج میں خوراک بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ غیر ضروری، چکنائی اور میٹھے سے بھرپور غذاؤں کو کم کرنا ضروری ہے۔
متوازن غذا میں سبزیاں، پروٹین اور مناسب مقدار میں صحت مند غذائیں شامل ہونی چاہئیں۔
3. کم کاربوہائیڈریٹ والی غذا (Low Carb Diet)
کاربوہائیڈریٹس خصوصاً سفید آٹا، چینی اور میٹھے مشروبات وزن بڑھانے میں بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کو کم کرنے سے جسم میں چربی کم ہونا شروع ہوتی ہے۔
4. کم کیلوریز والی غذا (Low Caloric Diet)
روزانہ استعمال ہونے والی کیلوریز کو کم کرنا وزن کم کرنے کا بنیادی اصول ہے۔ اگر جسم کو کم کیلوریز ملیں گی تو وہ ذخیرہ شدہ چربی کو توانائی کے طور پر استعمال کرے گا۔
5. اچھی نیند (Good Sleep)
بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے کہ نیند کی کمی بھی وزن بڑھنے کا سبب بنتی ہے۔ روزانہ کم از کم 7–8 گھنٹے کی پرسکون نیند ہارمونز کو متوازن رکھتی ہے اور وزن کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
6. ایروبک ورزش (Aerobic Exercise)
روزانہ کم از کم 30 منٹ تیز واک، سائیکلنگ یا ہلکی دوڑ جیسی ایروبک ورزشیں وزن کم کرنے میں بہت مؤثر ہیں۔ یہ دل کی صحت کو بھی بہتر بناتی ہیں۔
7. جدید وزن کم کرنے والے انجیکشن (Weight Loss Injections)
آج کل کچھ جدید میڈیکل انجیکشنز بھی دستیاب ہیں جو وزن کم کرنے میں بہت مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر شوگر (ذیابیطس) کے مریضوں میں یہ ایک گیم چینجر ثابت ہو رہے ہیں کیونکہ یہ وزن کم کرنے کے ساتھ ساتھ شوگر کو بھی کنٹرول کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ البتہ ان کا استعمال ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورے سے ہی کرنا چاہیے۔
آخر میں میں نے مریض سے کہا:
“اگر آپ صبر اور مستقل مزاجی کے ساتھ ان اصولوں پر عمل کریں تو یقین کریں وزن کم کرنا ممکن ہے اور آپ ایک صحت مند زندگی کی طرف واپس آ سکتے ہیں۔”
اگر آپ بھی وزن کم کرنے کے لیے درست رہنمائی چاہتے ہیں تو رابطہ کریں:

📞 0321-6266658 برائے رابطہ

ڈاکٹر نعمان رفیع راجپوت

(وزن، شوگر اور طرزِ زندگی سے متعلق بیماریوں کے علاج کے لیے رہنمائی)

12/03/2026

How To reduce weight and live a healthy life

Contact us to lose weight immediatly. ….,
03216266658
وزن کم کرنا کتنا مشکل یا کتنا آسان۔۔۔۔۔ اب شوگر کو کریں خدا حافظ۔۔۔۔۔
برائے رابطہ
0321-6266658
Dr Nauman Rafi Rajput Official

گزشتہ روز تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال وزیرآباد میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ ڈیوٹی پر موجود 2 ڈاکٹر اور اک لیڈی ڈاکٹر سے بد...
11/03/2026

گزشتہ روز تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال وزیرآباد میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ ڈیوٹی پر موجود 2 ڈاکٹر اور اک لیڈی ڈاکٹر سے بد سلاکی کی اور ایک نوجوان ڈاکٹر کو تین پولیس اہلکاروں نے کمرے کا دروازہ بند کر کے تشدد کا نشانہ بنایا اور جاتے ہوئے اس کا موبائل فون بھی ساتھ لے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس واقعے کے پیچھے لیڈی ڈاکٹر کے پرس چوری جس میں اک محکمہ کی خاتون کا نام بھی لیا جا رہا ہے اور ایک میڈیکو لیگل کیس (MLC) سے متعلق معاملہ تھا۔ ڈاکٹر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے مطابق تمام ضروری قانونی اور طبی مراحل مکمل کرنا چاہتا تھا، مگر بعض افراد جلدی میں ان مراحل کو نظر انداز کر کے کام کروانا چاہتے تھے۔ جب ڈاکٹر نے قانون اور ضابطے کے مطابق کام کرنے پر اصرار کیا تو اس پر غصہ نکالا گیا۔

میں ایک پاکستانی اور وزیرآباد کا شہری ہونے کے ناطے عوام سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں: کیا اپنے ڈیوٹی کے مقام پر موجود ایک ڈاکٹر کو اس طرح مارنا اور ہراساں کرنا کسی بھی طرح درست قرار دیا جا سکتا ہے؟ ایک ڈاکٹر ہسپتال میں مریضوں کی خدمت کے لیے موجود ہوتا ہے، نہ کہ تشدد برداشت کرنے کے لیے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر کسی ڈاکٹر سے غلطی ہو جائے تو اس کے خلاف کارروائی کے لیے باقاعدہ قانونی اور انتظامی طریقہ کار موجود ہے۔ ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے دفتر کے ذریعے تحقیقات ہو سکتی ہیں، انکوائری کمیٹی بن سکتی ہے اور قانون کے مطابق فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ طاقت کا استعمال یا قانون کو ہاتھ میں لینا کسی بھی صورت میں درست نہیں۔

اب چونکہ واقعے کی نشاندہی ہو چکی ہے اور امید ہے کہ ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سزا بھی ملے گی۔ لیکن میں عوام کے سامنے ایک چھوٹا سا سوال چھوڑنا چاہتا ہوں۔ اگر ایسے واقعات بار بار ہوتے رہے، ڈاکٹروں کو ہسپتالوں میں عدم تحفظ کا سامنا رہا اور انہیں عزت و تحفظ نہ ملا تو کیا نوجوان ڈاکٹر پاکستان میں کام کرنے کو ترجیح دیں گے یا بیرون ملک چلے جائیں گے؟
اور اگر ہمارے ڈاکٹر مسلسل ملک چھوڑتے رہے تو کل ہمارے گھروں کے بیماروں کا علاج کون کرے گا؟ یہ سوال ہم سب کے لیے سوچنے کا مقام ہے۔

ڈاکٹر نعمان رفیع راجپوت
GS PMA wazirabad
0321-6266658 for Contacting us

ایک دن میرے کلینک میں ایک خاتون مریضہ معائنے کے لیے آئیں۔ میں نے انہیں تفصیل سے چیک کیا، بیماری کی نوعیت سمجھائی اور کھا...
10/03/2026

ایک دن میرے کلینک میں ایک خاتون مریضہ معائنے کے لیے آئیں۔ میں نے انہیں تفصیل سے چیک کیا، بیماری کی نوعیت سمجھائی اور کھانے پینے اور علاج کے حوالے سے مکمل ہدایات دے دیں۔ وہ ابھی کلینک سے نکلی ہی تھیں کہ تقریباً پانچ منٹ بعد ایک مرد میرے کمرے میں داخل ہوا۔ اس نے آتے ہی مجھ سے سوال کیا کہ “ڈاکٹر صاحب، آپ نے اس خاتون کو کھانے میں کیا لینے کا کہا ہے؟”

میں نے مسکرا کر جواب دیا کہ میں مریضہ اور ان کے گھر والوں کو تمام ہدایات پہلے ہی دے چکا ہوں۔ اس پر اس شخص نے کہا کہ وہ اس خاتون کا بھائی ہے۔ میں نے نہایت مؤدبانہ انداز میں عرض کیا کہ بطور ایک پیشہ ور ڈاکٹر میں کسی بھی مریض کی بیماری، اس کے مراحل یا علاج کے بارے میں کسی تیسرے شخص کو اس کی اجازت کے بغیر نہیں بتا سکتا۔ یہ نہ صرف طبی اخلاقیات کے خلاف ہے بلکہ میڈیکو لیگل قوانین میں بھی اس کی اجازت نہیں۔
میری بات سن کر وہ شخص کچھ ناراض ہو گیا اور کہنے لگا: “میں بازار میں دکاندار ہوں، ہم نے آپ کے بارے میں بہت سنا تھا، مگر آپ تو بالکل تعاون نہیں کر رہے۔”

اس لمحے میں نے حیرت سے اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔ مجھے احساس ہوا کہ شاید ہمارے معاشرے میں ابھی تک مریض کی پرائیویسی اور طبی اخلاقیات کی اہمیت پوری طرح سمجھ نہیں آئی۔ دل میں ایک اداسی سی محسوس ہوئی کہ عوام کو شعور دینے کی میری ساری کوششیں شاید ابھی ناکافی ہیں۔
آخرکار میں نے اس کے ساتھ مزید پانچ منٹ لگا کر دوبارہ تمام ہدایات سمجھا دیں۔ لیکن جب وہ میرے کمرے سے باہر جا رہا تھا تو جاتے جاتے صرف اتنا کہہ گیا:

“آپ ویسے نہیں نکلے جیسے میں نے سوچا تھا۔”
از قلم ڈاکٹر نعمان رفیع راجپوت

But i will continue to educate my prople in more better way

0321-6266658 for contacting Us

10/03/2026

آن لائن آگاہی سیمینار برائے ذیابیطس مریض و اہلِ خانہ

کیا آپ یا آپ کے گھر میں کوئی ذیابیطس (شوگر) کا مریض ہے؟

کیا آپ شوگر کے باعث پاؤں کے زخم، انفیکشن اور کٹاؤ (Amputation) جیسے خطرات سے بچنا چاہتے ہیں؟

اب موقع ہے کہ آپ سیکھیں ڈایابیٹک فُٹ کی مکمل دیکھ بھال ایک تجربہ کار معالج سے۔
👨‍⚕ ڈاکٹر نعمان رفیع راجپوت
میڈیکل اسپیشلسٹ | شوگر اسپیشلسٹ

آپ کو سکھائیں گے:
• شوگر کے مریضوں میں پاؤں کے زخم کیوں بنتے ہیں
• ڈایابیٹک فُٹ سے بچاؤ کے عملی طریقے
• گھر پر پاؤں کی صحیح دیکھ بھال
• وہ غلطیاں جو اکثر مریض کرتے ہیں
• کٹاؤ (Amputation) سے کیسے بچا جا سکتا ہے
📚 مدت: 2 گھنٹے کا انٹرایکٹو آن لائن سیمینار
💻 پلیٹ فارم: Zoom
👥 ہر گروپ میں صرف 25 افراد (تاکہ سوال و جواب بہتر ہو سکے)
💰 فیس: صرف 1000 روپے فی فرد

📱 رجسٹریشن کے لیے ابھی رابطہ کریں:
Call / WhatsApp: 0321-6266658
⏳ جلدی کریں!
یہ سیمینار عید کے بعد باقاعدہ شروع کیا جا رہا ہے۔

ٹیم ڈاکٹر نعمان رفیع راجپوت
ا

Address

Nizama Abad Wazirabad
Wazirabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Nauman Rafi Rajput Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr Nauman Rafi Rajput Official:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram