Homeo & Herbal dawa khana

Homeo & Herbal dawa khana Mahir amraaz posheda our pechida

16/02/2026

کتاب: تاریخِ اسلام
پیش لفظ
عنوان: محمد رسول اللہ ﷺ

{اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ٭ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ٭ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ ٭ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْن ٭ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم ٭ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ ٭ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْن} اللھم صل علی محمد و علٰی ال محمد کما صلیت علٰی ابراھیم و علٰی ال ابراھیم انک حمید مجید اما بعد رب اشرح لی صدری و یسرلی امری و احلل عقدۃ من لسانی یفقھوا قولی۔
لا الہ الا اللہ
تاریخ عالم پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے ہر ملک اور ہر زمانے میں جس قدر نبی‘ مصلح‘ پیشوا اور بانیان مذاہب گذرے ہیں‘ وہ سب کے سب ایک ذات واجب الوجود۱ کے قائل و معتقد تھے اور سب نے اپنی اپنی جماعت کو اللہ تعالیٰ کی ہستی کا یقین دلانے کی کوشش کی۔ سیدنا آدم علیہ السلام ‘ سیدنا نوع علیہ السلام ‘ سیدنا ابراہیم علیہ السلام ‘ سیدنا موسیٰ علیہ السلام ‘ سیدنا محمد ﷺ کے زمانوں میں اگرچہ سینکڑوں ‘ ہزاروں برس کے فاصلے ہیں‘ لیکن سب کی تعلیم میں توحید باری تعالیٰ کا مسئلہ مشترک ہے۔
کرشن جی‘ رامچندر جی‘ گوتم بدھ اورگورونانک ہندوستان میں ہوئے‘ کیقبادو زرتشت ایران میں گذرے‘ کنفیوسس چین میں‘ سیدنا لقمان یونان میں‘ سیدنا یوسف علیہ السلام مصر میں‘ سیدنا لوط علیہ السلام شام و فلسطین میں تھے‘ لیکن توحید باری تعالیٰ کا مسئلہ سب کی تعلیمات میں موجود ہے۔۲
دنیا کے قریباً تمام آدمی ‘ بچے‘ بوڑھے ‘ جوان‘ عورت‘ مرد‘ عیسائی ‘ یہودی وغیرہ اللہ تعالیٰ کو مانتے ہیں‘ یا صرف چند جو کسی قطار میں نہیں آ سکتے‘ ممکن ہے ایسے بھی مل سکیں جو اپنی زبان سے اللہ تعالیٰ کا انکار کریں مگر دل ان کے بھی ہستیٔ باری تعالیٰ کے اقرار پر مجبور ہیں اور ان کو بالآخر یہ ضرور تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ یہ سلسلہ علل و معلول کسی مدبر بالارادہ کے ماتحت چل رہا ہے۔ اسی مدبر بالارادہ ہستی کا نام اللہ تعالیٰ ہے۔
بہ لوحے گرہزاراں نقش پیدا است
نیاید بے قلمزن یک الف راست
دنیا کے اس عظیم الشان اتفاق کے انکار اور تمام اہل دانش و بینش کے متفقہ عقیدے کی تغلیط و تردید پر کوئی شخص جو دیوانہ نہ ہو آمادہ نہیں ہو سکتا۔
محمد رسول اللہ ﷺ
روما کی عظیم الشان سلطنت کے ٹکڑے ہو چکے تھے۔ اس کے نیم وحشیانہ آئین و قوانین بھی مسخ ہو کر اپنے مظالم و معائب کو اور بھی زیادہ مہیا و موجود اور محاسن کو جو پہلے ہی بہت کم تھے معدوم و مفقود کر چکے تھے‘ ایران کی بادشاہی ظلم و فساد کا ایک مخزن بنی ہوئی تھی‘ چین و ترکستان خونریزی و خونخواری کا مامن نظر آتے تھے‘ ہندوستان میں مہاراجہ اشوک اور راجہ کنشک کے زمانہ کا نظام و انتظام ناپید تھا‘ مہاراجہ بکرماجیت کے عہد سلطنت کا تصور بھی کسی کے ذہن میں نہیں آ سکتا تھا۔ نہ بدھ مذہب کی حکومت کا کوئی نمونہ موجود تھا۔ نہ برہمنی مذہب کا کوئی قابل تذکرہ پتہ و نشان دستیاب ہو سکتا تھا‘ عارف بدھ کا نام عقیدت سے لینے والوں کی حالت یہ تھی کہ حکومت کے لالچ‘ دنیا طلبی کے شوق اور ضعیف الاعتقادی کے نتیجہ میں سخت سے سخت قابل شرم حرکات کے مرتکب ہو جاتے تھے‘ شری کرشن کے نام کی سمرن جپنے والوں کی کیفیت یہ تھی کہ اشرف المخلوقات کو نباتات و جمادات کے آگے سربسجود بنا دینے میں ان کو دریغ نہ تھا‘ یورپ اگر ایک بیابان گرگستان اور وہاں کے باشندے خوں آشام و مردم کش درندے تھے تو عرب تمام عیوب و فسادات کا جامع تھا اور وہاں کے باشندے حیوانوں سے بھی بدتر حالت کو پہنچ چکے تھے۔غرض کہ دنیا کے کسی ملک اور کسی خطہ میں انسانی نسل اپنی انسانیت اور شرافت پر قائم نظر نہیں آتی تھی اور بحروبر سب مائوف ہو چکے تھے۔ ایسی حالت میں جب کہ تمام دنیا تیرہ و تار ہو چکی تھی‘ ہندوستان والوں کا فرض تھا کہ وہ گیتا کے چوتھے باب میں شری کرشن مہاراج کے اس ارشاد پر غور کرتے کہ:
’’اے ارجن جب دھرم کی ہانی۱ ہوتی ہے اور ادھرم۲ بڑھ جاتا ہے‘ تب میں نیک لوگوں کی رکھشا۳ کرتا ہوں اور پاپوں کا ناش۴ کر کے دھرم کو قائم کرتا ہوں۔‘‘
ایران والوں کا فرض تھا کہ وہ شست و خشور زرتشت کے ارشادات کے موافق کسی رہبر کی تلاش میں نکلتے‘ یہودیوں کے لیے وقت آ گیا تھا کہ وہ فاران کے پہاڑوں کی چوٹیوں سے روشنی کے نمودار ہونے کا انتظار کرتے اور معماروں کے رد کئے ہوئے پتھر کو کونے کا پتھر بنتے ہوئے دیکھ کر ضد اور انکار سے باز رہتے۔ عیسائیوں کا فرض تھا کہ وہ دعائے خلیل اور نوید مسیحا کو اپنی امید گاہ بناتے۔ لیکن دنیا کے عالمگیر فساد اور زمانہ کی ہمہ گیر تاریکی نے دلوں کو اس قدر سیاہ اور آنکھوں کو اس قدر بے بصارت بنا دیا تھا کہ کسی کو اتنا بھی ہوش نہ تھا کہ اپنے آپ کو مریض جانتا اور دوا کی طلب میں قدم اٹھاتا۔
ایسے زمانے اور ملک عرب جیسے خطے میں ہادی برحق رسول رب العالمین خیر البشر‘ شفیع المذنبین سیدنا محمد ﷺ نے شرک کی خباثت‘ بت پرستی کی تاریکی‘ فتنہ و فساد کی نجاست اور عصیان و بے شرمی کی پلیدی کو دور کرنے کے لیے ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کی آواز بلند کر کے انسان نما لوگوں کو انسان‘ انسانوں کو بااخلاق انسان اور با اخلاق انسانوں کو با خدا انسان بنا کر دنیا کی تاریکی و ظلمت کو ہدایت‘ نور ‘ امن‘ راستی اور نیکی سے تبدیلی کرنے‘ یعنی گمراہ‘ بت پرست‘ عصیاں شعار لوگوں کو مسلمان بنانے کا فریضہ انجام دیا۔
سیدنا نوح علیہ السلام عراق عرب کے گمراہ لوگوں کو راہ راست پر لانے میں سینکڑ وں برس مصروف تبلیغ رہ کر بالآخر {رَّبِّ لاَ تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ دَیَّارًا} ۵ کی تلوار سے سب کا قصہ پاک کرنے پر مجبور ہوئے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے مصریوں اور ان کے متکبر بادشاہ کو راہ راست پر لانے کی امکانی کوشش کی لیکن بالآخر موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل نے وہ نظارہ دیکھا جس کی نسبت ارشاد ہے کہ : {وَ اَغْرَقْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ} ۶ ہندوستان میں مہاراجہ رام چندر جی کو لنکا پر چڑھائی اور راکھشسوں سے لڑائی کرنی پڑی شری کرشن مہاراج کو کرکشتر کے میدان میں ارجن کو جنگ پر آمادہ کرنا اور کوروں کی نافرمان جماعت کو پانڈوں کے ہاتھوں برباد کرانا پڑا‘ ایران میں زرتشت نے اسفند یار کی پہلوانی اور سلطنت کیانی کی حکمرانی کو ذریعہ‘ تبلیغ و اشاعت بنایا۔
مگر ماضی کے صحائف اور عمرانی روایات جو اہل نظر تک پہنچی ہیں سب کی سب متفق ہیں کہ تمام قابل تکریم بانیاں مذاہب اور مستحق احترام ہادیان صداقت کی کوششوں اور کامیابیوں میں یہ نظیر ہرگز تلاش نہیں کی جا سکتی کہ پچیس سال سے کم مدت میں دنیا کا بہترین ملک اور عرب کے جاہل وحشی لوگ ساری دنیا کے معلم اور سب سے زیادہ مہذب و با اخلاق بن گئے ہوں‘ سو برس سے کم یعنی صرف اسی سال کے عرصہ میں سیدنا محمد ﷺ کے لائے ہوئے مذہب کو ماننے والے بحراطلا نطک سے بحرالکاہل یعنی چین کے مشرقی ساحل تک یا‘ یوں کہے کہ تمام متمدن دنیا کا احاطہ کر چکے ہوں‘ اس محیر العقول اور خارق عادت کامیابی کی نظیر دنیا پیش نہیں کر سکتی اور تعلیم اسلامی کی خوبی اگر تمام قوانین مذاہب پر فائق اور محاسن ملل کی جامع ہے تو سیدنا محمد ﷺ کے خیر البشر‘ خاتم النبیین‘ رحمتہ للعالمین ہونے میں کسی کو کیا کلام ہو سکتا ہے؟ اور دنیا میں کس کا حوصلہ ہے جو ان کی لائی ہوئی کتاب قرآن مجید کی اس لانظیر صفت اور اس ناقابل تردید دعوی اور خدائی دعوی کی تردید پر آمادہ ہو سکے کہ : {اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ} ۱
قوموں کو منازل ترقی طے کرانے اور قوموں کو ذلت و پستی سے بچانے کے لیے تاریخ ایک زبردست مؤثر اور نہایت قیمتی ذریعہ ہے‘ قومیں جب کبھی قعر مذلت سے بام ترقی کی طرف متحرک ہوئی ہیں انہوں نے تاریخ ہی کو سب سے بڑا محرک پایا ہے‘ قرآن کریم نے ہم کو یہ بھی بتایا ہے کہ سعادت انسانی اور دین و دنیا کی کامرانی حاصل کرنے کے لیے تاریخ کا مطالعہ نہایت ضروری ہے‘ چنانچہ خدائے تعالٰے نے لوگوں کو عبرت پذیر اور نصیحت یاب ہونے کے لیے کلام پاک میں جا بجا امم سابقہ کے حالات یاد دلائے ہیں کہ فلاں قوم نے اپنی بد اعمالیوں کے کیسے بدنتائج دیکھے اور فلاں قوم اپنے اعمال حسنہ کی بدولت کیسی کامیاب و فائزالمرام ہوئی‘ آدم‘ نوح‘ ابراہیم‘ موسیٰ ( علیھم السلام ) وغیرہم کے واقعات اور فرعون نمرود‘ عاد‘ ثمود وغیرہم کے حالات قرآن کریم میں اسلیے مذکور و مسطور نہیں کہ ہم ان کو دل بہلانے اور نیند لانے کا سامان بتائیں بلکہ یہ سچے اور یقینی حالات اس لیے ہمارے سامنے پیش کئے گئے ہیں کہ ہمارے اندر نیک کاموں کے کرنے کی ہمت اور بداعمالیوں سے دور رہنے کی جرأت پیدا ہو اور ہم اپنے حال کو بہترین مستقبل کا ذریعہ بنا سکیں۔
انبیاء علیہم السلام جو بنی نوع انسان کے سب سے بڑے محسن‘ سب سے زیادہ خیر خواہ اور سب سے زیادہ شفیق علی خلق اللہ ہوتے ہیں‘ انہوں نے جب کبھی کسی قوم کو ہلاکت سے بچانے اور عزت اور سعادت سے ہمکنار بنانے کی سعی و کوشش فرمائی ہے تو اس کو قوم کو عہد ماضی کی تاریخ یاد دلائی ہے‘ دنیا کے بڑے بڑے لیڈروں اور ریفارمروں میں کوئی بھی ایسا نظر نہیں آتا جس کو حالات رفتگان اور گزرے واقعات کے مطالعہ نے محوو مدہوش اور از خودفراموش بنا کر آمادہ کار اور مستعد سعی و ایثار نہ بنایا ہو‘ یہی وجہ ہے کہ ہر ایک واعظ اور ہر ایک لیکچرار جو سامعین کو اپنے حسب منشاء پر جوش اور آمادہ کار بنا سکتا ہے اس کے وعظ یا لیکچر میں ماضی کے واقعات اور بزرگان گذشتہ کے حالات کی یاد دہانی یعنی تاریخی چاشنی ضرور موجود ہوتی ہے‘ مشاہیر گذشتہ کے حالات و واقعات میں بھی جن مشاہیر سے مذہبی‘ قومی‘ ملکی تعلقات کے ذریعہ سے ہمارا قریبی رشتہ ہوتا ہے ان کے حالات کا ہم پر زیادہ اثر ہوتا ہے‘ رستم و اسفند یار اور گشتاسب و نوشیراواں کے حالات کا مطالعہ جس قدر ایک ایرانی یا ایک پارسی کے دل میں شجاعت مذہبیت اور عدل و انصاف کے جذبات کو مشتعل بنا سکتا ہے کسی چینی یا ہندوستانی پر ویسا اثر نہیں کر سکتا‘ بھیم وارجن اور بکرما جیت وپرتھی راج کی داستانیں ہندئوں پر جو اثر کرتی ہیں عیسائیوں پر ان کا ویسا ہی اثر نہیں ہوتا۔
یہی وجہ ہے کہ آج جب کہ قوموں کی تاریخ کے اثر و نتائج سے لوگ واقف ہو چکے ہیں اور یہ حقیقت عالم آشکارا ہو چکی ہے کہ کسی قوم کو زندہ کرنے اور زندہ رکھنے کے سامانوں میں اس قوم کی گذشتہ تاریخ سب سے زیادہ ضروری سامان ہے‘ تو ہم اپنی آنکھوںسے دیکھ رہے ہیں کہ وہ قومیں جو اپنی کوئی باعظمت و پرشوکت تاریخ نہیں رکھتیں فرضی افسانوں اور جھوٹے قصوں کی تصنیف و تالیف میں مصروف ہیں‘ اور ان فرضی قصوں کوتاریخی جامہ پہنا کر افراد قوم اور نوجوانان ملک کے سامنے اس طرح پیش کر رہی ہیں کہ ان کی صداقت کا یقین ہو جائے‘ دروغ کو فروغ دینے کی یہ قابل شرم کوشش قوموں کو محض اس لیے کرنی پڑ رہی ہے کہ وہ قومیں اپنے افراد کو ان کے علو مرتبت کا یقین دلائے بغیر مسابقت اقوام کے میدان میں تیز گام بنا ہی نہیں سکتیں اور یہی سبب ہے کہ ہر ایک وہ قوم جو کسی دوسری قوم کو رقابت یا عداوت کی نگاہ سے دیکھتی ہے اس کی تاریخ کو مسخ کرنے اوراس کے افراد کو اپنی تاریخ سے غافل اور ناواقف رکھنے کی کوششوں میں مصروف نظر آتی ہے۔

21/12/2025

کتاب: تاریخِ اسلام
محمد رسول اللہ ﷺ
عنوان: صادق اور الامین کا خطاب

نہ صرف مکہ معظمہ بلکہ تمام عرب میں آپ ﷺ کی نیکی‘ خوش اطواری‘ دیانت‘ امانت اور راست بازی کی اس قدر شہرت ہو گئی تھی کہ لوگ آپ ﷺ کو نام لے کر نہیں‘ بلکہ الصادق یا الامین کہہ کر پکارتے تھے‘ تمام ملک عرب میں ایک آپ ﷺ ہی کی ذات تھی جو الصادق یا الامین کی مشار الیہ سمجھی جاتی تھی۔ اور انہیں ناموں سے لوگ آپ ﷺ کو پہچانتے‘ اور یاد کرتے تھے‘ مسز اینی بیسنٹ ہندوستان میں تھیوسوفیکل سوسائٹی کی پیشوا اور بڑی مشہور انگریز عورت ہے وہ لکھتی ہے کہ:۔
پیغمبر اعظم (رسول اللہ ﷺ ) کی جس بات نے میرے دل میں ان کی عظمت و بزرگی قائم کی ہے وہ ان کی وہ صفت ہے جس نے ان کے ہم وطنوں سے الامین (بڑا دیانتدار) کا خطاب دلوایا‘ کوئی صفت اس سے بڑھ کر نہیں ہو سکتی اور کوئی بات اس سے زیادہ مسلم اور غیر مسلم دونوں کے لیے قابل اتباع نہیں‘ ایک ذات جو مسلم صدق ہو اس کے اشرف ہونے میں کیا شک ہو سکتا ہے ایسا ہی شخص اس قابل ہی کہ پیغام حق کا حامل ہو‘‘

31/10/2025

خطبة الجمعة
مسجد الحرام

18/08/2025

*ایک ریسرچ کے مطابق*
*سیب خون کو جمنے نہیں دیتا*
*کیلا ہڈیوں کو کمزور نہیں ہونے دیتا امرود قبض نہیں ہونے دیتا*
*آم دماغ کو کمزور نہیں ہونے دیتا*
*آڑو سے کینسر نہیں ہوتا*
*انگور گُردے میں پتھری بننے نہیں دیتا،*

**قال رسول الله ﷺ:**  "إن من أفضل أيامكم يوم الجمعة، فيه خلق آدم، وفيه قبض، وفيه النفخة، وفيه الصعقة، فأكثروا عليّ من ال...
01/08/2025

**قال رسول الله ﷺ:**
"إن من أفضل أيامكم يوم الجمعة، فيه خلق آدم، وفيه قبض، وفيه النفخة، وفيه الصعقة، فأكثروا عليّ من الصلاة فيه، فإن صلاتكم معروضة عليّ."
**(رواه أبو داود، النسائي، وابن ماجه)**

✨ **يوم الجمعة يوم مبارك**
أكثروا من الصلاة على النبي ﷺ وادعوا كثيرًا، ففيه ساعةٌ لا يُردّ فيها الدعاء.

---

**The Messenger of Allah ﷺ said:**
*"The best of your days is Friday: on it Adam was created, on it he died, on it the trumpet will be blown, and on it the Hour will be established. So send abundant blessings upon me, for your prayers are presented to me."*
**(Abu Dawood, An-Nasa’i, Ibn Majah)**

✨ **Friday is a blessed day.**
Send plenty of salawat upon the Prophet ﷺ and make heartfelt duas—there's a moment in it when all prayers are accepted.

---

**رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:**
"تمہارے دنوں میں سب سے افضل جمعہ کا دن ہے، اسی دن حضرت آدم علیہ السلام پیدا ہوئے، وصال ہوا، صور پھونکا جائے گا، اور قیامت واقع ہوگی۔
لہٰذا اس دن مجھ پر زیادہ درود بھیجا کرو، کیونکہ تمہارا درود میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔"
**(ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ)**

✨ **جمعہ بہت بابرکت دن ہے۔**
درود شریف کا خوب اہتمام کریں اور دل سے دعائیں مانگیں—اس دن ایک گھڑی ایسی ہے جس میں ہر دعا قبول ہوتی ہے۔

---

🔗 [لزيارة رابط البيولينك]

(وكالة نقطة مسافر للسفر والسياحة) (وكالة اريج العلو للسفر والسياحة)

29/07/2025
29/07/2025

اپنے پاؤں کے تلوؤں پر تیل لگا لیا کریں
1۔ ایک خاتون نے لکھا کہ میرے نانا 87 سال کے فوت ہوئے، نہ کمر جھکی، نہ جوڑوں میں درد، نہ سر درد، نہ دانت ختم ، ایک بار باتوں باتوں میں بتانے لگے کہ مجھے ایک سیانے نے مشورہ دیا تھا اس وقت جب میں کلکتہ میں ریلوے لائن پر پتھر ڈالنے کی نوکری کر رہا تھا کہ سوتے وقت اپنے پاؤں کے تلوؤں پر تیل لگا لیا کریں بس یہی عمل میری شفاء اور فٹنس کا ذریعہ ہے۔

2۔ ایک سٹوڈنٹ نے بتایا کہ میری والدہ اسی طرح تیل لگانے کی تاکید کرتی ہیں پھر خود بتایا کہ بچپن میں میری یعنی والدہ کی نظر کمزور ہو گئی تھی جب یہ عمل مسلسل کیا تو میری نظر آہستہ آہستہ بالکل مکمل اور صحت مند ہو گئی۔

3۔ ایک صاحب جو کہ تاجر ہیں نے لکھا میں چترال میں سیرو تفریح کرنے گیا ہوا تھا وہاں ایک ہوٹل میں سویا مجھے نیند نہیں آ رہی تھی میں نے باہر گھومنا شروع کر دیا باہر بیٹھا رات کا وقت بوڑھا چوکیدار مجھے کہنے لگاکیا بات ہے ؟ میں نے کہا نیند نہیں آ رہی ! مسکرا کر کہنے لگا آپ کےپاس کوئی تیل ہے میں نے کہا نہیں وہ گیا اور تیل لایا اور کہا اپنے پاؤں کے تلوؤں پر چند منٹ مالش کریں بس پھر کیا تھا میں خراٹے لینے لگا اب میں نے معمول بنا لیا ہے۔

4۔ میں نے رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کا یہ ٹوٹکہ آزمایا اس سے نیند بہت اچھی آتی ہے اور تھکاوٹ ختم ہو جاتی ہے۔

5۔ مجھے معدے کا مسئلہ تھا پاؤں کو تلوؤں پر تیل کی مالش سے 2 دن میں ہی میرا معدے کا مسئلہ ٹھیک ہو گیا۔

6۔ واقعی! اس عمل میں جادو جیسا اثر ہے میں نے رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کی اس عمل کی وجہ سے مجھے بہت پر سکون نیند آئی۔

7۔میں یہ ٹوٹکہ تقریباً پچھلے 15 سال سے کر رہی ہوں مجھے اس سے بہت پر سکون نیند آتی ہے میں اپنے چھوٹے بچوں کے پاؤں کے تلوؤں پر بھی تیل سے مالش کرتی ہوں اس سے وہ بہت خوش ہوتے ہیں اور صحت مند رہتے ہیں ۔

8۔میرے پاؤں میں درد رہتا تھا میں نے روزانہ زیتون کے تیل سے رات کو سونے سے پہلے 2 منٹ پاؤں کے تلوؤں کی مالش کرنا شروع کر دی اس عمل سے میرے پاؤں کا درد ختم ہو گیا ۔

9۔ میرے پاؤں میں ہمیشہ سوزش رہتی تھی جب چلتی تھی تو تھکن سے چور ہو جاتی تھے میں نے رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کا یہ عمل شروع کیا صرف 2 دنوں میں میرے پاؤں کی سوزش دور ہو گئی ۔

10۔ رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کا ٹوٹکہ دیکھ کر اسے کرنا شروع کر دیا اس سے مجھے بہت سکون کی نیند آتی ہے۔

11۔ زبردست کمال کی چیز ہے۔ پر سکون نیند کیلئے نیند کی گولیوں سے بہتر کام کرتا ہے یہ ٹوٹکہ میں اب روزانہ رات کو پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کر کے سوتی ہوں۔

12۔ میرے دادا حضور کے تلوؤں میں بہت گرما ہٹ و جلن اور سر میں درد رہتا تھا جب سے انہوں نے لوکی کا تیل تلوؤں میں لگانا شروع کیا تکلیف سرے سے دور ہو گئی ۔

13۔میں تھائیرائیڈ کی مریضہ تھی میرے ٹانگوں میں ہر وقت درد رہتا تھا پچھلے سال مجھے کسی نے رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کا یہ ٹوٹکہ بتایا میں مستقل کر رہی ہوں اب میں عموماً پر سکون رہتی ہوں ۔

14۔ میرے پاؤں سن ہو رہے تھے میں چار دن سے رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر تیل سے مالش کر رہا ہوں بہت زیادہ فرق ہے ۔

15۔بارہ تیرہ سال پہلے مجھے بواسیر تھی ، میرا دوست مجھے ایک حکیم صاحب کے پاس لے گیا جن کی عمر 90 سال تھی انہوں نے مجھے دوا کے ساتھ ساتھ رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر انگلیوں کے درمیان ، ناخنوں پر اور اسی طرح ہاتھوں کی ہتھیلیوں ، انگلیوں ، کے درمیان اور ناخنوں پر تیل کی مالش کرنے کا مشورہ دیا اور کہا ناف میں چار پانچ قطرے تیل کے ڈال کر سونا ہے میں نے حکیم صاحب کے اس مشورے پر عمل کرنا شروع کر دیا اس سے میرے خونی بواسیر میں کافی حد تک آرام آ گیا اس ٹوٹکے سے میرا قبض کا مسئلہ بھی حل ہو گیا میرے جسم کی تھکاوٹ بھی دور ہو جاتی ہے اور پر سکون نیند آتی ہے اور بقول حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کے ناک کے اندر سرسوں کا تیل لگا کر سونے سے خراٹے آنے بند ہو جاتے ہیں ۔

16۔ پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کایہ ٹوٹکہ میرا آزمودہ ہے۔

17۔ پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کرنے سے مجھے بہت پرسکون نیند آئی ۔

18۔میرے پاؤں اور گھٹنوں میں درد رہتا تھا ۔ جب سے پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کا ٹوٹکہ پڑھا اب میں یہ روزانہ کرتا ہوں اس سے مجھے پر سکون نیند آتی ہے ۔

19۔مجھے کمر میں بہت درد تھا جب سے میں نے رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کا یہ ٹوٹکہ استعمال کرنا شروع کیا ہے کمر کا درد کم ہوگیا ہے اور اللہ پاک کا شکر ہے بہت اچھی نیند آتی ہے ۔

وہ مغلیہ راز درج ذیل ہے:۔
وہ راز بالکل آسان نہایت مختصر ، ہر جگہ اور ہر شخص کے لئے کرنا بہت آسان ۔کوئی سا بھی تیل سرسوں یا زیتون وغیرہ پاؤں کے تلوؤں اور پورے پاؤں پر لگائیں خاص طور پر تلوؤں پر تین منٹ تک دائیں پاؤں کے تلوے اور تین منٹ بائیں پاؤں کے تلوے پر رات کو سوتے وقت مالش کرنا کبھی نہ بھولیں ، اور بچوں کی بھی اسی طرح مالش ضرور کریں ساری زندگی کا معمول بنا لیں پھر قدرت کا کمال دیکھیں آپ ساری زندگی سر میں کنگھی کرتے ہیں جوتے صاف کرتے ہیں ، تو سوتے وقت پاؤں کے تلوؤں پر تیل کیوں نہیں لگاتے۔

قدیم چینی طریقہ علاج کے مطابق بھی پاؤں کے نیچے 100 کے قریب Acupressure Points (ایکوپریشر پوائنٹ) ہوتے ہیں۔ جن کو دبانے اور مساج کرنے سے بھی انسانی اعضاء صحت یاب ہوتے ہیں۔ اس کو
Foot Reflexogy

کہا جاتا ہے۔ پوری دنیا میں پاؤں کی مساج تھراپی سے علاج کیا جاتا ہے۔

پلیز ان معلومات کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں
جتنا ہو سکے آگے پہنچائیں انشاءاللہ صدقؑہ جاریہ بن کر ثواب دارین کا باعث بنے گا۔
مزید اپنی رائے کا اظہار نیچے کمنٹ میں لازمی دیں ۔ کسی بھی مرض کے متعلق فری معلومات اور علاج جاننے کے لیے کمنٹ میں پوچھیں اور منگوانے کے لیے واٹس ایپ پر رابطہ کریں۔

*❣ﺧَﻴﺮُﺍﻟﻨَّﺎﺱِ ﻣَﻦ ﻳًﻨﻔَﻊُ ﺍﻟﻨَّﺎﺱ❣*
صدقہ جاریہ ہے لوگوں کی خدمت اور نیکی کی نیت سے دوسروں تک لازمی پہنچائیں۔

گوند کتیرا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(Tragacanth Gum) عربی میں صمغ القتاد اور بنگالی زبان میں کٹیلا کہتے ہیں۔  گوند کتیرا جس طرح نام ...
28/07/2025

گوند کتیرا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(Tragacanth Gum)
عربی میں صمغ القتاد اور بنگالی زبان میں کٹیلا کہتے ہیں۔

گوند کتیرا جس طرح نام سے واضح ہے کہ 12 سے 15 گز اونچے درخت کا گوند ہے ۔۔۔۔۔۔ جس میں کٹ لگا کے 5 کلو تقریبآ سالانہ گوند ایک درخت سے حاصل کی جاتی ہے، یہ درخت خار دار ہوتا ہے، وطن ایران جس میں بھاری مقدار میں کتیرا اکٹھا کیا جاتا ہے مگر ہند، پاکستان، انڈونیشیا، ویتنام، سوڈان میں بھی اس کے درخت موجود ہیں جس سے کچھ مقدار میں گوند کتیرا حاصل ہوتا رہتا ہے ۔
۔

گوند کتیرا حل نہیں ہوتا بلکہ جیلی کی طرح پھول جاتا ہے اس وجہ سے یہ کافی خوردنی اشیاء میں بطور جیلی یا چپکاہٹ کے استعمال کیا جاتا ہے ہاں مگر صمغ عربی میں قدرے حل ہو جاتا ہے۔ یہ کرسٹل یعنی بلوری شکل میں موجود ہوتا ہے اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے گول یا چار کونوں پہ مشتمل ہوتے ہیں۔

گوند کتیرا کے غذائی اجزاء میں کیلشیم، پروٹین، میگنیشیم، اور کچھ خاص قسم کے الکلائڈز پائے جاتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ گوند کتیرا میں اینٹی آکسیڈنٹ، اینٹی بیکٹیریل، اور سوزش کوکم کرنے والی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔

لعوق سپستان، شربت اعجاز، سفوف کتیرا وغیرہ اس کے بطور مرکبات مارکیٹ میں موجود ہیں

مزاج ۔۔۔۔۔۔سرد تر
مصلح۔۔۔۔۔انیسوں، حب السلاطین
بدل ۔۔۔۔۔۔۔گوند ببول

افعال:- مُغَرّی ، ملین، مسکن سوزش حرارت، حابس الدم، ملین صدر، مسمن بدن، مندمل قروح، رطب ۔

فوائد :- مسکن سوزش، مندمل قروح، تسکین قلب، دافع حرارت، مؤلد رطوبات، مسمن بدن، کھانسی خشک میں مفید، ملین، ادرار بول ، مقوی و مغلظ باہ نیز خشک گرم سے گرم خشک علامات و امزاج میں معرکے کی دوا ہے۔

استعمال:- املی، صندل، دودھ، جام شیریں، سادہ شربت، بزوری یا کئی دوسری اشیاء اسبغول، زریشک یا تخم بالنگا کے ہمراہ بطور مشروب ملا کے پیئیں۔

موسم گرما کی راحت جسم و جان اور سکون دل قدرتی چیز ہے۔

5 steps for success
28/07/2025

5 steps for success

28/07/2025

Benefits of grapes 🍇

انگور صرف ذائقے میں ہی لذیذ نہیں بلکہ یہ وٹامنز، منرلز اور طاقتور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ایک قدرتی دوا بھی ہے۔
آئیے دیکھتے ہیں انگور کے کچھ حیرت انگیز فائدے: 👇

🧪 اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور:
فری ریڈیکلز کے خلاف ڈھال بن کر کینسر و دیگر امراض سے بچاؤ۔

❤️ دل کی حفاظت:
کولیسٹرول کم کرے، بلڈ پریشر کنٹرول کرے اور خون کے بہاؤ کو بہتر بنائے۔

🧠 دماغی طاقت میں اضافہ:
یادداشت بہتر بنائے، دماغی امراض سے بچاؤ میں مدد کرے۔

💩 ہاضمہ درست رکھے:
فائبر اور پانی کی مقدار قبض دور کرے اور آنتوں کو فعال رکھے۔

🛡️ مدافعتی نظام کو مضبوط کرے:
وٹامن C کی بدولت جسم کو بیماریوں سے لڑنے کے قابل بنائے۔

💆‍♀️ جلد اور بالوں کی حفاظت:
کولیجن کی پیداوار میں اضافہ، چمکدار جلد اور مضبوط بال۔

🦴 ہڈیوں کو مضبوط کرے:
وٹامن K، میگنیشیم اور پوٹاشیم ہڈیوں کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

🛌 نیند بہتر بنائے:
قدرتی میلاٹونن نیند کے معیار کو بہتر کرتا ہے۔

⚡ توانائی سے بھر دے:
قدرتی شکر کی بدولت فوری توانائی فراہم کرتا ہے۔

🔥 سوزش کم کرے:
جسم میں فنگس اور بیکٹیریا کی سوزش کو کم کرتا ہے۔

Address

Street Al Firyan
Riyadh
112233

Telephone

+966596803365

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Homeo & Herbal dawa khana posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram