01/21/2026
"گل جو نار ہوگیا " (کراچی کے گل پلازہ میں سے ایک جلے ہویے جسم کے ڈی این اے کی روداد)
"میں گل پلازا کی بلڈنگ کے دوسرے فلور پر ایک دکان میں ملازم ہوں - ہفتے کی شب ہے - اس وقت گیارہ بجے ہیں - پوری عمارت آگ کی لپیٹ میں ہے - باہر جانے کا کوئی راستہ نہی ہے - میں نے فائر بریگیڈ کو فون کیے ہیں - لیکن چونکہ شہر میں صرف 28 فائر بریگیڈ ہیں سو ان کو یہاں آنے میں وقت لگ رہا ہے - میں آس پاس دیکھ رہا ہوں کہ کوئی فائر ایکس ٹینگیشر مل جائے تو میں دکان کے دروازے کی آگ بجھا کر باہر ہی نکل جاؤں لیکن کراچی کی تو 80 فیصد عمارتوں میں فائر سیفٹی سسٹم ہی نصب نہیں ہے - سو یہاں بھی اپنے بیچارگی اور غربت پر نوحہ کنا ہوں - میں بہت سے لوگوں کو چیختا چلاتا سن رہا ہوں جو عمارت سے باہر جانے کا ایمرجنسی راستہ ڈھونڈ رہے ہیں لیکن کراچی کی 62 فیصد سے زیادہ کمرشل عمارتوں میں فائر ایمرجنسی exit تو بنایا ہی نہی گیا - بہت سی راہداریاں جو نقشے میں تو راہداریاں ہیں وہاں دکانیں ہی دکانیں ہیں کیوں کہ "سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی " (SBCA ) کے افسروں نے رشوتیں کھا کر یہ سب زیر دست منظور کیا ہوا ہے - میں نے ڈر کے مارے دکان کا شٹر بند کردیا ہے اور دعا کر رہا ہوں کہ کوئی بھٹو ' کوئی الطاف حسین ' کوئی ٹیسوری کوئی مراد علی شاہ کوئی مرتضی وہاب کوئی شہلا رضا آجاے اور مجھے یہاں سے نکال لے جائے کہ کے مرے بعد مرے بچوں کا کیا بنے گا - مرے گھر کا کرایہ کون ادا کریگا - بچوں کی یاد آئ تو فورا گھر فون لگایا لیکن وقت نے مجھے وقت نہ دیا - آگ کا ایک شعلہ مجھ پر گرا اور میں بھی جل کر مر گیا - میرے گھر والے تین دن تک مجھے لاپتہ سمجھتے رہے کیوں کہ انتظامیہ کے پاس اتنا بھی انتظام نہیں تھا کہ وہ میرے مرنے کے بعد میری دکان تک پہنچ پاتے- میڈیا پر میں لاپتہ رہا کیونکہ میرا تو جسم بھی قابل شناخت نہی رہا - اسی طرح جس طرح سو سے زاید لوگ جل کر مر گیے اور ان میں سے بیسیوں لاپتہ ہیں - میرا جسم اس قدر جھلس گیا کہ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ ان کو شناخت کیلئے ڈی این سے سیمپل لینے میں بھی دشواری ہوئی کہ ہر جگہ ملی تو بس خاک اور راکھ - راکھ جو کچھ دن میں کراچی کی ہوا میں گم ہوجائیگی اور خاک جو کبھی کسی پارلیمنٹ کسی سی ایم ہاؤس کسی گورنر ہاؤس تک نہیں پہنچ پائیگی کیوں کہ وہاں اس خاک سے بےنیاز صاحب اقتدار بیٹھے ہیں جن کا کہنا ہے کہ
"نیوزیلینڈ میں بھی تو آگ لگی تھی جب چالیس لگ مر گیے تھے - سو آگ لگتی رہتی ہے "
لیکن اے میری راکھ اگر تم کسی طرح ان ایوانوں میں پہنچ پاؤ تو ان کو یہ ضرور کہنا کہ نیوزیلینڈ میں جل کر مرنے کے بعد پورے ملک میں اصلاحات نافذ کی جارہی ہیں - نیوزیلینڈ میں تمام خاندانوں کی کفالت حکومت نے اپنے ذمے لے لی تھی اور میری راکھ کو جو پچاس لاکھ کا چیک ملے گا اس کو کیش کرواتے کرواتے میرے پیچھے والے خود خاک ہوجائینگے - "کیلیفورنیا کے جنگلوں میں لگنے والی آگ " کی مثال دے کر اس طرح کے حادثات کو معمول قرار دینے والوں سے یہ تو پوچھنا کہ وہاں تو لاکھوں ایکڑ جنگل تھے ' کراچی میں کونسا جنگل ہے جو آگ لگنا اتنا معمول ہو چکا ہے ؟ شاید کراچی میں جنگل نہیں ہے ' جنگل کا قانون ہے جس کی وجہ سے یہ روشنیوں کا شہر بذات خود ایک جنگل بن چکا ہے -
یہ تھی روداد - اس جیتے جاگتے جسم کی جو گل پلازا میں جل کر راکھ ہوگیا - سانحہ گل پلازا پر جب میں لکھنے لگا تو سوچا کہ کراچی کے بارے میں لکھتے ہویے کہاں سے شروع کروں - گٹروں میں گر کر مر جانے والے بچوں کا نوحہ لکھوں یا بلدیہ فیکٹری میں 2012 میں جل کر مر جانے والے 250 مزدوروں کا المیہ لکھوں - بارشوں میں بہ جانی والی سڑکوں کا احوال لکھوں یا 2015 میں ہاکس بے کے ساحل سمندر پر لائف گارڈ نہ ہونے کی وجہ سے ڈوب کر مر جانے والے ایک ہی خاندان کے بارہ افراد کی آخری سانسوں کے بارے میں لکھوں جو پانی کی نذر ہوگئی؟ کراچی کی انتظامیہ میں کے ایم سی بمقابلہ کراچی بلڈنگ اتھارٹی کی کشتی کے بارے میں لکھوں یا پھر دہایوں سے کراچی پر حکومت کرنے والی ایم کیو ایم اور سندھ کی حکمران پیپلز پارٹی کی الزم تراشیوں پر الفاظ ضایع کرو ؟
الغرض کہی سے بھی شروع کرلوں کراچی کی پونے چار کروڑ کی عوام کا غم غلط نہی کرسکتا - جی پونے چار کروڑ عوام جن میں سے اب سو افراد کم ہیں کیوں کہ ہفتے کی شب وہ سو سے زاید افراد گل پلازہ میں جل کر مر گیے - یہ کیوں ہوا ؟ کیسے ہوا ؟ کس کی غلطی تھی ؟ کیا اس کو روکا جاسکتا تھا ؟ یہ وہ سوال ہیں جو پچھلے ایک سال میں آگ لگنے کے 2400 واقعات میں سے ہر واقعہ کے بعد اٹھتے ہیں لیکن اب آپ خود اندازہ لگالیں کہ ان سوالوں کے جواب کتنے کمزور اور ناپائیدار ہونگے کہ محض 2025 میں کراچی میں آتشزدگی کے 2400 واقعات ہویے - یعنی ہر مہینے 200 واقعات اور یومیہ چھے سے سات واقعات - ہر واقعہ کے بعد مرنے والوں کیلئے پچاس لاکھ اور زخمیوں کیلئے بیس لاکھ کا اعلان' کچھ کمزور اور نچلی سطح کے ملازموںکی برطرفی ' فائر بریگیڈ کے تاخیر سے آنے پر اس کی کلاس اور اس کے بعد ایک اور آتشزدگی کا انتظار - لیکن کبھی سوچا ہے کہ ایسا کیا ہے کہ یہ واقعات نہیں رکتے ؟
- نیویارک شہر جس کی آبادی نوے لاکھ کے قریب ہے ' وہاں کل 218 فائر بریگیڈ سٹیشن ہیں جب کہ کراچی میں پونے چار کروڑ کی آبادی کیلئے صرف 28 فائر بریگیڈ ہیں' تو کیوں نہ آگ لگنا معمول ہو ؟
- فائر بریگیڈ کے عملے کے پاس فائر بجھانے کیلئے پانی کے علاوہ اور کوئی انتظام نہی ہے جبکہ آج کے دور میں فائر فوم (Fire foam) کا استعمال کیا جاتا ہے کیوں واٹر سے آگ بڑھنے کا خطرہ بھی رہتا ہے -
- کراچی کی 80 % عمارتوں میں فائر سیفٹی سسٹم نصب نہیں ہے جبکہ 65 فیصد عمارتوں کی تعمیر کے وقت فائر exit نہیں شامل کیا جاتا لیکن اس کے باوجود ان عمارتوں کو اپپروول مل جاتا ہے - ان عمارتوں میں اپپروول کے بغیر گودام بناے جاتے ہیں جو نقشے میں ہوتے ہی نہی جہاں آتشی مواد بھی سٹور ہوتا ہے جس کا کوئی بیک اپ ایمرجنسی پلان نہیں ہوتا -
- جب بات آتی ہے ہے کہ اختیارات کو شہری سطح پر ٹرانسفر کیا جائے تو وہاں ہمیں سیاست باہم گتھم گتھا نظر آتی ہے - سندھ کا گورنر کلچرل فیسٹول کرتا دکھائی دیتا ہے اور کراچی کا مئیر مرنے کے بعد ان کے گھروں میں جا کر فاتحہ خوانی کو ہی کافی جانتا ہے - بھٹو آج بھی زندہ ہے پر سو سے زاید لوگ اب زندہ نہیں ہیں - یہ بدقسمتی ہے اس شہر کی جو اس سے پہلے بلدیہ آتشزدگی کا واقعہ دیکھ چکا ہے - جب اس واقعہ کے ذمے دار آج بھی حکومتوں میں نظر آتے ہیں تو پھر کچھ عرصے بعد کراچی کا یوں خاکستر ہونا نوشتہ دیوار ہے -
"قلم کی جسارت وقاص نواز "
--------------------------------------------------------