13/04/2026
امیروں کے مسئلے بھی امیر ہوتے ہیں کہ بیٹا چھوٹی گاڑی کیوں لے کر گیا، بڑی گاڑی میں کیوں گیا۔
کافی کی جگہ چائے کیوں پی لی؟ صبح ناشتے میں جوس کی جگہ پانی کیوں پی لیا۔
کیسے کیسے عجیب مسئلے ہوتے ہیں نا ان لوگوں کے کہ ہماری اولاد ہم سے پیسہ کیوں نہیں مانگ رہی۔ جبکہ یہی کوئی ہمارے جیسے مڈل کلاس گھرانے ہوں تو پیسے مانگنے پر ہمارے والدین ہمیں گھر سے نکال دیں 🤣 کہ جاؤ بھائی! اپنا کماؤ اور اپنا کھاؤ۔
یہ امیر اپنے بچوں کو پارٹیز میں شامل ہونے کی تاکید کرتے ہیں تاکہ ان کے اچھے connections بن سکیں جبکہ ہم لوگ خاندان کی دعوت میں ہی چلے جائیں تو ہمارے بزرگ ہماری ساری عزت لا پھا کردیتے ہیں 🤣
ابھی یہ “ڈاکٹر بہو” ڈرامے کی پہلی قسط دیکھتے ہوئے مجھے یہی سوچ سوچ کر ہنسی آرہی تھی کہ ہر کلاس کے اپنے مسائل ہیں۔
مڈل کلاس کے اپنے مسائل ہیں جو روٹی کی فکر سے لے کر بجلی، گیس کے بل کی فکر کے بیچ گھومتے رہتے ہیں۔
امیروں کے مسائل یہ ہیں کہ ان کے بیٹے کا شو روم ہو تب بھی انہیں لگتا ہے کہ وہ طارق روڈ پر گاڑیاں بیچ رہا ہے۔ مطلب شو روم ہونا بھی انہیں گاڑیاں بیچنے کے مترادف لگتا
لیکن ایک بات ہے اور وہ دونوں کلاسز میں مشترک ہے۔
“والدین”
پھر چاہے وہ اپر کلاس کے ہوں یا پھر مڈل کلاس کے۔
اولاد کو اپنی مرضی سے کچھ نہیں کرنے دینا۔
انہوں نے اپنے بچوں کا passion یا شوق نہیں دیکھنا، انہیں اپنی اولاد کو بس وہی بنانا ہے جو یہ چاہتے ہیں۔ کیونکہ ان کے ہاں کامیابی کے پیمانے مختلف ہوتے ہیں۔
اگر کوئی ڈاکٹر نہیں بننا چاہتا، اس کا رجحان کسی اور شعبے کی طرف ہو تو وہ کیا ناکام ہوگیا؟
اگر کوئی engineer نہیں بن پایا تو وہ کیا نکما کہلائے گا؟
والدین کے انہی اسٹینڈرڈز کی وجہ سے بہت سارے بچے ذہنی مریض بن جاتے ہیں۔
پھر بھی مطمئن نہیں ہوتے۔
جان لے کر ہی ان کی جان میں جان آتی ہے 🙂