Yasmin Sahar

Yasmin Sahar I'm Yoga instructor, palmiest and astrologist. You can ask me related questions about yoga and your Stars.

🎉 Facebook recognised me as a top rising creator this week!
30/03/2026

🎉 Facebook recognised me as a top rising creator this week!

25/03/2026

ننھی سی حطیم کی توتلی آواز
جنوریا، فروریا، اپل، جون
وقت گزر گیا مگر وہ معصوم لمحہ
آج بھی دل کے کونے میں مسکرا رہا ہے ❤️
بچپن کی یہ بولیاں کبھی پرانی نہیں ہوتیں
یہی تو زندگی کی اصل مٹھاس ہیں

یہ صرف پچاس روپے نہیںیہ ایک ننھے دل کی وہ دولت ہے جو بڑے بڑے خزانوں پر بھاری ہےآج میں نے سب کو عیدی دی اپنے ہاتھوں سے خو...
22/03/2026

یہ صرف پچاس روپے نہیں
یہ ایک ننھے دل کی وہ دولت ہے
جو بڑے بڑے خزانوں پر بھاری ہے
آج میں نے سب کو عیدی دی اپنے ہاتھوں سے خوشیاں بانٹتی رہی رشتوں میں مسکراہٹیں سجاتی رہی مگر جب میرے پوتے نے پوچھا کہ "دادو آپ کو کتنی عیدی ملی؟" تو ایک لمحے کو دل جیسے ٹھہر گیا زبان نے وہ کہہ دیا جو برسوں کی خاموشی تھی
"بیٹا مجھے کون عیدی دے گا میرے تو نہ ماما ہیں نہ بابا"
یہ جملہ شاید میرے لیے عام تھا مگر ایک ننھے دل پر جیسے دستک بن گیا
کچھ ہی دیر بعد چھوٹے سے ہاتھوں نے اپنی چھوٹی سی جیب میں ہاتھ ڈالا اور پچاس روپے نکال کر میری طرف بڑھا دیے
"دادو یہ میری طرف سے"
وہ لمحہ وہ احساس وہ محبت
میرے لیے دنیا کی سب سے قیمتی عیدی بن گیا
پھر جیسے محبت کو بھی محبت نے سکھا دیا میری پوتی نے بھی سو روپے نکال کر کہا "دادو یہ میری طرف سے"
اور میں بس دیکھتی رہ گئی کہ اصل دولت تو یہی ہے یہ خلوص یہ بے لوث محبت یہ ننھے دلوں کی سخاوت
میں نے بہت سمجھایا واپس لینے کی کوشش کی مگر وہ ننھا سا بچہ اپنی ضد پر قائم رہا
اور اس کی ضد میں محبت تھی عزت تھی احساس تھا
آج مجھے سمجھ آیا کہ عیدی رقم سے نہیں ہوتی
عیدی تو وہ احساس ہے جب کوئی آپ کو یاد رکھے
کوئی آپ کی کمی کو اپنی محبت سے بھر دے
کوئی آپ کے خالی دامن میں اپنا ننھا سا دل رکھ دے
یہ پچاس روپے میرے لیے صرف نوٹ نہیں
یہ میرے پوتے عبدالہادی کی محبت کا وہ تحفہ ہے جسے میں زندگی بھر سنبھال کر رکھوں گی
کبھی کبھی
بچے ہمیں سکھا جاتے ہیں کہ اصل امیری کیا ہوتی ہے
یاسمین سحر

دیس پردیس تمام پیارے فالورز کو دوست احباب کو فیملی ممبرز کو عید مبارک اللہ پاک آپ کی عبادتیں روزے اپنی بارگاہ میں قبول و...
21/03/2026

دیس پردیس تمام پیارے فالورز کو دوست احباب کو فیملی ممبرز کو عید مبارک اللہ پاک آپ کی عبادتیں روزے اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرمائے
آمین ثم آمین

20/03/2026
18/03/2026

آپ لوگ ہمیشہ پوچھتے ہیں کہ میں کہاں رہتی ہوں میں لاہور رہتی ہوں علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب
لاہور کی ترقی اور خوبصورتی ملاحظہ کریں
ہمارے گھر کے پاس ائیرپورٹ ہے
الحمدللہ
ہم کمرشل ایریا میں رہتے ہیں۔۔
عسکری 10 کے پاس سے گزر رہی ہوں۔

سیاحت کا شوق ہے جس کی وجہ سے زیادہ تر وزٹ شمالی علاقہ جات کے ہوتے ہیں۔
خیر کیا تیرا میرا
پورا پاکستان ہی ہمارا ہے
میرے پیارے فالوورز
پیج فالو کریں
ڈھیروں دعائیں ہمیشہ شاد و آباد رہیں آمین

18/03/2026

پیج ایڈمن اس وقت اپنے نواسوں کے ساتھ سعودی عرب پارک میں انجوائے کر رہے ہیں۔

زندگی کے اس پار کی روشنیایک عمر گزر جاتی ہےروٹی کے ایک لقمےاولاد کے مستقبلاور زمانے کی سختیوں کے درمیان۔انسان اپنی جوانی...
17/03/2026

زندگی کے اس پار کی روشنی
ایک عمر گزر جاتی ہے
روٹی کے ایک لقمے
اولاد کے مستقبل
اور زمانے کی سختیوں کے درمیان۔
انسان اپنی جوانی
ایک خاموش مزدور کی طرح
دن اور رات کی چکی میں پیس دیتا ہے
اور جب وہ پچپن برس کی دہلیز پر پہنچتا ہے
تو اچانک اسے یاد آتا ہے
کہ اس نے زندگی کمائی تو بہت
مگر جینا شاید تھوڑا سا رہ گیا تھا۔
اس لیے
جب عمر کا سورج ڈھلنے لگے
تو اپنی محنت کی کمائی کو
تالوں میں قید نہ رکھو۔
اسے اپنی مسکراہٹوں میں بدل دو
اپنی خواہشوں میں ڈھال دو
اپنی تھکی ہوئی روح پر خرچ کر دو۔
یہ دولت
ان لوگوں کے لیے نہ چھوڑو
جو یہ نہیں جانتے
کہ اس کے ہر سکے میں
تمہاری نیندوں کی قربانی
اور تمہارے خوابوں کی قیمت شامل ہے۔
اب وقت یہ نہیں
کہ تم نئی فکریں پال لو
یا سرمایہ کاری کے نئے بوجھ اٹھاؤ۔
اب وقت ہے
کہ تم صبح کی روشنی کو محسوس کرو
شام کی ہوا میں سانس لو
اور زندگی کے چھوٹے چھوٹے لمحوں کو
اپنی مٹھی میں تھام لو۔
اپنی صحت کو
اپنی سب سے بڑی دولت سمجھو۔
روز تھوڑا سا چلو
اچھی غذا کھاؤ
اور اپنے جسم کو وہ آرام دو
جس کا وہ برسوں سے منتظر ہے۔
اپنے آپ سے محبت کرو۔
اچھی چیزیں خریدو
خوبصورت کپڑے پہنو
اور اگر تمہارا ہم سفر تمہارے ساتھ ہے
تو اس کے ساتھ ہنسو
کیونکہ ایک دن
یہ ہنسی صرف یاد بن جائے گی
اور دولت اس یاد کو واپس نہیں لا سکے گی۔
ماضی کی گرد
اپنے دل پر نہ جمنے دو۔
جو بیت گیا وہ قصہ ہے
اور جو آنے والا ہے وہ راز۔
زندگی صرف اس لمحے میں ہے
جو اس وقت
تمہارے سانسوں میں زندہ ہے۔
نئی نسل کو سمجھو
ان کے خواب تم سے مختلف ہو سکتے ہیں
مگر وہی آنے والا کل ہیں۔
انہیں نصیحت دو
مگر اپنی کہانی کو
ان پر بوجھ نہ بناؤ۔
اگر دل میں کوئی شوق باقی ہے
تو اسے زندہ کر دو۔
سفر کرو
کتابیں پڑھو
باغ لگاؤ
ہوا کے ساتھ چلو
یا صرف بیٹھ کر
چاند کو دیکھو۔
اور سب سے بڑھ کر
دل میں نفرت نہ رکھو۔
جس نے تمہیں دکھ دیا
اسے معاف کر دو۔
اور اگر تم نے کسی کو دکھ دیا ہے
تو جھک کر معافی مانگ لو۔
کیونکہ عمر کے اس موڑ پر
سب سے قیمتی چیز
دل کا سکون ہوتا ہے۔
ہنسا کرو۔
کیونکہ تم خوش نصیب ہو
کہ تم نے اتنی لمبی زندگی دیکھی ہے۔
بہت سے لوگ
اس منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی
راستوں میں رہ جاتے ہیں۔
اس لیے
اپنے باقی دنوں کو۔
غم کی زنجیروں میں قید نہ کرو۔
انہیں آزادی دو
اور زندگی کو
ایک نرم مسکراہٹ کے ساتھ جیو۔

ایک دن آپ بھی بوڑھے ہو جائیں گےآج اگر آپ جوان ہیںاور آپ کے ماں باپ بوڑھے ہو چکے ہیںتو ایک لمحہ رک کر سوچئے۔کل یہی وقتآپ ...
16/03/2026

ایک دن آپ بھی بوڑھے ہو جائیں گے
آج اگر آپ جوان ہیں
اور آپ کے ماں باپ بوڑھے ہو چکے ہیں
تو ایک لمحہ رک کر سوچئے۔
کل یہی وقت
آپ کے دروازے پر بھی دستک دے گا۔
پاکستان میں ایک عجیب المیہ ہے۔
یہاں ماں باپ
اپنی پوری زندگی
اپنے بچوں کے نام کر دیتے ہیں۔
باپ ساری عمر
گرمی، سردی اور تھکن کے درمیان
رزق کمانے میں گزار دیتا ہے۔
ماں
اپنی نیندیں، اپنی خواہشیں
اور اپنی جوانی
اولاد کے مستقبل کے نام لکھ دیتی ہے۔
بچے بڑے ہو جاتے ہیں
ان کی شادیاں ہو جاتی ہیں
اور پھر زندگی کا منظر بدل جاتا ہے۔
کبھی وہی ماں
جو پورے گھر کی روشنی ہوتی تھی
ایک کمرے میں تنہا بیٹھی ہوتی ہے۔
کبھی وہی باپ
جو کبھی گھر کا سہارا تھا
آج خاموشی سے دیوار کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔
کچھ خوش نصیب ہوتے ہیں
جن کے بچے ان کا سہارا بن جاتے ہیں۔
مگر بہت سے ایسے بھی ہیں
جنہیں اولڈ ہوم میں چھوڑ دیا جاتا ہے
یا وہ اپنی ہی اولاد کے گھروں میں
اجنبی بن کر رہ جاتے ہیں۔
اور سب سے زیادہ دکھ کی بات یہ ہے
کہ وہ ماں باپ
جو ساری عمر دوسروں کے لیے جیتے رہے
وہ بڑھاپے میں بھی
پوتے پوتیوں کی فکر میں گھلتے رہتے ہیں۔
اپنی دوائیوں سے زیادہ
بیٹے کے خرچ کی فکر کرتے ہیں۔
اپنی تنہائی سے زیادہ
اولاد کی خوشی کے لیے دعا کرتے ہیں۔
مگر دنیا کے کئی ملکوں میں
لوگ عمر کے اس حصے میں
زندگی کا سب سے خوبصورت باب شروع کرتے ہیں۔
کوئی سمندر کے کنارے بیٹھ کر
اورنج جوس پی رہا ہوتا ہے۔
کوئی سفر کر رہا ہوتا ہے
کوئی موسیقی سن رہا ہوتا ہے
کوئی زندگی کے باقی لمحوں کو
شکر کے ساتھ گزار رہا ہوتا ہے۔
کیونکہ انہوں نے سیکھ لیا ہے
کہ زندگی صرف قربانی کا نام نہیں۔
زندگی جینے کا نام بھی ہے۔
اے پاکستان کے ماں باپ…
اگر آپ نے ساری عمر
اپنے بچوں کے لیے قربانیاں دی ہیں
تو اب اپنی باقی زندگی کو
آنسوؤں کی نذر مت کریں۔
اپنی محنت کی کمائی
اپنی خوشیوں پر خرچ کریں۔
اپنے لیے جئیں
چلیں
گھومیں
دوستوں سے ملیں
اور زندگی کو محسوس کریں۔
کیونکہ ایک دن
سب کو اس دنیا سے جانا ہے۔
مگر جانے سے پہلے
انسان کو یہ حق ضرور ہونا چاہیے
کہ وہ اپنی زندگی کے آخری دن
وقار اور سکون کے ساتھ گزار سکے۔
یاد رکھیں…
بڑھاپا بوجھ نہیں ہوتا
یہ زندگی کی وہ شام ہے
جس میں انسان کو
سب سے زیادہ سکون ملنا چاہیے۔
اور اگر آپ آج جوان ہیں
تو اپنے ماں باپ کو دیکھیں۔
کیونکہ کل
کوئی آپ کو بھی اسی نظر سے دیکھے گا۔


#بڑھاپا




#انسانیت
#سچائی

لاہور لاہور ہے حال ہی میں حکومت کی طرف سے یہ اعلان سامنے آیا ہے کہ درزی، کلینک اور بعض خدمات فراہم کرنے والے لوگ اپنی مر...
07/03/2026

لاہور لاہور ہے

حال ہی میں حکومت کی طرف سے یہ اعلان سامنے آیا ہے کہ درزی، کلینک اور بعض خدمات فراہم کرنے والے لوگ اپنی مرضی سے اضافی پیسے نہیں لے سکیں گے، بلکہ ان کے ریٹ مناسب حد میں رکھے جائیں گے تاکہ عام آدمی پر بوجھ نہ پڑے۔
یہ ایک اچھا قدم ہے، کیونکہ اس سے مہنگائی کے اس دور میں عوام کو کچھ سہولت ملے گی۔
مگر ایک سوال بہت شدت سے دل میں اٹھتا ہے…
کیا حکومت کی توجہ گھروں کے کرایوں کی طرف بھی نہیں ہونی چاہیے؟
آج حالت یہ ہے کہ دو کمرے، ایک چھوٹا سا واش روم اور سیڑھیوں کے نیچے بنا ہوا واش کچن — ایسے معمولی اور بعض اوقات انتہائی خستہ حال گھروں کا کرایہ بھی 25 سے 30 ہزار روپے مانگا جا رہا ہے۔
پانچ مرلہ گھر 50 ہزار
ایک مزدور، ایک درزی، ایک چھوٹا ملازم یا روزانہ اجرت پر کام کرنے والا انسان جب مہینے کے آخر میں 30 یا 35 ہزار روپے کماتا ہے تو وہ فیصلہ کرے بھی تو کیا کرے؟
وہ اپنے بچوں کو کھانا کھلائے؟
بجلی اور گیس کے بل ادا کرے؟
یا صرف گھر کا کرایہ دے؟
زمینیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، گھر کروڑوں میں جا پہنچے ہیں، اور کرایوں پر کوئی واضح نظام موجود نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ عام آدمی کے لیے چھت کا حصول دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
اگر یہی حالات رہے تو وہ وقت بھی دور نہیں جب لوگ مجبوری میں سڑکوں کے کنارے خیمے لگا کر رہنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
اس لیے حکومت پاکستان سے مودبانہ گزارش ہے کہ جس طرح دیگر شعبوں کے نرخ مقرر کیے جا رہے ہیں، اسی طرح گھروں کے کرایوں کے لیے بھی ایک باقاعدہ قانون اور مناسب حد مقرر کی جائے۔
ہر شہر میں کرایوں کا ایک معقول معیار طے ہونا چاہیے، اور اس سے زیادہ کرایہ لینے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔
کیونکہ ایک محفوظ چھت صرف ایک سہولت نہیں بلکہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔
امید ہے کہ حکومت اس اہم مسئلے پر سنجیدگی سے توجہ دے گی تاکہ عام آدمی کی زندگی کچھ آسان ہو سکے۔


#مہنگائی

#پاکستان














Address

Exit 5
Riyadh

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Yasmin Sahar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram