07/03/2026
لاہور لاہور ہے
حال ہی میں حکومت کی طرف سے یہ اعلان سامنے آیا ہے کہ درزی، کلینک اور بعض خدمات فراہم کرنے والے لوگ اپنی مرضی سے اضافی پیسے نہیں لے سکیں گے، بلکہ ان کے ریٹ مناسب حد میں رکھے جائیں گے تاکہ عام آدمی پر بوجھ نہ پڑے۔
یہ ایک اچھا قدم ہے، کیونکہ اس سے مہنگائی کے اس دور میں عوام کو کچھ سہولت ملے گی۔
مگر ایک سوال بہت شدت سے دل میں اٹھتا ہے…
کیا حکومت کی توجہ گھروں کے کرایوں کی طرف بھی نہیں ہونی چاہیے؟
آج حالت یہ ہے کہ دو کمرے، ایک چھوٹا سا واش روم اور سیڑھیوں کے نیچے بنا ہوا واش کچن — ایسے معمولی اور بعض اوقات انتہائی خستہ حال گھروں کا کرایہ بھی 25 سے 30 ہزار روپے مانگا جا رہا ہے۔
پانچ مرلہ گھر 50 ہزار
ایک مزدور، ایک درزی، ایک چھوٹا ملازم یا روزانہ اجرت پر کام کرنے والا انسان جب مہینے کے آخر میں 30 یا 35 ہزار روپے کماتا ہے تو وہ فیصلہ کرے بھی تو کیا کرے؟
وہ اپنے بچوں کو کھانا کھلائے؟
بجلی اور گیس کے بل ادا کرے؟
یا صرف گھر کا کرایہ دے؟
زمینیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، گھر کروڑوں میں جا پہنچے ہیں، اور کرایوں پر کوئی واضح نظام موجود نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ عام آدمی کے لیے چھت کا حصول دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
اگر یہی حالات رہے تو وہ وقت بھی دور نہیں جب لوگ مجبوری میں سڑکوں کے کنارے خیمے لگا کر رہنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
اس لیے حکومت پاکستان سے مودبانہ گزارش ہے کہ جس طرح دیگر شعبوں کے نرخ مقرر کیے جا رہے ہیں، اسی طرح گھروں کے کرایوں کے لیے بھی ایک باقاعدہ قانون اور مناسب حد مقرر کی جائے۔
ہر شہر میں کرایوں کا ایک معقول معیار طے ہونا چاہیے، اور اس سے زیادہ کرایہ لینے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔
کیونکہ ایک محفوظ چھت صرف ایک سہولت نہیں بلکہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔
امید ہے کہ حکومت اس اہم مسئلے پر سنجیدگی سے توجہ دے گی تاکہ عام آدمی کی زندگی کچھ آسان ہو سکے۔
#مہنگائی
#پاکستان