22/03/2026
یہ صرف پچاس روپے نہیں
یہ ایک ننھے دل کی وہ دولت ہے
جو بڑے بڑے خزانوں پر بھاری ہے
آج میں نے سب کو عیدی دی اپنے ہاتھوں سے خوشیاں بانٹتی رہی رشتوں میں مسکراہٹیں سجاتی رہی مگر جب میرے پوتے نے پوچھا کہ "دادو آپ کو کتنی عیدی ملی؟" تو ایک لمحے کو دل جیسے ٹھہر گیا زبان نے وہ کہہ دیا جو برسوں کی خاموشی تھی
"بیٹا مجھے کون عیدی دے گا میرے تو نہ ماما ہیں نہ بابا"
یہ جملہ شاید میرے لیے عام تھا مگر ایک ننھے دل پر جیسے دستک بن گیا
کچھ ہی دیر بعد چھوٹے سے ہاتھوں نے اپنی چھوٹی سی جیب میں ہاتھ ڈالا اور پچاس روپے نکال کر میری طرف بڑھا دیے
"دادو یہ میری طرف سے"
وہ لمحہ وہ احساس وہ محبت
میرے لیے دنیا کی سب سے قیمتی عیدی بن گیا
پھر جیسے محبت کو بھی محبت نے سکھا دیا میری پوتی نے بھی سو روپے نکال کر کہا "دادو یہ میری طرف سے"
اور میں بس دیکھتی رہ گئی کہ اصل دولت تو یہی ہے یہ خلوص یہ بے لوث محبت یہ ننھے دلوں کی سخاوت
میں نے بہت سمجھایا واپس لینے کی کوشش کی مگر وہ ننھا سا بچہ اپنی ضد پر قائم رہا
اور اس کی ضد میں محبت تھی عزت تھی احساس تھا
آج مجھے سمجھ آیا کہ عیدی رقم سے نہیں ہوتی
عیدی تو وہ احساس ہے جب کوئی آپ کو یاد رکھے
کوئی آپ کی کمی کو اپنی محبت سے بھر دے
کوئی آپ کے خالی دامن میں اپنا ننھا سا دل رکھ دے
یہ پچاس روپے میرے لیے صرف نوٹ نہیں
یہ میرے پوتے عبدالہادی کی محبت کا وہ تحفہ ہے جسے میں زندگی بھر سنبھال کر رکھوں گی
کبھی کبھی
بچے ہمیں سکھا جاتے ہیں کہ اصل امیری کیا ہوتی ہے
یاسمین سحر