10/02/2026
یہ بات عام مشاہدے میں آتی ہے کہ ہر انسان کی اپنی خواہشات ہوتی ہیں۔ اکثر لوگ چاہتے ہیں کہ حکیم صاحب ان سے لمبی تفصیل کے ساتھ بات کریں، لیکن ساتھ ہی یہ بھی چاہتے ہیں کہ اس مشورے کی کوئی فیس ادا نہ کرنی پڑے۔ پھر ایک کے بعد ایک مرض اور اس کی دوا کے بارے میں پوچھتے چلے جاتے ہیں؛ اس مرض کی دوا، اُس مرض کی دوا، بغیر یہ سمجھے کہ حکیم کا وقت، علم اور تجربہ بھی ایک قیمتی امانت ہے۔
جس طرح دوا کی قیمت ہوتی ہے، اسی طرح صحیح تشخیص اور درست مشورے کی بھی قدر ہونی چاہیے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں توجہ سے سنا جائے، تفصیل سے رہنمائی دی جائے اور ذمہ داری کے ساتھ علاج بتایا جائے، تو ہمیں بھی حکیم کی محنت اور حق کا خیال رکھنا چاہیے۔ علمِ طب کھیل نہیں، نہ ہی یہ مفت مشوروں کا بازار ہے؛ یہ ایک سنجیدہ امانت ہے جس کی عزت دونوں طرف سے ضروری ہے۔
اخری گذارش
بعض اوقات دوا فوراً نہیں پہنچ پاتی، اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ پہلے دوا تیار کی جاتی ہے، پھر کوریئر یا ڈاک خانے کے اپنے مراحل ہوتے ہیں، جن میں کچھ دن لگ جانا ایک فطری بات ہے۔ اس میں نہ حکیم کی کوتاہی ہوتی ہے اور نہ ہی کسی کی نیت میں کمی۔
براہِ کرم یہ بات ذہن میں رکھیں کہ کوریئر کمپنی کوئی ذاتی ملازم نہیں ہوتی کہ آج آرڈر ملا اور فوراً اسی لمحے دوا پہنچ جائے۔ چند دن انتظار اور صبر کرنا پڑتا ہے۔